معاشرے میں خواتین کی ذمہ داریاں


اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ زمانہ جاہلیت میں خواتین کا مرتبہ صرف ایک گھریلو سامان کی حیثیت سے زیادہ نہ تھا، جن کی جانوروں کی طرح خرید و فروخت ہوا کرتی تھی اور ان کے حقوق کا گھلا گھونٹا جاتا تھا۔تعلیم بھی حاصل نہیں کر سکتی تھیں، وہ اپنے حقوق بھی نہیں مانگ سکتی تھیں اور اگر اپنے حقوق یا کسی بھی شے پر آواز اٹھاتی، تو موت کے گھاٹ اتار دی جاتی۔مگر مذہب اسلام نے مردوں کی طرح عورتوں کو بھی علم حاصل کرنے کی اجازت دی ہے۔وہ معلم ہو سکتی ہیں ، طبیب ہو سکتی ہیں ، شرعی اصولوں کے مطابق تجارت کر سکتی ہیں، وہ کار افتاء انجام دے سکتی ہیں، جج بن سکتی ہیں ۔اسلام نے انہیں صحیح آزادی کا تصور دیا ہے جو دیگر مذاہب میں قطعی نہیں تھا۔اگر یوں کہوں تو بے جانہ ہوگا کہ آج کے دور میں خواتین کے لیے ایک بیداری مہم چلانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ جان سکیں کہ ان کے حقوق کیا ہیں؟
مگر پہلی بات، مغرب کو اس بات پر ناز ہے کہ اس نے دنیا کو جمہوریت اور سیکولرازم  کا تحفہ دیاہے، جس میں ہر شخص کو اظہارِ خیال کی اپنی تہذیبی اور ثقافتی شناخت کے ساتھ رہنے کی اور اپنے  مذہب پر عمل کرنے کی اجازت ہے اور کسی پر کوئی رائے تھوپی نہیں جاسکتی۔ عالم اسلام پر اس کا دبائو ہے کہ وہ اپنے یہاں خواتین کو اپنے خیال کے مطابق زندگی گزارنے کی اجازت دیں ، ہر گروہ کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا اختیار دیں اور اس میں جبرا ً، زور زبردستی کا طریقہ اختیار نہ کریں۔ مگر مغرب میں شاید آزادی کا حقیقی مقصد انسان کو اخلاقی اور مذہبی قدروں سے آزاد کرنا ہے، نہ کہ آزادی سے ہمکنار کرنا۔ اسی لیے مغرب مسلمانوں کو ان کی مذہبی شناخت سے محروم کرنے اور مسلمان خواتین کو نقاب سے روکنے کی نہ جانے کیسی کیسی مہم چلاتا رہتا ہے۔ واضح ہوکہ حال ہی میں فرانس میں اسکول اور سرکاری اداروں میں سکھوں کے لیے پگڑی، مسلمان خواتین کے لیے ’ اسکارف‘ یہودیوں کے لیے ان کی مخصوص ’ ٹوپی‘ اور عیسائیوں کے لیے صلیب رکھنے کی ممانعت کی تھی، جس کا وبال پوری دنیا میں گونجا تھا۔ افسوس ناک امر تو یہ ہے کہ کچھ خواتین بھی خواتین کے لیے پردہ کرانے کو غلط بتاتی ہیں ۔ان کا ماننا ہے کہ یہ جمہوری کے  تصورکے مغائر ہے، جس میں تمام لوگوں کو یکساں حقوق دینے کا اور اپنی سوچ کے مطابق عمل کرنے کا حق دینے کا دعویٰ کیا جاتاہے۔لیکن ذرا سوچئے! کیا سیکولر ازم کا مطلب یہی ہے کہ ایک شخص کو جانوروں کی طرح بے لباس ہونے کی تو اجازت ہو ؟لیکن اگر وہ اپنی خوشی اور خواہش سے ساتر لباس پہننا چاہیں تو اس پر پابندی لگا دی جائے؟
خدا کا نظام ہے کہ جو چیز اہم بھی ہوتی ہے اور نازک، اسے حفاظتی حصار میں رکھا جاتا ہے۔ انسان کے ہاتھ پائوں پر کوئی حصار نہیں رکھا گیا، لیکن دماغ کو سخت ہڈیوں والی کھوپڑی کے اندر رکھا گیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ اس کا تحفظ ہوسکے۔ دل کی جگہ سینے کی لچک دارہڈیوں کے بیچ رکھی گئی تاکہ زیادہ سے زیادہ اس کی حفاظت ہوسکے۔ آنکھوں پر پلکوں کا پہرہ بٹھایا گیا۔یہ ان اعضاء کی حفاظت  کے لیے ہے۔نباتات ہی کو دیکھئے اگر آم پر دبیز چھلکوں کا لباس نہ ہوتا تو کیا مکھیوں اور بھرنڈوں سے بچ کر وہ انسان کے ہاتھ آسکتا ؟اگر چاول اور گیہوں کے دانوں پر ان کی حفاظت کے لیے چھلکے نہ ہوتے تو انسان انہیں اپنی خوراک نہیں بنا سکتا تھا۔ خود انسانی معاشرہ میں دیکھئے، ملک کا ایک  عام شہری کھلے عام ہر جگہ آمدو رفت کرتا ہے، نہ اس کے ساتھ سیکورٹی گارڈ ہے نہ اس کی رہائش گاہ پر پہرے دار ہے، جبکہ اہم شخصیتوں کے لیے تحفظ کا خصوصی نظم کیا جاتا ہے۔ مردوں اور عورتوں میں عورتوں کی حفاظت کی زیادہ ضرورت محسوس کی گئی ہے۔  خدانے انہیں مردوں کے لیے وجہ کشش بنایا ہے ، اس لیے ان کی تراش و خراش میں حسن کاری اور لطافت کو قدم قدم پر ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اگر کسی کا لڑکا شہر جائے تو اسے شام کے 4 بجے آجانا چاہیے تھا، لیکن وہ رات کے 10 بجے لوٹے تو اس سے گھبراہٹ پیدا نہیں ہوتی لیکن اگر یہی واقعہ کسی لڑکی کے ساتھ پیش آجائے تو دل کا قرار چھن جاتا ہے اور ماں باپ کی کروٹیں بے سکون ہوجاتی ہیں۔ اسی کو دیکھئے کہ پوری دنیا میں اور ہندوستان میں بھی مردوں اور عورتوں کے تناسب میں بہت زیادہ فرق نہیں ہے۔ خدا نے ان دونوں صنفوں کو ایک توازن کے ساتھ پیدا فرمایا ہے تاکہ دونوں طبقات کی ضرورتیں پوری ہوسکیں۔ 100 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے ،اہل مغرب عورتوں کو مردوں کے مساوی حقوق دینے کا نعرہ لگا رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود آج بھی عورتیں حقوق مانگتی ہیں اورانہیں وہ حقوق و اختیارات پوری طرح نہیں دیے جاتے۔ یہ فرق کیوں ہے؟ کیوں امریکہ و روس میں آج تک کوئی خاتون صدر نہیں بن سکی؟ اور یورپ میں مار گریٹ تھیچر کے علاوہ کوئی خاتون وزارتِ عظمیٰ کے عہدہ پر نہیں پہنچ سکی۔ یہ ظلم و حق تلفی کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ قانونی  فطرت کا فیصلہ ہے۔ قدرت نے خود دونوں کی صلاحیتوں میں فرق رکھا ہے اور صلاحیتوں کے لحاظ سے دائرہ کار متعین کیا ہے۔ پردہ بھی اسی فرق کا ایک حصہ ہے۔ جانور بھی کھاتے پیتے ہیں اورشہوانی جذبات رکھتے ہیں، لیکن ان کی فطرت لباس کے تصور سے عاری ہے۔ انسان کی فطرت میں یہ بات رکھی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو عریانیت سے بچائے اور لباس زیب تن کرے۔ وہی فطرت اس بات کا بھی مطالبہ کرتی ہے کہ مردوں کے مقابلے عورتیں زیادہ ڈھکی چھپی ہوں۔ فرض کیجئے دو لڑکیاں راستے سے گزر رہی ہیں، ایک لڑکی کا لباس چست اور شوخ ہو، اس کا سر کھلا ہو، اس کے بازو کھلے ہوں، اس کا پیٹ نگاہِ ہوس کو دعوت نظارہ دیتا ہو اور اس کا کسا ہوا لباس جسم کے نشیب و فراز کو نمایاں کرتا ہو اور دوسری لڑکی سرتا پا نقاب میں ہو یا کم سے کم ڈھیلا ڈھالا لباس اور سر پر دوپٹہ ہو تو اوباش قسم کے لڑکے ان میں سے کس کو چھیڑنے کی کوشش کریں گے؟ ہوس ناک نگاہوں کا تیر کس کی طرف متوجہ ہوگا؟ برائی کے جذبات ان میں سے کس کے تئیں دلوں میں کروٹ لیں گے؟ یقینا بے پردہ لڑکی اس کا نشانہ بنے گی۔ کچھ عرصہ پہلے دہلی میں لڑکیوں کو چھیڑنے اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات کی کثرت ہوئی تو اس وقت کے پولس کمشنر نے ہدایات جاری کیں کہ لڑکیاںچست اور نیم عریاں لباس پہن کر بازاروں اور تعلیم گاہوں میں نہ جائیں، کیوں کہ اس سے جرم کی تحریک پیدا ہوتی ہے، مگر افسوس کہ حقوق نسواں کی تنظیموں نے اس معقول تجویز کے خلاف ایسا شور برپا کیا کہ تجویز واپس لینی پڑی۔ پردہ کے بارے میں اسلامی تعلیمات تو نہایت واضح ہیں ہی، قرآن مجید نے عورتوں کو پورے جسم کے علاوہ چہرے پر بھی گھونگھٹ ڈالنے کا حکم دیا ہے۔
خواتین کے لیے اللہ کے رسول نے مسجد میں پیچھے کی صف رکھی اور یہ بھی فرمایا کہ ان کا مسجد میں نماز پڑھنے سے گھر میں نماز ادا کرنا بہتر ہے۔ خواتین کے لیے شریعت نے بنیادی طور پر ایسی ذمہ داریاںمقرر کیں جو اندرون خانہ کی ہیں اور  انہیں شمع محفل بننے کی بجائے گھر کی ملکہ بنایا۔ اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب میں بھی پردہ کا تصور رہا ہے۔ بائبل میں کئی خواتین کا ذکر ملتا ہے ۔ جو کپڑوں میں لپـٹی ہوئی تھیں بلکہ بعض وہ ہیں جو پردہ کی وجہ سے پہچانی نہیں گئیں۔ آج بھی حضرت مریم ؑ کا جو فرضی مجسمہ بنایا جاتاہے اس میں چہرے کے علاوہ پورا جسم ڈھکا ہوتا ہے۔ حالانکہ رومن تہذیب اور اس کے بعد یوروپ میں عورتوں کے عریاں مجسمے بنانے اور جسم کے ایک ایک نشیب و فراز اور خط و خال کو نمایاں کرنے کا رواج عام ہے۔ گویا جو لوگ عریانیت اور بے پردگی کے مبلغ ہیں وہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ عورتوں کا تقدس با پردہ رہنے میں ہی ہے۔ ہندو مذہب میں بھی قدیم عہد سے پردہ کی روایت رہی ہے۔’’ سیتا جی‘‘ کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ ’ راون‘ نے جب انہیں اغوا کیا تو شری رام کے چھوٹے بھائی لکشمن انہیں پہچان بھی نہیں سکے اور انہوں نے کہا کہ ایک ہی جگہ رہنے کے باوجود ہم نے کبھی اپنی بھاوج کی صورت نہیں دیکھی اور جب شری رام نے سیتا کے لیے ہار بھیجے تو سیتا مختلف عورتوں کے درمیان بیٹھی ہوئی تھیں، اس لیے لکشمن انہیں پہچاننے سے قاصر رہے۔ یہ واقعہ برادران وطن کی کتابوں میں آج بھی موجود ہے جوواضح کرتا ہے کہ ہندو مذہب میں عورتوں کی عفت و عصمت ، شرم و حیا اور پردہ وغیرہ کو کتنی اہمیت حاصل تھی !یہی وجہ ہے کہ ہندو سماج میں اکثر اونچی ذات کی عورتیں پردہ کیا کرتی ہیں، اب بھی مارواڑیوں ، کائستھوں اور پرانی وضع کے حامل برہمن خاندانوں میں عورتوں کا با پردہ رہنے کا رواج ہے، گو یا ان کے یہاں برقعہ کا استعمال نہیں ہوتا لیکن گھونگھٹ لٹکا کر رہنے کا رواج پایا جاتاہے۔پردہ نہ ترقی میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے اور نہ اس سے ترقی کے مواقع ختم ہوتے ہیں۔ اسلامی تاریخ میں بہت سی باکمال خواتین پیدا ہوئی ہیں جن کے حالات پر کئی کئی جلدیں لکھی گئی ہیں۔ اسلام نے مردوں کی طرح عورتوں کو بھی علم حاصل کرنے کی اجازت دی ہے۔ وہ معلم ہوسکتی ہیں، طبیب ہوسکتی ہیں ، شرعی اصولوں کے مطابق تجارت کرسکتی ہیں ، کارِ افتاء انجام دے سکتی ہیں، وہ حدود قصاس کے علاوہ دوسرے مقدمات کی جج بن سکتی ہیں۔یعنی مردوں کی طرح حدود میں رہتے ہوئے ہر کام کرسکتی ہیں۔
کاش اہل مغرب اور پردے کے مخالف حضرات عورتوں کے حقیقی مسائل کو سمجھ سکیں اور ان کے دکھ کا مداوا کرسکیں۔ یہ تاریخ کا ایک عجوبہ ہے کہ عیسائیوں کے نزدیک حضرت مریمؑ ایک مقدس ترین شخصیت کی مالک ہیں بلکہ بعض تو انہیں عیسائی عقیدہ کے مطابق تین خدائوں میں ایک خیال کرتے ہیں۔ ان کی زندگی کا ایک امتیازی پہلو یہ تھا کہ وہ کنواری تھیں۔ انہیں کسی مرد نے ہاتھ بھی نہ لگایا اور اللہ تعالیٰ کے خصوسی حکم کی بناپر وہ حاملہ ہوئیں، لیکن عجیب بات ہے کہ جس عورت کو اتنا بڑا رتبہ دیا گیا ہو، آج انہی پر ایمان رکھنے والی عیسائی قوم دامنِ عفت تار تار کرنے کو بے قرار ہے۔
Advertisements
4 comments
  1. ميں دو جماعت پاس ناتجربہ کار ہوں ۔ صرف اتنا جانتا ہوں کہ عورت اور مرد اسلئے برابر نہيں ہو سکتے کہ ميں نے آج تک نہ کوئی عورت لوہار ديکھی ہے اور نہ ترکھان يا بڑھئی
    😆

    • میں نے بھی کبھی کسی مرد کو بچہ جنتے دیکھا نہ سنا نہ ہی تاریخ میں کبھی ایسا واقعہ ہوا
      جبکہ لوہار کمہار اور ترکھان و بڑھئی یہ کام کوئی بھی کر سکتا ہے
      بچہ جننے والا کام کوئی مرد کر کے تو دکھائے

      عورت کا معاملہ چند دوسرے عوامل کی وجہ سے کمزور رکھا جاتا ہے
      جسمانی لحاظ سے عورت کمزور واقع ہوئی ہے یہ ایک خام خیال ہے

      عورت کے روحانی درچے بھی مرد سے 3 گنا زیادہ ہیں
      عبادات کے معاملے میں عورت اپنی چند حالتوں کے باعث پیچھے ہے پر
      دنیا کا وہ کون سا کام ہے جو عورت نہیں کر سکتی

      لوہار کمہار کسان بڑھئی کیا آپ کو لگتا ہے عورت کرنا چاے تو وہ نہیں کر سکتی؟؟؟

      ویسے 2 جماعت پاس کیں ہیں
      آخر وہ کون سی 2 جماعت ہیں جس کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں جناب آپ؟

  2. waqas said:

    this blog is realy informative

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Worlds Largest Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: