قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مذاکرات

قرآن مجید میں خدا کے عظیم الشان پیغمبر جناب ابراہیم علیہ السلام کے بہت سے مذاکرات  بیان ہوئے ہیں، قرآن مجید میں ان کا ذکر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ان کی راہ پر چلنے والے اعتقادی، اجتماعی اور سیاسی مسائل میں غافل نہیں ہیں، بلکہ مختلف مورچوں پر منجملہ دینی اور ثقافتی مورچہ پر حق اور دین کے دفاع کے لئے استدلال اور منطقی گفتگو کرتے ہیں۔
جناب ابراہیم علیہ السلام کے بت شکنی سے متعلق واقعہ میں قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ انھوں نے سب بتوں کو توڑ ڈالا لیکن بڑے بت کو صحیح و سالم چھوڑ دیا، اور جب نمرود کے سامنے معاملہ رکھا گیا تو آپ سے سوال کیا گیا: ”تم نے ہمارے بتوں کو کیوں توڑا؟“
جناب ابراہیم علیہ السلام نے ا ن کے جواب میں کہا:
”ابراہیم نے فرمایا: بلکہ یہ (کام) ان کے اس بڑے (بت) نے کیا ہوگا تو ان (بتوں) سے ہی پوچھو اگر وہ بول سکتے ہیں
سورہ انبیاء، آیت۶۳۔
جناب ابراہیم علیہ السلام نے در حقیقت اس استدلال میں بت پرستوں کے عقیدہ کو استدلال کا وسیلہ قرار دیا، اور ایک ایسا مستحکم حربہ استعمال کیا:
بیشک (اے ابراہیم!) تم خود ہی جانتے ہو کہ یہ تو بولتے نہیں ہیں
سورہ انبیاء، آیت۶۵۔
جناب ابراہیم علیہ السلام نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا:
(ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا: پھر کیا تم اﷲ کو چھوڑ کر ان (مورتیوں) کو پوجتے ہو جو نہ تمہیں کچھ نفع دے سکتی ہیں اور نہ تمہیں نقصان پہنچا سکتی ہیں۔تف ہے تم پر (بھی) اور ان (بتوں) پر (بھی) جنہیں تم اﷲ کے سوا پوجتے ہو، تو کیا تم عقل نہیں رکھتے
سورہ انبیاء، آیت۶۶-۶۷۔
قرآن مجید میں ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے:
 نمرود (جناب ابراہیم علیہ السلام کا ہمعصر طاغوت) نے جناب ابراہیم علیہ السلام سے کہا: ”تمہارا خدا کون ہے؟“
جناب ابراہیم علیہ السلام نے کہا: ”میرا خداوہ ہے جس کے قبضہٴ قدرت میں موت و حیات ہے، میں ایسے ہی خدا کے سامنے سجدہ کرتا ہوں“۔
نمرود نے سفسطہ (یعنی دھوکہ بازی) شروع کی جس کا سادہ لوح انسانوں پر بہت زیادہ اثر ہوتا ہے، اور چلانا شروع کیا:
 ”اے بے خبر! یہ کام تو میرے ہاتھ میں بھی ہے، میں زندہ بھی کرتا ہوں اور مارتا بھی ہوں، کیا تم نہیں دیکھتے کہ سزائے موت ملنے والے کو رہا کردیتا ہوں اور عام قیدی کو سزائے موت دیدیتا ہوں“!!۔
اور پھر اس نے اپنے کارندوں سے کہا: سزائے موت پانے والے مجرم کو آزاد کردو، اور ایک عام قیدی جس کے لئے سزائے موت کا حکم نہیں ہے اس کو سولی پر لٹکادو۔
اس موقع پر جناب ابراہیم علیہ السلام نے نمرود کے مغالطہ اور دھوکہ بازی کے مقابلہ میں اپنا استدلال شروع کرتے ہوئے یوں کہا:
”صرف موت وحیات ہی خدا کے قبضہٴ قدرت میں نہیں ہے بلکہ تمام عالم ہستی اسی کے فرمان کے تحت ہے، اسی بنیاد پر میرا خدا صبح سورج کو مشرق سے نکالتا ہے اور غروب کے وقت مغرب میں غروب کرتا ہے، اگر تو سچ کہتا ہے کہ میں لوگوں کا خدا ہے
تو تو مغرب سے سورج نکال کر مشرق میں غروب کرکے دکھا“۔
قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:
سو وہ کافر دہشت زدہ ہو گیا، اور اﷲ ظالم قوم کو حق کی راہ نہیں دکھاتا
سورہ بقرہ، آیت ۲۵۸۔
یہ تھے جناب ابراہیم علیہ السلام کے قرآن مجید میں بیان ہونے والے بہت سے نمونوں میں سے دو نمونے:
یہ نمونے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ مذاکرہ کے صحیح طریقوں کو سیکھنا چاہئے، اور دینی و ثقافتی سازشوں کے مقابلہ میں استدلال اور مذاکروں سے مسلح ہونا چاہئے تاکہ موقع پڑنے پر حق و حقیقت کا دفاع ہوسکے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
اے ایمان والو! اپنی حفاظت کا سامان لے لیا کرو “۔
سورہ نساء، آیت ۷۱۔
یہ آیت شریف اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مسلمانوں کو دشمن کے تمام مورچوں پر اور سازشوں کے مقابلہ کے لئے تیار رہنا چاہئے، جن میں سے ایک مورچہ ثقافتی اور فکری مورچہ ہے، جس کا فائدہ دوسرے راستوں سے زیادہ اور عمیق تر ہے، اور یہ بات واضح ہے کہ ان میں سے ایک مسئلہ فکری اور ثقافتی پہلو کی شناخت اور علمی و استدلالی بحث و گفتگو میں مذاکرہ اور جدل ہے جس کی شناخت کے بعد مناسب موقعوں پر حق کا دفاع کرنے کے لئے فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔
اس بنیاد کی بنا پر خود حضرت محمدﷺاور صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہ اور عظیم الشان علماء ہمیشہ مناسب موقعوں پر بحث و گفتگو، جدل اور مذاکرات  کیا کرتے تھے، اور اس طریقہ سے بہت سے ا فراد کو راہ ہدایت کی راہنمائی فرماتے اور گمراہی سے نجات دیتے تھے۔
اس طرح کے مذاکروں کے بارے میں مزید آگاہی کے لئے کتاب ”احتجاج طبرسی“ (دو جلدیں) اور بحار الانوار ج۹، اور ۱۰کی طرف رجوع فرمائیں۔
  کچھ مذاکرات جو اس چیز کو بیان کرتے ہیں کہ علماءحضرات منکرین خدا اور جاہل لوگوں سے کس طرح کا طریقہ کار اپناتے تھے نیز ان کی منطق اور استدلال کے مقابلہ میں انسانوں پر کس طرح تاثیر ہوتی تھی، جو ہمارے لئے ایک درس ہے کہ کس طرح حق و حقیقت کا دفاع کریں؟ اور فن استدلال اور صحیح مذاکرہ کا کردار لوگوں کے جذب کرنے اور ان کو قانع کرنے میں بہت زیادہ موثر ہے، اسی وجہ سے مناسب ہے کہ ہم ان طریقوں کو سیکھیں اور انھیں کے ذریعہ مختلف موقع و محل پر جاہل اور گمراہ لوگوں کی ہدایت کا سامان فراہم کریں۔مذاکرہ کی روش اور طریقہ کی پہچان کے لئے بہترین ناصر و مونس قرار پائے، جس کے پیش نظر ”اسلامی اہداف و مقاصد“ کی تکمیل کے لئے ثمر بخش نتائج برآمد ہوں، تاکہ مستحکم علمی مذاکروں کے ذریعہ ”حقیقی اسلام “ کے مخالفوں کی ”دینی اور ثقافتی سازشوں“ کا سدّ باب کرسکیں۔
Advertisements
1 comment

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: