زیتون


زیتون کا درخت تاریخ کا قدیم ترین پودا ہے۔زیتون کا پھل غذائیت سے بھرپور ہوتا ہےمگر اپنے ذائقے کی وجہ سے پھل کی صورت میں زیادہ مقبول نہیں ہے۔
زیتون کا تیل
زیتون کا تیل کا شمار ایسی چکنائی میں ہوتا ہے جو صحت کے لئے مفید ہے۔قرآن میں زیتون اور اس کے تیل کا ذکر بار بار آیا ہے اور رسول کریمﷺ نے بھی اس کا ذکر فرمایا ہے جسکی وجہ سے اس کی بڑی شہرت ہے۔ویسے تو اس کے بے شمار خواص و فوائد ہیں ان میں سے چند یہ ہیں:
رسول کریم ﷺ نے فرمایا "زیتون کا تیل کھاؤ اور لگاؤ یہ ایک مبارک درخت ہےاور اس میں 70بیماریوں سےشفاء ہے۔(ترمذی، ابن ماجہ)
جو لوگ زیتون کا تیل باقائدگی سے لگاتے ہیں ان کے بال نہ تو گرتے ہیں اور نہ ہی جلد سفید ہوتے ہیں۔اس کی مالش سے داد اور پھنسی بھی ختم ہو جاتے ہیں۔
زہروں کے خلاف تحفظ دیتا ہے
ہیٹ کے فعل کو اعتدال پر لاتا ہے۔
اس کے تیل میں نمک ملا کر مسوڑھوں پر ملا جائے تو ان کو تقویت ملتی ہے۔
اس کے تیل کی مالش سے اعضاء کو قوت ملتی ہے۔
اس کے استعمال سے پٹھوں کا درد جاتا رہتا ہے۔
روغن زیتون کو مرہم میں شامل کر کے لگانے سے زخم جلد بھر جاتے ہیں۔
وہ پھوڑے جو بدبو کرتے ہیں یا پرانی سوش کی وجہ سے ٹھیک نہیں ہوپاتے روغن زیتون کی مالش سے وہ بھی ٹھیک ہوجاتے ہیں۔
ہفتے میں ایک بار سر اور جسم کی مالش کرنے سے جسم کی خارش دور ہو جاتی ہے۔
یہ معدے کے کے لئے مفید ہے اس کے استعمال سے معدے میں کوئی مسئلہ باقی نہیں رہتا۔
ماہرین نے روغن زیتون کو انسانی صحت کے لئے ہر زاویے سے مفید قرار دیا ہے۔کھانے میں روغن زیتون کے استعمال سے یادداشت تیز ہوجاتی ہے۔
روغن زیتون کی مالش سے بچوں کئ ہڈیاں مضبوط ہو جاتی ہیں اور رنگ بھی کافی اچھا ہو جاتا ہے۔
کو زیادہ کرکے امراض قلب کو روکتا ہے۔HDLکو کم کرنے اور اچھے کولسٹرول LDLزیتون کولیسٹرول
Advertisements
4 comments
  1. مجھے عمر بيت گئی زيتون کھاتے اور زيتون کا تيل استعمال کرتے ۔ زيتون پھل اور زيتون کا تيل ہمارے گھرانے کے لازمی اجزاک ہيں جيسے نمک بھی ہے ۔ ميں اور ميری بيوی سر کو زيتون کا تيل ہی لگاتے ہيں ۔ کبھی کھانا پکانے يا تلنے ميں بھی استعمال کرتے ہيں ۔ ميرے والدين بھی زيتون کھاتے رہے اور زيتون کا تيل استعمال کرتے رہے ۔ اس کا اثر ہم پر کيا ہوا يہ تو کوئی ديکھنے والا ہی بتا سکتا ہے ۔ زيتون کا پھل ساری دنيا ميں سوائے ہند و پاکستان کے تو عرصہ سے کھايا جا رہا تھا ۔ اب پج سے پاکستانی عرب ممالک کے چکر لگا چکے ہيں کئی پاکستانی بھی کھانے لگ گئے ہيں ۔ مجھے 47 سال پرانی بات ياد آئی ۔ ميں اپنی خالہ کے گھر زيتون لے کر گيا ۔ اُن کی بڑی بيٹی نے کہا "آ ہا زيتون” اور دو تين منہ ميں ڈال کر مزيدار کہا ۔ اس کے خاوند جنہوں نے پہلے شايد ديکھی بھی نہ لے کر منہ ميں ڈالنے لگے تو بيوی نے کہا "نہ کھائيں کڑوے ہيں’ مگر انہون نے منہ ميں ڈالے اور اے او کر کے ہاتھ پہ نکالے اور وہ پھينکے

    • پر ہمارے یہاں اس کا استعمال زیادہ نہیں رہا ہے
      اب بس بڑھاپا نزدیک آتا دکھ رہا ہے تو اس کےاستعمال کا زیادہ سوچ رہے ہیں

      اور دوسروں کو بھی سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں

  2. Saleem muhammadm said:

    Ap bohat acha likhti hen magar bohat kam lichkti hen…

    • کم لکھنے کی وجہ سے ہی اچھا لکھ لیتی ہو شائد

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: