باقر علی داستان گو

داستان گوئی میں  میر باقر علی نے خصوصی شہرت حاصل کی تھی۔یہ فن انہیں اپنے ننھیال سے ملا تھا۔ان کے نانا میر امیر علی اور ماموں میر کاظم علی  کا تعلق دہلی دربار سےتھا ۔ یہ دونوں مانے ہوئے داستان گو تھے۔
1850؁ میں دہلی میں پیدا ہوئے ۔والد کا نام میر حسن علی تھا۔کم عمری میں والد کے انتقال کے بعد ننھیال میں پرورش پائی،اور غالباًنانا اور ماموں کے ساتھ محفل داستان سرائی کی محفلوں میں شرکت سے بچپن ہی سے داستان گوئی سے رغبت پیدا ہوگئی،اور ایسی رغبت پیدا ہوئی کہ اس فن میں امام کا درجہ پایا۔ انہوں نے 18مارچ 1928؁ کو دہلی میں انتقال فرمایا۔
شاہد احمد دہلوی نے ان کی داستان گوئی کی محفل کا نقشہ یوں کھینچا ہے کہ:
"اجلی اجلی چاندنیوں کے فرش بچھ جاتے،میر صاحب کے لئے ایک چھوٹا سا تخت لگا دیا جاتا اس پر قالین اور گاؤ تکیہ ہوتا۔سامعین گاؤ تکئے سے لگ کر بیٹھ جاتے۔پان اور حقہ کا دور چلتا ۔گرمیوں میں شربت اور جاڑوں میں چائے سے تواضع کی جاتی۔یہ صاحب تخت پر براجمان ہوتے۔کٹورے یا گلاس میں پانی منگواتے ۔جیب سے چاندی کی ڈبیا اور چاندی کی چھوٹی سی پیالی نکالتے ۔ڈبیا سے افیون کی گولی نکالتے۔اسے دوائی میں لپیٹتے ۔پیالی میں تھوڑا سا پانی نکال کر اس میں گھولتے رہتے۔اور دوستوں سے باتیں کرتے رہتے۔جب ساری افیون پانی میں آجاتی تو روئی نکال کر اگالدان میں پھینک دیتے۔اور گھوٹوے کی چسکی لگا لیتے۔اس کے بعد چائے کا ایک گھونٹ پیتے۔اور فرماتے "چائے کی خوبی یہ ہے کہ لب بند ، لب ریز اور لب سوزہو”پھر داستان شروع کر دیتے۔
داستان کس اسلوب میں بیان ہوتی، اس کی جھلک ملاحظہ ہو۔۔۔
ابھرا ابھرا سینہ ،اٹھتی جوانی، آئینہ سا پیٹ ، چیتے کی سی کمر
برس پندرہ کا یا سولہ کا سن
جوانی کی راتیں مرادوں کے دن
کاسنی جوڑا پہنے،جام شراب گلفام ہاتھ میں لئے،مخمور بادۂ نشاط ، پیچھے دو خواصیں، پشہ راں ہاتھوں میں سامنے کچھ گائینں،ستارہ تنبورہ،ڈھولک کے ساتھ دھیمے دھیمے سروں سےچھوٹے چھوٹے دیس اور بھاگ کے خیال گارہی ہیں، جونہی نگاہ شہزادے کی جادہ ادا پر پڑی ،مرغ دل تیر نگاہ ناز کا شکار ہوا۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔

Advertisements
1 comment

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: