رانجھا



دراصل "رانجھا” جاٹوں کے ایک قبیلے کا نام ہے چوں کے ہیر کا عاشق بھی اسی قبیلے سے تعلق رکھتا تھا اسی لئے اسے "رانجھا”کہا جاتا ہے، مگر اس کا نام یہ نہیں تھا۔ اس کا نام "دھیدو ” ہے۔
(کتب لغات کا تحقیقی و لسانی جائزہ :جلد 6، از وارث سرہندی)
Advertisements
4 comments
  1. بالکل درست فرمايا آپ نے ۔ جس کی کُنيت رانجھا بنی اُس کا نام دھيدو تھا
    اسی طرح جس کی کُنيت مجنوں ہے اُس کا نام قيس تھا
    رانجھا قبيلے کا نام ہو گا مگر رانجھا کا مطلب ہے فريفتہ ہونا اس طرح کہ اپنا آپ ہی بھول جائے ۔ اگر کوئی کسی کے مزار پر اس حال ميں بيٹھا ہو تو اُسے مجذوب کہنے لگيں گے

  2. جس نے بھی رانجھا رانجھا مشہور کیا اچھا ہی کیا۔۔۔ شاعری میں دھیدو بالکل سُوٹ نہیں کرنا تھا۔۔۔ 🙂

    • تحریم said:

      ہیر کو تو رانجھے کا نام کا بھی علم نہ تھا
      وہ تو خود رانجھا کہا کرتی تھی
      بعد میں مرنے کے علم ہوا جناب وارث سرہندی کو
      کہ وہ تہ دھیدو تھا

      پر تب تلک کتب شائع ہو چکی تھیں
      بزرگوں کی تقلید میں اسے رانجھا ہی نام رکھ دیا گیا

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: