قرآن کہانی : حضرت آدم عليہ السلام (حصہ اول)


خدا كى خواہش يہ تھى كہ روئے زمين پر ايك ايسا موجود خلق فرمائے جواس كا نمائندہ ہو ،اس كے صفات، صفات خداوندى كا پرتوہوں اور اس كا مرتبہ ومقام فرشتوںسے بالا ترہو، خدا كى خواہش اور ارادہ يہ تھا كہ سارى زمين اور اس كى نعمتيں ،تمام قوتيں ،سب خزانے ،تمام كانيں اور سارے وسائل بھى اس كے سپرد كردئےے جا ئيں، ضرورى ہے كہ سارى زمين اور اس كى نعمتيں عقل وشعور ،ادر اك كے و افرحصے اور خصوصى استعداد كاحامل ہو جس كى بناء پر موجودات ارضى كى رہبرى اور پيشوائي كا منصب سنبھال سكے _
يہى وجہ ہے كہ قرآن كہتا ہے :”ياد كريں اس وقت كو جب آپ كے پروردگار نے فرشتوںسے كہا كہ ميں روئے زمين پر جانشين مقرركرنے والا ہوں ”۔
سورۃ  بقرہ آيت 30
فرشتوں كا سوال
فرشتوں نے حقيقت كا ادراك كرنے كے لئے نہ كہ اعتراض كى غرض سے عرض كيا :”كيا زمين ميں اسے جانشين قرار دے گا جو فساد كرے گا اور خون بہا ئے گا_ جب كہ ہم تيرى عبادت كرتے ہيں ،تيرى تسبيح وحمد كرتے ہيں اور جس چيز كى تيرى ذات لائق نہيں اس سے تجھے پاك سمجھے ہيں”
سورۃ  بقرہ آيت 30
مگر يہاں پرخدانے انہيں سربستہ ومجمل جواب ديا جس كى وضاحت بعد كے مراحل ميں آشكار ہو .فرمايا :”ميں ايسى چيزوں كو جانتا ہوں جنہيں تم نہيں جانتے”
. سورۃ  بقرہ آيت 30
فرشتوں كى گفتگو سے معلوم ہو تا ہے كہ وہ سمجھ گئے تھے كہ يہ انسان سر براہى نہيں بلكہ فساد كرے گا، خون بہائے گا اور خرابياں كرے گا ليكن ديكھنا يہ ہے كہ آخروہ كس طرح سمجھے تھے _
بعض كہتے ہيں خدا نے انسان كے آئندہ حالات بطور اجمال انہيں بتا ئے تھے جب كہ بعض كا احتمال ہے كہ ملائكہ خود اس مطلب كو لفظ ”فى الارض”(زمين ميں) سے سمجھ گئے تھے كيونكہ وہ جانتے تھے انسان مٹى سے پيدا ہوگا اور مادہ اپنى محدوديت كى وجہ سے طبعاً مركز نزاع وتزاحم ہے كيونكہ محدود مادى زمانہ انسانوں كى اس طبيعت كو سيروسيراب نہيں كرسكتا جوزيادہ كى طلب ركھتى ہے يہاں تك كہ اگر سارى دنيا بھى ايك فرد كو دے دى جائے تو ممكن ہے وہ پھر بھى سير نہ ہو اگر كافى احساس ذمہ دارى نہ ہو تو يہ كيفيت فساد اور خونريزى كا سبب بنتى ہے _
بعض دوسرے مفسرين معتقد ہيں كہ فرشتوں كى پيشين گوئي اس وجہ سے تھى كہ آدم  روئے زمين كى پہلى مخلوق نہيں تھے بلكہ اس سے قبل بھى ديگر مخلوقات تھيں;جنہوں نے نزاع،جھگڑااور خونريزى كى تھي،ان سے پہلے مخلوقات كى برى فائل نسل آدم  كے بارے ميں فرشتوں كى بد گمانى كا باعث بنى _
اس توجہ كا سبب بنا ہو اور دراصل يہ ايك حقيقت بھى تھى جسے انہوں نے بيان كيا تھا يہى وجہ ہے كہ خدا نے جواب ميں كہيں بھى اس كا انكار نہيں كيا بلكہ اس حقيقت كے ساتھ ساتھ ايسى مزيد حقيقتيں انسان اور اس كے مقام كے بارے ميں موجود ہيں جن سے فرشتے آگاہ نہيں تھے _
فرشتے سمجھتے تھے اگر مقصد عبوديت اور بند گى ہے تو ہم اس كے مصداق كامل ہيں ،ہميشہ عبادت ميں ڈوبے رہتے ہيں لہذا سب سے زيادہ ہم خلافت كے لائق ہيں ليكن وہ اس سے بے خبرتھے كہ ان كے وجود ميں شہوت وغضب اور قسم قسم كى خواہشات موجود نہيں جب كہ انسان كو ميلانات وشہوات نے گھير ركھا ہے اور شيطان ہر طرف سے اسے وسوسہ میں ڈالتا رہتا ہے لہذا ان كى عبادت انسان كى عبادت سے بہت زيادہ فرق ركھتى ہے كہاں اطاعت اور فرمانبردارى ايك طوفان زدہ كى اور كہاں عبادت ان ساحل نشينوں كى جو مطمئن، خالى ہاتھ اور سبك بارہيں _
انہيں كب معلوم تھا كہ اس آدم  كى نسل سے محمد ،ابراہيم،نوح،موسي، عيسى عليہم السلام جيسے انبياء اور ائمہ جيسے معصوم اور ايسے صالح بندے اور جانباز شہيد مرد اور عورتيں عرصئہ وجود ميں قدم ركھيں گے جو پروانہ وار اپنے آپ كو راہ خدا ميں پيش كريں گے ايسے افراد جن كے غور وفكر كى ايك گھڑى فرشتوں كى سالہا سال كى عبادت كے بہتر ہے _
يہ بات قابل توجہ ہے كہ فرشتوں نے اپنے صفات كے بارے ميں تين چيزوں كا سہارا ليا تسبيح، حمد اور تقديس ،در حقيقت وہ يہ كہنا چاہتے تھے كہ اگر ہدف اور غرض ،اطاعت اور بندگى ہے تو ہم فرمانبردار ہيں اور اگر عبادت ہے تو ہم ہر وقت اس ميں مشغول رہتے ہيں اور اگر اپنے آپ كو پاك ركھنا يا صفحہ ارضى كو پاك ركھنا ہے تو ہم ايسا كريں گے جب كہ يہ مادى انسان خود بھى فاسد ہے اور روئے زمين كو بھى فاسد كردے گا _
حقائق كو تفصيل سے ان كے سامنے واضح كرنے كے لئے خداوندعالم نے ان كى آزمائشے كے لئے اقدام كيا تاكہ وہ خود اعتراف كريں كہ:
” ان كے اور اولاد آدم  كے درميان زمين وآسمان كا فرق ہے ”_
فرشتے امتحان كے سانچے ميں
پروردگار كے لطف وكرم سے آدم  حقائق عالم كے ادراك كى كافى استعدادركھتے تھے خدا نے ان كى اس استعداد كو فعليت كے درجے تك پہنچا يا اور قرآن كے ارشاد كے مطابق آدم  كو تمام اسما ء (عالم وجود كے حقائق واسرار )كى تعليم دى گئي
سورۃ  بقرہ آيت 31
مفسرين نے اگر چہ ”علم اسماء كى تفسير وں میں قسم قسم كے بيانات ديئے ہيں ليكن مسلم ہے كہ آدم  كو كلمات واسماء كى تعليم بغير معنى كے نہيں دى تھى كيونكہ يہ كو ئي قابل فخربات نہيں بلكہ مقصد يہ تھا كہ ان اسماء كے معانى ومفاہيم اورجن چيزوں كے وہ نام تھے ان سب كى تعليم ہے البتہ جہان خلقت اور عالم ہستى كے مختلف موجودات كے اسماء خواص سے مربوط علوم سے باخبر وآگاہ كيا جانا حضرت آدم  كے لئے بہت بڑا اعزاز تھا _
ايك حديث ميں ہے كہ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اس آيت (وعلم آدم  الاسماء كلہا)كے متعلق سوال ہوا تو آپ نے فرمايا : (الارضين والجبال والشعاب والا وديہ ثمہ نظر الى بساط تحتہ فقال وہزا ابساط مما علمہ)_
اسماء سے مرادزمينيں ،پہاڑ،دريا،اوروادياں (غرض يہ كہ تمام موجودات ) تھے، اس كے بعد حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس فرش كى طرف نگاہ كى جو آپ كے نيچے بچھا ہوا تھا اور فرمايا يہاں تك كہ يہ فرش بھى ان امور ميں سے ہے كہ خدا نے جن كى آدم  كو تعليم دى _
لہذا معلوم يہ ہوا كہ علم لغت كے مشابہ نہ تھا بلكہ اس كا تعلق فلسفہ ،اور اسرار اور كيفيات وخواص كے ساتھ تھا، خداوندعالم نے آدم  كو اس علم كى تعليم دى تاكہ وہ اپنى سيرتكامل ميں اس جہان كى مادى اور روحانى نعمتوں سے بہرہ ورہوسكيں اسى طرح مختلف چيزوں كے نام ركھنے كى استعداد بھى انہيں دى تاكہ وہ چيزوںكے نام ركھ سيكيں اور ضرورت كے وقت ان كا نام لے كر انہيں بلا سكيں يا منگواسكيں اور يہ ضرورى نہ ہو كہ اس كے لئے ويسى چيز دكھانى پڑے، يہ خود ايك بہت بڑى نعمت ہے اس موضوع كى اہميت ہم اس وقت سمجھتے ہيں جب ديكھتے ہيں كہ انسان كے پاس اس وقت جو كچھ ہے كتاب اور لكھنے كى وجہ سے ہے اور گزرے ہوئے لوگوں كے سب علمى ذخائران كى تحريروں ميں جمع ہيں اور يہ سب كچھ چيزوں كے نام ركھنے اور ان كے خواص كى وجہ سے ہے ورنہ كبھى بھى ممكن نہ تھا كہ ہم گذشتہ لوگوں كے علوم آنے والوں تك منتقل كرسكتے _
پھر خداوند عالم نے فرشتوں سے فرمايا :”اگر سچ كہتے ہوتو ان اشياء اور موجودات كے نام بتاو جنہيں ديكھ رہے ہو اور ان كے اسرارو كيفيات كو بيان كرو،ليكن فرشتے جو اتنا علم نہ ركھتے تھے اس امتحان ميں پيچھے رہ گئے لہذا جواب ميں كہنے لگے خدا وندا :”تومنزہ ہے ،تونے ہميں جوتعليم دى ہے ہم اس كے علاوہ كچھ نہيں جانتے ہميں نہيں معلوم تو خود ہى عليم وحكيم ہے
سورۃ  بقرہ آيت 31
اگر ہم نے اس سلسلے ميں سوال كيا ہے تو يہ ہمارى ناآگا ہى كى بناء پرتھا اور آدم  كى اس عجيب استعداد اور قدرت سے بے خبر تھے جو ہمارے مقابلے ميں اس كا بہت بڑا امتياز ہے ،بے شك وہ تيرى خلافت وجانشينى كى اہليت ركھتا ہے جہان ہستى كى سرزمين اس كے وجود كے بغير نا قص تھي_
اب آدم  عليہ السلام كى بارى آئي كہ وہ ملائكہ كے سامنے موجود ات كا نام ليں اور ان كے اسرار بيان كريں خداوند عالم نے فرمايا :”اے آدم  :فرشتوں كو ان موجود ات كے ناموں اور كاموں سے آگاہ كرو،جب آدم  نے انہيں ان اسماء سے آگاہ كيا تو خداوند عالم نے فرمايا : كياميں نے تمہيں بتايا نہيں تھا كہ ميں آسمان وزمين كے غيب سے واقف ہوں اور تم جو كچھ ظاہر كرتے اور چھپا تے ہوسب سے باخبر ہوں”
سورۃ  بقرہ آيت 33
اس مقام پر ملائكہ نے اس انسان كى وسيع معلومات اور فراواں حكمت ودانائي كے سامنے سرتسليم خم كرديا اور ان پر واضح ہوگيا كہ صرف يہى زمين پر خلافت كى اہليت ركھتا ہے _
آدم  عليہ السلام جنت ميں
گذشتہ بحثيں جوانسان كے مقام وعظمت كے بارے ميں تھيں ان كے ساتھ قرآن نے ايك اور فصل بيان كى ہے، پہلے كہتا ہے : ”يادكرووہ وقت جب ہم نے فرشتوں سے كہا آدم  كے لئے سجدہ وخضوع كرو، ان سب نے سجدہ كيا سوائے ابليس كے، جس نے انكار كيا اور تكبر كيا اور اسى تكبر ونا فرمانى كى وجہ سے كافروں ميں داخل ہوگيا ”
سورۃ  بقرہ آيت 34
بہر حال مربوط آيت انسانى شرافت اور اس كى عظمت ومقام كى زندہ اور واضح دليل ہے كہ اس كى تكميل خلقت كے بعد تمام ملائكہ كو حكم ملتا ہے كہ اس عظيم مخلوق كے سامنے سر تسليم خم كردو، واقعاوہ شخص جو مقام خلافت الہى اور زمين پر خدا كى نمائندگى كا منصب حاصل كرے ،تمام ترتكا مل وكمال پر فائز ہو اور بلند مرتبہ فرزندوں كى پرورش كا ذمہ دار ہو جن ميں انبيا ء اورخصوصا ًپيامبر اسلام (ص) اور ان كے جانشين شامل ہوں، ايسا انسان ہر قسم كے احترام كے لائق ہے
ابليس نے مخالفت كيوں كي؟
ہم جانتے ہيں كہ لفظ ”شيطان ”اسم جنس ہے جس ميں پہلا شيطان اور ديگر تمام شيطان شامل ہيں ليكن ابليس مخصوص نام ہے، اور يہ اسى شيطان كى طرف اشارہ ہے جس نے حضرت آدم  كو ورغلايا تھا وہ صريح آيات قرآن كے مطابق ملائكہ كى نوع سے نہیں تھا صرف ان كى صفوں ميں رہتا تھا وہ گروہ جن ميں سے تھا جو ايك مادى مخلوق ہے _
سورۃ  كہف آيت 50 ميں ہے :”سب نے سجدہ كيا سوائے ابليس كے جو جنوں ميں سے تھا”
اس مخالفت كاسبب كبر و غرور اور خاص تعصب تھا جو اس كى فكر پر مسلط تھا_وہ سوچتا تھا كہ ميں آدم  سے بہتر ہوں لہذا آدم  كو سجدہ كرنے كا حكم نہيں ديا جانا چاہئے بلكہ آدم  كو سجدہ كرنا چاہئے اور اسے مسجود ہونا چاہئے_
خدانے ”ابليس”كى سركشى اور طغيانى كى وجہ اس كا مواخذہ كيا اور كہا:اس بات كا كيا سبب ہے كہ تو نے آدم  كو سجدہ نہيں كيا اور ميرے فرمان كو نظر انداز كرديا ہے؟
سورۃ  اعراف آيت 12
اس نے جواب ميں ايك نادرست بہانے كا سہارا ليا اور كہا:”ميں اس سے بہتر ہوں كيونكہ تو نے مجھے آگ سے پيدا كيا ہے اور آدم  كو آب و گل سے_
سورۃ  اعراف آيت 12
گويا اسے خيال تھا كہ آگ،خاك سے بہتر و افضل ہے،يہ ابليس كى ايك بڑى غلط فہمى تھي،شايد اسے غلط فہمى بھى نہ تھى بلكہ جان بوجھ كر جھوٹ بول رہا تھا_
ليكن شيطان كى داستان اسى جگہ ختم نہيں ہوتي،بلكہ اس نے جب يہ ديكھا كہ وہ درگاہ خداوندى سے نكال ديا گيا ہے او اس كى سركشى اور ہٹ دھرمى ميں اور اضافہ ہوگيا_ چنانچہ اس نے بجائے شرمندگى اور توبہ كے اور بجائے اس كے كہ وہ خدا كى طرف پلٹے اور اپنى غلطى كا اعتراف كرے،اس نے خدا سے صرف اس بات كى درخواست كى كہ : ”خدايا مجھے رہتى دنيا تك كے لئے مہلت عطا فرمادے اور زندگى عطا كر”
سورۃ  اعراف آيت 14
اس كى يہ درخواست قبول ہوگئي اور اللہ تعالى نے فرمايا:”تجھے مہلت دى جاتى ہے”
سورۃ  اعراف آيت 15
اگر چہ قران ميں اس بات كى صراحت نہيں كى گئي كہ ابليس كى درخواست كس حدتك منظور ہوئي_ارشادہوا: ”تجھ كو اس روز معين تك كے لئے مہلت دى گئي”
سورۃ  حجر آيت 38
يعنى اس كى پورى درخواست منظور نہيں ہوئي بلكہ جس مقدار ميں خدانے چاہا اتنى مہلت عطا كي_
ليكن اس نے جو يہ مہلت حاصل كى وہ اس لئے نہيں تھى كہ اپنى غلطى كا تدارك كرے بلكہ اس نے اس طولانى عمر كے حاصل كرنے كا مقصد اس طرح بيان كيا:
”اب جبكہ تو نے مجھے گمراہ كرديا ہے،تو ميں بھى تيرے سيدھے راستے پر تاك لگا كر بيٹھوں گا(مورچہ بنائوں گا)اور ان(اولاد آدم )كو راستے سے ہٹادوں گا،تاكہ جس طرح ميں گمراہ ہوا ہوں اسى طرح وہ بھى گمراہ ہوجائيں_”
سورۃ  اعراف آيت 16
اس كے بعد شيطا ن نے اپنى بات كى مزيد تائيد و تاكيد كے لئے يوں كہا:”ميں نہ صرف يہ كہ ان كے راستہ پر اپنا مورچہ قائم كروں گا بلكہ ان كے سامنے سے،پيچھے سے،دا ھنى جانب سے،بائیں جانب سے گويا
چاروں طرف سے ان كے پاس آئوں گا جس كے نتيجہ ميں تو ان كى اكثريت كو شكر گزار نہ پائے گا_”
سوہ اعراف آيت 16
مذكورہ بالا تعبير سے مراد يہ ہو سكتى كہ شيطان ہر طرف سے انسان كا محاصرہ كرے گا اور اسے گمراہ كرنے كے لئے ہر وسيلہ اختيار كرے گا اور يہ تعبير ہمارى روز مرہ كى گفتگو ميں بھى ملتى ہے جيسا كہ ہم كہتے ہيں كہ”فلاں شخص چاروں طرف سے قرض ميں يا مرض ميں گھر گيا ہے_”
اوپر اور نيچے كا ذكر نہيں ہوا اس كى وجہ يہ ہے كہ انسان كى زيادہ تر اور عموماًفعاليت ان چار طرف ہوتى ہے_
ليكن ايك روایت میں ہے کہ:
”شيطان جو آگے سے آتا ہے اس سے مراد يہ ہے كہ وہ آخرت كو جو انسان كے آگے ہے اس كى نظر ميں سبك كرديتا ہے،اور پيچھے سے آنے كے معنى يہ ہيں كہ;شيطان انسان كو مال جمع كرنے اور اولاد كى خاطر بخل كرنے كے لئے ورغلاتا ہے،اور”داہنى طرف”سے آنے كا يہ مطلب ہے كہ وہ انسان كے دل ميں شك و شبہ ڈال كر اس كے امور معنوى كو ضائع كرديتا ہے اور بائيں طر ف سے آنے سے مراد يہ ہے ك شيطا ن انسان كى نگاہ ميں لذات مادى و شہوات دنيوى كو حسين بنا كر پيش كرتا ہے_
شروع ميں اس كا گناہ صرف يہ تھا كہ اس نے خدا كا حكم ماننے سے انكار كرديا تھا،اسى لئے اس كے خروج كا حكم صادر ہوا، اس كے بعد اس نے ايك اور بڑا گناہ يہ كيا كہ خدا كے سامنے بنى آدم  كو بہكانے كا عہد كيا اور ايسى بات كہى گويا وہ خدا كو دھمكى دے رہا تھا،ظاہر ہے كہ اس سے بڑھ كر اور كونسا گناہ ہوسكتا ہے_ لہذا خدا نے اس سے فرمايا:اس مقام سے بد ترين ننگ و عار كے ساتھ نكل جا اور ذلت و خوارى كے ساتھ نيچے اتر جا_
اور فرمايا:”ميں بھى قسم كھاتاہوں كہ جو بھى تيرى پيروى كرے گا ميں جہنم كو تجھ سے اور اس سے بھردوں گا_”
سورۃ  اعراف آيت 18
سجدہ خدا كے لئے تھا ياآدم  كے لئے ؟ اس ميں كوئي شك نہيں كہ ”سجدہ ”جس كا معنى عبادت وپرستش ہے صرف خدا كے لئے ہے كيونكہ عالم ميں خدا كے علاوہ كو ئي معبود نہيں اور توحيد عبادت كے معنی يہى ہيں كہ خدا كے علاوہ كسى كى عبادت نہ کی جائے۔
جاری ہے۔۔۔۔۔

Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

MAHA S. KAMAL

INTERNATIONAL RELATIONS | POLITICS| POLICY | WRITING

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: