مولانا ظفر علی خان

http://farzana.files.wordpress.com/2010/12/maulana-zafar-ali-khan-4.jpg?w=297&h=400

مولوی سراج الدین کے یہاں۱۸۷۳میں سیالکوٹ کے مقام پر ایک بچے نے جنم لیا ۔نام رکھا گیا ظفر ۔بڑے ہوا تو اانہیں وزیر آباد کے ایک اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے بٹھا دیا گیا ۔ذیین تھے،ہر کلاس میں نمایاں نمبرز لیا کرتے تھےا۔انہوں نے پٹیالہ سے میٹرک کا امتحان اعلٰی نمبرز سے پاس کیا اور اور ایف اے میں پہنچےتو داخلے کے لئے علیگڑھ رجوع کیا۔یہاں تعلیم حاصل کرنے والوں کو معاشرے میں نمایاں مقام ملتا تھا یہ اسی لئے یہاں گئے تھے۔1892میں انہوں نے علیگڑھ سے ایف اے پاس کر کے نوکری کی تلاش میں مشغول ہوگئے۔ جو ان دنوں مشکل کام نہ تھا۔انہیں ریاست جموں کشمیر کے محکمہ ڈاک میں ملازمت مل گئی،مگر انکا یہاں دل نہ لگا۔مزید تعلیم کے لئے علیگڑھ ہی میں بی اے میں داخلہ لیا اور پھر نواب محسن الملک کے پاس ملازم ہو گئے۔معاشرے میں اب تک نمایاں مقام حاصل کر چکا تھااور لوگ عزت کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے۔ان کے والد ہفتہ وار زمیندار اخبار نکالا کرتے تھے۔پھر بھی لوگ پسند کیا کرتے تھے۔1909میں والد کا سایہ سر سے اٹھا تو ہفت روزہ زمیندار بھی یتیم ہو گیا۔اب ان کی ایک الگ پہچان بن چکی تھی۔ ادب سے بھی شغف تھا اور مذہب سے رجحان بھی قوی تھا۔ دوستوں میں مولانا کے خطاب سے جانے جانے لگے تھے۔انہوں نے ہفت روزہ کو روزنامہ منانے کی سعی کی اور کامیاب رہے۔شہر چھوٹا تھا روزنامے کا اجراء تو کر لیا مگر اشاعت نہیں بڑھ رہی تھی مجبوراً لاہور سے شائع کرنا پڑا میکلو روڈ پر دفتر بنایا اور یہیں بیٹھ کر کام کرتے اسی دوران جنگ طابلس اور بلقان چھڑ گئی مسیحیوں نے مظلوم مسلمانوں کا قتل عام شروع کر رکھا تھا۔آپ نے اس ظلم نا روا کے خلاف آواز بلند کرنا شروع کی۔ قلم میں روانی تھی، جملوں میں کاٹ تھی اور سینے میں درد مسلمانی تھی ، سو جوش ایمانی کے ساتھ وہ قلمی جہاد میں مشغول ہو گئے 1937 میں آپ کو مرکزی اسمبلی کا رکن بھی منتکب کر لیا گیا ۔ لارڈ کرزن نے ایک کتاب لکھی۔ کتاب اتنی دلچسپ تھی کہ آپ نے اس کا ترجمہ کرنا شروع کر دیا یہ کتاب خیابان فارسی کے نام سے ادب نوازوں تک پہنچی ۔ کتاب اتنی پسند کی گئی کہ پنجاب یورنیورسٹی نے انہیں 500روپے کا انعام بھی دیا۔صرف یہی نہیں جب کتاب نظام حیدرآباد تک پہنچی تو انہوں نے 3000کا انعام دیا۔ ہند بھر میں مولانا شبلی نعمانی کے شاگرد مشہور تھے جبکہ پروفیسر آرنلڈ کے بھی شاگرد کہلاتے تھے۔ یہ انہیں دنوں کا فیض تھا کہ ان کے قلم میں غضب کی کاٹ آچکی تھی۔ ان کی ایک ایک سطر پسند کی جانے لگی تھی۔ معرکۂ مذہب سائنس ،جنگل میں منگل،غلبہ روم ، سیر روم، سیر ظلمات، فسانہ کندن، سنہری گھونگا جیسی کتب نے دھوم مچا دی تھی۔ وہ مسلمانوں کے اسباب زوال پر ہمہ وقت نوحہ کناں رہتے تھے۔ ان کی تحریروں سے مسلمانوں کو اپنے اندر پھر سے ماضی جیسی شان پیدا کرنے کی تحریک ہوتی۔انہیں احساس تھا کہ بر صغیر میں ہندوؤں نے مسلمانوں کو دیوار سے لگا دینے کی سازش جاری رکھی ہے،اس بارے میں وہ نظم و نثر کا سہارا لے کر مسلمانان برصغیر کو اٖگاہ کرتے رہتے تھے۔ان دنوں ان کی یہ نظم زبان زد عام تھی۔

بھارت میں بلائیں دو ہی ہیں، اک ساورکر اک گاندھی ہے
اک جھوٹ کا چلتا ہے جھکڑ اک مکر کی اٹھتی آندھی ہے
لب پر ہے صدائے آذادی اور دل میں شور غلامی کا
اکھڑتی تھی ہوا انگریزوں کی ان دونوں نےملکر باندھی ہے

Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: