قرآنی واقعات و داستانیں

قرآن مجيد ايك تاريخى كتاب ہے، نہ گزشتہ لوگوںكى سوانح حيات كا مجموعہ،يہ نہعلوم طبيعى نصاب ہے اور نہ زمين و آسمان كےاسرار و رموز كو بيان كرنے كى كتاب ہے، بلكہ وہ ”كتاب ہدايت” ہے ہاں قرآن كريم ميں چونكہ گزشتہ لوگوںخصوصاً انبيائے كرام اور اقوام و ملل كے عبرت ناك واقعات بيان ہوئے ہيں جنميں سے بہت سے لوگ زمين كے ايك عظيم حصہ پرحكومت كرتے تھے،اور اب ان كانام و نشان تك نہيں رہا، اور كائنات كے پُر اسرار مخلوقات ميں”توحيد خدااور” معرفت اللہ”كے بہترين درس چھپے ہوئے ہیں لہذا قرآن كريم نے اپنے مخصوص انداز ميں انھيں بيان كيا ہے اور انسانى ہدايت كےلئےموثر اوركامياب نمونے بيان كئے ہيں قابلتوجہ بات يہ ہے كہ ان نكات كو بيان كرتے ہوئے قرآنى آيات كا لب و لہجہ اسانداز كا ہے جس سے نہ صرف يہ كہ ان واقعات كى تازگى ختم نہيں ہوتى بلكہمرور زمان كے باوجود اس كے معنى و مفاہيم ميں ترو تازگى اور سبق آموزى پيداہوجاتى ہے، اس طرح ہر پيرو جوان اور عوام الناس و دانشور اپنے لحاظ سے اس نورہدايت سےفيضياب ہوتے ہيں
قران كريم كا بہت ساحصہ گزشتہ قوموں كى سرگذشت اور گزرنے ہوئے لوگوں كے واقعاتزندگى كى صورت ميں ہے،اس پہلو پر نظر كرنے سے يہ سوال سامنے اتا ہے كہ ايك تربيت كنندہ اور انسان ساز كتاب ميں يہ سب تاريخ اور داستانيں كيوں ہيں؟
ليكن ذيل كے چند نكات كى طرف توجہ كرنے سے يہ مسئلہ واضح ہوجاتا ہے:
تاريخانسانى زندگى كے مختلف مسائل كى تجربہ گاہ ہے اور جو چيزيں انسان عقلىدلائل سے اپنى ذہن ميں منعكس كرتا ہے انھيں تاريخ كے صفحات ميں عينى صورتميں كھلا ہوا پاتا ہے اور اس طرف توجہ كرتے ہوئے كہ معلومات ميں سے زيادہقابل اعتماد وہ ہيں جو حسى پہلو ركھتى ہيں ،واقعات زندگى ميں تاريخ كا اثرواضح طور پر ديكھا جا سكتا ہے ،انسان اپنى انكھوں سے صفحات تاريخ ميںاختلاف و انتشار كى وجہ سے كسى قوم كى مرگ بار شكست ديكھتا ہے اور اسى طرح اتحاد و ہم بستگى كے باعث كسى دوسرى قوم كى درخشاں كاميابى كا مشاہدہ كرتاہے۔
گزشتہ لوگوں كے حالات ان كے نہايت قيمتى تجربات كا مجموعہ ہيں اور ہم جانتے ہيں كہ زندگى كا ماحصل تجربے كے علاوہ كچھ بھى نہيں تاريخايك ائينہ ہے جو اپنے اندر تمام انسانى معاشروں كا ڈھانچہ منعكس كرتا ہے،يہ ائينہ ان كى برائياں اچھائياں ،كاميابياں ،ناكامياں ،فتوحات ،شكستيںاور ان سب امور كے عوامل و اسباب دكھاديتا ہے ،اسى بنا پر ان كى پورى عمركے تجربات سميٹ ليتا ہے۔البتہ_يہاںتاريخ سے مراد وہ تاريخ ہے جو خرافات ،اتہامات ،دروغ گوئيوں ،چاپلوسيوں،ثناخوانيوں ،تحريفوں اور مسخ شدہ واقعات سے خالى ہو ليكن افسوس سے كہنا پڑتا ہے۔
كہ ايسى تاريخيں بہت كم ہيں ،اس سلسلے ميں قران نے حقيقى تاريخ كے جو نمونے پيش كئے ہيں اس كے اثر كو نظر سے اوجھل نہيں رہنا چاہئے۔ ايسىتاريخ كى ضرورت ہے كہ جو ائينے كى طرح صاف ہو نہ كہ كثرنما ہو ،ايسى تاريخكہ جو صرف واقعات ذكر نہ كرے بلكہ اس كى بنياد اور تنائج بھى تلاش كرےانحالات ميں قران كى جو تربيت كى ايك اعلى كتاب ہے تاريخ سے استفادہ
كيوں نہ
كرے اور گزشتہ لوگوں كے واقعات سے مثاليں اور شواہد كيوںپيش نہ كرے ۔
علاوہازيں تاريخ ايك خاص قوت جاذبہ ركھتى ہے اور انسان بچپن سے لے كر بڑھاپے تكاپنى عمر كے تمام ادوار ميں اس زبر دست قوت جاذبہ كے زير اثر رہتا ہے ،اسىبنا پر دنيا كى ادبيات كا ايك اہم حصہ اور انشا پر دازوں كے عظيم اثارتاريخ اور واقعات پر مشتمل ہيں۔
شعرااور عظيم مصنفين كے بہترين اثار چاہے وہ فارسى ميں ہوں يا دوسرى زبانوںميں يہى داستانيں اور واقعات ہيں گلستان سعدى ،شاہنامہ فردوسى ،خمسہ نظامىاور معاصر مصنفين كے دلكش اثار ،اسى طرح ہيجان افرين فرانسيسى مصنف ،ويكٹرہوگو ،برطانيہ كے ،شكس پئير، اورجرمنى كے، گوئٹے، سب كى تصانيف داستان كىصورت ميں ہيں داستاناور واقعہ چاہے نظم كى صورت ميں ہويا نثر كى  ،نمائشے كے انداز ميں ہو يافلم كى شكل ميں پڑھنے والے اور ديكھنے والے پر اثر انداز ہوتا ہے اور ايسى تاثير عقلى استدلالات كے بس كى بات نہيں ہے ۔اسكى وجہ شايد يہ ہے كہ انسان عقلى سے پہلے حسى ہے اور وہ جس قدر فكر ىمسائل ميں غور وفكر كرتا ہے اس سے زيادہ حتى مسائل ميں غوطہ زن ہوتا ہے،زندگى كے مختلف مسائل ميں جس قدر ميدان حس سے دور ہوتے ہيں اور خالص
عقلى
حوالے سے ہوتے ہيں اسى قدر ثقيل اور سنگين ہوتے ہيں اور اتنى ہى دير سےہمضم ہوتے ہيں
اسىطرح ہم ديكھتے ہيں كہ ہميشہ عقلى استدلالات كے مضبوط بنانے كے لئے حسىمثالوں سے مدد لى جاتى ہے ،بعض اوقات ايك مناسب اور برمحل مثال استدلال كااثر کئی گنا زيادہ كر ديتى ہے ،اسى لئے كامياب علماء وہ ہيں جو بہترينمثاليں انتخاب كرنے پر زيادہ دسترس ركھتے ہيں اورا يساكيوں نہ ہو جب كہ عقلى استدلال حسى ،عينى اور تجرباتى مسائل كا ماحصل ہيں داستان اور تاريخ ہر شخص كے لئے قابل فہم ہے جب كہ اس كے بر عكس عقلى استدلالات كى رسائی ميں سب لوگ برابر كے شريك نہيں ہيں
اسىلئے وہ كتاب كہ جو عموميت ركھتى ہے اور سب كے لئے ہے ،نيم وحشى ،ان پڑھعرب كے بيابانى بدّو سے لے كر عظيم مفكر اور فلسفى تك كے استفادہ كے لئے ہے اسے حتمى طورپر تاريخ ،داستانوں اور مثالوں كا سہارا لينا چاہئے۔انتمام پہلوو ں كو مجموعى طورپر ديكھا جائے تو يہ بات واضح ہوتى ہے كہ يہ تمام تاريخيں اور داستانيں بيان كر كے قران نے تعليم و تربيت كے لحاظ سے
بہترين راستہ اہنايا ہے
خصوصاًاسنكتے كى طرف توجہ كرتے ہوئے كہ قران نے كسى موقع پر بھى خالى تاريخىواقعات ہى بيان نہيں كرديئے بلكہ ہر قدم پر اس سے نتائج اخذ كئے ہيں اور اسسے تربيتى حوالے سے استفادہ كيا ہے چنانچہ اپ اسى سورت ميں اس كے کئی نمونے ديكھيں گے۔
Advertisements
5 comments
  1. آپ اپنے بلاگ پہ نستعلیق خط بھی شامل کر لیں۔۔۔ اس طرح کی طویل تحاریر نستعلیق میں پڑھنا آسان لگتا ہے اور سطروں کے درمیان وقفہ کم ہونے کی وجہ سے اس خط میں مشکل ہوتی ہے۔

    • تحریم said:

      امید ہے اب شکایات دور ہو چکی ہوں گی

  2. sher yar khan said:

    mashaallah

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: