امریکہ کا جدید دشمن

11ستمبر 2001؁ ایک ایسی تاریخ تھی جس نے دنیا کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بدل دیا۔اس روز نیویارک کے سینے پر کھڑے معاشی ترقی کی علامت تصور کیئے جانے والے ورلڈ ٹریڈ سینٹر زکے زمین بوس ہوتے ہی ایک طویل نہ ختم ہونے والی ہولناک جنگ کا آگاز ہوگیاجس نے براعظم ایشیا خصوصاً مسلم دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
وقت گزرتا رہا اور تباہی کا دائرہ پھیلتا رہا۔افغانستان کی دھرتی پر برسے خوفناک بموں کی گونج نے پاکستان کی زمین کو بھی ہلا ڈالا۔عراق پر ہونے والے حملے نے عرب دنیا کو مضطرب کر دیا۔مظالم کا نیا باب کھلا اور یوں جنگ پھیلتی گئی۔اور کئی انقلاب کے نام پر امریکہ کا غصہ لیبیا کے معمر قذاقی کے قتل تک جا پہنچا۔
911کے بعد امریکی دفاعی ماہرین نے متعدد بار یہ خوفناک خیال پیش کیا ہے کہ جلد ہی امریکہ کے دشمن پھر ایسا ہی خطرناک حملہ کریں گے،تاہم وقت گزرتا رہا اور اس نوع کا مزید کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔خیال کیا جارہا تھا کہ امریکہ بہادر اب محفوظ ہےلیکن ورلڈ ٹریڈ سینٹرز زمین بوس ہونےکے ٹھیک9برس بعد امریکہ پر ایک اور بھیانک حملہ ہوا جس نے اس خوابوں کی سرزمین کے باسیوں کو نیند سے بیدار کر دیا۔ گو کہ اب کی بار ہلاکتیں نہیں ہوئیں ،تاہم امریکی روح بری طرح زخمی ہوگئی۔
یہ کاری حملہ ماضی کے حملوں سے یکسر مختلف اور زیادہ موثر تھا کیونکہ اس میں 2006میں قائم ہونے والی ایک ویب سائیٹ "وکی لیکس” کو بہ طوراستعمال کیا گیا تھا ۔ جس کے اثرات کسی طور بھی ایٹم بم سے کم نہ تھے۔جبر کی پروردہ حکومتوں کا مکروہ چہرا سامنے لانے سے متعلق شہرت رکھنے والی اس ویب سائیٹ نے2010میں مختلف ممالک میں تعینات امریکی سفیروں کے خفیہ مراسلوں تک رسائی حاصل کر لی جن سے عیاں ہوتا تھا کہ امریکہ اپنے مفادات کے لئے کس طرح اور کس حد تک مختلف ممالک کے معاملات میں دخل اندازی کررہا ہے۔ "وکی لیکس” نے ان مراسلات کی اشاعت کا سلسلہ شروع کر دیا جس نے جمہوریت کے چیمپئن کا چہرہ بےنقاب کر دیا اور وائٹ ہاؤس میں کھلبلی مچ گئی۔
امریکہ کے خفیہ اداروں نے اپنے اس دشمن کے خلاف جنگی تیاریاں شروع کر دیں۔ خصوصی منصوبے ترتیب دیئے جانے لگے ،تاہم ماضی کے برعکس امریکہ بہادر کا یہ ملزم پہاڑوں میں چھپ کر نہیں بیٹھا تھا وہ تو بالکل سامنے تھا۔ اور اس کے ہاتھ میں کوئی تباہ کن ہتھیار بھی نہ تھا، وہ کلی طور پر نہتا تھا۔ یہ ملزم انٹرنیٹ کی دنیا کا جنگ جو تھا۔جسے بچپن سے انڈرگراؤنڈ رہنے کی تربیت ملی تھی اور اطلاعات کے بہاؤ کے اس تیز رفتار دور مین بھی وہ اسرار کی دھند میں لپٹا ہوا تھا اور یہ تھا ان حشر سامانیوں کا واحد ذمہ دار، آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والا "وکی لیکس” کا روح رواں "جولیان اسانج”

دنیا پر حکمرانی کا خواب دیکھنے والوں کے لئے حالات ماضی سے مختلف اور نسبتاً کٹھن تھے۔ کیونکہ دیگر دشمنوں کے برعکس جولیان اسانج بین الاقوامی دنیا میں قطعی غیر مقبول اور ناپسندیدہ نہیں تھا بلکہ2009میں "ایمنسٹی انٹرنیشنل میڈیا ایوارڈ”حاصل کر چکا تھا ۔اس کے علاوہ اسانج کو سینسر شپ اور آذادی اظہار کے لئے کام کرنے والی برطانوی اشاعتی تنظیم”انڈکس آن سینسر شپ کا 2008کا سالانہ ایوارڈ اور امریکی سی آئی اے کے ریٹائرڈ افسران کی تنظیم "سیم ایڈمز ایسوسی ایٹس” کا سالانہ ایوارڈ برائے دیانت وسراغ رسانی بھی مل چکا تھا.یہی نہیں اسے ایک امریکی جریدے
کی جانب سے دنیا بدل دینے والے25افراد کی فہرست میں بھی شامل کیا جاچکا تھا.Utne Reader
مختلف مغربی اشاعتی اداروں کی جانب سے بھی اسے اہم شخصیات کی فہرست مین شامل کیا گیا تھا اور اب یہی کھرا اور مقبول شخص امریکہ کا دشمن نمبر 1بن گیا ہے۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: