حضرت ابراہيم ،حضرت اسماعيل اور حضرت اسحاق (عليہم السلام) حصہ سوم

گذشتہ سے پیوستہ
توحيد كى دعوت
قرآن دعوت حضرت ابراہيم عليہ السلام كو اس طرح بيان كرتاہے :”ہم نے ابراہيم  عليہ السلام  كو بھيجا;اور جب اس نے اپنى قوم سے كہا كہ :خدائے واحد كى پرستش كرو اوراس كے لئے تقوى اختيار كروكيونكہ اگر تم جان لو تو يہ تمہارے لئے بہترہے ”_( سورہ عنكبوت آيت 16)
اس كے بعد حضرت ابراہيم  عليہ السلام  دلائل بت پرستى كا باطل ہونا ثابت كرتے ہيں آپ نے اس دعوى كو مختلف دلائل سے ثابت كيا ہے اور ان مشركين كے معتقدات اور روش حيات كو نا درست ثابت كيا ہے _
پہلى بات انھوںں نے يہ فرمائي كہ :”تم خدا سے منحرف ہوكے بتوں كى عبادت كرتے ہو” _( سورہ عنكبوت آيت 17)
حالانكہ يہ بت بے روح مجسمے ہيں نہ يہ صاحب ارادہ ہيں نہ صاحب عقل اور نہ صاحب شعور وہ ان تمام اوصاف سے محروم ہيں ان كى ہيت ہى بت پرستى كے عقيدے كوباطل ثابت كرنے كے لئے كافى ہے _
اس كے بعد حضرت ابراہيم عليہ السلام  اور آگے بڑھتے ہيں اور فرماتے ہيں كہ :” صرف ان بتوں كى وضع ہى يہ ثابت نہيں كرتى كہ يہ معبود نہيں ہيں”بلكہ تم بھى جانتے ہو كہ ”تم جھوٹى باتيں كرتے ہو اور ان بتوں كو معبود كہتے ہو ” _( سورہ عنكبوت آيت 17)
تمہارے پاس اس جھوٹ كو ثابت كرنے كى بجز چند اوہام وخرافات كے اور كيا دليل ہے _ اس كے بعد حضرت ابراہيم  عليہ السلام  تيسرى دليل ديتے ہيں: اگر تم ان بتوں كو مادى منفعت كے لئے پوجتے ہو يا دوسرے جہان ميں فائدے كے لئے، دونوں صورتوں ميں تمہارا يہ خيال باطل ہے ”كيونكہ تم خدا كے علاوہ جن كى پرستش كرتے ہو وہ تمہيں رزق اور روزى نہيں دے سكتے ”_( سورہ عنكبوت آيت 17)
تم خود اقرار كرتے ہو كہ يہ بت خالق نہيں ہيں بلكہ خالق حقيقى خدا ہے اس بناء پرروزى دينے والا بھى وہى ہے ”لہذا تم روزى خدا سے طلب كرو”_( سورہ عنكبوت آيت 17)
اور چونكہ روزى دينے والاو ہى ہے ” لہذا اسى كى عبادت كرو اور اس كا شكربجالائو”_( سورہ عنكبوت آيت 17)
اس مفہوم كا ايك پہلو يہ بھى ہے منعم حقيقى كے حضور ميں”حس شگر گزاراى ” سے بھى عبادت كى تحريك ہوتى ہے _ تم جانتے ہو كہ منعم حقيقى خدا ہى ہے پس شكر اورعبادت بھى اسى كى ذات كے لئے مخصوص ہے _
”نيز اگر تم آخرت كى زندگى كے خواستگار ہو تو سمجھ لو كہ ہم سب كى باز گشت اسى طرف ہے ”نہ كہ بتوںكى طرف ”_( سورہ عنكبوت آيت 17)
اس كے بعد حضرت ابراہيم  عليہ السلام  تہديد كے طور پر ان مشركين كى سركشى سے بے اعتنائي كا اظہار كرتے ہوئے فرماتے ہيں :” اگر تم ميرے پيام كى تكذيب كرتے ہو تويہ كوئي نئي بات نہيں ہے،تم سے پہلے جو امتيں گزر چكى ہيں انھوں نے بھى اس طرح اپنے پيغمبروں كى تكذيب كى ہے اور آخركار ان كا انجام بڑا دردناك ہوا”_( سورہ عنكبوت آيت 17)
”رسول اور فرستادئہ خدا كا فرض واضح ابلاغ كے علاوہ اور كچھ نہيں ”_( سورہ عنكبوت آيت 18)
خواہ لوگ اسے قبول كريں يا نہ كريں _ ہمارے بڑے بھى بتوں كى پوجا كرتے تھے
ابراہيم عليہ السلام كے جواب ميں انھوں نے كہا : ”ہم بتوں كى عبادت كرتے ہيں اور سارادن ان پر توجہ ركھتے ہيں اور نہ آيت ہى ادب اور احترام كے ساتھ ان كى عبادت ميں لگے رہتے ہيں”_()سورہ شعراء آيت 71)
اس تعبير سے ظاہر ہوتا ہے كہ وہ نہ فقط اپنے اس عمل پر شرمندہ نہيں تھے بلكہ اس پر فخرو مباہات بھى كيا كرتے تھے كيونكہ (”ہم بتوں كى عبادت وپرستش كرتے ہيں” )كا جملہ ان كے مقصود اور مدعا كے بيان كے لئے كافى تھا،ساتھ ہى انھوں نے يہ بھى كہا”ہم سارا سارادن ان كے آستان پر جبہ سائي كرتے رہتے ہيں ”_
بہرحال ابراہيم  عليہ السلام  عليہ السلام نے ان كى يہ باتيں سن كران پر اعتراضات كى بوچھاركردى اور دوزبردست منطقى اور معتدل جملوں كے ذريعہ انھيں ايسى جگہ لاكھڑا كيا جہاں” نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن ”كے مصداق ان سے كوئي جواب نہيں بن پڑتا تھا آپ نے ان سے فرمايا :”جب تم ان كو پكارتے ہوتو كيا وہ تمہارى فرياد سنتے بھى ہيں ؟”،”ياكيا وہ تمہيں كوئي نفع يانقصان پہنچاسكتے ہيں ” (سورہ شعراء آيات 72073)
ليكن متعصب لوگ بجائے اس كے كہ اس منطقى سوال كا كوئي ٹھوس جواب ديتے وہى پرانا اور بار بار كا دہرايا ہوا جواب پيش كرتے ہيں :”انھوں نے كہا ايسى كوئي بات نہيں سب سے اہم بات يہ ہے كہ ہم نے اپنے بزرگوں كو ايساكرتے ديكھا ہے ”(سورہ شعراء آيت 74 )
ان كا يہ جواب اپنے جاہل اور نادان بزرگوں كى اندھى تقليد كو بيان كررہا ہے وہ جوجواب ابراہيم عليہ السلام  كو دے سكتے تھے يہى تھا اور بس يہ ايسا جواب جس كے بطلان كى دليل خود اسى ميں موجود ہے اور كوئي بھى عقل مند انسان اپنے آپ كو اس بات كى اجازت نہيں دے سكتا كہ وہ آنكھيں بند كركے دوسروںكے پيچھے لگ جائے، خاص كر جبكہ آنے والے لوگوں كے تجربے گزشتہ لوگوں سے كہيں زيادہ ہوتے ہيں اور ان كى اندھى تقليد كا نہ تو كوئي جوازرہتا ہے اور نہ ہى كوئي دليل ۔
ابراہيم عليہ السلام كى بت شكنى كا زبردست منظر
يہاں پر پہلے حضرت ابراہيم  عليہ السلام  كى بت شكنى كے واقعہ اور ان سے بت پرستوں كى شديد مڈھ بھيڑكے بارے ميں گفتگوكى گئي ہے _( وہ اسى راہ توحيد وعدل اورراسى راہ تقوى واخلاص پر گا مزن تھا جو نوح كى سنت تھي،كيونكہ انبياء سارے كے سارے ايك ہى مكتب كے مبلغ اور ايك ہى يونيورسٹى كے استاد ہيں اور ان ميں سے ہر ايك دوسرے كے پروگرام كو دوام بخشتا ، اسے آگے بڑھاتا اور اس كى تكميل كرتاہے ، كيسى عمدہ تعبير ہے كہ ابراہيم،  عليہ السلام  نوح كے ساتھیوں ميں سے تھے حالانكہ ان دونوں كے زمانے ميں بہت فاصلہ تھا (بعض مفسرين كے قول كے مطابق تقريباً2600/ سال فاصلہ تھا، ليكن ہم جانتے ہيں كہ مكتبى رشتے ميں زمانے كى كوئي حيثيت نہيں ہے)
حضرت ابراہيم عليہ السلام نے اس بات كو ثابت كرنے كے لئے كہ يہ بات سوفى صد صحيح اور محكم ہے اور وہ اس عقيدہ پر ہر مقام تك قائم ہيں اور اس كے نتائج و لوازم كو جو كچھ بھى ہوں انھيں جان و دل سے قبول كرنے كے لئے تيار ہيں، مزيد كہتے ہيں: مجھے خدا كى قسم جس وقت تم يہاں پر موجود نہيں ہوں گے اور يہاںسے كہيں باہر جائوگے تو ميں تمہارے بتوں كو نابود كرنے كا منصوبہ بنائوں گا”_( سورہ انبياء آيت 57)
ان كى مراد يہ تھى كہ انھيں صراحت كے ساتھ سمجھاديں كہ آخر كار ميں اسى موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انھيں نابود اور درہم و برہم كردوں گا_
ليكن شايد ان كى نظر ميں بتوں كى عظمت اور رعب اس قدر تھا كہ انھوں نے اس كو كوئي سنجيدہ بات نہ سمجھا او ركوئي ردّ عمل ظاہر نہ كيا شايد انھوں نے يہ سوچا كہ كيا يہ ممكن ہے كہ كوئي شخص كسى قوم و ملّت كے مقدسات كے ساتھ ايسا كھيل كھيلے ، جبكہ ان كى حكومت بھى سو فى صد ان كى حامى ہے وہ كس طاقت كے بل بوتے پر ايسا كام كرے گا_ اس سے يہ بات بھى واضح ہوجاتى ہے كہ يہ جو بعض نے كہا كہ حضرت ابراہيم عليہ السلام  نے يہ جملہ اپنے دل ميں كہا تھا يا بعض مخصوص افراد سے كہا تھا كسى لحاظ سے اس كى ضرورت نہيں ہے، خاص طور پر جبكہ يہ بات كامل طور سے قرآن كريم كے خلاف ہے_
اس كے علاوہ قرآن مجيد ميں يہ بھى بيان ہوا ہے كہ بت پرستوں كو ابراہيم كى يہ بات ياد آگئي اور انھوں نے كہا كہ ہم نے سنا ہے كہ ايك جوان بتوں كے خلاف ايك سازش كى بات كرتا ہے_
بہر حال حضرت ابراہيم نے ايك دن جبكہ بُت خانہ خالى پڑا تھا، اور بُت پرستوں ميں سے كوئي وہاں موجود نہيں تھا، اپنے منصوبہ كو عملى شكل دےدي_
بابل كے بت پرست ہر سال ايك مخصوص عيد كے دن كچھ رسومات ادا كيا كرتے تھے بت خانہ ميں كھانے تيار كرتے ہيں اور وہيں انھيں دسترخوان پر چن ديتے تھے اس خيال سے كہ يہ كھانے متبرك ہوجائيں گے _اس كے بعد سب كے سب مل كر اكٹھے شہرسے باہر چلے جاتے تھے اور دن كے آخرميں واپس لوٹتے تھے اور عبادت كرنے اور كھانا كھانے كے لئے بت خانہ ميں آجاتے تھے _ ايك روز اسى طرح جب شہر خالى ہوگيا اور بتوں كو توڑنے اور انھيں درہم برہم كرنے كے لئے ايك اچھا موقع حضرت ابراہيم  عليہ السلام  كے ہاتھ آگيا _يہ ايسا موقع تھا جس كا ابراہيم عرصے سے انتظار كررہے تھے اور وہ نہيںچاہتے تھے كہ موقع ہاتھ سے نكل جائے _
لہذا جب انھوں نے ابراہيم  عليہ السلام  كو جشن ميں شركت كى دعوت دى تو ” اس نے ستاروں پر ايك نظر ڈالى ”اور كہا ميں تو بيمارہوں” _( سورہ صافات 88_89) اور اس طرح سے اپنى طرف سے عذرخواہى كي_
”انھوں نے رخ پھيرا اور جلدى سے اس سے دورہوگئے ”_( سورہ صافات آيت 90)
اور اپنے رسم ورواج كى طرف روانہ ہوگئے _()يہاں دوسوال پيدا ہوتے ہيں :
پہلايہ كہ حضرت ابراہيم  عليہ السلام  نے ستاروں كى طرف كيوں ديكھا ،اس ديكھنے سے ان كا مقصد كيا تھا ؟)
تم يہ بہترين اور شيرين غذا كيوں نہيں كھاتے
حضرت ابراہيم  عليہ السلام  اكيلے شہرميں رہ گئے اوربت پرست شہرخالى كركے باہر چلے گئے حضرت ابراہيم نے اپنے ادھر ادھر ديكھا، شوق كى بجلى ان كى آنكھوں ميں چمكى ،وہ لمحات جن كا وہ ايك مدت سے انتظار كررہے تھے آن پہنچے ،انھوں نے اپنے آپ سے كہا، بتوں سے جنگ كے لئے اٹھ كھڑاہو اور ان كے پيكروں پر سخت
دوسرايہ كہ كيا واقعا وہ بيمار تھے كہ انھوں نے كہا ميں بيمارہوں ؟انھيںكيا بيمارى تھى ؟
پہلے سوال كا جواب بابل كے لوگوںكے اعتقادات اوررسوم وعادات كو ديكھتے ہوئے واضح وروشن ہے وہ علم بخوم ميں بہت ماہر تھے _يہاں تك كہ كہتے ہيں كہ ان كے بت بھى ستاروں كے ہيكلوں اور شكلوں ميں تھے اور اسى بناپر ان كا احترام كرتے تھے كہ وہ ستاروںكے سمبل تھے _
البتہ علم بخوم ميں مہارت كے ساتھ ساتھ بہت سى خرافات بھى ان كے يہاں پائي جاتى تھيں منجملہ يہ كہ وہ ستاروں كو اپنى تقدير ميں موثر جاتے تھے اور ان سے خيروبركت طلب كرتے تھے اور ان كى وضع وكيفيت سے آنے والے واقعات پر استدلال كرتے تھے ، ابراہيم نے اس غرض سے كہ انھيں مطمئن كرديں ، ان كى رسوم كے مطابق آسمان كے ستاروں پر ايك نظر ڈالى تاكہ وہ يہ تصور كريں كہ انھوں نے اپنى بيمارى كى پيشن گوئي ستاروں كے اوضاع كے مطالعے سے كى ہے اور وہ مطمئن ہوجائيں _
بعض بزرگ مفسرين نے يہ احتمال بھى ذكر كيا ہے كہ وہ چاہتے تھے كہ ستاروں كى حركت سے اپنى بيمارى كا وقت ٹھيك طورسے معلوم كرليں كيونكہ ايك قسم كى بيمارى انھيں تھى وہ يہ كہ بخار انھيں ايك خاص وقفہ كے ساتھ آتا تھا ليكن بابل كے لوگوں كے افكارونظريات كى طرف توجہ كرتے ہوئے پہلااحتمال زيادہ مناسب ہے _
بعض نے يہ احتمال بھى ذكركيا ہے كہ ان كا آسمان كى طرف ديكھنا درحقيقت اسرار آفرينش ميں مطالعہ كے لئے تھا اگر چہ وہ آپ كى نگاہ كو ايك منجم كى نگاہ سمجھ رہے تھے جو يہ چاہتا ہے كہ ستاروں كے اوضاع سے آئندہ كے واقعات كى پيش بينى كر ے_
دوسرے سوال كے مفسرين نے متعدد جواب ديئے ہيں ، منجملہ ان كے يہ ہے كہ وہ واقعا ًبيمار تھے ،اگرچہ وہ صحيح وسالم بھى ہوتے تب بھى جشن كے پروگرام ميں ہرگز شركت نہ كرتے ، ليكن ان كى بيمارى ان مراسم ميںشركت نہ كرنے اور بتوں كو توڑنے كے لئے ايك سنہرى موقع اور اچھا بہانہ بھى تھا، اور اس بات پر كوئي دليل نہيں ہے كہ ہم يہ كہيں كہ انھوں نے يہاں”توريہ”كيا تھا ، كيونكہ انبياء كے لئے ” توريہ ”كرنا مناسب نہيں ہے .
ضرب لگا ايسى ضرب جو بت پرستوں كے سوئے دماغوں كو ہلاكر ركھ دے اور انھيں بيداركردے _
قرآن كہتاہے :”وہ ان كے خدائوں كے پاس آيا ،ايك نگاہ ان پر اور كھانے كے ان برتنوں پر جوان كے اطراف ميں موجودتھے ، ڈالى اور تمسخر كے طور پر كہا : تم يہ كھانے كھاتے كيوں نہيں” ؟ (سورہ صافات آيت 91)
يہ كھانے تو تمہارى عبادت كرنے والوں نے فراہم كيے ہيں _مرغن وشيرين ، طرح طرح كى رنگين غذائيں ہيں ، كھاتے كيوں نہيں ہو؟
اس كے بعد مزيد كہتا ہے :” تمہيں كيا ہوگيا ہے ؟ تم بات كيوں نہيں كرتے ؟ تم گونگے كيوں بن گئے ہو ؟تمہارامنہ كيوں بندہے_” (سورہ صافات آيت 92)
اس طرح كے تمام بيہودہ اور گمراہ عقائد كامذاق اڑايا بلاشك وہ اچھى طرح جانتے تھے كہ وہ نہ كھانا كھاتے ہيں اور نہ ہى بات كرتے ہيں اور بے جان موجودات سے زيادہ حيثيت نہيں ركھتے ،ليكن حقيقت ميں وہ يہ چاہتے تھے كہ اپنى بت شكنى كے اقدام كى دليل اس عمدہ اور خوبصورت طريقہ سے پيش كريں _
پھر انھوں نے اپنى آستين چڑھالي، كلہاڑا ہاتھ ميں اٹھايا اور پورى طاقت كے ساتھ اسے گھمايا اور بھر پور ”توجہ كے ساتھ ايك زبردست ضرب ان كے پيكر پر لگائي ”_ (سورہ صافات آيت 93)
بہرحال تھوڑى سى دير ميں وہ آباداور خوبصورت بت خانہ ايك وحشت ناك ويرانہ ہوگيا _تمام بت ٹوٹ پھوٹ گئے ہر ايك ہاتھ پائوں تڑوائے ہوئے ايك كونے ميں پڑاتھا اور سچ مچ بت پرستوں كے لئے ايك دلخراش ، افسوسناك اور غم انگيز منظر تھا _ ابراہيم اپنا كام كرچكے اور پورے اطمينان وسكون كے ساتھ بتكدہ سے باہر آئے اور اپنے گھر چلے گئے اب وہ اپنے آپ كو آئندہ كے حوادث كے لئے تيار كررہے تھے _
وہ جانتے تھے كہ انھوں نے شہرميں بلكہ پورے ملك بابل ميں ايك بہت بڑادھماكہ كيا ہے جس كى صدابعد ميں بلند ہوگى _غصہ اور غضب كا ايك ايسا طوفان اٹھے گا اور وہ اس طوفان ميںاكيلے ہوں گے _ليكن ان كا خدا موجود ہے اور وہى ان كے لئے كافى ہے _
جناب ابراہيم  عليہ السلام  نمروديوں كى عدالت ميں
آخر وہ عيد كا دن ختم ہوگيا اور بت پرست خوشى مناتے ہوئے شہر كى طرف پلٹے اور سب بت خانے كى طرف گئے تاكہ بتوں سے اظہار عقيدت بھى كريں اور وہ كھانا بھى كھائيں كہ جو ان كے گمان كے مطابق بتوں كے پاس ركھے رہنے سے بابركت ہوگيا تھا جو نہى وہ بت خانے كے اندر پہنچے تو ايك ايسا منظر ديكھا كہ ان كہ ہوش اڑگئے آبادبت خانہ كے بجائے بتوں كا ايك ڈھيرتھا ان كے ہاتھ پائوں ٹوٹے ہوئے تھے اور وہ ايك دوسرے پر گرے ہوئے تھے _” وہ تو چيخنے چلانے لگے :”يہ بلا اور مصيبت ہمارے خدائوں كے سر پر كون لايا ہے ”؟ ”يقينا جو كوئي بھى تھا ، ظالموں ميں سے تھا ”_( سورہ انبياء آيت 9 5)
اس نے ہمارے خدائوں پر بھى ظلم كيا ہے ، ہمارى قوم اور معاشرے پر بھى ،اور خود اپنے اوپر بھى كيونكہ اس نے اپنے اس عمل سے اپنے آپ كو ہلاكت ميں ڈال ديا ہے _
ليكن وہ لوگ جو بتوں كے بارے ميں ابراہيم كى دھمكيوں سے آگاہ تھے اور ان جعلى خدائوں كے بارے ميںان كى اھانت آميز باتوں كو جانتے تھے ، كہنے لگے :”ہم نے سنا ہے ايك جوان بتوں كے بارے ميں باتيں كرتا تھا اور انہيں برابھلاكہتا تھا ، اس كا نام ابراہيم  عليہ السلام  ہے_”(سورہ انبياء آيت 60)
يہ ٹھيك ہے كہ بعض روايات كے مطابق حضرت ابرہيم  عليہ السلام  اس وقت مكمل طور پر جوان تھے اور احتمال يہ ہے كہ ان كى عمر16/ سال سے زيادہ نہيں تھى اور يہ بھى درست ہے كہ جوانمردى كى تمام خصوصيات ، شجاعت ، شہامت ، صراحت اور قاطعيت ان كے وجود ميں جمع تھيں ليكن اس طرح سے بات كرنے سے بت پرستوں كى مراد يقينا تحقير كے علاوہ كچھ نہيں تھى ، بجائے اس كے كہ يہ كہتے كہ ابراہيم عليہ السلام  نے يہ كام كيا ہے ،كہتے ہيں كہ ايك جوان ہے كہ جسے ابراہيم عليہ السلام  كہتے ہيں ، وہ اس طرح كہتا تھا يعنى ايك ايسا شخص كہ جو بالكل گمنام اور ان كى نظر ميں بے حيثيت ہے _ اصولاً معمول يہ ہے كہ جب كسى جگہ كوئي جرم ہوجائے تو اس شخص كو تلاش كرنے كے لئے كہ جس سے وہ جرم سرزد ہوا ہو ان سے دشمنى ركھنے والوں كو تلاش كيا جاتاہے اور اس ماحول ميں ابراہيم  عليہ السلام  كے سوا مسلماً كوئي شخص بتوں كے ساتھ دست وگريبان نہيں ہوسكتا تھا لہذا تمام افكار انہيںكى طرف متوجہ ہوگئے اور بعض نے كہا : ” اب جب كہ معاملہ اس طرح ہے تو جائو اور اس كو لوگوں كے سامنے پيش كرو تاكہ وہ لوگ كہ جو پہچانتے ہيں اور خبر ركھتے ہيں گواہى ديں ”_( سورہ انبياء آيت 61)
منادى كرنے والوں نے شہر ميں ہر طرف يہ منادى كى كہ جو شخص بھى ابراہيم عليہ السلام  كى بتوں سے دشمنى اور ان كى بدگوئي كے بارے ميں آگاہ ہے ، حاضر ہوجائے، جلدہى جو آگاہ تھے وہ لوگ بھى اور تمام دوسرے لوگ بھى جمع ہوگئے تاكہ ديكھيں كہ اس ملزم كا انجام كيا ہوتا ہے _
ايك عجيب وغريب شور وغل لوگوں ميں پڑا ہوا تھا ،چونكہ ان كے عقيدے كے مطابق ايك ايسا جرم جو پہلے كبھى نہ ہوا تھا جس نے ان كے دينى ماحول ميں ايك دھماكہ كر ديا تھا _
حضرت ابراہيم عليہ السلام كى دندان شكن دليل
آخركار عدالت لگى اور بازپرس ہوئي زعمائے قوم وہاں جمع ہوئے بعض كہتے ہيں كہ خود نمردو اس عمل كى نگرانى كررہاتھا _
پہلا سوال جو انہوں نے ابراہيم سے كيا وہ يہ تھا :” اے ابراہيم :كيا تونے ہى ہمارے خدائوںكے ساتھ يہ كام كيا ہے_ ”(سورہ انبيائ عليہ السلام آيت  62) وہ اس بات تك كے لئے تيار نہيں تھے كہ يہ كہيں كہ تونے ہمارے خدائوں كو توڑا ہے اور ان كے ٹكڑے ٹكڑے كرديئے ہيں ، بلكہ صرف يہ كہا كيا تونے ہمارے خدائوں كے ساتھ يہ كام كيا ہے ؟
ابراہيم عليہ السلام  نے ايسا جواب ديا كہ وہ خود گھرگئے اور ايسے گھرے كہ نكلنا ان كے بس ميں نہ تھا ” ابراہيم عليہ السلام  نے كہا : يہ كام اس بڑے بت نے كيا ہے ،ان سے پوچھو اگر يہ بات كرتے ہوں _” (سورہ انبياء آيت 63)
جرائم كى تفتيش كے اصول يہ ہيں ، كہ جس كے پاس آثار جرم ملے، وہ ملزم ہے (مشہور رو آيت كے مطابق حضرت ابراہيم عليہ السلام  نے وہ كلہاڑا بڑے بت كى گردن ميں ڈال ديا تھا )_
اصلاً ،تم ميرے پيچھے كيوں پڑگئے ہو؟ تم اپنے بڑے خدا كو ملزم قرار كيوں نہيں ديتے ؟ كيا يہ احتمال نہيں ہے كہ وہ چھوٹے خدائوں پر غضبناك ہوگيا ہو يا اس نے انہيں اپنا آيندہ كا رقيب فرض كرتے ہوئے ان سب كا حساب ايك ہى ساتھ پاك كرديا ہو؟
ابراہيم  عليہ السلام  نے قطعى طورپر اس عمل كو بڑے بت كى طرف منسوب كيا ، ليكن تمام قرائن اس بات كى گواہى دے رہے تھے كہ وہ اس بات سے كوئي پختہ اور مستقل قصد نہيں ركھتے تھے،بلكہ وہ اس سے يہ چاہتے تھے كہ بت پرستوں كے مسلمہ عقائد كو، جو كہ خرافاتى اور بے بنيادتھے، ان كے منہ پر دے ماريں اور ان كا مذاق اڑائيں اور انہيں يہ سمجھائيں كہ يہ بے جان پتھراور لكڑياں اس قدر حقير ہيں كہ ايك جملہ تك بھى منہ سے نہيں نكال سكتيں، كہ اپنى عبادت كرنے والوں سے مدد طلب كرليں ،چہ جائيكہ وہ يہ چاہيں كہ ان كى مشكلات كوحل كرديں_
اس تعبير كے نظير ہمارے روز مرہ كے محاورات ميں بہت زيادہ ہے كہ مد مقابل كى بات كو باطل كرنے كے لئے اس كے مسلمات كوامر يا خبريا استفہام كى صورت ميں اس كے سامنے ركھتے ہيں تاكہ وہ مغلوب ہوجائے اور يہ بات كسى طرح بھى جھوٹ نہيں ہوتي” جھوٹ وہ ہوتا ہے كہ جس كے ساتھ كوئي قرينہ نہ ہو ”_
”ابراہيم عليہ السلام نے يہ بات اس لئے كہى كہ وہ ان كے افكار كى اصلاح كرنا چاہتے تھے_اور انہيں سمجھانا چاہتے تھے كہ ايسے كام بتوں سے نہيں ہو سكتے_”
زودگذربيداري
ابراہيم  عليہ السلام  كى باتوں نے بت پرستوںكو ہلاكرركھ ديا ، ان كے سوئے ہوئے وجدان كو بيداركيا اور اس طوفان كى مانند كہ جو آگ كى چنگاريوں كے اوپر پڑى ہوئي بہت سى راكھ كو ہٹا ديتاہے اور اس كى چمك كو آشكار كرديتا ہے ،ان كى فطرت توحيدى كو تعصب ،جہالت اور غرور كے پردوں كے پيچھے سے آشكار وظاہر كرديا_ زود گزرلمحے ميں وہ موت كى سى ايك گہرى نيند سے بيدار ہوگئے جيسا كہ قرآن كہتا ہے : ” وہ اپنے وجدان اور فطرت كى طرف پلٹے اور خود اپنے آپ سے كہنے لگے كہ حق بات يہ ہے كہ ظالم تو تم خود ہى ہو_”(سورہ انبياء آيت 64)
تم نے تو خود اپنے اوپر بھى ظلم وستم كيا ہے اور اس معاشرے كے اوپر بھى كہ جس كے ساتھ تمہارا تعلق ہے اور نعمتوں كے بخشنے والے پروردگار كى ساحت مقدس ميں بھى _يہ بات قابل توجہ ہے كہ گزشتہ صفحات ميں يہ بيان ہوا ہے كہ انہوں نے ابراہيم پر ظالم ہونے كا اتہام لگايا تھا ليكن اب انہيں يہاں معلوم ہوگيا كہ اصلى اورحقيقى ظالم تو وہ خود ہيں _
اور واقعا ًابراہيم عليہ السلام  كا اصل مقصد بتوں كے توڑنے سے يہى تھا _ مقصد تو بت پرستى كى فكر اور بت پرستى كى روح كو توڑنا تھا ورنہ بتوں كے توڑنے كا تو كوئي فائدہ نہيں ہے، ہٹ دھرم بت پرست ان سے زيادہ اور ان سے بھى بڑے اور بناليتے اور ان كى جگہ پر ركھديتے جيسا كہ نادان ،جاہل اور متعصب اقوام كى تاريخ ميں اس مسئلے كے بے شمار نمونے موجودہيں _ابراہيم عليہ السلام  اس حدتك كامياب ہوئے كہ انہوں نے اپنى تبليغ كے ايك بہت ہى حساس اور ظريف مرحلہ كو ايك نفسياتى طوفان پيدا كركے طے كرليا اور وہ تھا سوئے ہوئے وجدانوں كو بيداركرنا _
بت تو بولتے ہى نہيں
ليكن افسوس : كہ جہالت وتعصب اور اندھى تقليد كا زنگ اس سے كہيں زيادہ تھا كہ وہ توحيدكے اس علمبرداركى صيقل بخش پكار سے كلى طورپر دور ہوجاتاہے _
افسوس كہ يہ روحانى اور مقدس بيدارى زيادہ دير تك نہ رہ سكى اور ان كے آلودہ اور تاريك ضمير ميں ، جہالت اور شيطانى قوتوں كى طرف سے اس نور توحيد كے خلاف قيام عمل ميں آگيا اور ہر چيز اپنى پہلى جگہ پر پلٹ آئي قرآن كتنى لطيف تعبير پيش كررہا ہے : ” اس كے بعد وہ اپنے سركے بل الٹے ہوگئے_”(سورہ انبياء آيت 65)
اور اس غرض سے كہ اپنے گونگے اور بے زبان خدائوں كى طرف سے كوئي عذرپيش كريں ، انہوں نے كہا : ” تو تو جانتاہے كہ يہ باتيں نہيں كرتے_”(سورہ انبياء آيت 65)
يہ توہميشہ چپ رہتے ہيں اور خاموشى كے رعب كو نہيں توڑتے _
اور اس تراشے ہوئے عذر كے ساتھ انہوں نے يہ چاہا كہ بتوں كى كمزورى ، بدحالى اور ذلت كو چھپائيں _
يہ وہ مقام تھا كہ جہاں ابراہيم جيسے ہيرو كے سامنے منطقى استدلال كے لئے ميدان كھل گيا تاكہ ان پر بھر پورحملے كريں اور ان كے ذہنوں كو ايسى سرزنش اور ملامت كريں كہ جو منطقى اور بيدار كرنے والى ہو ” (ابراہيم نے ) پكار كركہا: كيا تم خداكو چھوڑكر دوسرے معبودوں كى پرستش كرتے ہو كہ جونہ تمہيں كچھ فائدہ پہنچاتے ہيں اور نہ ضرر ” (سورہ انبياء آيت 66)
يہ خيالى خدا كہ جو نہ بات كرنے كى قدرت ركھتے ہيں ،نہ شعورو ادراك ركھتے ہيں ،نہ خود اپنا دفاع كرسكتے ہيں ، نہ بندوں كو اپنى حم آيت كے لئے بلاسكتے ہيں ،اصلا ًان سے كو نساكام ہوسكتا ہے اور يہ كس درد كى دوا ہيں ؟ ايك معبود كى پرستش يا تو اس بناء پرہوتى ہے كہ وہ عبوديت كے لائق ہے تو يہ بات بتوں كے بارے ميں كوئي مفہوم نہيں ركھتى ،يا كسى فائدہ كى اميدميں ہوتى ہے اور يا ان سے كسى نقصان كے خوف سے ، ليكن بتوں كے توڑنے كے ميرے اقدام نے بتاديا كہ يہ كچھ بھى نہيں كرسكتے تو كيا اس حال ميں تمہارا يہ كام احمقانہ نہيں ہے ؟
پھر يہ معلم توحيدبات كو اس سے بھى بالاترلے گيااور سرزنش كے تازيانے ان كى بے درد روح پر لگائے اور كہا : تف ہے تم پر بھى اور تمہارے ان خدائوں پر بھى كہ جنہيں تم نے خدا كوچھوڑكر اپنا ركھاہے _”
”كيا تم كچھ سوچتے نہيں ہو اور تمہارے سرميں عقل نہيں ہے _”(سورہ انبياء آيت 67)
ليكن انہيں برابھلاكہنے اور اور سرزنش كرنے ميں نرمى اور ملاء مت كو بھى نہيں چھوڑا كہ كہيں اور زيادہ ہٹ دھرمى نہ كرنے لگيں درحقيقت ابراہيم نے بہت ہى جچے تلے انداز ميں اپنا منصوبہ آگے بڑھايا پہلى مرتبہ انہيں توحيد كى طرف دعوت ديتے ہوئے انہيں پكار كركہا : يہ بے روح مجسمے كيا ہيں ؟ كہ جن كى تم پرستش كرتے ہو؟ اگر تم يہ كہتے ہو كہ يہ تمہارے بڑوں كى سنت ہے تو تم بھى گمراہ ہو اور وہ بھى گمراہ تھے _
دوسرے مرحلے ميں ايك عملى اقدام كيا تاكہ يہ بات واضح كرديں كہ يہ بت اس قسم كى كوئي قدرت نہيں ركھتے كہ جو شخص ان كى طرف ٹيڑھى نگاہ سے ديكھے تو اس كو نابود كرديں، خصوصيت كے ساتھ پہلے سے خبردار كركے بتوں كى طرف گئے اور انہيں بالكل درہم وبرہم كرديا تاكہ يہ بات واضح كريں كہ وہ خيالات وتصورات جو انہوں نے باندھے ہوئے ہيں سب كے سب فضول اور بے ہودہ ہيں _
تيسرے مرحلے ميں اس تاريخى عدالت ميں انہيں برى طرح پھنسا كے ركھ ديا كبھى ان كى فطرت كو ابھارا، كبھى ان كى عقل كو جھنجھوڑا، كبھى پندو نصيحت كى اور كبھى سرزنش وملامت _
خلاصہ يہ كہ اس عظيم خدائي معلم نے ہر ممكن راستہ اختيار كيا اور جو كچھ اس كے بس ميں تھا اسے بروئے كار لايا ليكن تاثيركے لئے ظرف ميں قابليت كا ہونا بھى مسلمہ شرط ہے _ افسوس يہ اس قوم ميں موجود نہيں تھي_
ليكن بلاشبہ ابراہيم كى باتيں اور كام ، توحيدكے بارے ميں كم از كم استفہامى علامات كى صورت ميں ان كے ذہنوں ميں باقى رہ گئے اور يہ آيندہ كى وسيع بيدارى اور آگاہى كے لئے ايك مقدمہ اور تمہيد بن گئے _ تاريخ كے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے كہ ان ميں سے كچھ افراد اگرچہ وہ تعداد ميں بہت كم تھے ، ليكن قدر وقيمت كے لحاظ سے بہت تھے ،ان پر ايمان لے آئے تھے اور نسبتاًكچھ آمادگى كا سامان دوسروں كے لئے بھى پيدا ہوگيا تھا _
ابراہيم  عليہ السلام  كو جلا ديا جائے
اگرچہ ابراہيم عليہ السلام  كے عملى ومنطقى استدلالات كے ذريعے سب كے سب بت پرست مغلوب ہوگئے تھے اور انہوں نے اپنے دل ميں اس شكست كا اعتراف بھى كرليا تھا _
ليكن تعصب اور شديد ہٹ دھرمى حق كو قبول كرنے ميں ركاوٹ بن گئي لہذا اس ميں كوئي تعجب كى بات نہيں ہے كہ انہوں نے ابراہيم كے بارے ميں بہت ہى سخت اور خطرناك قسم كا ارادہ كرليا اور وہ لوگ ابراہيم عليہ السلام  كو بدترين صورت ميں قتل كرنا چاہتے تھے انہوں نے پروگرام بنايا كہ انہيں جلاكر راكھ كرديا جائے _
عام طور پر طاقت اور منطق كے درميا ن معكوسى رابطہ ہوتا ہے ، جس قدر انسان ميں طاقت اور قدرت زيادہ ہوتى جاتى ہے ، اتنى ہى اس كى منطق كمزور ہوتى جاتى ہے سوائے مردان حق كے كہ وہ جتنا زيادہ قوى اور طاقتور ہوتے ہيں ، اتناہى زيادہ متواضع اور منطقى ہوجاتے ہيں_
جو لوگ طاقت كى زبان سے بات كرتے ہيں جب وہ منطق كے ذريعے كسى نتيجے پر نہ پہنچ سكيں تو فورا ًاپنى طاقت وقدرت كا سہارالے ليتے ہيں حضرت ابراہيم كے بارے ميں ٹھيك يہى طرز عمل اختيار كيا گيا جيسا كہ قرآن كہتا ہے :
” ان لوگوں نے (چيخ كر)كہا: اسے جلادواور اپنے خدائوں كى مدد كرو ، اگر تم سے كوئي كام ہوسكتا ہے_”(سورہ انبياء آيت 68)
طاقتور صاحبان اقتداربے خبر عوام كو مشتعل كرنے كے لئے عام طور پر ان كى نفسياتى كمزوريوں سے فائدہ اٹھاتے ہيں كيونكہ وہ نفسيات كو پہچانتے ہيں اور اپنا كام كرنا خوب جانتے ہيں _
جيساكہ انہوں نے اس قصہ ميں كيا اور ايسے نعرے لگائے اور ان كى غيرت كو للكارا: يہ تمہارے خدا ہيں ، تمہارے مقدسات خطرے ميں پڑگئے ہيں ، تمہارے بزرگوں كى سنت كو پائوں تلے روند ڈالاگيا ہے ، تمہارى غيرت وحميت كہاں چلى گئي ؟ تم اس قدرضعيف حال كيوں ہوگئے ہو؟ اپنے خدائوں كى مدد كيوں نہيں كرتے ؟ابراہيم كو جلادو اور اپنے خدائوں كى مدد كرو، اگر كچھ كام تم سے ہوسكتا ہے اور بدن ميں توانائي اورجان ہے ،ديكھو: سب لوگ اپنے مقدسات كا دفاع كرتے ہيں ، تمہارا تو سب كچھ خطرے ميں پڑگيا ہے_
خلاصہ يہ كہ انہوں نے اس قسم كى بہت سى فضول اور مہمل باتيں كيں اور لوگوں كو ابراہيم كے خلاف بھڑكايا اس طرح سے كہ لكڑيوں كے چند گٹھوں كى بجائے كہ جو كئي افرادكے جلانے كے لئے كافى ہوتے ہيں، لكڑيوں كے ہزارہا گٹھے ايك دوسرے پر ركھ كر لكڑيوں كا ايك پہاڑ بناديا اور اس كے بعد آگ كا ايك طوفان اٹھ كھڑاہوا تاكہ اس عمل كے ذريعہ سے اپنا انتقام بھى اچھى طرح سے لے سكيں اور بتوں كا وہ خيالى رعب ودبدبہ اور عظمت بھي، جس كو ابراہيم  عليہ السلام  كے طرز عمل سے سخت نقصان پہنچاتھا، كسى حدتك بحال ہوسكے _
تاريخ دانوںنے اس مقام پر بہت سے مطالب تحرير كيے ہيں كہ جن ميں سے كوئي بھى بعيدنظر نہيں آتا _
جاری ہے

Advertisements
2 comments
  1. جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں ۔ ميں اس تحرير پر چلتے چلتے ہانپ گيا ہوں ۔ ظعيف لوگوں کا کچھ تو خيال رکھا کيجئے ۔ سانس درست ہو تو خوردبيں لے کر وہ الفاظ تلاش کروں جو اس گورکھ دھندے ميں پائے جاتے ہيں ۔ آپس کی بات يہ ہے کہ يہ مذاق ہے يا قارئين کے صبر کا امتحان

  2. Saleem muhammadm said:

    Veri nasi

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

MAHA S. KAMAL

INTERNATIONAL RELATIONS | POLITICS| POLICY | WRITING

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: