سورج کا انجانی منزل کو سفر

قرآن مجید میں ارشا د ہوتا ہے :

(وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّھَا ط ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ)

اور سورج اپنے ٹھکانے کی سمت دوڑا چلا جا رہا ہے۔ یہ بہت زبردست خوب جاننے والے اللہ کا متعین کردہ راستہ ہے۔

(سورۂ یسٰین،38:36)

سولہویں صدی عیسوی میں پولینڈ کے ماہر نجوم نکولاس کوپر نیکس نے یہ اعلان کیا کہ سورج ساکن ہے اور زمین اس کے گرد چکر لگاتی ہے تو دنیائے علم میں ایک بھونچال آگیا جب کوپر کے اس نظریئے کو حقیقت سمجھ لیا گیاتو عالم اسلام میں ایک اضطراب کی سی کیفیت پیدا ہو گئی اس لئے کہ قرآن مجید سورج کو متحرک قرار دیتا ہے۔پھر اس کے بعد اٹھاوریں صدی عیسوی میں سر فریڈرک ولیم ہرشل نے یہ اعلان کیا کہ

"سورج متحرک ہے اس نے کہا کہ سورج خلا میں سفرکر رہا ہے "یہ کہہ کر اس نے قرآنی بیان کی تصدیق کر دی۔

سورج کس طرح سفر کر رہا ہے کیلیفورنیا کی ایک رصد گاہ کے ڈائریکٹر آر جی ا یٹکن کا اندازہ ہے کہ سورج اپنے نظام شمسی سمیت اپنی کہکشاں کے ساتھ 24000 میل فی گھنٹا کی رفتار سے کسی نامعلوم منزل کی جانب جا رہا ہے اور جدید ترین انکشاف جو سائنس نے کیا وہ یہ ہے کہ سورج مجمع کہا گیا ہے۔Solar Apexالنجوم شلیاق میں کسی نامعلوم مرکز کی طرف نہایت تیزی سے بھاگا جا رہا ہے۔ اس مرکز کو سولر ایپکس

…………………………………………………..

Advertisements
2 comments
  1. اسی پہ کيا بس ہے ابھی آگے آگے ديکھيئے ہوتا ہے کيا
    آپ کی يہ والی تحرير ميری حِس کی طرح کچھ زيادہ ہی موٹی نہيں ہو گئی ؟
    اگر بوڑھا آدمی ساتھ ليجانے کی اجازت نہ ہو تو لوگ صندوق ميں بند کر کے لے جاتے تھے کہ نصيحت کی ضرورت پڑے گی

    😆

    • جی اتنی عمر ہی کہاں رہی ہے
      900 سال کے لوگ ہوا کرتے تھے
      زندگی تو شائد تب تھی
      اب تو 5 سال میں شائد 5 دن بغیر کسی فکر کے گذرتے ہیں

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: