ڈاکٹر اختر حیسن رائے پوری

بھارتی صوبہ مدھیہ پردیش کے ایک دور افتادہ معمولی سے شہر میں ڈاکٹر اختر حیسن رائے پوری نے اس جہاں فانی میں آنکھیں کھولیں۔اس وقت کسی کے خواب و خیال میں نہ ہوگاکہ یہ بچہ ایک دن دنیا ئے شہر ت کے آسمان کو چھو لے گا۔ جب وہ کچھ ہوشمند ہوئے تو انہیں مقامی پرائمری اسکول میں داخل کرایا گیا۔مڈل پاس کرنے کے بعدانہوں نے گورنمنٹ ہائی اسکول رائے پور میں داخلہ لیا۔میٹرک میں امتیازی نمبر ملے تو انہیں کلکتہ بھیج دیا گیا۔اس وقت کلکتہ برصغیر کے اہم شہروں میں نمایاں مقام رکھتا تھا۔ یہاں انہیں ودیا ساگر اسکول میں داخلہ ملا جہاں سے انٹر پاس کر کے وہ علیگڑھ چلے گئے۔اس وقت علیگڑھ مسلمانوں کا خصوصی تعلیمی مرکز تھا۔ یہاں کے طلبہ کو خاص اہمیت حاصل تھی۔193میں علیگڑھ سے ایم اے کی ڈگری لے کر بنارس گئے ۔یہاں یوپی کا شہر ہندوؤن کے مقدس شہروں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔کاشی کے مرکزی مندروں کے علاوہ بھی شہر بھر میں مندروں کی بھرمار ہے۔مندروں کی زیادتی کی وجہ سے پنڈتوں کی کھپت بھی خوب ہے۔اس لئے ہندوستان بھر کے برہمن یہاں کھنچے چلے آتےہیں اور کسی نہ کسی مندر کے پنڈت بن جاتے ہیں۔پنڈتوں کی تعلیم و تربیت کے لئے درسگاہیں بھی ہیں۔علی گڑھ یورنیورسٹی کی طرز پر بنارس میں ہندو یونیورسٹی بھی قائم کی گئی ہے، انہوں نے بنارس یورنیورسٹی سے ساہتہ النکار کی ڈگری لی جو ایم اے کے مساوی سمجھی جاتی ہے۔1940میں پیرس سے”ہند کی سماجی تاریخ” پر ڈاکٹریٹ کیا ۔ وطن واپس آنے کے بعد کئی جگہ نوکریاں کیں،ہندوستانی سیاست کےاہم رکن راج گوپال اچاریہ کے پرائیوٹ سیکریٹری کی نوکری کی تو گاندھی، نہرو،مولانا ابو الکلام آزاد، سروجنی نائیڈو،مرار جی ڈیسائی سمیت تمام بڑے سیاستدانوں کے قریب آگیا۔دوستی کا رشتہ استوار ہوگیا، مگر جیسے ہی پاکستان آزاد ہوا اس نے تمام دوستی، عہدے وغیرہ پر لات ماری اور پاکستان آگیا۔اب وہ نوجوان طالب علم نہیں معروف فنکار،قلمکاراور دانشور بن چکا تھا۔لوگ اسے احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔اس نے تشکیل پاکستان کو بغور دیکھا بلکہ بھگتا تھا۔اس نے ان تمام باتوں کو”گردراہ”میں بیان کیا ۔ یہ اپنی نوعیت کی خودنوشت تھی۔قارئین نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ان کی ایک اور کتاب”ادب اور انقلاب”پہلے ہی مشہور ہو چکی تھی۔تنقیدی کتاب "روشن مینار”اورافسانوں کا مجموعہ”محبت اور نفرت”بھی ادب میں تہلکہ مچا رہی تھی کہ افسانوں کا ایک اور مجموعہ "زندگی کا میلہ”بھی لے آئے۔
دنیائے ادب کی اس قدآورشخصیت کی برسی23چولائی کو ہے دیکھنا یہ ہے کہ اس اہم شخصیت کی برسی بھی کیا اس سال بھی خاموشی سے گزرے گی؟
Advertisements
3 comments
  1. Dr. Khalid Nadeem said:

    اختر حسین راے پوری ١۲جون ١۹١۲ کو پیدا ہوئے تھے اور ١۲جون ۲۰١۲ کو ان کی پیدائش کو سو سال ہو رہے ہیں۔ آپ سب کو اختر کا صد سالہ جشن ولادت مبارک ہو۔
    ڈاکٹر خالد ندیم
    مؤلفۛ ڈاکٹر اختر حسین راے پوریۛ ھیات و خدمات
    مطبوعہ مجلس ترقی ادب، لاہور ۲۰۰۹

  2. Dr. Khalid Nadeem said:

    آپ کسی غلطی کی نشان دہی پر پریشان نہ ہوں، اسی عمل سے یہ سائٹ مسلسل بہتر ہوتی چلی جائے گی۔ غلطی کی نشان دہی کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا کیجیے۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: