شبِ برأت

ماہِ شعبان کی پندرہویں رات کو شبِ برات کہا جاتا ہے شب کے معنی ہیں رات اور برات کے معنی بری ہونے اور قطع تعلق کرنے کے ہیں ۔ چونکہ اس رات مسلمان توبہ کرکے گناہوں سے قطع تعلق کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بے شمار مسلمان جہنم سے نجات پاتے ہیں اس لیے اس رات کو شبِ برات کہتے ہیں ۔ اس رات کو لیلۃ المبارکۃ یعنی برکتوں والی رات، لیلۃ الصک یعنی تقسیم امور کی رات اور لیلۃ الرحمۃ یعنی رحمت نازل ہونے کی رات بھی کہا جاتا ہے۔

جلیل القدر تابعی حضرت عطاء بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ، فرماتے ہیں ، ”لیلۃ القدر کے بعد شعبان کی پندرھویں شب سے افضل کوئی رات نہیں ”۔ (لطائف المعارف ص ١٤٥)

جس طرح مسلمانوں کے لیے زمین میں دو عیدیں ہیں اس یطرح فرشتوں کے آسمان میں دو عیدیں ہیں ایک شبِ برات اور دوسری شبِ قدر جس طرح مومنوں کی عیدیں عید الفطر اور عید الاضحٰی ہین فرشتوں کی عیدیں رات کو اس لیے ہیں کہ وہ رات کو سوتے نہیں جب کہ آدمی رات کو سوتے ہیں اس لیے ان کی عیدیں دن کو ہیں ۔ (غنیۃ الطالبین ص ٤٤٩)

تقسیمِ امور کی رات

ارشاد باری تعالیٰ ہوا، ”قسم ہے اس روشن کتاب کی بے شک ہم نے اسے برکت والی رات میں اتارا، بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام”۔ (الدخان ٢ تا ٤ ، کنزالایمان)

”اس رات سے مراد شبِ قدر ہے یا شبِ برات” (خزائن العرفان) ان آیات کی تفسیر میں حضرتِ عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اور بعض دیگر مفسرین نے بیان کیا ہے کہ ”لیلۃ مبارکۃ” سے پندرہ شعبان کی رات مراد ہے ۔ اس رات میں زندہ رہنے والے ، فوت ہونے والے اور حج کرنے والے سب کے ناموں کی فہرست تیار کی جاتی ہے اور جس کی تعمیل میں ذرا بھی کمی بیشہ نہیں ہوتی ۔ اس روایت کو ابن جریر، ابن منذر اور ابنِ ابی حاتم نے بھی لکھا ہے۔ اکثر علماء کی رائے یہ ہے کہ مذکورہ فہرست کی تیاری کا کام لیلۃ القدر مین مکمل ہوتا ہے۔ اگرچہ اس کی ابتداء پندرہویں شعبان کی شب سے ہوتی ہے۔ (ماثبت من السنہ ص ١٩٤)

علامہ قرطبی مالکی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایک قول یہ ہے کہ ان امور کے لوحِ محفوظ سے نقل کرنے کا آغاز شبِ برات سے ہوتا ہے اور اختتام لیلۃ القدر میں ہوتا ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١٦ ص ١٢٨)

یہاں ایک شبہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ امور تو پہلے ہی سے لوح محفوظ میں تحریر ہیں پھر اس شب میں ان کے لکھے جانے کا کیا مطلب ہے؟ جواب یہ ہے کہ یہ امور بلاشبہ لوح محفوظ مین تحریر ہیں لیکن اس شب میں مذکورہ امور کی فہرست لوح محفوظ سے نقل کرکے ان فرشتوں کے سپرد کی جاتی ہے جن کے ذمہ یہ امور ہیں ۔

حضرتِ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتی ہو کہ شعبان کی پندرہویں شب میں کیا ہوتا ہے؟ میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ فرمائیے۔ ارشاد ہوا آئندہ سال مین جتنے بھی پیدا ہونے والے ہوتے ہیں وہ سب اس شب میں لکھ دئیے جاتے ہیں اور جتنے لوگ آئندہ سال مرنے والے ہوتے ہیں وہ بھی اس رات مین لکھ دئیے جاتے ہیں اور اس رات میں لوگوں کا مقررہ رزق اتارا جاتاہے۔ (مشکوٰۃ جلد ١ ص ٢٧٧)

حضرت عطاء بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ، فرماتے ہیں ، ”شعبان کی پندرہویں رات میں اللہ تعالیٰ ملک الموت کو ایک فہرست دے کر حکم فرماتا ہے کہ جن جن لوگوں کے نام اس میں لکھے ہیں ان کی روحوں کو آئندہ سال مقررہ وقتوں پر قبض کرنا۔ تو اس شب میں لوگوں کے حالات یہ ہوتے ہیں کہ کوئی باغوں میں درخت لگانے کی فکر میں ہوتا ہے کوئی شادی کی تیاریوں میں مصروف ہوتا ہے۔ کوئی کوٹھی بنگلہ بنوا رہا ہوتا ہے حالانکہ ان کے نام مُردوں کی فہرست میں لکھے جاچکے ہوتے ہیں ۔ (مصنف عبد الرزاق جلد ٤ ص ٣١٧ ، ماثبت من السنہ ص ١٩٣)

حضرت عثمان بن محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے مروی ہے کہ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ایک شعبان سے دوسرے شعبان تک لوگوں کی زندگی منقطع کرنے کا وقت اس رات میں لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ انسان شادی بیاہ کرتا ہے اور اس کے بچے پیدا ہوتے ہیں حالانکہ اس کا نام مُردوں کی فہرست میں لکھا جاچکا ہوتا ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١٦ ص ١٢٦، شعب الایمان للبیہقی ج ٣ ص ٣٨٦)

چونکہ یہ رات گذشتہ سال کے تمام اعمال بارگاہِ الہٰی میں پیش ہونے اور آئندہ سال ملنے والی زندگی اور رزق وغیرہ کے حساب کتاب کی رات ہے اس لیے اس رات میں عبادت الہٰی میں مشغول رہنا رب کریم کی رحمتوں کے مستحق ہونے کا باعث ہے اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی یہی تعلیم ہے۔

مغفرت کی رات

شبِ برات کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس شب میں اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے بے شمار لوگوں کی بخشش فرما دیتا ہے اسی حوالے سے چند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں ۔

(١) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اپنے پاس نہ پایا تو میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تلاش میں نکلی میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم جنت البقیع میں تشریف فرما ہیں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں یہ خوف ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم تمہارے ساتھ زیادتی کریں گے۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مجھے یہ خیال ہوا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کسی دوسری اہلیہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب آسمانِ دنیا پر (اپنی شان کے مطابق) جلوہ گر ہوتا ہے اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے۔ (ترمذی جلد ١ ص ١٥٦، ابن ماجہ ص ١٠٠، مسند احمد جلد ٦ ص ٢٣٨، مشکوٰۃ جلد ١ ص ٢٧٧، مصنف ابنِ ابی شعبہ ج ١ ص ٣٣٧، شعب الایمان للبیہقی جلد ٣ ص ٣٧٩)

شارحین فرماتے ہیں کہ یہ حدیث پاک اتنی زیادہ اسناد سے مروی ہے کہ درجہ صحت کو پہنچ گئی۔

(٢) حضرتِ ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا، ”شعبان کی پندرہویں شب میں اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر (اپنی شان کے مطابق) جلوہ گر ہوتا ہے اور اس شب میں ہر کسی کی مغفرت فرما دیتا ہے سوائے مشرک اور بغض رکھنے والے کے”۔ (شعب الایمان للبیہقی جلد ٣ ص ٣٨٠)

(٣) حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب مین اپنے رحم و کرم سے تمام مخلوق کو بخش دیتا ہے سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے کے”۔ (ابنِ ماجہ ص ١٠١، شعب الایمان ج ٣ ص ٣٨٢، مشکوٰۃ جلد ١ ص ٢٧٧)

(٤) حضرت ابوہریرہ ، حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابو ثعلیۃ اور حضرت عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی ایسا ہی مضمون مروی ہے۔ (مجمع الزوائد ج ٨ ص ٦٥)

(٥) حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا، ”شعبان کی پندرہویں رات میں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے دو شخصوں کے سوا سب مسلمانوں کی مغفرت فرمادیتا ہے ایک کینہ پرور اور دوسرا کسی کو ناحق قتل کرنے والا”۔ (مسند احمد ج ٢ ص ١٧٦، مشکوٰۃ جلد ١ ص ٢٧٨)

(٦) امام بیہقی نے شعب الایمان (ج ٣ ص ٣٨٤) میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ایک طویل روایت بیان کی ہے جس میں مغفرت سے محروم رہنے والوں میں ان لوگوں کا بھی ذکر رشتے ناتے توڑنے والا، بطور تکبر ازار ٹخنوں سے نیچے رکھنے والا، ماں باپ کا نافرمان، شراب نوشی کرنے والے۔

(٧) غنیۃ الطالبین ص ٤٤٩پر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے مروی طویل حدیچ میں مزید ان لوگوں کا بھی ذکر ہے جادوگر، کاہن، سود خور اور بد کار، یہ وہ لوگ ہیں کہ اپنے اپنے گناہوں سے توبہ کیے بغیر ان کی مغفرت نہیں ہوتی۔ پس ایسے لوگوں کو چاہیے کہ اپنے اپنے گناہوں سے جلد از جلد سچی توبہ کرلیں تاکہ یہ بھی شب برات کی رحمتوں اور بخشش و مغفرت کے حقدار ہوجائیں ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہوا ”اے ایمان والو اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جو آگے نصیحت ہوجائے”۔ (التحریم ٨ ، کنزالایمان)

یعنی توبہ ایسی ہونی چاہیے جس کا اثر توبہ کرنے والے کے اعمال میں ظاہر ہو اور اس کی زندگی گناہوں سے پاک اور عبادتوں سے معمور ہوجائے۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نے بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں عرض کی۔ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم توبۃ النصوح کسے کہتے ہیں اشاد ہوا بندہ اپنے گناہ پر سخت نادم اور شرمدسار ہو۔ پھر بارگاہ الہٰی میں گڑگڑا کر مغفرت مانگے۔ اور گناہوں سے بچنے کا پختہ عزم کرے تو جس طرح دودھ دوبارہ تھنوں میں داخل نہیں ہوسکتا اسی طرح اس بندے سے یہ گناہ کبھی سرزد نہ ہوگا۔

رحمت کی رات

شبِ برات فرشتوں کو بعض امور دئیے جانے اور مسلمانوں کی مغفرت کی رات ہے اس کی ایک او ر خصوصیت یہ ہے کہ یہ رب کریم کی رحمتوں کے نزول کی اور دعاؤں کے قبول ہونے کی رات ہے۔

١۔ حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے۔ ”جب شعبان کی پندرہویں شب آتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوتا ہے، ہے کوئی مغفرت کا طالب کہ اس کے گناہ بخش دوں ، ہے کوئی مجھ سے مانگنے والا کہ اسے عطا کروں ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے وہ ملتا ہے۔ وہ سب کی دعا قبول فرماتا ہے سوائے بدکار عورت اور مشرک کے”۔ (شعب الایمان للبیہقی ج٣ ص ٣٨٣)

٢۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے روایت ہے کہ غیب بتانے والے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جب شعبان کی پندرھویں شب ہو تورات کو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو کیونکہ غروب آفتاب کے وقت سے ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت آسمان دنیا پر نازل ہوجاتی ہے اور اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے، ہے کوئی مغفرت کا طلب کرنے والا کہ میں اسے بخش دوں ۔ ہے کوئی رزق مانگنے والا کہ میں اس کو رزق دوں ہے کوئی مصیبت زدہ کہ میں اسے مصیبت سے نجات دوں ، یہ اعلان طلوع فجر تک ہوتا رہتا ہے۔ (ابنِ ماجہ ص ١٠٠، شعب الایمان للبیہقی ج ٣ ص ٣٧٨، مشکوٰۃ ج ١ ص ٢٧٨)

اس حدیث پاک میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت و رحمت کی ندا کا ذکر ہے اگرچہ یہ ندا ہر رات میں ہوتی ہے لیکن رات کے آخری حصے میں جیسا کہ کتاب کے آغاز میں شبِ بیداری کی فضیلت کو عنوان کے تحت حدیث پاک تحریر کی گئی شبِ برات ی خاص بات یہ ہے کہ اس میں یہ ندا غروب آفتاب ہی سے شروع ہوجاتی ہے گویا صالحین اور شبِ بیدار مومنوں کے لیے تو ہر رات شبِ برات ہے مگر یہ رات خطاکاروں کے لیے رحمت و عطا اور بخشش و مغفرت کی رات ہے اس لیے ہمیں شاہیے کہ اس رات میں اپنے گناہوں پر ندامت کے آنسو بہائیں اور ربِ کریم سے دنیا و آخرت کی بھلائی مانگیں ۔ اس شب رحمتِ خداوندی ہر پیاسے کو سیراب کردینا چاہتی ہے اور ہر منگتے کی جھولی گوہرِ مراد سے بھر دینے پر مائل ہوتی ہے۔ بقول اقبال، رحمت الہٰی یہ ندا کرتی ہے

ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسے راہرو منزل ہی نہیں

شبِ بیداری کا اہتمام

شبِ برات میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خود بھی شبِ بیداری کی اور دوسروں کو بھی شبِ بیداری کی تلقین فرمائی آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان عالیشان اوپر مذکور ہوا کہ جب شعبان کی پندرہویں رات ہو تو شبِ بیداری کرو اور دن کو روزہ رکھو” اس فرمان جلیل کی تعمیل میں اکابر علمائے اہلسسنت اور عوام اہلسنت کا ہمیشہ سے یہ مومول رہا ہے کہ رات میں شبِ بیداری کا اہتمام کرتے چلے آئے ہیں ۔

شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ، ”تابعین میں سے جلیل القدر حضرات مثلاً حضرت خالد بن معدان، حضرت مکحول، حضرت لقمان بن عامر اور حضرت اسحٰق بن راہویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم مسجد میں جمع ہو کر شعبان کی پندرہویں شب میں شبِ بیداری کرتے تھے اور رات بھر مسجد میں عبادات میں مصروف رہتے تھے”۔ (ما ثبت من السنہ ٢٠٢، لطائف المعارف ص ١٤٤)

علامہ ابنِ الحاج مانکی رحمتہ اللہ علیہ شبِ برات کے متعلق رقم طراز ہیں ” اور کوئی شک نہیں کہ یہ رات بڑی بابرکت اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی عظمت والی ہے۔ ہمارے اسلاف رضی اللہ تعالیٰ عنہیم اس کی بہت تعظیم کرتے اور اس کے آنے سے قبل اس کے لیے تیاری کرتے تھے۔ پھر جب یہ رات آتی تو وہ جوش و جذبہ سے اس کا استقبال کرتے اور مستعدی کے ساتھ اس رات میں عبادت کیا کرتے تھے کیونکہ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ہمارے اسلاف شعائر اللہ کا بہت احترام کیا کرتے تھے۔ (المدخل ج ١ ص ٣٩٢)

مذکورہ بالا حوالوں سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اس مقد رات مین مسجد مین جمع ہوکر عبادات میں مشغول رہانا اور اس رات شبِ بیداری کا اہتمام کرنا تابعین کرام کا طریقہ رہا ہے۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی قدس سرہ فرماتے ہیں ، ”اب جو شخص شعبان کی پندرہویں رات مین شبِ بیداری کرے تو یہ فعل احادیث کی مطابقت میں بالکل مستحب ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا یہ عمل بھی احادیث سے ثابت ہے کہ شبِ برات میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مسلمانوں کی دعائے مغفرت کے لیے قبرستان تشریف لے گئے تھے۔ (ماثبت من السنہ ص ٢٠٥)

آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے زیارت قبور کی ایک بڑی حکمت یہ بیان فرمائی ہے کہ اس رات موت یاد آتی ہے۔ اور آخرت کی فکر پیدا ہوتی ہے۔ شبِ برات میں زیارتِ قبور کا واضح مقصد یہی ہے کہ اس مبارک شب میں ہم اپنی موت کو یاد کریں تاکہ گناہوں سے سچی توبہ کرنے میں آسانی ہو۔ یہی شبِ بیداری کا اصل مقصد ہے۔

اس سلسلے میں حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ، کا ایمان افروز واقوہ بھی ملاحظہ فرمائیں منقول ہے کہ جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، شبِ برات میں گھر سے باہر تشریف لائے تو آپ کا چہرہ یوں دکھائی دیتا تھا جس طرح کسی کوقبر میں دفن کرنے کے بعد باہر نکالا گیا ہو۔ آپ سے اس کا سبب پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نے فرمایا خدا کی قسم میری مثال ایسی ہے جیسے کسی کی کشتی سمند میں ٹوٹ چکی ہو اور وہ ڈوب رہا ہو اور بچنے کی کوئی امید نہہو۔ پوچھا گیا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، کی ایسی حالت کیوں ہے؟ فرمایا میرے گناہ یقینی ہیں ۔ لیکن اپنی نیکیوں کے متعلق میں نہیں جانتا کہ وہ مجھ سے قبول کی جائیں گی یا پھر رد کردی جائیں گی۔ (غنیۃ الطالبین ص ٢٥٠)

اللہ اکبر نیک و متقی لوگوں کا یہ حال ہے جو ہر رات شبِ بیداری کرتے ہیں اور تمام دن اطاعتِ الہٰی میں گزارتے ہیں جب کہ اس کے برعکس کچھ لوگ ایسے کم نصیب ہیں جو اس مقدس رات میں فکر آخرت اور عبادت و دعا میں مشغول ہونے کی بجائے مزید لہو و لعب میں مبتلا ہوجاتے ہیں آتش بازی پٹاخے اور دیگر ناجائز امور میں مبتلا ہوکر وی اس مبارک رات کا تقد س پامال کرتے ہیں ۔ حالانکہ آتش بازی اور پٹاخے نہ صرف ان لوگوں اور ان کے بچوں کی جان کے لیے خطرہ ہیں بلکہ ارد گرد کے لوگوں کی جان کے لیے بھی خطرتے کا باعث بنتے ہیں ۔ ایسے لوگ ”مال برباد اور گناہ لازم” کا مصداق ہیں ۔

ہمیں چاہیے کہ ایسے گناہ کے کاموں سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں اور بچوں کو سمجھائیں کہ ایسے لغو کاموں سے اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم ناراض ہوتے ہیں ۔ مجدد برحق اعلیٰ ھضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔ آتش بازی جس طرح شادیوں اور شب برات میں رائج ہے بے شک حرام اور پورا جرم ہے کہ اس میں مال کا ضیاع ہے۔ قرآن مجید میں ایسے لوگوں کو شیطان کے بھائی فرمایا گیا۔ ارشاد ہوا،

”اور فضول نہ اڑا بے شک (مال) اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں ”۔ (بنی اسرائیل)

شعبان کے روزے

نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے، ”جن لوگوں کی روحیں قبض کرنی ہوتی ہیں ان کے ناموں کی فہرست ماہِ شعبان مٰں ملک الموت کو دی جاتی ہے اس لیے مجھے یہ بات پسند ہے کہ میرا نام اس وقت فہرست میں لکھا جائے جب کہ میں روزے کی حالت میں ہوں ”۔ یہ حدیث پہلے مذکورہ ہو چکی کہ مرنے والوں کے ناموں کی فہرست پندرہویں شعبان کی رات کو تیار کی جاتی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ اگرچہ رات کے وقت روزہ نہیں ہوتا اس کے باوجود روزہ دار لکھے جانے کا مطلب یہ ہے کہ بوقت کتاب (شب) اللہ تعالیٰ روزی کی برکت کو جاری رکھتا ہے۔ (ماثبت من السنہ ١٩٢)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ، ”میں نے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ماہِ رمضان کے علاوہ ماہِ شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے رکھتے نہیں دیکھا”۔ (بخاری، مسلم، مشکوٰۃ جلد ١ ص ٤٤١) ایک اور روایت میں فرمایا، ”نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم چند دن چھوڑ کر پورے ماہِ شعبان کے روزے رکھتے تھے”۔ (ایضاً)

شب برات کی فضیلت و آداب

حمO وَالْكِتَابِ الْمُبِينِO إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَO فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍO أَمْرًا مِّنْ عِندِنَا إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَO رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُO رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا إِن كُنتُم مُّوقِنِينَO لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ رَبُّكُمْ وَرَبُّ آبَائِكُمُ الْأَوَّلِينَ

(الدخان : 44، 1 تا 8)

’’حٰم، اس روشن کتاب کی قسم بے شک ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں اتارا ہے بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں۔ اس (رات) میں ہر حکمت والے کام کا (جدا جدا) فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔ ہماری بارگاہ کے حکم سے، بے شک ہم ہی بھیجنے والے ہیں۔ (یہ) آپ کے رب کی جانب سے رحمت ہے، بے شک وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے۔ آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے (اسکا) پروردگار ہے، بشرطیکہ تم یقین رکھنے والے ہو اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی زندگی دیتا اور موت دیتا ہے (وہ) تمہارا (بھی) رب ہے اور تمہارے اگلے آباؤ اجداد کا (بھی) رب ہے‘‘۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا شعبان شھری و رمضان شھر اللہ (شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان اللہ کا مہینہ ہے) مزید فرمایا کہ جو شعبان میں اچھی تیاری کرے گا اسکا رمضان اچھا گزرے گا اور وہ ماہ رمضان کی برکتوں اور سعادتوں سے لطف اندوز اور بہرہ مند ہوگا۔ شعبان المعظم کا پورا ماہ بابرکت و باسعادت اور حرمت و تعظیم والا مہینہ ہے لیکن اس مہینہ کو بطور خاص کچھ فضیلتیں، امتیازات اور شرف عطا کئے گئے، یہ مہینہ ’’شہر التوبہ‘‘ بھی کہلاتا ہے اس لئے کہ توبہ کی قبولیت اس ماہ میں بڑھ جاتی ہے۔ اس ماہ میں مسلمانوں پر برکتوں کا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ اس لئے یہ ماہ اس کا حقدار ہے کہ دیگر مہینوں سے بڑھ کر اس میں اللہ کی اطاعت و عبادت اختیار کی جائے۔ بزرگانِ دین نے فرمایا ہے کہ جو لوگ اپنی جان کو اس مہینہ میں ریاضت و محنت پر تیار کر لیں گے وہ ماہ رمضان المبارک کی جملہ برکتوں اور سعادتوں کو کامیابی کے ساتھ حاصل کریں گے۔ اس بناء پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہ رمضان کے بعد سال کے 12 مہینوں میں سب سے زیادہ روزے اس ماہ رکھتے تھے۔ اس ماہ کی ایک خاص امتیازی خصوصیت 15 شعبان المعظم کی رات ہے۔ اس رات کو اللہ نے ’’لیلۃ مبارکہ‘‘ ’’برکت والی رات‘‘ کہا ہے۔ علماء، مشائخ، آئمہ، مفسرین کی اکثریت کا نقطہ نظر یہ ہے کہ شب قدر کے بعد سال کے 12 مہینوں میں سب سے زیادہ افضل شب برات ہے۔ ارشاد فرمایا فِیھَا یُفرَقُ کُلُّ اَمرٍ حَکِیمٍ۔

’’اس (رات) میں ہر حکمت والے کام کا (جدا جدا) فیصلہ کر دیا جاتا ہے‘‘۔ یعنی تمام حکمت والے، فیصلہ کن، نافذ العمل ہونے والے امور کی تنفیذ کا فیصلہ اس رات کیا جاتا ہے۔ حضرت عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’جب 15 شعبان کی رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ ملک الموت کو اگلے سال کے لئے موت وحیات کے امور نفاذ و اجراء کے لئے سپرد فرما دیتے ہیں‘‘۔ بعض اذہان میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس رات تقدیریں، رزق، موت و حیات کے فیصلے لکھے جاتے ہیں تو لوح محفوظ پر جو سب کچھ پہلے ہی لکھا جا چکا ہے اس کا معنی کیا ہے؟

دونوں باتوں میں مطابقت یہ ہے کہ اللہ کے علم میں تو سب کچھ پہلے سے ہی آ گیا ہے اور سب کچھ پہلے ہی سے آ جانا یہی اس کی لوح محفوظ ہے۔ اس کی لوح، اسکا علم ہے۔ اس رات لکھے جانے کا مطلب یہ ہے کہ ان امور کو نافذ کرنے کے لئے فرشتوں کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’کہ کچھ لوگ ایسے ہیں کہ 15 شعبان المعظم کی رات بھی اپنے ظلم میں مصروف ہوتے ہیں یا ظلم و ستم ڈھانے کے لئے منصوبے بنا رہے ہوتے ہیں حالانکہ ان کا نام مرنے والوں کی فہرست میں آ چکا ہوتا ہے‘‘۔

الغرض افراد ایسے منصوبہ جات میں مصروف ہوتے ہیں جن کے نتائج سالوں بعد ظاہر ہوتے ہیں حالانکہ اس اگلے سال میں ان کی موت لکھ دی جاتی ہے۔ یعنی ہر امر الہٰی نفاذ کے لئے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ اس کی مثال آپ بجٹ کی لے لیں کہ بجٹ کی منظوری تو یکبار ہو جاتی ہے مگر اسکا نفاذ پورے سال میں مختلف اوقات میں ہوتا رہتا ہے۔ اس طرح اللہ کے ہاں بھی ہمارا بجٹ پیدائش سے موت تک ہماری پیدائش سے پہلے ہی تیار ہوتا ہے اور یہ سب کچھ علم الہٰی میں آچکا ہوتا ہے اور یہی لوح محفوظ پر لکھا جانا کہلاتا ہے۔ پھر ہر سال کے حساب سے یہ احکامات نفاذ کے لئے اس 15 شعبان المعظم کی رات جاری کر دیئے جاتے ہیں۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس نے پہلے ہی فیصلہ کر رکھا ہے تو اس رات سپرد کرنے کی بات کو ذکر کیوں کیا؟ جب کمی بیشی نہیں ہونی اور فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہے تو اس رات کو ہونے والے امور کا ذکر کرنے کی کیا حاجت تھی؟ درحقیقت یہ اظہار دنیاوی حکمرانوں اور ساری کائنات کے حکمران میں فرق کو واضح کرتا ہے کہ ہمارے وسائل محدود ہیں لیکن اللہ کے وسائل محدود نہیں ہیں بلکہ اس کی نعمتیں، رحمتیں لامحدود ہیں اس کا اپنا فرمان ہے وسعت رحمتی کل شیء ’’میری رحمت ہر شے پر وسیع ہے‘‘ اللہ کے اس رات کو Disclose کرنے کی حکمت اصل میں ’’ترغیب و ترہیب‘‘ ہے۔ جب اللہ نے یہ بتا دیا کہ آج کی رات سب احکامات تنفیذ کے لئے سپرد کئے جا رہے ہیں تو ساتھ ہی یہ بتا دیا کہ اگرچہ یہ میرا طے شدہ بجٹ ہے مگر یہ بات بھی ذہن میں رکھو کہ میں نہ صرف لوح محفوظ والا ہوں بلکہ لوح محفوظ کا مالک بھی ہوں، اگر کوئی اس رات سچے دل سے گڑگڑا کر رو پڑے تو میں لکھا ہوا مٹا بھی دیتا ہوں اور نہ لکھا ہوا ہو تو لکھ بھی دیتا ہوں۔ پس اگر ردوبدل کا امکان نہ ہوتا تو اس رات کا ذکر نہ کیا جاتا۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دو چیزیں تقدیر کو بدل دیتی ہیں۔ لایرد القضاء الا بالدعا والصدقہ۔ ’’تقدیر نہیں بدلی جاتی مگر دعا اور صدقہ سے‘‘۔ گویا اس رات کا بنایا جانا اس کے کرم کی بدولت ہے کیونکہ اگر اس رات کچھ ردوبدل نہ ہو سکتا ہوتا تو رات بتائی ہی نہ جاتی۔ اللہ نے لیلۃ القدر عطا فرمائی تو اس کو 5 طاق راتوں میں چھپا کر رکھا کیونکہ لیلۃ القدر مرتبہ میں بقیہ راتوں سے افضل ہے مگر جب یہ رات آئی تو اس کو چھپایا نہ بلکہ سر عام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اعلان کروا دیا کہ اے محبوب امت کو اس رات کی اہمیت کے متعلق بتلا دیں کہ جس نے رب سے جو کچھ لینا ہے، لے لے، جو مانگنا ہے، مانگ لے، اس کا کرم آج نداء دے رہا ہے کہ ہے کوئی گناہوں کو بخشوانے والا، ہے کوئی رحمت کا طلبگار، ہے کوئی رزق، دولت، علم، مانگنے والا کہ اسے عطا کردوں جو کچھ وہ مانگ رہا ہے‘‘۔

لیلۃ القدر مرتبہ میں شب برات سے افضل ہے اس لئے شروع میں اس کو پورے ماہ میں چھپا دیا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کے لئے اس رات کی تلاش میں رمضان المبارک کے پورے مہینے میں اعتکاف کیا۔ بعد ازاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پورا ماہ کا اعتکاف بسلسلہ تلاش لیلۃ القدر امت پر گراں محسوس ہونے کا ڈر لگا تو اشارہ ملا کہ رمضان کے آخری 20دنوں میں تلاش کریں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر ایک اعتکاف 20 دنوں کا کیا، عرض کیا اے اللہ 20دن کا اعتکاف بھی امت کو پریشان کر دے گا، غفلت کریں گے، مدت کم کردے، فرمایا آخری دس دنوں کا اعتکاف کرلیں پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 10 دن کا اعتکاف بیٹھے اور عرض کیا مولا اعتکاف تو 10 دن بٹھا مگر راتیں 10 پوری کی پوری نہ جگا، ان کو کم کر دے، امت بڑی کمزور ہے، پھر اللہ نے فرمایا کہ اعتکاف تو 10 دن کا ہوگا مگر جاگنے کے لئے راتیں 5 کر دیتا ہوں پس طاق راتوں میں جاگیں اور لیلۃ القدر تلاش کریں۔ پس 15 شعبان المعظم کی رات کو ظاہر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ تاکہ امت مسلمہ اللہ سے رزق اور علم کے بڑھنے، آفات کے ٹلنے، دنیا و آخرت بخشش و مغفرت کے حصول اور اپنی بدبختی و شقاوت کو نیک بختی و سعادت سے بدلنے کی دعا مانگ لے۔ اللہ نے لیلۃ القدر کو چھپایا اور ہم اس کی تلاش میں سرگرداں نظر آتے ہیں مگر شب برات کو ظاہر کر دیا لیکن افسوس کہ ہم اس رات کی قدر نہیں کرتے بلکہ اس رات بھی غفلت کا لبادہ اوڑھے سوئے رہتے ہیں۔

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ’’پانچ راتیں ہیں کہ جس نے وہ پانچ راتیں جاگ کر محنت کر لی اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔ ان پانچ راتوں میں سے ایک رات 15 شعبان المعظم کی رات ہے‘‘۔

مراد یہ ہے کہ اس رات توبہ، مغفرت کی قبولیت اتنی زیادہ ہے کہ اگر کوئی ان راتوں کو جاگ کر کثرت کے ساتھ گریہ و زاری کرے، صدق و اخلاص نیت کے ساتھ اللہ کے حضور اپنے سارے گناہوں کی توبہ کرلے، طلب مغفرت کرلے اور آئندہ اصلاح کرلے تو پچھلے گناہ اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں مٹا دیئے جاتے ہیں اور جنت کا مستحق بنا دیا جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’پانچ راتیں ایسی ہیں ان میں دعا رد نہیں ہوتی، ان راتوں میں سے ایک رات 15 شعبان المعظم کی رات ہے‘‘۔

اس رات آتشبازی کے مظاہرے اور پٹاخوں کا استعمال حرام ہے۔ یہ رات برات اس لئے کہلاتی ہے کہ یہ دوزخ سے رہائی پانے کی رات ہے کہ جو اس رات اللہ کے حضور روئے گا،گریہ و زاری کرے گا اسے رہائی مل جائے گی۔ اس آتش بازی کے رواج کو سختی سے بند کریں، اپنے علاقوں میں عوام الناس کو اس بات کا شعور دیں کہ یہ حرام کام ہے اس کے کرنے والا گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ’’اس رات اللہ تعالیٰ غروب آفتاب کے بعد اپنی شان کے لائق آسمان دنیا پر آ جاتا ہے اور فجر تک آسمان دنیا پر بندوں کے قریب رہتا ہے اور ساری رات نداء دیتا ہے کہ ہے کوئی مجھ سے مغفرت مانگنے والا کہ میں اسے معاف کردوں، ہے کوئی مجھ سے رزق مانگنے والا کہ میں اسے رزق دے دوں، ہے کوئی مجھ سے سوال کرنے والا کہ میں اس کے سوال پورے کردوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس رات اللہ تعالیٰ چند لوگوں کے سوا ہر مانگنے والے کو عطا کرتا ہے اور بخشش فرماتا ہے۔ چند لوگ اس رات کی دعا سے بھی اور لیلۃ القدر میں بھی نہیں بخشے جاتے۔ وہ درج ذیل افراد ہیں۔

مشرک، جب تک شرک نہ چھوڑ دے۔
دل میں بغض و عداوت رکھنے والا، گویا جب تک دل کو بغض و عداوت سے پاک نہ کرلے اس کی دعا قبول نہیں ہوتی۔
قاتل
خونی رشتوں کو کاٹنے والا، قطع تعلق کرنے والا یہ بات بھی قابل غور رہے کہ ہم دور دراز تو صدقہ و خیرات کرتے ہیں مگر خونی رشتوں کا لحاظ نہیں رکھتے حالانکہ جو جتنا قریبی رشتہ دار ہے اس کا حق بھی زیادہ ہے اور پڑوسی سے بھی مقدم قریبی رشتہ دار کا حق ہے۔
تکبر کرنے والا
شرابی
والدین کا نافرمان
چغل خور، غیبت کرنے والا، یہ برائی بھی عام ہے۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہورہی ہے کہ جب اللہ خود نداء دے رہا ہو اس کے باوجود درج بالا افراد کی بخشش نہ ہو تو سال کے بقیہ مہینوں میں ان کی بخشش کس طرح ممکن ہے۔

شب برات کے مسنون وظائف و اعمال اس رات عبادت کرنے کا مسنون طریقہ جو اولیاء، آئمہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارکہ سنتوں سے اخذ کیا، درج ذیل ہے۔

اس رات کے معاملات کی ابتداء تلاوت قرآن سے کی جائے اور سورہ یسٰن کی کم از کم 3 مرتبہ تلاوت کی جائے۔۔۔ سورۃ الدخان کی 3 مرتبہ تلاوت کی جائے، بزرگوں میں سے کئی نے یہ بھی فرمایا کہ اگر کوئی پوری سورۃ کی تلاوت نہ کرسکے تو پہلی 8 آیات کی 30 مرتبہ تلاوت کرے۔

کم از کم 100 مرتبہ اور اگر وقت زیادہ ہو تو 1000 مرتبہ دعائے حضرت یونس رضی اللہ عنہ۔ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اَنتَ سُبحٰنَکَ اِنِّی کُنتُ مِنَ الظّٰلِمِین۔ یہ دعا اس رات کے لئے بڑی مجرب ہے۔
کم از کم ایک تسبیح استغفار اَستَغفِرُاللّٰہَ العَظِیم اَلَّذِی لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الحَیُّ القَیُّومُ وَاٰتُوبُ اِلَیہ۔
کم از کم ایک تسبیح درود پاک
اس رات صلاۃ التسبیح کا ضرور اہتمام کریں۔
کم از کم آٹھ نوافل قیام اللیل کی نیت سے پڑھیں۔
محفل نعت اور بعد ازاں حلقہ ذکر کا انعقاد۔
درج ذیل دعا دعائے محمدی ہے کثرت کے ساتھ کریں، نوافل، اور صلاۃ التسبیح کے بعد دعا کریں یہ دعا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو تلقین فرمائی تھی۔

اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیمٌ تُحِبُّ العَفوَ فَاعفُ عَنِّی۔

جن احباب کو یاد ہو سکے وہ پوری دعا درج بالا الفاظ کے بعد اس طرح کریں۔ اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسئَلُکَ عَفوَ وَالعَافِیَۃَ وَالمَوَافَاتِ الدَّائِمَۃِ فِی الدِّینِ وَالدُّنیَا وَالآخِرَۃ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس ماہ شعبان کے ثمرات و فیوضات خصوصاً 15 شعبان المعظم کی برکتوں سے فیضیاب فرمائے اور ہمیں اپنی اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

Advertisements
12 comments
  1. جزاک اللہ
    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس با برکت رات کے طفیل ہم سب مسلمانوں پہ اپنا خاص فضل و کرم نصیب فرمائے۔ آمین

    • Taheem said:

      آمین
      بلاگ پر آنے کا شکریہ

  2. اللہ سُبحانُہُ و تعالی ہميں قرآن و سُنّت پر چلنے کی توفيق عطا فرمائے
    ‘ ————————————————————
    ميں نے آپ کو کل مندرجہ ذيل ای ميل بھيجی تھی مگر اب ياد آيا کہ آپ نے لکھا تھا کہ آپ کو ای ميل پڑھنے کا وقت نہيں ملتا ۔ اسلئے يہاں نقل کر رہا ہوں
    ‘———————————————————-
    السلام عليکم

    ارے آپ کہاں پہنچ گئيں ؟ وہ تو ميرا پُرانا بلاگ ہے جو 4 اکتوبر 2007ء کو بند کر ديا گيا تھا مگر ابھی ميرے نام پر ہے ۔ اب ميرا بلاگ ميری اپنی ڈومين پر ہے ۔ ميرے موجودہ بلاگ نيچے ميرے نام کے بعد لکھے ہوئے ہيں ۔ ميرے موجودہ اُردو بلاگ کی تھيم بھی ورڈ پريس کی ہے مگر يہ اُردو ميں تبديل کی ہوئی ہے جو زيادہ مشکل کام ہے

    جب تک سمجھنے والے کو سب کچھ پتہ نہ ہو سمجھانا مشکل ہوتا ہے ۔ بہرحال ميں آپ کو سمجھانے کی کوشش کروں گا ليکن مجھے دو تين دن کی مُہلت دے ديجئے

    فی امان اللہ
    الداعی الخير
    افتخار اجمل بھوپال
    Visit my websites, may find them interesting.
    in Urdu: http://www.theajmals.com/blog
    in English: http://iabhopal.wordp

  3. آپ کا يہ بلاگ سنوانے کيلئے ميں تيار ہوں مگر لکھ کر سمجھانا اُس صورت ميں خاصہ مُشکل ہو تا ہے جب سمجھنے والے کو اس عمل سے مناسب واقفيت نہ ہو ۔ حل يہی نظر آتا ہے کہ آپ ميرے ساتھ [1] ٹيليفون پر يا [2] کمپيوٹر پر لکھ کر بات کريں جسے انگريزی ميں چيٹ کہتے ہيں ۔ پھر جو ميں آپ کو بتاتا جاؤں وہ آپ کرتی جائيں
    يا
    آپ اپنے بلاگ کا پاس ورڈ عارضی طور پر تبديل کر ديں اور تبديل شدہ پاس ورڈ اور آئی ڈی مجھے بذريعہ ای ميل بھيج ديں ۔ ميں اِن شاء اللہ حسب توفيق اسے آپ کی پسند کے مطابق سنوار دوں گا

    • Taheem said:

      مین آج کوشش کرتی ہوں آپ کو میل کر دوں
      گر بجلی نے ساتھ دیا تو

  4. جزاک اللہ۔۔
    ایک سوال کہ کیا سورت دخان میں شب قدر کا زکر ہے ہا لیلتہ القدر کا ؟؟
    ان آیات میں جو کہ اوپر بیان بھی کی گئیں ہیں

    • میں تو ایک بے علم شخصیت ہوں
      علماء کرام کے ارشادات ہی میرے لئے بھی راہنمائی کرتے ہیں اور شائد آآپ بھی کچھ سمجھ سکیں

      یہاں خود 1 بار پھر سے پڑھ لیجئے

      اس رات سے مراد شبِ قدر ہے یا شبِ برات” (خزائن العرفان) ان آیات کی تفسیر میں حضرتِ عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اور بعض دیگر مفسرین نے بیان کیا ہے کہ ”لیلۃ مبارکۃ” سے پندرہ شعبان کی رات مراد ہے ۔ اس رات میں زندہ رہنے والے ، فوت ہونے والے اور حج کرنے والے سب کے ناموں کی فہرست تیار کی جاتی ہے اور جس کی تعمیل میں ذرا بھی کمی بیشہ نہیں ہوتی ۔ اس روایت کو ابن جریر، ابن منذر اور ابنِ ابی حاتم نے بھی لکھا ہے۔ اکثر علماء کی رائے یہ ہے کہ مذکورہ فہرست کی تیاری کا کام لیلۃ القدر مین مکمل ہوتا ہے۔ اگرچہ اس کی ابتداء پندرہویں شعبان کی شب سے ہوتی ہے۔ (ماثبت من السنہ ص ١٩٤)

      علامہ قرطبی مالکی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایک قول یہ ہے کہ ان امور کے لوحِ محفوظ سے نقل کرنے کا آغاز شبِ برات سے ہوتا ہے اور اختتام لیلۃ القدر میں ہوتا ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١٦ ص ١٢٨)

  5. خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جو اس رات کی عبادت کا حق ادا کر دیتے ہیں۔

    • Taheem said:

      واقعی خوشنصیبی ہر کسی کے حصہ میں نہیں آتی

  6. MUHAMMAD IRFAN said:

    SORA DUKHAN MAIN SABY KADAR KA ZIKR NHE HAY KION K ISS MAY QURAN K NAZOOL KA ZIKR HO RHA HAY OR QURAN RAMZAN K AAKHRI ASHRY MAIN UTARA GYA HAY.NRAY MAHRBANI GALAT REFRENSE DANY SAY PARHAZE KIA JAY.

    • یہاں سے اس شب مین نازل ہونے والی کتاب کی فہرست کا ابتدائیہ ہوتا ہے جو کہ شب قدر میں تمام ہوتی ہے
      قرآن کا نزول تقریباً 23 سال کے عرصہ میں
      جو شب برأت سے شروع اور شب القدر میں مکمل نازل ہوئی

  7. ALLAH TALA AP KO AJRE AZEEM ATA FARMAY.
    AP NY SHAB BARAAT SY MUTALLIQ BOHT SA MAWAD JAMA KAR K LOGON KI REHNUMAI KI.
    ALLAH AP KO AUR ZIADA TAUFIQ ATA FARMAY

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Worlds Largest Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: