مذاکرات کی اہمیت اور مقاصد

حقائق کی وضاحت اور واقعیت کی پہچان کے لئے مذاکرہ اور آمنے سامنے بحث و گفتگو کرنا خصوصاً اس زمانہ میں جبکہ فکری  اور علمی ترقی اپنے عروج پر ہے ثقافتی اغراض و مقاصد تک پہنچنے کے لئے بہترین اور مستحکم ترین راستہ ہے، اور اگر فرض  کریں کہ تعصب، ہٹ دھرمی اور سرکشی کی بنا پر مذاکرہ کسی نتیجہ پر نہ پہنچے تو کم سے کم اتمام حجت تو ہوہی جاتی ہے۔
کیونکہ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ طاقت کے بل بوتہ پر اپنے عقیدہ اور آئیڈیل کو کسی پر نہیں تھونپاجاسکتا،اور اگر بالفرض کوئی زبردستی قبول بھی کرلے تو چونکہ بے بنیاد ہے جلد ہی ختم ہوجائے گا۔
اللہ تعالٰی  نے قرآن مجید میں اس موضوع کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے، اور اس کو ایک ”عام قانون“ کے طور پر بیان کیاہے، چنانچہ اللہ تعالٰی  نے چار مقامات پر حضرت محمدﷺ سے اس طرح فرمایا ہے:
آپ فرما دیں کہ اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو تو اپنی (اس خواہش پر) سند لاؤ۔(سورہ بقرہ آیت ۱۱۱۔ )
جس وقت اسلام دوسروں کو دلیل ، برہان اور منطق کی دعوت دیتا ہے تو خود بھی اس کے لئے دلیل اور برہان ہوناچاہئے۔
چنانچہ اللہ تعالٰی  نے قرآن مجید میں حضرت محمدﷺکو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
(اے رسولِ معظّم!) آپ اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بحث (بھی) ایسے انداز سے کیجئے جو نہایت حسین ہو، بیشک آپ کا رب اس شخص کو (بھی) خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہ ہدایت یافتہ لوگوں کو (بھی) خوب جانتا ہے۔
سورہ نحل آیت ۱۲۵۔
”حکمت“ سے مراد وہ مستحکم طریقے ہیں جو عقل وعلم کی بنیاد پر استوار ہوں، اور ”موعظہ حسنہ“ سے مراد معنوی و روحانی نصیحتیں ہیں جن میں عطوفت اور محبت کا پہلو پایا جاتا ہو، اور سننے والے کے پاک احساسات کو حق و حقیقت کی طرف اُبھارے، نیز ”مجادلہ“ سے مراد ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ کر بحث میں تنقیدی گفتگو کرنا، اور یہ طریقہ کار اگر انصاف اور حق کی رعایت کرتے ہوئے ہو تو ہٹ دھرم مخالف کو خاموش کرنے کے لئے لازم اور ضروری ہے۔
وضاحت: بعض انسانوں میں حقائق سمجھنے کی فکری صلاحیت اور قوی استعداد پائی جاتی ہے ، ایسے لوگوں کو جذب کرنے کے لئے عقلی براہین و دلائل بہترین راستہ ہے، لیکن اگر بعض افراد میں کمتر درجہ صلاحیت پائی جاتی ہے ان میں تعصب، عادت اور احساس بہت زیادہ پایا جاتا ہے، ایسے افراد کو موعظہ اور اچھی نصیحت سے دین کی دعوت دی جاتی ہے۔ اور بعض لوگ ہٹ دھرم، اور غلط فکر رکھتے ہیں ، ہر راستہ سے داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اپنے باطل خیالات کوصحیح طریقہ سے پیش کرسکیں، ان کے نزدیک دلیل اور نصیحت کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی تو ایسے لوگوں سے ”مجادلہ“ کرنا چاہئے، لیکن شائستہ انداز میں مجادلہ کرنا چاہئے یعنی اخلاق حسنہ اور انصاف کے ساتھ ان سے بحث و گفتگو کی جائے۔ اس بنا پر فن مذاکرہ میں پہلے مذاکرہ کرنے والوں کے حالات اور احساسات کو پرکھنا چاہئے اور انھیں کے پیش نظر مذاکرہ کرنا چاہئے۔ جیسا کہ پیغمبراسلام محمد ﷺبھی مختلف مواقع پر انھیں تینوں طریقوں کو بروئے کار لاتے تھے اور انھیں کے ذریعہ مختلف لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے تھے۔
حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ تعالٰی کہ جنھوں نے تقریباً چار ہزار شاگردوں کی تربیت کی ہے ان میں سے ایک گروہ علمی میدان میں مذاکرہ کے فن کا ماہر تھا، جس وقت مخالف علمی بحث و گفتگو کرنے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا تو اگر آپ کے پاس وقت نہیں ہوتا تھا تو اپنے شاگردوں کو حکم دیتے تھے کہ ان لوگوں سے بحث و مذاکرہ کریں۔
مادہ پرست اور منکرین خدا جیسے ابن ابی العَوجاء، دیصانی اور ابن مقفّع وغیرہ نے بارہا حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ تعالٰی اور آپ کے شاگردوں سے بحث و گفتگو کی ہے، امام رضی اللہ تعالٰی عنہ ان کی باتوں کو سنتے تھے اور پھر ایک ایک کرکے ان کا جواب دیتے تھے جیسا کہ ابن ابی العَوجاء کہتا ہے:
” حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ تعالٰی ہم سے فرمایا کرتے تھے کہ تمہارے پاس جو بھی دلیل ہے اس کو بیان کرو، ہم آزادانہ طور پر اپنے دلائل پیش کرتے تھے اور امام مکمل طور پر سنتے تھے، اس طرح کہ ہم یہ خیال کربیٹھتے تھے کہ ہم نے امام پر غلبہ کرلیا ہے، لیکن جب امام کی باری آتی تھی تو بہت ہی متین انداز میں ہمارے ایک ایک استدلال کی تحقیق اور چھان بین کرتے تھے اور ان کو ردّ کرتے تھے اس طرح کہ بحث و گفتگو کے لئے کسی طرح کا کوئی بہانہ باقی نہیں بچتا تھا“۔
Advertisements
5 comments
  1. محترمہ تحریم صاحبہ۔ اتنے اچھے مضمون کے انتخاب پر شکریہ قبول کیجیئے۔ مضمون کے درج ذیک جملے مضمون کی جان تھے:
    1: طاقت کے بل بوتہ پر اپنے عقیدہ اور آئیڈیل کو کسی پر نہیں تھونپاجاسکتا
    2: پہلے مذاکرہ کرنے والوں کے حالات اور احساسات کو پرکھنا چاہئے اور انھیں کے پیش نظر مذاکرہ کرنا چاہئے
    اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے اور آپ کو اسی طرح ہمت و استقامت سے لکھتے رہنے کی توفیق دے۔ آمین

    • پسند کرنے کا شکرےہ بھائی سلیم

  2. احمر said:

    ہت مناسب موقع پر بہت خوبصورت انتخاب،

    اگر کبھی بلاگستان کا ضابطہ اخلاق ترتیب دیا جاے تو یہ اس کا پہلا نکتہ ہونا چاہیے

    • جناب احمر صاحب
      تشریف آوری کا شکریہ
      تحریرپسند آنے پر امید ہے دوبارہ بھی تشریف لاتے رہیں گے

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: