خانۂ کعبہ:02

تعمیر کعبہ

خانہ کعبہ دنیا بھر کے مسلمانوں کےلئے انتہائی مقدس ،بابرکت اور اہم مقام ہے جہاں ہر سال پوری دنیا سے ہر نسل،ہر فرقے اور رنگ کے مسلمان اکٹھے ہو کر فریضہ حج ادا کرتے ہیں کعبے کا طواف کرتے ہیں اور اپنے گناہ معاف کرانے کےلئے اللہ تعالی کے حضور گڑگڑا کر دعائیں مانگتے ہیں۔خانہ کعبہ حضرت اسماعیل علیہ اسلام نے اپنے والد حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے ساتھ مل کر تعمیر کیا تھا۔
مکہ مکرمہ شروع دن سے ہی آج تک ایک اہم مقام ہے حضور نبی کریم ﷺ نے یہاں پر رشد و ہدایت کا سلسلہ جاری رکھا اور جب سیلاب سے کعبہ کی دیواروں کو نقصان پہنچا تو نبی کریم ﷺ نے کعبہ کی دوبارہ تعمیر کی اور پھر اس میں حجرِا سود کو رکھنے کے مسلئے کو جس خوش اسلوبی سے طے فرمایا وہ بھی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے یہ بیت اللہ ہے اللہ کا گھر ہے۔الرحمان کا گھر ہے یہ مقدس عمارت ازلی اور ابدی حرمت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی خاص عبادت کا مرکز ہے۔قرآن مجید کی مختلف آیات میں تعمیر کعبہ،کعبہ کی اہمیت اور مسجد الحرام کے بارے میں تفصیل سے معلومات ملتی ہیں ،مستند روایات ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ایما پر مکہ مکرمہ کے چاروں اطراف حد بندی کر کے نشانات لگا دیئے تھے اور یہی حدود حرم ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ مسجد الحرام میں ایک دفعہ نماز ادا کرنے کا ثواب عام مساجد میں ایک لاکھ نمازیں پڑھنے کے برابر ہے۔

خانۂ کعبہ کی تعمیراب تک جملہ گیارہ مرتبہ ہوئی ہے جن میں نئے سرے سے تین مرتبہ تعمیر ہوئی۔
1:سب سے پہلے بیت المعمور کے بالکل نیچے فرشتوں نے تعمیر کیا۔
2:پھر حضرت آد م علیہ السلام نے تعمیر فرمائی۔
3:پھر حضرت زشیث علیہ السلام نے۔
4:اس کے بعد حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام اور آپ کے صاحبزادے حضرت اسماعیل ذبیح اللہ علیہ السلام نے۔
5:پھر قوم عمالقہ نے تعمیر کی۔
6:اس کے بعد قبیلہ جرہم نے تعمیر کی سعادت حاصل کی۔
7:پھر قریش کے مورث اعلیٰ قُصّی بن کلاب نے۔
8:اس کے بعد کی تعمیر قریش نے کی جس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم بھی شریک رہے۔
9:حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں تعمیر ہوئ۔
10پھر حجاج بن یوسف کے زمانہ میں تعمیر کی گئی ۔
11:اور اب تک سب سے آخیر مییں سلطان مراد رابع اب سلطان احمد نے 1004ہجری  تعمیر کی گئی جو آج تک موجودہے۔یہ بادشاہ سلاطین آل عثمان

”اخبار مکہ“ کے مصنف کے مطابق خانہ کعبہ کی پہلی تعمیر ملائکہ نے کی اور پھر جب حضرت آدم علیہ اسلام زمین پر تشریف لائے تو انہوں نے اس کی دوبارہ تعمیر کی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام جب شام سے مکہ مکرمہ واپس آئے تو اس وقت حضرت اسماعیل علیہ اسلام کی عمر 30سال تھی حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کےلئے حضرت اسماعیل علیہ اسلام کو اللہ تعالی کا حکم سنایا حضرت جبرئیل علیہ السلام  نے ان دونوں کو ایک ٹیلہ دکھایا جس کو کھودنے پر پرانے گھر کی بنیادیں نظر آئیں ،انہی بنیادوں پر دونوں نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی۔جب بیت اللہ کی بنیادیں ایک ہاتھ تعمیر کر دی گئیں تو حضرت اسماعیل? ایک پتھر لائے جس پر کھڑے ہو کر حضرت جبرئیل علیہ السلام  نے خانہ کعبہ کی دیواریں مزید بلند کرنا شروع کر دیں۔ حرم شریف میں یہی مقام مقامِ ابراہیم علیہ السلام  کہلاتا ہے جس میں حضرت ابراہیم کے پاں مبارک کے نقش شیشے کے سنہری جار میں محفوظ ہیں۔ روایت ہے کہ حجرا سود حضرت ابراہیم علیہ السلام  کے ساتھ ہی جنت سے اتارا گیا تھا اور جہاں یہ نصب ہے وہاں سے طواف کا آغاز کیا جاتا ہے۔ کعبة اللہ پر غلاف چڑھانے کی رسم بہت پرانی ہے خانہ کعبہ پر سب سے پہلے غلاف حضرت اسماعیل علیہ السلام  نے چڑھایا تھا۔ ابن ہشام اور دیگر مورخین نے لکھا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ابراہیم  علیہ السلام نے تعمیر کعبہ کے ساتھ ساتھ غلاف کا اہتمام بھی کیا تھا۔
اس روایت کے بارے میں نہ تو اتنے وثوق سے کہا جاسکتا ہے اور نہ انکار کیا جا سکتا ہے۔سب سے مستند حوالہ اس حدیث مبارکہ کا ہے جس پر تاریخ غلاف کعبہ کے تمام مورخین نے اتفاق کیا ہے۔
آنحضرت ﷺ کی بعثت کے قبل حوادث زمانہ سے خانہ کعبہ کی امارت بہت بوسیدہ ہوگئی تھی اوراس کے گرجانے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا چنانچہ اسی زمانہ میں قریش نے چندہ کرکے اس کو از سر نو تعمیر کرادیا تھا، لیکن سرمایہ کی قلت کی وجہ سے اصل بنیاد ِ ابراہیمی کا تھوڑا حصہ جسے اب حطیم کہتے ہیں نا تمام چھوڑدیا گیا تھا۔
خانہ کعبہ کی تعمیر، ابتداء سے عبدالملک بن مروان کے زمانہ تک جملہ دس مرتبہ ہوئی ۔ سب سے پہلے فرشتوں نے بیت المعمور کے مقابل زمین پر کعبہ شریف کی تعمیر کی ۔ اور آٹھویں مرتبہ قریش نے خانۂ کعبہ کی تعمیرجدید کی جس میں حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم بنفس نفیس شریک تھے اور اپنے مبارک کندھوں پر پتھر اٹھاکر لائے جس کی تفصیل یہ ہے :
کعبہ کی عمارت زمین کے نشیبی علاقہ میں موجود تھی ،پہاڑوں سے بہنے والا بارش کا پانی جب اس وادی سے گذرتا تو سیلاب کی شکل میں ہوتا جس سے عمارت بہہ جاتی یا مرمت کی ضرورت پڑتی اسی لئے قریش نے یہ طے کیا کہ
عمارت کی تعمیر نئے طور پر ہو
دروازہ بلند رکھا جائے تاکہ سیلاب کا پانی اندر داخل نہ ہوسکے
چھت بنائی جائے
تعمیر میں مکہ شریف کے ہر قبیلہ کا سردار شریک ہو
چنانچہ مختلف کام مختلف لوگوں میں تقسیم کئے گئے۔
جب حجر اسود رکھنے کی باری آئی تو آپس میں سخت جھگڑا ہوا ہر قبیلہ یہ چاہتا تھا کہ یہ شرف اس کے حصہ میں آئے ،اس اختلاف کی بھڑکنے والی آگ کو ٹھنڈا کرنا ضروری تھا، ایک عمررسیدہ شخص کے مشورہ پر یہ طے پایا کہ کل صبح جو سب سے پہلے حرم کعبہ میں داخل ہو اس کو امیر بنالیا جائے وہ جو فیصلہ دے اسے قبول کیا جائے!
دوسرے دن صبح جو پہلے تشریف لائے وہ حضور رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ والہ وسلم تھے، آپ کو دیکھ کر سب نے کہا: بخدا یہ امین ہیں، ان کے فیصلہ پر ہم راضی ہیں ۔
حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے چادر بچھا کر حجر اسود کو اپنے دست مبارک سے رکھا اور تمام سرداروں سے حکم فرمایا کہ سب اس چادر کو اٹھاکر اس کے مقام تک پہنچیں، جب قریب پہنچے تو حضرت نبی کریم ﷺ نے اپنے دست پاک سے اس پتھر کو اس کی جگہ رکھ دیا اور آپ کے اس حکیمانہ فیصلہ نے لوگوں کو ایک بڑی جنگ اور خون خرابہ سے بچالیا۔
عہدِ رسالت میں آنحضرتﷺ کی دلی خواہش تھی کہ حطیم کا چھوٹا ہوا حصہ بھی کعبہ میں شامل کرکے اصل بنیاد ابراہیمی پر از سر نو اس کی عمارت بنائی جائے؛ لیکن عرب نئے نئے مسلمان ہوئے تھے ،کعبہ کی عمارت گرانے سے ان کے بھڑک جانے کا خطرہ تھا اس لئے آپ ﷺ اس خیال شریعت کو عملی جامہ نہ پہنا سکے۔
امام مسلم رحمہ اللہ تعالی نے عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا سے حدیث بیان فرمائی ہے اور بخاری میں بھی موجود ہے کہ:
“عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺسے حطیم کے بارے میں سوال کیا کہ کیا یہ بیت اللہ کا ہی حصہ ہے ؟
تو نبی ﷺ نے جواب دیا جی ہاں!، ‏عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں میں نے پوچھا کہ اسے پھر بیت اللہ میں داخل کیوں نہیں کيا گيا ؟ تو نبی ﷺ کا جواب تھا کہ تیری قوم کے پاس خرچہ کے لیے رقم کم پڑگئی تھی ۔
میں نے کہا کہ بیت اللہ کا دروازہ اونچا کیوں ہے؟ نبی ﷺ نے جواب دیا تیری قوم نے اسے اونچا اس لئے کیا تا کہ وہ جسے چاہیں بیت اللہ میں داخل کریں اورجسے چاہیں داخل نہ ہونے دیں ۔
اور اگرتیری قوم نئی نئی مسلمان نہ ہوتی اوران کے دل اس بات کوتسلیم سے انکارنہ کرتے تو میں اسے ( حطیم ) کوبیت اللہ میں شامل کردیتا اوردروازہ زمین کے برابرکردیتا”۔

ابن زبیر رضی اللہ عنہ  اوربنی امیہ کی معرکہ آرائی میں آتش زنی اورسنگباری کی وجہ سے اس عمارت کو اور زیادہ نقصان پہنچا اس لئے ابن زبیر رضی اللہ عنہ  نے آنحضرتﷺ کے متخیلہ نقشہ کے مطابق از سر نو اس کی تعمیر کا ارادہ کیا اورحج کے موقع پر جبکہ تمام عالم اسلام کے مسلمان حج بیت اللہ کے لئے جمع ہوتے ہیں، انہوں نے ان کے سامنے اس کی تعمیر کا مسئلہ پیش کیا، ابن عباس رضی اللہ عنہ  نے رائے دی کہ صرف کمزور حصہ کی مرمت کرانی چاہیے باقی حصہ کو بجنسہ اسی حالت پر رہنے دینا چاہئے جس حالت میں وہ عہد رسالت میں تھا اور جس حالت پر لوگوں نے اسلام قبول کیا ؛بلکہ ان پتھروں کو بھی ویسے ہی چھوڑد ینا چاہئے جیسے وہ ظہور اسلام کے وقت تھے۔
ابن زبیر رضی اللہ عنہ  نے کہا اگر تم میں سے کسی کا گھر گرجاتا تو اس کو بنوائے ہوئے بغیر نہ رہتا میں خدا سے تین مرتبہ استخارہ کے بعد اس کی تعمیر شروع کردوں؛چنانچہ تین دن تک انہوں نے اس مئلہ پر غور کیا اور غور کرنے کے بعد مکمل تعمیر کرنے کا فیصلہ کرلیا لیکن دیواروں کے گرانے کا مسئلہ بہت اہم تھا، کیونکہ عوام ان کو کھودنے سے ڈرتے تھے کہ اس کی پاداش میں کوئی بلائے آسمانی نازل نہ ہوجائے، ابھی یہ تذبذب جاری تھا کہ ایک شخص  ہمت کرکے دیوار پر چڑھ گیا،(بعض روایتوں میں ہے کہ خود عبداللہ نے پہلا پتھر کھودا تھا) اورایک پتھر اکھاڑ کے گرادیا، اس کو دیکھ کر لوگوں کا خوف جاتا رہا اوران کی ہمت بندھ گئی؛چنانچہ دیواروں کی کھدائی شروع ہوگئی، جب دیواریں زمین کے برابر ہوگئیں، تو ابن زبیر رضی اللہ عنہ  نے اس کے چاروں طرف قناتیں گھیردیں کہ جمال حقیقت کی جلوہ گاہ عام نظروں کا ،تماشہ گاہ نہ بننے پائے اور خانہ کعبہ کی از سر نو تعمیر شروع کرادی، جب بنیادیں بھر چکیں تو ایک مرتبہ پھر لوگوں کے سامنے آنحضرتﷺ کا خیال پیش کرکے کہا کہ میرے پاس روپیہ کی کمی نہیں ہے اور کوئی مزاحمت کرنے والا بھی نہیں ہے اس لئے میں آنحضرتﷺ کے متخیلہ نقشہ کے مطابق بنواؤں گا،یعنی حطیم کا حصہ بھی خانہ کعبہ کی تعمیر میں شامل کردیا جائے گا؛چنانچہ اسی نقشہ کے مطابق انہوں نے تعمیر کرایا۔
قریش نے اپنی تعمیر کے زمانہ میں خانہ کعبہ کا طول اٹھارہ گز اوراندر جانے کے لئے صرف ایک دروازہ رکھا تھا، وہ بھی بلندی پر تھا ،تاکہ ان کی مرضی اور اجازت کے بغیر کوئی شخص اندر داخل نہ  ہوسکے، ابن زبیر رضی اللہ عنہ  نے اس میں چھوٹے ہوئے حصہ حطیم کو بھی شامل کرکے پانچ گز اور بڑھایا اورجب یہ بھی ناکافی معلوم ہوا تو پانچ کے بجائے دس ہاتھ کردیا، آنحضرتﷺ کے نقشہ کے مطابق دو دروازے شرقی اورغربی زمین سے ملاکر بنائے تاکہ آنے جانے والوں کو زحمت نہ ہو۔
(مسلم کتاب الحج نقض الکعبہ وبینیانہا)
یہ مشہو مقولہ ہے کہ تاریخ اپنے واقعات دہراتی ہے ممکن ہے عام طورپر یہ کلیہ صحیح نہ ہو، لیکن کم از کم خانہ کعبہ کی اس تعمیر کے سلسلہ میں جس طرح تاریخ نے یہ واقعہ دہرایا ہے وہ اپنے اندر بہت بڑا درس عبرت رکھتا ہے، ناظرین میں بہتوں کو معلوم ہوگا کہ آنحضرتﷺ کی ولادت سے پیشتر ابرہہ اشرم شاہ حبش نے اس مقصد سے یمن میں ایک کنیسہ تعمیر کرایا تھا کہ عرب کعبہ کو چھوڑ کر اس کا حج کیا کریں، یہ وہی کنیسہ ہے  جس کو ایک کنانی نے جوش غضب میں گندگی سے آلودہ کردیا تھااور ابرہہ جوش غضب میں ہاتھیوں کا غول لے کر کعبہ کو ڈھانے کے لئے چڑھ آیا تھا، لیکن خدا نے اپنے گھر کو اس سے بچالیا ،سورۃفیل میں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔
خدا کی قدرت اورزمانہ کی نیرنگی دیکھو کہ کم وبیش ڈیڑھ صدی بعد اسی کنیسہ کو جو کعبہ کے مقابلہ میں بنایا گیا تھا، ابن زبیر رضی اللہ عنہ  نے کھدواکر اس کے ملبہ سے کعبہ کی عمارت تعمیر کرائی، ابرہہ نے یہ کنیسہ بڑے سازو سامان سے بنوایا تھا، سنگ رخام کے ستون تھے، رنگ برنگ کے نقشی پتھر اور خوشرنگ بچہ کاری سنہری پالش اس کی آب و تاب دوبالا کرہی تھی، ابن زبیر رضی اللہ عنہ  نے یہ تمام بیش قیمت سامان کھود کر کعبہ کی عمارت میں لگایا۔
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ (جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کےبطور احتجاج یزید بن معاویہ سےبغاوت کرتےہوئےمکہ میں اپنی خود مختاری کا اعلان کیا تھا) نےنبی پاک ﷺ کی خواہش کا احترام کرتےہوئے685عیسوی میں بیت اللہ کو دوبارہ ابرہیمی طرز پر تعمیر کروایا تھا مگر حجاج بن یوسف نے693عیسوی میں انہیں شکست  دی تو دوبارہ قریشی طرز پر تعمیر کرادیا جسےبعد ازاں تمام مسلمان حکمرانوں نےبرقرار رکھا۔
ہجرت کے آٹھارہویں مہینے ماہ شعبان ۲ ھ میں معرکئہ بدر سے ایک ماہ قبل مسلمانوں کا قبلہ بیت المقدس سے منتقل ہو کر کعبہ کی سمت ہو گیا جس کا ذکر قرآن پاک کے سورۃبقرہ میں کیا گیا ہے
خدا وند عالم کا مسلمانوں پر بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمارا قبلہ خانہ کعبہ قرار دیا ۔ چونکہ بیت المقدّس ایسا قبلہ تھا جس کے کئی دعوےدار ہونے کی وجہ سے اسے کئی بار کافر فاتحوں نے ویران اور نجس کیا اور وہاں کے بسنے والوں کو متعدد بار غلام بننا پڑا اور کئی بار وہاں قتل عام بھی جاری رہا ، جو آج بھی شدّت سے ہورہا ہے ، اور تاریخ مسلمانوں کے سکوت پر محوِ حیرت ہے۔
یہ ایک بڑی تعجب خیز بات ہے اور تاریخ عالم میں اس بات کی گواہ ہے کہ گذشتہ پانچ ہزار سالوں میں کسی نے بھی خانہ کعبہ پر اپنی شخصی ملکیت ہونے کا دعوی نہیں کیا ، یہ ایسا انمول شرف ہے کہ دنیا کی کسی عبادت گاہ و معبد کو حاصل نہیں ہوا۔
عرب کے بت پرست بھی اسے بیت اللہ ہی کہا کرتے تھے ۔ اسلام سے پہلے بھی اس کی حرمت ، حفاظت و صیانت خدائے متعال نے شریف نسل عربوں کے ذریعہ فرمائی اور پیغمبر اسلام کے توسط سے مسلمانوں کو تا قیامت اس کا محافظ و پاسبان بنا دیا۔
نبی اکرم ﷺ کی ولادت بابرکت سے ایک مہینہ بیس روز پہلے جب یمن کا بادشاہ ابرہہ اپنی ساٹھ ہزار ہاتھیوں کی مسلح فوج لیکر خانہ کعبہ کو ڈھانے کی غرض سے مکّہ کی وادیوں میں آیا تو پروردگار نے اپنے گھر کے حریم کی حفاظت کی خاطر کسی انسانی فوج کا سہارا نہیں لیا ، بلکہ ابابیلوں جیسے نازک اندام پرندوں کے ذریعہ ان ہاتھیوں پرکنکریاں برسا کر ان افواج کو تہس نہس کر دیا ۔ قرآن کریم کے سورۃفیل میں اسی واقع کا ذکر ہے۔
جنّت سے خاص کر اتارے گئے دو اہم پتّھر ، حجر اسود اور مقام ابراھیم ، عہد آدم اور دور ابراھیمی سے اب تک موجود ہیں اور دنیا کے سب سے زیادہ مقدّس پانی کا قدیم چشمہ ، زمزم ، اسی خانہ کعبہ کے قریب ہے ۔ اس کے پانی کو نیکوں کی شراب کہا گیا ہے ، لاکھوں عقیدت مند مسلمان دنیا کے گوشہ و کنار سے اس پانی کو تبرّک کے طور پر لے جاتے ہیں ۔
مکّہ معظمہ اور فضائل خانہ کعبہ میں قرآن حکیم کی کئی آیات نازل ہوئی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے شہر مکّہ کو ( اُم القریٰ) یعنی بستیوں کی ماں کہا ہے ۔اور سورۃالتین اور سورۃالبلد میں اللہ نے اس شہر پر امن کی قسم کھائی ہے ۔اس شہر میں یہاں کی شہریوں کے علاوہ ، دوسرے تمام لوگوں کو احرام باندھے بغیر داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے ۔ یہ خصوصیات دنیا کے کسی اور شہر کو نصیب نہیں ہے۔ مسجد الحرام کی عبادت اور یہاں کی ہر نیکی اقطاع عالم میں کی گئی نیکی سے ایک لاکھ گنا زیادہ ہے ۔ یہ مقام اس قدر محترم اور پر امن ہے کہ یہاں نہ صرف خونریزی منع ہے بلکہ نہ کسی جانور کا شکار کیا جا سکتا ہے نہ کسی درخت کو کاٹا اور سبزہ اور گیاہ کو اکھاڑا جا سکتاہے ۔
قرآن پاک میں اسے بیت الحرام یعنی شوکت کا گھر کہا گیا ہے ۔ خانہ کعبہ کے محل وقوع سے متعلق لکھا گیاہے کہ یہ عین عرش الٰہی اور بیت المعمور کے نیچے ہے ۔ علم جغرافیہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کعبہ کے محل وقوع کو ہم ناف زمین کہہ سکتے ہیں ۔ قرآن مجید میں کعبة اللہ اور دیگر شعائر الھی کی تعظیم کو قلوب کا تقویٰ قرار دیا گیا ہے اور اسی طرح متعدد سوروں [ سورۃبقرہ ، ابراھیم ، آل عمران ، مائدہ اور قصص \’ میں خانہ کعبہ کے فضائل بیان کئے گئے ہیں ۔
خانہ کعبہ کی تولیت
ابتدا ہی سے خانہٴِ کعبہ کی تولیت حضرت اسماعیل علیہ السلام کے پاس تھی۔ ان کے بعد ان کی اولاد کے پاس آ گئی۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، یہاں تک کہ "بنوجرھم” نے حضرت اسماعیل کے خاندان پر حملہ کرکے ان پر غلبہ حاصل کر لیا اور کعبہ کی تولیت بھی ان سے چھین کر اپنے ساتھ مخصوص کر لی۔ بنی جرہم کے بعد یہ تولیت "عمالقہ” کے قبضہ میں آ گئی۔ عمالقہ، بنی کرکر میں سے ایک قبیلہ تھا جو بنی جرہم کے ساتھ برسرِ پیکار رہتا تھا۔
 عمالقہ ہر سال سردی اور گرمی میں اپنی منزلیں بدلتے رہتے تھے۔ ان کا خانہ بدوشی کا یہ سفر مکہ کے نشیبی علاقوں میں جاری رہتا جبکہ بنی جرہم کے لوگوں کی خانہ بدوشی کا سرمائی اور گرمائی سلسلہ مکہ کے بالائی علاقوں میں ہوتا۔
 حوادثاتِ زمانہ کے تحت بنی جرہم کو ایک بار پھر عمالقہ پر غلبہ پانے کا موقع ملا تو خانہٴِ کعبہ کی تولیت بھی ان کے قبضہ سے واپس لے لی اور تقریباً تین سو سال تک وہ اس کے متولی رہے، انہوں نے حضرت ابراہیم کے بنا کردہ گھر میں کچھ ترمیمات و اضافے کئے اور اس کی دیواروں کو بلند کیا،
 جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل بڑھی، پھلی پھولی اور ان میں قدرت و شوکت پیدا ہوئی تو مکہ کی سرزمین ان کے لئے تنگ ہوتی نظر آئی، مجبوراً انہیں یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ بنی جرہم کو مکہ سے باہر نکال دیا جائے۔ بالآخر جنگ و جدال کے ذریعہ انہیں وہاں سے بھگا دیا گیا۔
 ان دنوں حضرت اسماعیل کی اولاد کا سردار اور بزرگ "عمرو بن لحی” تھا۔ اس نے مکہ پر قبضہ کرکے خانہٴِ خانہ کی تولیت خود سنبھال لی یہ وہی عمرو بن لحی تھا جس نے خانہٴِ کعبہ کی چھت پر بت رکھ دیئے تھے اور لوگوں کو ان کی پرستش کی دعوت دی تھی، سب سے پہلا بت جو کعبہ کی چھت سے متصل ہوا اس کا نام "ہُبل” تھا۔ جسے وہ شام سے اپنے ساتھ مکہ لایا اور خانہ کعبہ کی چھت پر آ کر رکھ دیا تھا اس کے بعد رفتہ رفتہ دوسرے بت لانے لگا یہاں تک کہ ایک بہت بڑی تعداد میں بت جمع ہو گئے، بت پرستی کا رواج عربوں میں پھیل گیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بتایا ہوا "دین حنیف” اور "توحیدپرستی” کی بساط لپیٹ دی گئی۔
 اسی مناسبت سے بنی جرہم کا ایک شاعر بنام "شحنہ بن حلف” عمرو بن لحی کو مخاطب کرکے کہتا ہے
 یا عمرو انک قد احدئت الھة۔ شتی بمکة حول البیت انصابا
 وکان البیت رب واحد ابدا۔ فقد جعلت لہ فی الناس او بابا
 لتعرفن بان اللہ فی مھل۔ سیصطفی دونکم للبیت حجابا
یعنی۔ اے عمرو! یہ تو ہی تھا جس نے مختلف خدا گھڑ کر بیت اللہ کے اطراف میں نصب کر دیئے۔ خانہٴِ کعبہ کا تو صرف ایک ہی ابدی رب ہے، مگر یہ تو تھا کہ لوگوں کو شرک و مختلف خداؤں (ارباب) کی طرف دعوت دی۔ تمہیں بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ خداوندِ تعالیٰ مستقبل قریب میں تمہیں ہٹا کر اپنے گھر کے لئے دوسروں کو حاجب و نگہبان مقرر فرمائے گا۔
 خانہٴِ خدا کی تولیت "حلیل خزاعی” کے زمانہ تک اسی طرح بنی خزاعہ میں باقی رہی، اور حلیل نے اپنے بعد یہ تولیت اپنی بیٹی کو جو قصیٰ بن کلاب کی زوجہ تھیں، خانہٴِ کعبہ کے کھولنے اور بند کرنے یا بااصطلاح "کلید برداری” کا اختیار بنی خزاعہ میں سے ایک شخص "ابوغبئان” خزاعی کو دے دیا۔ لیکن ابو غبئان نے ایک اونٹ اور ایک پیالہ شراب کے بدلہ یہ منصب قصی بن کلاب کے ہاتھوں بیچ دیا، ابو غبئان کا یہ اقدام عربوں میں ایک ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر گیا کہ جب بھی کوئی احمقانہ اور نقصان دہ معاملہ طے پاتا تو وہ کہتے "اخسر من صفتة ابی غبئان” یعنی یہ معاملہ تو ابی غبئان کے معاملہ سے بھی زیادہ نقصان دہ ہے۔
 انجام کار کعبہ کی تولیت اور سرپرستی مکمل طور پر قریش میں منتقل ہو گئی، اور قصیٰ بن کلاب نے خانہٴِ کعبہ کی از سر نو تعمیر کی جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ یہ صورت حال اسی طرح باقی رہی یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ کو فتح کیا اور خانہٴِ کعبہ کے اندر جا کر حکم دیا کہ کعبہ میں موجود تمام تصویروں اور بتوں کو مٹا دیا جائے چنانچہ بتوں کو توڑ دیا گیا اور تصویریں مٹا دی گئیں، مقامِ ابراہیم کو جس پر آنجناب کے دونوں قدموں کے نشان ہیں اور اس وقت تک کعبہ کے نزدیک ایک طرف میں تھا، اٹھا کر اس کی اسی جگہ پر مدفون کر دیا جہاں پر اب ہے اور آج اس پر ایک قبہ سا بنا ہوا ہے جس کے چار ستون ہیں اور ان ستونوں پر چھت بنی ہوئی ہے۔ طواف کرنے کے بعد خانہٴِ خدا کے زائر اس کے ساتھ نمازِ طواف پڑھتے ہیں

 

خانہ کعبہ و مطاف کے حدود


 میٹر    سینٹی میٹر                 حدود مطاف کعبہ
15    00            ارتفاع کعبہ زمین سے چھت تک
11    58         مشرقی دروازے کی جانب سے کعبہ کی لمبائی، چوکھٹ کے علاوہ

11    93        جانب مغرب سے لمبائی، بغیر چوکھٹ کے

10    22        جانب شامی سے لمبائی، بغیر چوکھٹ کے

10    12        ستونوں کے درمیان کا فاصلہ چوکھٹ کو نکال کر۔

1    50        حجر اسود کی زمین سے بلندی۔

2    00        زمین سے دروازے کی بلندی۔

 2    00       دروازے کی لمبائی۔

2    65        جانب مشرق سے حجر اسماعیل علیہ السلام۔

2    58         جانب مغرب سے حجر اسماعیل علیہ السلام۔

8    36         میزاب کعبہ اور حجر اسماعیل علیہ السلام

 11    10    خانہ کعبہ کی چوکھٹ اور مقام ابراہیم کی کھڑکی تک کا درمیانی فاصلہ۔مشرق سے

12    00    حجر اسماعیل علیہ السلام اور مطاف کےچکر کا درمیانی فاصلہ، شامی سے۔

15    80     خانہ کعبہ کی چوکھٹ اور دائرہ مطاف کا درمیانی فاصلہ، مقام حنبلی کے سامنے۔

 15    80     خانہ کعبہ کی چوکھٹ اور دائرہ مطاف کا درمیانی فاصلہ، مقام مالکی کے سامنے۔
▓♀▓♀▓♀▓♀▓♀▓♀▓♀▓♀▓ جاری ہے ▓♀▓♀▓♀▓♀▓♀▓♀▓♀▓♀▓
Advertisements
9 comments
  1. السلام علیکم ورحمتہ اللہ
    بہت عمدہ تحریر اتنی خوبصورت معلومات شئیر کرنے کے لئے بہت شکریہ

  2. موضوع بہت مفید ہے۔ معذرت چاہتا ہوں میں نے پڑھا نہیں۔ بہت طویل مضامین آنلائن نہیں پڑھے جاتے۔ اگر آپ خلاصہ لکھ دیا کریں تو سہل ہو۔ ایک بار پھر معذرت۔۔۔!۔

    • تفصیلی مضمون کو ہی تو 3 اقساط میں تقسیم کیا تھا جناب عطا رفیع صاحب

  3. NOOR said:

    السلام علیکم
    بہت عمدہ

  4. Asif said:

    بهت خوب

  5. عمر شبیر said:

    السلام علیکم۔
    نہائت عرق ریزی سے جمع کی گئی معلومات کوشیئر کرنے کا بے حد شکریہ۔
    ایک سوال ہے کہ دنیا میں سب سے پہلا عبادت گھرتو حتمی طور پر خانہ کعبہ ہی ہے لیکن باوجود اس کے کہ حضرت ابراہیم علہیہ السلام نے خانہ کعبہ کی بنیاد رکھی بیت المقدس کب اور کیوں قبلہ مقرر ہؤا؟ کیا ظہور اسلام سے قبل بھی بیت المقدس کوکبھی قبلہ کا درجہ ملا؟ ملا تو کب؟
    اگر ممکن ہو تو مستند حوالوں سے بھی نوازیں۔
    پیشگی شکریہ۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: