معدنی تیل کا خاتمہ

یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہےکہ دنیا کا تیل بتدریج ختم ہو رہا ہے،کیونکہ اس کے استعمال میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔دنیا کے خاتمے تیل کے خاتمے کے ساتھ وابسطہ کرنے والے لوگوں کے مطابق تیل کی طلب اور رسد میں فرق بڑھتا چلا جائے گااور پھر وہ لمحہ آجائے گا کہ جب تیل کی طلب اس کی رسد سے بہت بڑھ جائے گی۔کچھ لوگوں کے خیال میں یہ فرق رونما ہو چکا ہے،جبکہ بعض لوگوں کے مطابق یہ واقعہ 2020؁ میں رونما ہو گا۔ تیل کے خاتمہ یا اس کی بہت زیادہ کمی ہوجانے کی وجہ سے دنیا بھر میں صنعتیں اور زراعت کے شعبے شدید متاثر ہوں گے۔ بہت بڑا معاشی بحران جنم لے گا ۔کھادیں، کیڑے مار ادوایات اور زمینی پانی کی کمی کی وجہ سے  فصلیں تباہ ہو جائیں گی یا زرعی پیداوار انتہائی کم ہو جائے گی۔ جس کی وجہ سے معاشرتی نظام زندگی درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔
تیل یقیناً ایک دن ختم ہو جائے گا لیکن اہم سوال یہ کہ ایسا کب ہو گایا؟ اس کے خاتمے سے قبل انسان اس کا متبادل ایندھن تلاش کر سکے گا یا نہیں؟
ایم کنگ ہوبرٹ نے 1956؁ میں یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ 1965؁سے 1970؁ کے درمیانی عرصہ میں امریکہ کے تیل کی پیداوار اپنے عروج پر پہنچنے کے بعد روبہتنزل ہو جائے گی، اور ان کا یہ نظریہ درست ثابت ہوااور اس کے بعد عالمی اقتصادی بحران کے دوران تیل کے کاروبار سے بہت بڑی مقدار میں سرمایہ نکال لیا گیااو راب نئے تیل کے کنوؤں کی تلاش کا کام تقریباً ٹھپ ہی ہو گیا ہے۔ماہرین کے اندازوں کے مطابق تیل کے خاتمے کے ساتھ دنیا میں ہونے والی معاشرتی تباہی کا امکان 10 میں سے 4فیصد ہے۔
Advertisements
2 comments
  1. اگر آپ اس موضوع پر تفصیل سے پڑھنا چاہتی ہیں تو لیگٹ جرمی کی کتاب Half Gone ایک عمدہ کاوش ہے

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: