خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق
خلیفہ دوم سیدنا حضرت عمر فاروق کا اسم مبارک عمر اور لقب فاروق ہے۔
آپ کا خاندانی شجرہ آٹھویں پشت میں حضور اکرم سے ملتا ہے۔
آپ کے والد کا نام خطاب اور والدہ کا نام عتمہ ہے۔
حضرت ابو بکر صدیق کے بعد پوری اُمت میں آپ کا مرتبہ سب سے افضل اور اعلٰی ہے۔ 
آپ واقعہ فیل کے تیرہ برس بعد مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے آپ عمر میں تقریباً گیارہ سال حضور اکرم سے چھوٹے ہیں۔
اسلام قبول کرنے سے پہلے آپ قریش کے باعزت قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ اعلان نبوت کے چھ سال بعد 27 سال کی عمر میں آپ نے اسلام قبول کیا۔ آپ مراد رسول ہیں یعنی حضور اکرم نے اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں دعاء کی اے پروردگار ! عمر یا ابوجہل میں جو تجھے پیارا ہو اس سے اسلام کو عزت عطا فرما۔
دعاء بارگاہ خداوندی میں قبول ہوئی اور آپ مشرف با اسلام ہو گئے۔ آپ کے اسلام قبول کرنے سے پہلے 39 مرد اسلام قبول کر چکے تھے آپ 40ویں مسلمان مرد تھے۔ آپ کے اسلام قبول کرنے سے مسلمانوں کو بہت خوشی ہوئی اور انہیں حوصلہ ملا۔ اسلام کی قوت میں اضافہ ہوا۔ حضرت علی فرماتے ہیں کہ جس کسی نے ہجرت کی چھپ کر کی مگر حضرت عمر مسلح ہو کر خانہ کعبہ میں آئے اور کفار کے سرداوں کو للکارا اور فرمایا کہ جو اپنے بچّوں کو یتیم کرنا چاہتا ہے وہ مجھے روک لے۔ حضرت عمر کی زبان سے نکلنے والے الفاظوں سے کفار مکہ پر لرزہ طاری ہو گیا اور کوئی مد مقابل نہ آیا۔ ہجرت کے بعد آپ نے جان و مال سے اسلام کی خوب خدمت کی۔ آپ نے اپنی تمام زندگی اسلام کی خدمت کرنے میں گزار دی۔ آپ حضور اکرم کے وفادار صحابی ہیں۔ آپ نے تمام اسلامی جنگوں میں مجاہدانہ کردار ادا کیا اور اسلام کے فروغ اور اس کی تحریکات میں حضور اکرم کے رفیق رہے۔
سیدنا حضرت عمر فاروق کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔ آپ کی فضیلت میں بہت سی احادیث موجود ہیں۔ سرکار دو عالم کا ارشاد 
گرامی ہے۔
لو کان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب ۔
ترجمہ :۔ میرے بعد اگر نبی ہوتے تو عمر ہوتے۔ (مشکوٰۃ شریف ص558 )

مذکورہ بالا حدیث مبارکہ سے یہ واضح ہوا کہ حضور اکرم آخری نبی ہیں۔ آپ پر نبوت و رسالت ختم ہو چکی۔ اب قیامت تک کوئی بھی نبی اور رسول نہیں آئے گا۔ جو اس واضح حقیقت کے باوجود دعوٰی نبوت کرے یا جو کوئی اس کو نبی یا رسول مانے وہ ملعون کاذب کافر و مرتد ہے۔ مذکورہ حدیث سے حضرت عمر فاروق کے مرتبے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر حضور پر نبوت ختم نہ ہوتی تو آپ کے بعد حضرت عمر فاروق نبی ہوتے۔ حضور اکرم نے ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا۔
بے شک میں نگاہ نبوت سے دیکھ رہا ہوں کہ جن کے شیطان اور انسان کے شیطان دونوں میرے عمر کے خوف سے بھاگتے ہیں۔ (مشکوٰۃ شریف ص558 )
ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد نے ارشاد فرمایا “اللہ تعالٰی نے عمر کی زبان اور قلب پر حق کو جاری فرما دیا۔ (بحوالہ مشکوٰۃ صفحہ557)
معلوم ہوا کہ سیدنا حضرت عمر فاروق ہمیشہ حق کہنے والے ہیں۔ ان کی زبان اور قلب پر کبھی باطل جاری نہیں ہوگا۔ اور یہ معلوم ہوا کہ سیدنا حضرت عمر فاروق کے خوف اور دبدبے سے شیطان اور ان کے آلہ کار بھاگتے ہیں۔
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ “جب حضرت عمر فاروق اسلام لائے تو حضرت جبرائیل حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ آسمان والے عمر کے اسلام پر خوش ہوئے ہیں۔ (ملاحظہ ہو ابن ماجہ بحوالہ برکات آل رسول صفحہ 291)
سیدنا حضرت عمر فاروق کی عظمت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن مجید کی بہت سی آیتیں آپ کی خواہش کے مطابق نازل ہوئیں۔ سیدنا حضرت علی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق کے رائیں قرآن مجید میں موجود ہیں۔
تاریخ خلفاء میں ہے کہ حضرت عمر فاروق کسی معاملہ میں کوئی مشورہ دیتے تو قرآن مجید کی آیتیں آپ کے مشورے کے مطابق نازل ہوتیں۔ (تاریخ الخلفاء)
مسلمانو ! سیدنا حضرت عمر کے مشوروں کو اللہ تعالٰی کس طرح پسند فرماتا تھا اس کا اندازہ اس طرح لگائیے۔
ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق نے حضور اکرم سے عرض کی یارسول اللہ ! آپ کی خدمت میں ہر طرح کے لوگ آتے جاتے ہیں اور اس وقت آپ کی خدمت میں آپ کی ازواج بھی ہوتی ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ آپ ان کو پردہ کرنے کا حکم دیں چنانچہ حضرت عمر کے اس طرح عرض کرنے پر ازواجِ مطہرات کے پردے کے بارے میں قرآن مجید کی آیت نازل ہوئی۔ ارشاد خداوندی ہے۔
واذا سالتموھن متاعا فسلوھن من ورآء حجاب (پ22 ع4)
ترجمہ :۔ اور جب تم امہات المومنین سے استمعال کرنے کی کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر سے مانگو۔
ایک مرتبہ ایک یہودی حضرت عمر فاروق کے پاس آ کر کہنے لگا کہ تمہارے نبی جس جبرائیل فرشتہ کا تذکرہ کرتے ہیں وہ ہمارا سخت دشمن ہے۔ حضرت عمر فاروق نے اس کو جواب دیا۔
من کان عدواللہ وملکتہ ورسلہ وجبریل ومیکال فان اللہ عدو للکفرین ہ
ترجمہ :۔ جو کوئی دشمن ہو اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبرئیل اور میکائیل کا تو اللہ دشمن ہے کافروں کا۔
جن الفاظ کے ساتھ سیدنا حضرت عمر فاروق نے یہودی کو جواب دیا بالکل انہی الفاظ کے ساتھ اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں آیت کریمہ نازل فرمائی۔ (پ1 ع12)
ان واقعات سے حضرت عمر فاروق کی شان و عظمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ آپ اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں اس قدر محبوب تھے کہ آپ کے خیال کے مطابق قرآن مجید کی کئی آیتیں نازل ہوئیں۔
حضرت عمر فاروق نے اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں یہ دعاء کی۔
یارب مجھے اپنی راہ میں شہادت عطا فرما اور اپنے رسول کے شہر میں مجھے موت عطا فرما۔ (بخاری شریف بحوالہ تاریخ الخفاء ص90)
حضرت عمر فاروق کی شہادت
صحابہ رسول حضرت مغیرہ بن شعبہ کا ایک غلام تھا جو مجوسی تھا۔ اس کا نام ابو لولوہ تھا۔ یہ مجوسی ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق کے پاس اپنے مالک کی شکایت لے کر آیا کہ اس کا مالک مغیرہ بن شعبہ اس سے روزانہ چار درہم وصول کرتے ہیں آپ اس میں کمی کرا دیجئے۔ امیر المؤمنین نے فرمایا تم بہت سے کام کے ہنرمند ہو تو چار درہم روز کے تمہارے لئے زیادہ نہیں ہیں۔ یہ جواب سن کر وہ غصّے میں آگ بگولہ ہو گیا اور آپ کو قتل کرنے کا مکمل ارادہ کر لیا اور اپنے پاس ایک زہر آلود خنجر رکھ لیا۔ 26 ذی الحجہ 23ھ بروز بدھ آپ نماز فجر کی ادائیگی کے لئے مسجد نبوی میں تشریف لائے۔ جب آپ نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوئے تو اسلام دشمن مجوسی آپ پر حملہ آور ہو گیا اور اتنا سخت وار کیا کہ آپ بُری طرح زخمی ہو گئے اور تین دن کے بعد دس سال چھ ماہ اور چار دن مسلمانوں کی خلافت کے امور انجام دینے کے بعد 23سال کی عًُمر میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔
حضرت عمر سے ان کی شہادت کے موقع پر لوگوں نے پوچھا، یا امیر المؤمنین کچھ وصیتیں فرمائیے اور خلافت کے لئے کسی کا انتخاب بھی فرما دیجئے اس موقع پر حضرت عمر فاروق نے ارشاد فرمایا خلافت کے لئے میں ان چھ صحابہ کو مستحق سمجھتا ہوں جن سے اللہ کے رسول دنیا سے راضی ہو کر گئے ہیں۔ پھر آپ نے چھ صحابہ کے نام بتائے۔ حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف اور حضرت سعد بن وقاص ۔ ان چھ صحابہ میں سے جن کو چاہیں منتخب کر لیں۔ (ملاحظہ کیجئے تاریخ الخلفاء)
حضرت عمر فاروق کی شہادت کے بعد حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے چھ صحابہ کو خلیفہ کے انتخاب کے لئے جمع کیا اور ان سے فرمایا کہ پہلے تین آدمی اپنا حق تین آدمیوں کو دے کر خلافت کے حق سے الگ ہو جائیں۔ لوگوں نے اس کی حمایت کی۔ چنانچہ حضرت زبیر حضرت علی کے حق میں، حضرت سعد بن وقاص حضرت عبدالرحمٰن بن عوف کے حق میں، اور حضرت طلحہ حضرت عثمان کے حق میں دست بردار ہو گئے۔
تینوں منتخب صحابہ باہمی مشورے کے لئے ایک طرف چلے گئے اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے فرمایا کہ میں اپنے لئے خلافت پسند نہیں کرتا لٰہذا میں اس سے دست بردار ہوتا ہوں حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہما خاموش کھڑے رہے۔ پھر حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے دونوں صحابہ سے فرمایا۔ اگر آپ دونوں حضرات خلیفہ کے انتخاب کا کام میرے ذًے چھوڑ دیں تو خدا کی قسم ! میں آپ دونوں میں سے بہتر اور افضل شخص کا انتخاب کروں گا۔ دونوں حضرات اس پر متفق ہو گئے۔ دونوں بزرگوں سے عہد و پیماں لینے کے بعد حضرت عبدالرحمٰن بن عوف حضرت علی کو ایک کونے میں لے گئے اور ان سے کہنے لگے کہ اے علی () آپ اسلام قبول کرنے والے اولین میں سے ہیں اور آپ حضور اکرم کے قریبی عزیز ہیں لٰہذا میں اگر آپ کو خلیفہ مقرر کروں تو کیا آپ خلافت قبول کر لیں گے۔ آپ نے فرمایا۔ ہاں ۔ اگر میں آپ کے علاوہ کسی دوسرے کو آپ پر خلیفہ مقرر کروں تو کیا آپ منظور کر لیں گے۔ حضرت علی نے فرمایا۔ مجھے یہ بھی منظور ہے۔ اس کے بعد حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ، حضرت عثمان غنی کو ایک کونے میں لے گئے اور یہی دو سوال کئے وہ بھی متفق ہو گئے۔ اس کے بعد حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے حضرت عثمان کے ہاتھ پر بیعت کر لی اس طرح حضرت علی نے بھی بیعت کر لی۔
حضرت زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے : ایک رات آپ عوام کی خدمت کے لیے رات کو نکلے تو آپ نے ایک گھر میں دیکھا کہ چراغ جل رہا ہے اور ایک بوڑھی خاتون اُون کاتتے ہوئے ہجر و فراق میں ڈوبے ہوئے یہ اشعار پڑھ رہی ہے:
علی محمد صلاة الأبرار
صلی عليه الطيبون الأخيار
قد کنتَ قواماً بکا بالأسحار
يا ليت شعری والمنايا أطوار
هل تجمعنی و حبيبی الدار
’’محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اللہ کے تمام ماننے والوں کی طرف سے سلام ہو اور تمام متقین کی طرف سے بھی۔ آپ راتوں کو اللہ کی یاد میں کثیر قیام کرنے والے اور سحری کے وقت آنسو بہانے والے تھے۔ ہائے افسوس! اسبابِ موت متعدد ہیں، کاش مجھے یقین ہوجائے کہ روزِ قیامت مجھے آقاں کا قرب نصیب ہوسکے گا۔‘‘
یہ اشعار سن کر حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو بے اختیار اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یاد آ گئی اور وہ زار و قطار رو پڑے۔ اہل سیر آگے لکھتے ہیں :
طرق عليها الباب، فقالت : من هذا؟ فقال : عمر بن الخطاب، فقالت : ما لي ولعمر في هذه الساعة؟ فقال : افتحي، يرحمک اﷲ فلا بأس عليک، ففتحت له، فدخل عليها، وقال : ردي الکلمات التي قلتيها آنفا، فردتها، فقال : ادخليني معکما و قولي و عمر فاغفرله يا غفار.
’’انہوں نے دروازے پر دستک دی۔ خاتون نے پوچھا : کون؟ آپ نے کہا : عمر بن الخطاب۔ خاتون نے کہا : رات کے ان اوقات میں عمر کو یہاں کیا کام؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ تجھ پر رحم فرمائے، تو دروازہ کھول تجھے کوئی پریشانی نہ ہوگی۔ اس نے دروازہ کھولا : آپ اندر داخل ہوگئے اور کہا کہ جو اشعار تو ابھی پڑھ رہی تھی انہیں دوبارہ پڑھ۔ اس نے جب دوبارہ اشعار پڑھے تو آپ کہنے لگے کہ اس مسعود و مبارک اجتماع میں مجھے بھی اپنے ساتھ شامل کرلے اور یہ کہہ کہ ہم دونوں کو آخرت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ نصیب ہو اور اے معاف کرنے والے عمر کو معاف کر دے۔‘‘
بقول قاضی سلیمان منصور پوری رحمۃ اﷲ علیہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس کے بعد چند دن تک صاحبِ فراش رہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم آپ کی عیادت کے لئے آتے رہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے نزدیک یہی ایمان تھا اور یہی دین کہ وہ کسی بھی شئے سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت کے بغیر اپنا تعلق قائم نہیں کرتے تھے۔ ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ حج پر آئے، طواف کیا اور حجرِاسود کے سامنے آکر کھڑے ہوگئے۔ اس سے فرمانے لگے :
إنی أعلم أنک حجر لا تضر و لا تنفع، ولو لا أنی رأيت النبی صلي الله عليه وآله وسلم يقبلک ما قبلتک.
’’میں جانتا ہوں بیشک تو ایک پتھر ہے جو نہ نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان۔ اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا۔‘‘
یہ کلمات ادا کرنے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے حجرِ اسود کو بوسہ دیا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ایک اثر انگیز واقعہخلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے چو بیس لاکھ مربع میل کر حکومت کی……..راتوں کو اٹھ اٹھ کر پیرا دیتے تھے اور لوگوں کی ضرورت کا خیال رکھتے تھے…..کہتے تھے اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو کل قیامت کے دن عمر (رضی اللہ عنہ )سے اس بارے میں پوچھ ہو گی…….
ایک دفعہ آپ رضی اللہ عنہ دربار کا وقت ختم ہونے کے بعد گھر آئے اور کسی کام میں لگ گئے……اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا …….امیر المومینین آپ فلاں شخص سے میرا حق دلوا دیجئے……آپ کو بہت غصہ آیا اور اس شخص کو ایک درا پیٹھ پر مارا اور کہا، جب میں دربار لگاتا ہوں تو اس وقت تم اپنے معاملات لے کر آتے نہیں اور جب میں گھر کے کام کاج میں مصروف ہوتا ہو ں تو تم اپنی ضرورتوں کو لے کر آ جاتے ہو…….
بعد میں آپ کو اپنی غلطی کا اندازہ ہوا تو بہت پریشان ہوئے اور اس شخص کو (جسے درا مارا تھا) بلوایا اور اس کے ہاتھ میں درا دیا اور اپنی پیٹھ آگے کی کہ مجھے درا مارو میں نے تم سے زیادتی کی ہے ….وقت کا بادشاہ ،چوبیس لاکھ مربع میل کا حکمران ایک عام آدمی سے کہہ رہا ہے میں نے تم سے زیادتی کی مجھے ویسی ہی سزا دو …اس شخص نے کہا میں نے آپ کو معاف کیا ……آپ رضی اللہ عنہ نے کہا نہیں نہیں …کل قیامت کو مجھے اس کا جواب دینا پڑے گا تم مجھے ایک درا مارو تا کہ تمہارا بدلہ پورا ہو جائے…………….آپ رضی اللہ عنہ روتے جاتے تھے اور فرماتے ….اے عمر تو کافر تھا …..ظالم تھا…..بکریاں چراتا تھا…….خدا نے تجھے اسلام کی دولت سے مالا مال کیا اور تجھے مسلمانوں کا خلیفہ بنایا….کیا تو اپنے رب کے احسانوں کو بھول گیا ……….آج ایک آدمی تجھ سے کہتا ہے کہ مجھے میرا حق دلاو تو تو اسے درا مارتا ہے…………اے عمر کیا تو سمجھ بیٹھا ہے کہ مرے گا نہیں…..کل قیامت کے دن تجھے اللہ کو ایک ایک عمل کا حساب دینا پڑے گا………..حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسی بات کو دھراتے رہے اور بڑی دیر روتے رہے..
اللہ ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
 

شان حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
کس طرح ہو تذکرہ حضرت عمر فاروقؓ کا
کیا بتاؤں مرتبہ حضرت عمر فاروقؓ کا
سر کو لینے نکلے تھے، سرکارﷺ کے خادم بنے
کیا عجب ہے واقعہ حضرت عمر فاروقؓ کا
تخم جو بوئے دعاؤں کے شہِ لولاکﷺ نے
جلد ہی ثمرہ ملا حضرت عمر فاروقؓ کا
گو زمیں پر لائے تھے اسلام لیکن دوستو
آسماں پر جشن تھا حضرت عمر فاروقؓ کا
ہیبتِ ایمان کچھ ایسی کہ خود ابلیس بھی
چھوڑ دیتا راستہ حضرت عمر فاروقؓ کا
آپ کو گزرے ہوئے چودہ صدی گزری مگر
آج بھی ہے دبدبہ حضرت عمر فاروقؓ کا
قوتِ طاغوت ہو گی لرزہ براندام پھر
نام تو لیجے ذرا حضرت عمر فاروقؓ کا
حضرتِ عثمانؓ و حیدرؓ، معاویہؓ سے مقتدی
اور نبیﷺ ہے مقتدیٰ حضرت عمر فاروقؓ کا
بارہا وحیِ الٰہی سے ہوئی تائیدِ رائے
ہے خدا خود ہم نوا حضرت عمر فاروقؓ کا
کہہ اٹھے سرکاراﷺ میرے بعد گر ہوتا نبی
بالیقیں وہ نام تھا حضرت عمر فاروقؓ کا
لاکھ اثرؔ روشن کرے حرفِ عقیدت کے چراغ
حق نہیں ہو گا ادا حضرت عمر فاروقؓ کا
حضرت شاہین اقبال اثرصاحب دامت برکاتہم
Advertisements
6 comments
  1. Hasnat Ahmed said:

    Jazak Allah..Allah aapko iska bahtreen Jaza Day. Amin

  2. جزاک اللہ خیر۔
    بہت خوب تحریم صاحبہ۔ جنابِ فاروق اعظم کے بارے میں معلومات شیئر کرنے کا بہت شکریہ۔ ایسی ہستیوں کی زندگیاں دیکھ کر آنکھیں ان کی عقیدت اور اپنے آُپ پہ شرمندگی سے بوجھل ہو جاتی ہیں۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

  3. ansar baloch said:

    its a reality that hazrat e umar is the greatest hero of muslinm world..hazrat e umar is is role model.

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Worlds Largest Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: