دودھ


گوالے کی پریس کانفرنس ………………..

دودھ والا: آج کی میری پریس کانفرنس کا مقصد یہ تھا کہ میں ان الزامات کا جواب دے سکوں جو دودھ بیچنے والوں پر لگائے جاتے ہیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔
ایک اخباری نمائندہ کھڑے ہو کر: آپ پر تو پہلا الزام یہ آتا ہے کہ آپ دودھ میں پانی ملاتے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ کا جواب کیا ہے؟
گوالا: یہ الزام سراسر غلط ہے۔ ہم دودھ میں پانی بالکل نہیں ملاتے بلکہ پانی میں دودھ ملاتے ہیں۔ دودھ میں پانی ملانا اور پانی میں دودھ ملانا دو الگ الگ فعل ہیں لہذا یہ پہلا الزام ہی غلط ثابت ہوتا ہے۔
ایک اور صحافی: میرے گھر پر جو گوالا دودھ دینے آتا ہے وہ چلتے وقت ہمارے ہاں سے دو چار گلاس پانی لے کر ہمارے سامنے دودھ میں ملاتا ہے اور آپ انکار کر رہے ہیں کہ ہم دودھ میں پانی نہیں ملاتے۔
گوالا: یہ تو آپ تسلیم کریں گے کہ آپ کے ہاں تو اس نے خالص دودھ دیا۔ آپ کے سامنے دودھ میں تھوڑا پانی ملانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ دوسرے گھروں تک پہنچتے پہنچتے گرمی کے سبب بقیہ دودھ خراب نہ ہو جائے اور خراب دودھ بیچنا اس کے پیشے کے خلاف ہے۔
ایک اور صحافی: دیہات سے جب دودھ شہروں میں لایا جاتا ہے اس وقت بھی دودھ کے بڑے بڑے برتنوں میں سیروں کے حساب سے برف ڈالا جاتا ہے، یہ برف بھی تو بعد میں پانی میں بدل جاتا ہے اس بارے میں کیا کہیں گے؟
گوالا: دیکھئے جناب، بعض مجبوریاں ایسی ہوتی ہیں جن کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ اگر یہ برف نہ ملایا جائے تو دودھ راستے میں ہی خراب ہو جائے گا۔ آپ ہی بتائیے نا کہ اس گرمی میں دودھ کو خراب ہونے سے بچانے کا اور کیا طریقہ ہو سکتا ہے۔ یہاں بھی ہماری نیت میں فتور شامل نہیں ہوتا بلکہ صارفین کا مفاد ہمیں عزیز ہوتا ہے۔
صحافی: آپ نے یہ بہانہ تراش لیا کہ گرمیوں میں دودھ میں برف لانا ضروری ہے مگر سردیوں میں بھی یہ عمل جاری رہتا ہے اس کا کیا جواز پیش کریں گے آپ؟
گوالا: جو عادت ہو چکی اسکا چھوٹنا مشکل گرمیوں میں برف ملانے کی عادت اتنی پکی ہو چکی ہوتی ہے کہ سردیوں میں بھی بلا ارادہ جاری رہتی ہے۔ آپ لوگ اگر ہمیں یاد کرا دیا کریں تو آہستہ آہستہ یہ عادت ختم ہو سکتی ہے۔ آخر ہم بھی تو انسان ہیں، بھول چوک ہو سکتی ہے۔

دودھ


دودھ عام طور پر ایک سفید مائع ہوتا ہے جو کہ ممالیہ کے پستانوں میں پیدا ہوتا ہے، جیسے کہ گائے کا دودھ یا انسانی دودھ۔ یہ مائع ممالیہ غدودوں میں پیدا ہوتا ہے جسے مادہ ممالیہ کے پستان، تھن وغیرہ کہا جاتا ہے۔ چونکہ نومولود ممالیہ بچوں کے دانت پیدائش کے وقت موجود نہیں ہوتے اس لیے ان کودودھ کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ ضرورت اس وقت تک باقی رہتی ہے جب تک کہ ان کے مکمل دانت ٹھوس خوراک کھانے کے قابل نہیں ہو جاتے۔ دودھ میں موجود غذائی اجزاء ممالیہ مچوں کی افزائش اور بڑھوتری میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

غذائیت

دودھ انسانی استعمال کی خوراک میں ایک اہم جز کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں معدنیات جیسے کیلشیم کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے جو کہ ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ اس کے علاوہ دودھ جسم کو پروٹین کی بھی مقدار فراہم کرتا ہے اور جسم کی حیاتیاتی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ایک تحقیق میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ دودھ کا ایک گلاس روزانہ استعمال کرنے پر جسم کی %44 حیاتیاتی ضروریات پوری ہو جاتی ہیں ۔ دودھ کی بعض اقسام میں معدنیات جیسے کیلشیم کی مقدار خاطر خواہ نہیں ہوتی، لیکن پھر بھی ان سے ملائی،پنیر، اور ملائی پنیر حاصل ہو سکتا ہے۔

 اور بیشک تمہارے لئے مویشیوں میں (بھی) مقامِ غور ہے، ہم ان کے جسموں کے اندر کی اس چیز سے جو آنتوں کے (بعض) مشمولات اور خون کے اختلاط سے (وجود میں آتی ہے) خالص دودھ نکال کر تمہیں پلاتے ہیں (جو) پینے والوں کے لئے فرحت بخش ہوتا ہےhttp://www.openburhan.net/speaker.gif

سُوۡرَةُ النّحل آیت 66

اور بیشک تمہارے لئے چوپایوں میں (بھی) غور طلب پہلو ہیں، جو کچھ ان کے شکموں میں ہوتا ہے ہم تمہیں اس میں سے (بعض اجزاء کو دودھ بنا کر) پلاتے ہیں اور تمہارے لئے ان میں (اور بھی) بہت سے فوائد ہیں اور تم ان میں سے (بعض کو) کھاتے (بھی) ہواور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار (بھی) کئے جاتے ہو۔سُوۡرَةُ المؤمنون آیت 21-22

 

سورة بقرہ کی آیت 233 میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر بتادیا ہے:

مائیں بچوں کو دو سال تک دودھ پلائیں۔اس مدت میں ماں کے کھانے، پینے اور آرام کا خیال رکھنا والد کی ذمہ داری ہے۔

ماں کے دودھ کا کوئی متبادل دنیا میں نہیں۔ انسان نے بہت کوششیں کی ہیں، بہت سے فارمولے بنائے، یہاں تک کہ چین میں ایک ریسرچ گروپ نے ماں کی چھاتی سے Tissue کچھ

نکال کر گائے میں لگائے اور ماں کے غدودوں سے گائے کے جسم میں ماں جیسے دودھ کی پروڈکشن کی کوشش کررہے ہیں، لیکن وہ بھی اب تک ماں کے دودھ جیسا 80 فیصد کے قریب دودھ بنا پائے ہیں۔ یہ سب تجرباتی ہے۔

کی  Fat گائے اور بھینس کے دودھ کے ساتھ چند مسائل ہیں۔ ایک تو اس میں جو

مقدار ہوتی ہے وہ بچے کی ضرورت سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے یہ دودھ استعمال کرنے والے بچوں کی مائیں اکثر یہ شکایت کرتی ہیں کہ بچہ دودھ پینے کے بعد

کردیتا ہے۔Potty

گائے کے دودھ میں ایسے کیمیکل ہوتے ہیں جو گردے کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔گائے کے دودھ میں فاسفورس زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے کیلشیم اور فاسفورس کا توازن جسم میں بگڑ جاتا ہے۔ ہڈیاں بننے کا عمل متاثر ہوجاتا ہے۔ ماں کے دودھ کے بجائے گائے کا دودھ استعمال کرنے والے بچوں کی ہڈیاں کمزور ہوجاتی ہیں۔ بچہ کمزور ہوسکتا ہے۔ فاسفورس کی زیادتی کی وجہ سے بچے کے گردے متاثر ہوسکتے ہیں۔

بچے کے لئے ماں کا دودھ ہی اصل غذا ہوتی ہے۔ ماں کا دودھ اگر دو سال تک پلائیں تو یہ ماں اور بچے کے تعلقات میں بہتری‘ بچے کی ذہنی اور جسمانی حالت کی بہتری‘ اور ماں کو کینسر سے بچانے کی بہترین ترکیب ہے۔

پاکستان میں زیادہ تر بھینس کے دودھ کوترجیح دی جاتی ہے اور اس کی وجہ ہے  بھینس کے دودھ کا گائے کے دودھ سے گاڑھا ہونا ۔  بھینس کے دودھ میں چکنائی کا تناسب پانچ فی صد کے لگ بھگ ہوتا ہے جب کہ گائے کے دودھ میں یہ مقدار ساڑھے  تین فی صد ہے۔ طبی ماہرین  گائے کے دودھ کو انسانی صحت کے لیے زیادہ بہتر قراردیتے ہیں۔ چند ملکوں کے سوا دنیا بھر میں ڈیری کی ضروریات پوری کرنے کے لیے گائے کا دودھ ہی استعمال کیا جاتا ہے۔طبی ماہرین نوزائیدہ بچوں کو اپنی عمر کے ابتدائی عرصے میں ماں کا دودھ پلانے پر زور دیتے ہیں۔ ان کا کہناہے کہ انسانی دودھ میں ایسے قدرتی اجزا اور مرکبات کثرت سے موجود ہوتے ہیں جو بچوں کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ ماں کا دودھ پینے والے بچے ، ان بچوں کے مقابلے میں ، جنہیں ماں کا دودھ میسر نہیں ہوتاہے، بیماریوں سے زیادہ محفوظ رہتے ہیں۔ڈاکٹر زتجارتی بنیادوں پر ایسے دودھ کی فراہمی ممکن بناناہے جو ماں کے دودھ کی طرح بچوں کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنا کر ان میں بیماریوں کے خلاف مزاحمت پیدا کرسکے۔اس وقت دنیا بھر  کی مارکیٹوں میں چینی مصنوعات کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں اور اس کی معیشت کی افزائش دنیا بھر میں سب سے تیز ہے۔ چین  اب خوراک کی فراہمی کے شعبے میں بھی دنیا کی قیادت کا سوچ رہاہے۔ جس کے  لیے اس کی نظریں جینیاتی سائنس اور بائیو ٹیکنالوجی کے شعبے پر لگی ہوئی ہیں۔ سٹیٹ کی لیبارٹریز  کے ایگرو بائیو ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی اس  تحقیق کو ماہرین دودھ کی نئی ورائٹی متعارف کرانے کی سمیت ایک قدم ہے۔

دودھ جلد کے کینسر کے خطرات سے بچاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق دودھ میں کینسر سے مدافعت کے اجزاء موجود ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں دودھ جسم کیلئے اچھا ہے، لیکن نئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے دودھ جلد کے کینسر کے خلاف لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دودھ کے اہم غذائی اجزاء میں وٹامن ڈی اور کیلشیئم خواتین میں 57 فیصد جلد کے کینسر کے خطرے کو ختم کردیتے ہیں ۔ امریکی غذا میں کیلشیئم اور وٹامن ڈی کا واحد ذریعہ دودھ ہی ہے۔ یہ تحقیق امریکی جریدے کلینیکل آنکالوجی میں شائع ہوئی۔

بر طا نوی ما ہرین کی ایک حا لیہ تحقیق کے مطابق غذائیت سے بھر پور ڈبہ پیک دودھ بچوں میں مو ٹا پے کا سبب بنتا ہے۔ماہرین کے مطا بق 5سے 8سا ل کی عمر کے بچے وٹا من ،پروٹین اور غذائیت سے بھر پور ڈبہ پیک دودھ پینے سے نا صرف مو ٹے ہو جا تے ہیں بلکہ کم عمری میں تیزی سے و زن بڑھنے کے باعث ان بچوں میں مستقبل میں ذیا بیطیس اور دل کے امراض میں بھی مبتلا ہو نے کے خدشے کا امکان ہو تا ہے۔اس تحقیق کے نتائج کے مطا بق غذائیت سے بھر پور فا رمو لا دودھ پینے والے بچے عام دودھ پینے والے بچوں کی نسبت 22سے38فیصد وزن میں اضا فہ کر تے ہیں۔

انسانی دودھ میں ایسے قدرتی اجزا اور مرکبات کثرت سے موجود ہوتے ہیں جو بچوں کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔



 انسان ہوں یا دودھ پلانے والے دوسرے جاندار…. ان کے بچے لگتا ہے بھوکے پیدا ہوتے ہیںوہ اپنی پہلی ہی چیخ میں ”دودھ“ کا مطالبہ کرتے ہیں‘ جب تک قدرت کا یہ عطیہ‘ ایک مکمل غذا اورسب سے زیادہ زود اثر ٹانک ان کے حلق سے نہیں اترتا وہ بے قرار اور بے چین رہتے ہیں۔

دودھ میں غذائی اجزاء

دودھ میں غذائی اجزاءاس مناسبت سے ہیں۔ دودھ میں پانی کا تناسب ٨٩ فیصد‘ روغنی اجزأ ٥ فیصد‘ شکر تین سے چار فیصد گوشت پیدا کرنے والے اجزأ  ٥ ٣ فیصد بھینس کے دودھ میں ”روغنی اجزائ“ زیادہ اور بکری کے دودھ میں معدنی نمکیات زیادہ ہوتے ہیں’ گائے کے دودھ میں چکنائی کم ہوتی ہے۔

تحقیق بتاتی ہے کہ ایک لیٹر دودھ اپنی غذائیت میں ایک کلو گوشت کے برابر ہوتا ہے‘ حالانکہ دودھ کی فی لیٹر قیمت گوشت کی قیمت کا ایک چوتھائی ہوتی ہے۔

 ٭ دودھ بچوں‘ جوانوں‘ دماغی کام کرنے والوں اور سخت محنت کرنے والوں کے لیے اکسیر ہے۔

٭ بیماری سے صحت یاب ہونے والوں کے لیے مفید ٹانک ہے۔

٭ حاملہ خواتین کے لیے ایک خوش ذائقہ اور زود ہضم غذا کا کام کرتا ہے۔

٭ میعادی بخار‘ سل‘ دق کی روک تھام اور ہڈیوں میں کیلشیم پیدا کرتا ہے اور خون بڑھانے کے لیے کار آمد ہوتا ہے۔

دودھ کا مزاج گرم تر ہے‘ یہ قبض کشا‘ پسینہ آور پیشاب کے ذریعہ بدن کا زہر خارج کرتا ہے‘ دودھ پینے والوں کی عمر بڑھتی ہے اور بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ دودھ بدن میں رطوبت پیدا کرتا ہے‘ دودھ زود ہضم ہے اور دل جگر‘ معدہ آنتوں‘ چربی‘ غدود اور ہڈیوں کی گرمی اور خشکی دور کرتا ہے۔

تبخیر اور گیس

تبخیر اور گیس کے مریض جن کا پیٹ بڑھ جاتا ہے ہاتھ پیر سوجاتے ہیں اور کمزوری کی وجہ سے جلد تھکن پیدا ہوجاتی ہے اور پانی منہ میں بھر آتا ہے ان کا علاج یہ ہے کہ ایک پاؤ دودھ میں دو کھجوریں‘ چھ ماشہ بادیان (سونف) ایک عدد بڑی الائچی صبح کے وقت ناشتہ کے طور پر استعمال کریں اور شام کو چائے کی جگہ بھی یہ استعمال کریں۔

دودھ ہر وقت پیا جاسکتا ہے۔ دن کے کسی حصے میں اس کے پینے کی ممانعت نہیں‘ دودھ ہمیشہ گھونٹ گھونٹ کرکے پینا چاہیے۔ اس سے آکسیجن ملتی ہے اور دودھ جلد ہضم ہوجاتا ہے۔ جو لوگ سوتے وقت دودھ پیتے ہیں انہیں اس میں فرحت اور لذت حاصل ہوتی ہے۔ ایک تندرست جسم میں دودھ دو گھنٹوں کے اندر اندر ہضم ہوجاتا ہے۔

دودھ کی طرح دہی بھی جسم کی پرورش کرنے والے اجزاءسے بھرپور ایک مکمل غذا ہے‘ دودھ صدیوں سے ایک مکمل غذا تسلیم کیا جارہا ہے۔

دہی کا رواج

دودھ سے دہی بنانے کا رواج تین ہزار سال قبل مسیح قدیم مصریوں میں شروع ہوا تاریخ بتاتی ہے کہ فراعنہ مصر کے دستر خوان پردہی ایک عمدہ غذا کے طور پر رکھا جاتا تھا‘ پھر ایران‘ روس‘ عرب‘ بلقانی ریاستیں اور متحدہ ہندوستان میں صدیوں سے دہی غذا کا ایک اہم جزو تصور ہوتا آیا ہے۔

سب جانتے ہیں کہ دہی میں خمیرا اٹھانے والے بیکٹریا دودھ میں بے حد تبدیلیاں پیدا کرتے ہیں‘ دہی اور چھاچھ کی ترشی میں تیزابیت یعنی ٹیڑک ایسڈ برابر مقدار میں موجود ہوتا ہے جو آنتوں کے مضر صحت جراثیم دور کرکے غذا کو ہضم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

چھاچھ جب ہضم ہونے لگتی ہے تو اس کی حرارت جسم کی حرارت سے ملنے کے بعد بدن کی پرورش کرنے والے جراثیم پیدا کرتی ہے‘ یہ غیر مرئی جراثیم غذائی نالی میں دو اقسام کی گیس بناتے ہیں‘ اس میں پہلی قسم کے گیس کے اثر سے معدہ غذا جذب کرکے اور زیادہ سرائیت کرنے کی طاقت حاصل کرتا ہے۔

دوسری گیس آنتوں کو جذب و ہضم غذا کے لیے آمادہ کرتی ہے اس سے جگر اور گردے ہلکے پھلکے رہتے ہیں۔ قبض دور ہوتا ہے اور بخارات اور گیس نہیں بن پاتے اس طرح دہی اور چھاچھ ایک ایسے ملین کا کام کرتے ہیں جس کے استعمال سے فضلات آنتوں سے باآسانی نکل جاتے ہیں‘ یونانی طب میں چھاچھ معدہ جگر اور خون کی بیماریوں میں دوا بن کر صحت عطا کرتی ہے‘ پیچش‘ بدہضمی اور دستوں کے علاج میں دہی بطور غذا تجویز کرکے عمدہ نتائج حاصل ہوتے ہیں۔

دہی کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ اس سے بہت بڑی مقدار میں وٹامن بی حاصل ہوتا ہے۔ روزانہ چھاچھ کا استعمال حیاتین بی کی کمی اعصابی کمزوری‘ دل کی عادی بیماریوں اور قبض کا گھریلو علاج ہے‘ دہی کا تیزابی مادہ دماغ کو بھی جِلا دیتا ہے اور تازگی بڑھا کر غصہ کو روکتا ہے‘ اس کا فعل غذا کو ہضم کرکے بھوک لگاتا ہے۔

بچوں کے دانت

شیر خوار بچوں کے دانت نکالنے کے زمانے میں بدہضمی اور دست روکنے کے علاوہ کم ترش چھاچھ سے بچوں کو مطلوبہ کیلشیم کی مقدار بھی حاصل ہوتی ہے‘ غذائی مواد کم ہونے کی وجہ سے مکھن نکلی ہوئی چھاچھ موٹاپے کا عمدہ علاج ہے۔ نازک معدے والے افراد جن کو بھوک کی حالت میں درد محسوس ہونے لگتا ہے وہ لوگ اگر چھاچھ میں شکر یا شہد ملا کر پئیں تو افاقہ ہوتا ہے۔

 کچی ترکاریاں

کچی ترکاری مثلا گاجر‘ مولی‘ چقندر‘ ٹماٹر‘ پیاز‘ دھنیا‘ پودینہ اور پھلوں میں کیلا‘ سیب اور امرود کاٹ کر چھاچھ میں ملا کر دستر خوان پر رکھیں ایک خوش ذائقہ ڈش کا کام دے گی۔ تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ ایک پائو دہی آدھ سیر گوشت کے برابر طاقت رکھتی ہے‘ کمزور لوگوں کو دہی کا استعمال آہستہ آہستہ بڑھانا چاہیے۔

نزلہ زکام

نزلہ زکام میں دہی میں شکر کھانڈ یا شہد ملا کر استعمال کرنا چاہیے‘ تبخیر اور گیس والے دہی میں نمک اور کالی مرچ ملا کر استعمال کریں تو زیادہ بہتر ہوگا‘ دائمی قبض والے چھے ماشے کشمش یا منقیٰ ملا کر استعمال کریں تو زیادہ بہتر ہے۔

جن لوگوں کو جلدی سردی لگ جاتی ہے انہیں دودھ میں تین ماشے سے چھے ماشے ادرک یا پسی ہوئی سونٹھ ملا کر کھلائی جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔

 

3 comments
  1. پنگ بیک: دودھ | Tea Break

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: