خانۂ کعبہ:01

خانہ کعبہ
اِنَّ اَوَّلَ بَیتٍ وُّضِعَ لِلنَّا سِ لَلَّذِی بِبَکَّةَ مُبٰرَکًا وَّ ھُدًی لِّلعٰلَمِینَ فِیہِ اٰیٰت بَیِّنٰت مَّقَامُ اِبرَاہِیمَ وَمَن دَخَلَہ کَانَ اٰمِنَا ۔
بیشک سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کو مقرر ہوا وہ ہے جو مکہ میں ہے ۔برکت والا سارے جہان کا راہنما ۔ اس میں نشانیاں ہیں کھلی ہوئی مقام ابراہیم اور جو اس میں داخل ہوا امن والا ہو گیا
یہود نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ بیت المقدس میں ہمارا قبیلہ ہے ۔کعبہ سے افضل اور اس سے پہلا ہے ۔انبیاءکرام کا مقامِ ہجرت و قبلہ عبادت ہے ۔مسلمانوں نے کہا کعبہ افضل ہے ۔اس پر مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی ۔
اور اس میں بتایا گیا کہ سب سے پہلا مکان جس کو خدا نے اطاعت و عبادت کےلئے مقرر کیا ۔نماز کا قبلہ و حج طواف کا موضع بتایا ۔ جس میں نیکیوں کے ثواب زیادہ ہوتے ہیں وہ کعبہ معظمہ ہے جو شہر مکہ معظمہ میں واقع ہے ۔
حدیث پاک میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کعبہ معظمہ بیت المقدس سے چالیس برس قبل بنایا گیا۔حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کی تخلیق سے دو ہزار سال قبل کعبة اللہ کی تعمیر ہوئی ۔
حضور پر نور ﷺ سے اول بیت سے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا
اَلمَسجِدُ الحَرَامُ ثُمَّ بَیتُ المَقدَسِ۔یعنی ” پہلے مسجد حرام (کعبة اللہ شریف) پھر بیت المقدس
پھر ان دونوں کے درمیان مدت کا فرق دریافت کیا گیا تو فرمایا
اَربَعُونَ سَنَة۔یعنی ”چالیس برس“
ایک تاریخی روایت کے مطابق خانہ کعبہ بیت المقدس کی مسجد الاقصیٰ سے ایک ہزار تین سو سال پہلے تعمیر ہواہے ۔
یا البيت الحرام بھی کہا جاتا ہے۔‎خانہ کعبہ کو  بیت اللہ، الكعبة المشرًّفة، البيت العتيق‎
متعدد روایات کے رو سے روئے زمین پر انسان کی بنائی گئ سب سے پہلی تعمیر خانہ کعبہ ہےجسے حضرت آدم علیہ السلام نےخود تعمیر کیا تھا ۔ خانہ کعبہ کا نقشہ جبرائیل علیہ السلام نے تیار کیا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قائم کردہ بیت اللہ بغیر چھت کےایک مستطیل نما عمارت تھی جس کےدونوں طرف دروازے کھلے تھےجو سطح زمین کےبرابر تھےجن سےہر خاص و عام کو گذرنےکی اجازت تھی۔ اس کی تعمیر میں 5 پہاڑوں کےپتھر استعمال ہوئےتھے طور سینا ، طور زینا، جودی ، لبنان اور حرا جبکہ اس کی بنیادوں میں آج بھی وہی پتھر ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نےرکھےتھے۔ خانہ خدا کا یہ انداز صدیوں تک رہا تاوقتیکہ قریش نے 604عیسوی   میں اپنےمالی مفادات کےتحفظ کےلئےاس میں تبدیلی کردی کیونکہ زائرین جو نذر و نیاز اندر رکھتےتھےوہ چوری ہوجاتی تھیں۔
نبی اکرم کا  کا ارشاد پاک ہے
"اللہ نے زمین پر سب سے پہلےمکہ المکرمہ پیدا فرمائی یہ زمین پوری طرح پانی میں ڈوبی ہوئی تھی اللہ سبحان و تعالٰی نے زمین کی تخلیق فرمائی اور خانہ کعبہ ظاہر ہوا۔”
حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے تک کہ جب طوفان نے پوری زمین کو گھیر لیا اور ساری چیزیں زیر آپ چلی گئيں صرف خانہ کعبہ تھا جو غرق آب نہ ہوا اور اس لئے خانہ کعبہ کو ” بیت العتیق” کہا گیا البتہ طوفان سے کعبہ کی عمارت کو نقصان ضرور پہنچا تھا اور طوفان کے بعد سرخی رنگ کے ڈھیر میں تبدیل ہوا تھا اور لوگ اس جگہ سے اپنے حوائج طلب کرتے اور نذریں کیا کرتے تھے ۔ اور جب حضرت ابراھیم علیہ السلام اور انکی اہلیہ ھاجرہ سلام اللہ علیہا اور ان کا فرزند اسماعیل علیہ السلام حکم الہی سے شام سے ہجرت کرکے مکہ معظمہ میں داخل ہوے اور یہاں پر مکین ہوے ۔پھر اس جگہ نے آہستہ آہستہ رونق پیدا کی ۔حضرت ابرھیم علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے خانہ کعبہ دوبارہ تعمیر کرنے کا حکم ہوا ۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کے تعاون اورحضرت  جبرئیل علیہ السلام کی رہنمائي سے 5 ذیقعدہ سن 3429 کوخانہ کعبہ کا دیوار تعمیر کرنا شروع کیا اور 27 ذیقعدہ کو مکمل کیا اور اس کے بعد حجر الاسود جوکہ بہشت کا پتھر ہے کواس کے دیوار پر نصب کیا ۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام خانہ کعبہ کو طواف کرنے اور خدا کی عبادت کرنے والے پہلے فرد تھے اور خدای سبحان سے اپنے اعمال کو قبول فرمانے کی درخواست کی ۔
قرآن نے اس واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے :
 وَ اِذْ يَرْفَعُ اِبْراھيمُ الْقَواعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَ اِسماعيلَ رَبَّنا تَقَبَّلْ مِنّا، اِنَّكَ اَنتَ السَّميعُ الْعَليمُ.
 پارہ 3  سورۃبقرہ 2  آيت 127
اسکے بعد خانہ کعبہ موحدین کا مقدس ترین مکان بن گیا اور روز بہ روز اس کی عظمت و شوکت میں اضافہ ہوتا رہا ۔
 تاریخ عتیق بھی اس بات کی گواہ ہے کہ اس سے قبل کوئی ایک بھی ایسی عبادت گاہ کائنات میں موجود نہیں تھی جسے خدا کا گھر کہا گیا ہو ۔ اس کی تصدیق قرآن مجید بھی ان الفاظ میں کرتا ہے
إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ۔
سورۃآل عمران آیت  ۹۶
بیشک سب سے پہلا مکان جو لوگوں کے لئے بنایا گیا ہے وہ مکہ میں ہے مبارک ہے اور عالمین کے لئے مجسم ھدایت ہے
عصر جاہلیت میں بھی تمام عرب اپنے جاہلی رسم و رواج کے مطابق خانہ کعبہ کا طواف اور حج کیا کرتے تھے ۔
حضرت ابراہم علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے نوسو برس پہلے اس کی ظاہری تعمیر مکمّل کی اور بارگاہ حق میں دعا کی یہ دعا قرآن کریم میں اس طرح بیان ہوئی ہے :
رَّبَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُواْ الصَّلاَةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ۔
سورۃابراہیم آیت  ۳۷
پرور دگار میں نے اپنی ذریت میں سے بعض کو تیرے محترم مکان کے قریب بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ دیا ہے تاکہ نمازیں قائم کریں اب تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف موڑ دے اور انھیں پھلوں کا رزق عطا فرما تاکہ وہ تیرے شکر گزار بندے بن جائیں
قریش نےبیت اللہ کے شمال کی طرف تین ہاتھ جگہ چھوڑ کر عمارت کو مکعب نما (یعنی کعبہ) بنادیا تھا۔ وجہ یہ بتائی جاتی ہےکہ روپے پیسےکی کمی تھی کیونکہ حق و حلال کی کمائی سےبیت اللہ کی تعمیر کرنی تھی اور یہ کمائی غالباً ہر دور میں کم رہی ہےلیکن انہوں سےاس پر چھت بھی ڈال دی تاکہ اوپر سےبھی محفوظ رہی، مغربی دروازہ بند کردیا گیا جبکہ مشرقی دروازےکو زمین سےاتنا اونچا کردیا گہ کہ  صرف خواص ہی قریش کی اجازت سےاندر جاسکیں۔ اللہ کےگھر کو بڑا سا دروازہ اور تالا بھی لگادیا گیا جو مقتدر حلقوں کےمزاج اور سوچ کےعین مطابق تھا۔ حالانکہ نبی پاک ﷺ (جو اس تعمیر میں شامل تھےاور حجر اسود کو اس کی جگہ رکھنےکا مشہور زمانہ واقعہ بھی رونما ہوا تھا) کی خواہش تھی کہ بیت اللہ کو ابراہیمی تعمیر کےمطابق ہی بنایا جائے۔
خانہ کعبہ کےاندر تین ستون اور دو چھتیں ہیں۔ باب کعبہ کےمتوازی ایک اور دروازہ تھا دیوار میں نشان نظر آتا ہےیہاں نبی پاک صلی اللہ وسلم نماز ادا کیا کرتےتھے۔ کعبہ کےاندر رکن عراقی کےپاس باب توبہ ہےجو المونیم کی 50 سیڑھیاں ہیں جو کعبہ کی چھت تک جاتی ہیں۔ چھت پر سوا میٹر کا شیشےکا ایک حصہ ہےجو قدرتی روشنی اندر پہنچاتا ہے۔ کعبہ کےاندر سنگ مرمر کےپتھروں سےتعمیر ہوئی ہےاور قیمتی  پردےلٹکےہوئےہیں جبکہ قدیم ہدایات پر مبنی ایک صندوق بھی اندر رکھا ہوا ہے۔
کعبہ کی موجودہ عمارت کی آخری بار 1996عیسوی میں تعمیر کی گئی تھی اور اس کی بنیادوں کو نئےسرےسےبھرا گیا تھا۔ کعبہ کی سطح مطاف سےتقریباً دو میٹر بلند ہےجبکہ یہ عمارت 14 میٹر اونچی ہے۔ کعبہ کی دیواریں ایک میٹر سےزیادہ چوڑی ہیں جبکہ اس کی شمال کی طرف نصف دائرےمیں جوجگہ ہےاسےحطیم کہتےہیں اس میں تعمیری ابراہیمی کی تین میٹر جگہ کےعلاوہ وہ مقام بھی شامل ہےجو حضرت  ابراہیم علیہ السلام نےحضرت ہاجرہ علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کےرہنےکےلئےبنایا تھا جسےباب اسماعیل کہا جاتا ہے۔
پرندے کعبہ شریف کے اُوپرنہیں بیٹھتے ۔اس کے اُوپر سے پرواز نہیں کرتے بلکہ پرواز کرتے ہوئے کتراجاتے ہیں ۔یعنی اِدھر اُدھر ہٹ جاتے ہیں ۔اور جو پرندے بیمار پڑ جاتے ہیں وہ اپنا علاج یہی کرتے ہیں کہ ہوائے کعبہ میں ہو کر گزر جاتے ہیں ۔ اس سے انہیں شفا ملتی ہے اور ایک دوسرے کو حرم میں ایذا نہیں دیتے ۔حتیٰ کے کتے اس سر زمین پر ہرن پر نہیں دوڑتے اور وہاں شکار نہیں کرتے ۔
خانہ کعبہ کی چھت کو کھولا نہیں جاتا،اس نئے غلاف کوپرانے غلاف پر چڑھا دیا جاتا ہے پھر جدید مشینوں سے پرانے غلاف کو کاٹ دیا جاتا ہے۔

▓♂▓♂▓♂▓♂▓♂▓♂▓♂▓♂▓ جاری ہے ▓♂▓♂▓♂▓♂▓♂▓♂▓♂▓♂▓♂▓♂▓

Advertisements
4 comments
  1. يہ آپ نے جو ايچ ٹی ايم ايل کيوں استعمال کيا ہے اگر آپ کو اپنی تحرير ميں کوئی ترميم يا تصحيح کرنا پڑ جائے تو آپ مُشکل ميں پڑ جائيں گی ۔ ميں نے اس سے پچھلی والی تحرير ميں جو ايچ ٹی ايم ايل ڈالا تھا اُسے ايک نظر ديکھ ليجئے اور اس ايچ ٹی ايم ايل سے موازنہ کيجئے

    • السلام و علیکم چچا جان
      شکریہ آپ نے واقعی کافی محنت کی میرے بلاگ پر تھیئم سے لے کر ویجٹس اور تحریر کو واضع کرنے میں
      بعد از تلاش مجھے ایک عدد ایساسافٹویئر میسر آگیا ہے جس کی مدد سے مین ٹیکسٹ لکھنے کے بعد وہاں پیسٹ کر دیتی ہون اور جیسے چاہے سیٹنگ کروں اس کا ایچ ٹی ایم ایل کوڈ مجھے مل جاتا ہے

      میں نے آپ کا کوڈ دیکھا تھا مگر ہر لائن میں لکھتے لکھتے تھک گئی تھی پھر یہ سافٹ ویئر استعمال کیا تو 2 منٹ میں سب تیار ہو گیا
      کیا یہ ٹھیک اور آسان نہیں رہا؟

      • و عليکم السلام و رحمة اللہ
        ميں مُسکرائے بغير نہيں رہ سکا آپ کے بھولپن پر ۔ آپ سے کس نے کہا بار بار لکھنے کو ؟ ميں ايسی شافٹ ويئر استعمال کر چکا ہوں جب يونی کوڈ نہيں تھا يعنی 10 سال يا زيادہ پہلے۔
        کيا آپ مائيکروسافٹ آفس 2007 يا 2003 استعمال کرتی ہيں ؟ مجھے بذريعہ ای ميل بتايئے ۔ پھر تفصيل سے جواب لکھوں گا

        • MS Word hi istemaal krti hon mai likhny k liye
          baqi mujhe samjh nai ata
          mail lkhny k liye MsN kholna pare ga or itna abhi wqt nai hai
          dosre ka computer hai na
          samjha kren

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Worlds Largest Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: