ہائے رے کھٹمل

پہلے تو مجھے یہ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ اس موضوع شروع بھی کروں کچھ لکھوں بھی کہ نہیں پھر سوچا لکھنے کے ساتھ گوگل پر بھی کچھ تلاش کرتی ہوں وجہ کچھ یہ ہے کہ میں کھٹملوں سے تنگ سخت آگئی ہوں گزشتہ 3 سال میں کئی دفعہ کئی فیومیگیشن والوںکابھلاکرواچکی ہوں مگر اب تک کھٹملوں سے نجات نہیں ملی ،فی الحال گھر تبدیل نہیں کیا جاسکتالیکن میں نے آخری دفعہ اسپرے کرواکر سارا فرنیچر بیچ ڈالا تھا اور نیا فرنیچر بھی لے لیا تھا
مگراب  دوبارہ سے کھٹمل نمودار ہوگئے ہیں۔
                گھریلوٹوٹکے اور فیومیگیشن کو آزماچکی ہوں۔مجھے اس بارے میں پوچھتے ہوئے جھجک بھی محسوس ہورہی ہے کیونکہ لوگ گھروں میں کھٹمل پڑنے کو اچھا نہیں  سمجھتے۔دراصل ہماری کچھ ماسیوں کے گھر کھٹمل ہیں اور ان ہی کے ساتھ ہجرت فرماکرہمارے غریب خانے پر براجمان ہوگئے ہیں۔
اگر آپ کو اس سے نجات کے بارے میں کچھ علم ہوتو ضرور بتائیں
خدارا جنگ یا کسی اور روزنامے والی فیومیگیشن سروس کے بارے میں نہیں بتائیے گا کیونکہ اس بارے میں میرا تلخ تجربہ ہے۔
ویسے میں اس کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک امتحان بھی سمجھتی ہوں۔
                اللہ آسانی فرمائے گا۔

اب مزید پریشانی یوں ہوئی کہ انٹرنیٹ پر مختلف ممالک کے چند تلخ تجربے اور ان کے حقائق سامنے آئے ہین کہ یہ کبھی ختم نہیں ہوئے پوری طرح سے جانے کیا کرنا ہوگا ان کا۔

اب کچھ ان خون چوسنے والے حشرات کے بارے مین بھی جان لیجئے                اپنی رائے اور تجربے ضرور شیئر کیجئے گا

شکریہ

ْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کھٹمل سے انسان کا بڑا ہی پرانا رشتہ ہے۔ شہر ہو یادیہات وہ ہر جگہ اس کے ساتھ ساتھ رہتا ہے۔ کھٹمل خون چوسنے کے لیے بہت مشہور ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ اس کے منہ میں بہت ہی تیز باریک سوئیاں ہوتی ہیں جو کھال کو چھید کر گھس جانے اور پھر خون چوسنے کا کام کرتی ہیں۔ کبھی کبھی تو یہ سرخ رنگ کا ننھا سا کیڑا طاقت ور اور بہادر انسان کا خون چوس کر اس کی نیند حرام کر کے اپنی برتری کا ببانگ دہل اعلان کرتا ہے۔

کھٹمل جس کا سائز عام طور پر چاول کے ایک دانے کے برابر ہوتا ہے، کافی سخت جان طفیلی جاندار ہے۔  اس کی اوسط عمر 10 ماہ کے قریب ہوتی ہے۔ کھٹمل ویسے تو جانداروں کے خون سے اپنی بھوک مٹاتا ہے تاہم اس کے سخت جان ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کیڑا کسی کا خون چوسے بغیر بھی ہفتوں زندہ رہ سکتا ہے۔ دوسری طرف اس کی مادہ افزائش نسل کے حوالے سے کافی فعال واقع ہوئی ہے اور اپنی زندگی میں ساڑھے تین سو تک انڈے دیتی ہے۔ اسی لئے یہ پیراسائٹ جہاں کہیں بھی ہو، اس کی آبادی میں اضافہ بڑی تیز رفتاری سے ہوتا ہے۔

 کھاٹ، کھٹولی ہو یا پلنگ، چارپائی، ٹرین کے ڈبے ہوں یا سینما گھر کی کرسیاں ہر شگاف میں کھٹمل اپنا مسکن بنانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ کھٹمل کو عرف عام میں کھٹ  کیڑا بھی کہتے ہیں۔ آئیے آج اس کھٹ کیڑے کے بارے میں کچھ جانکاری حاصل کریں:
ا۔ کھٹمل یا اڑس ہندی لفظ ہے جس کو عربی میں کتان ، فارسی میں شب گز، بنگلہ میں چھار پورکا اورانگریزی میں Bedbugکہتے ہیں۔
Hemepetra ٢۔ یہ کیڑے کی جس جماعت سے تعلق رکھتا ہے اس کا نام ہیمی پیٹرا
ہے ویسے اس کا سائنسی نام  Cimex Lectulariusہے۔

٣۔ یہ کم وبیش ساری دنیا میں پایا جاتا ہے۔ لیکن اسے گر م اور مرطوب جگہ زیادہ پسند ہے۔

٤۔ گھروں میں عام طور پر دو قسم کے کھٹمل پائے جاتے ہیں ایک کا سائنسی نامCimex Lectularius
ہے ہی دوسرے کا سائنسی نام Cimex Rotundatus ہے
پہلا برصغیر کی تمام جگہوں کے علاوہ بعض بیرونی ممالک میں پایا جاتا ہے۔ جبکہ دوسرا شمالی ہندستان اور یورپ کے کچھ علاقوں میں زیادہ نظر آتا ہے۔ دونوں کی عادات و اطوار اور دورِ حیات کم و بیش ایک ہی جیسا ہے۔
٥۔ کھٹمل بے پر کاWinglessکیڑا ہے۔ جسم اس کا چوڑا، چپٹا اور بیضوی Oval شکل کا ہوتا ہے
٦۔ سر اس کا دبکا ہواSquatلیکن مونچھیں Antennae بڑی بڑی ہوتی ہیں

٧۔ کھٹمل کے جسم کی لمبائی 6 ملی میٹر 0.25انچ تک ہوتی ہے۔

٨۔ کھٹمل رات کا کیڑاNocturnal Insectہے۔ یہ رات میں بڑا چاق و چوبندرہتا ہے۔ دن کو اندھیرے کی جگہ آرام کرنا پسند کرتا ہے لیکن سخت بھوک کی حالت میں شکار ملنے پر دن میں بھی نکل کر اپنا پیٹ بھرتا ہے۔
                ٩۔ کھٹمل کا اصلی رنگ ہلکا بھورا ہوتا ہے۔ مگر سیر شکم ہونے پر اس
کا رنگ زنگ کی طرح سرخ
Rust Red ہوجاتا ہے۔

١٠۔ کھٹمل کی مادہ سیر شکم ہونے کے بعد دن میں دراڑوں یعنی شگافوں میں کھردری جگہ انڈے دیتی ہے۔ یہ ساری زندگی میں لگ بھگ دو سو انڈے دیتی ہے۔ انڈے
دینے کے زمانے میں بارہ انڈے روزانہ کے حساب سے انڈے دیتی ہے۔

١١۔ انڈوں سے بچے چھ سے سترہ دنوں کے اندر نکلتے ہیں جو نمفس Nymphs کہلاتے ہیں۔

١٢۔ پیدائش کے وقت نمفس ہلکے پیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔ غذا سے پیٹ بھرنے کے بعد ان کا رنگ گہرا ہوجاتا ہے۔

١٣۔ بچے تقریباً دس ہفتوں میں بالغ ہوجاتے ہیں۔

١٤۔ بچے پیدائش کے فوراً بعد ہی خون چوسنے کے قابل ہوجاتے ہیں حتیٰ کہ وہ اپنے ساتھیوں کا بھی خون چوسنے لگتے ہیں جن کے پیٹ خون سے بھرے ہوتے ہیں۔

١٥۔ خون چوسنے کے بعد کھٹمل کا جسم پھول جاتا ہے۔

١٦۔ کھٹمل انسانوں کا خون تو چوستا ہی ہے اس کے سوا بعض پستانیے اور گرم خون والے جانوروں کا بھی خون چوستا ہے۔

١٧۔ یہ انسانوں کے بدن کی گرمی اور اس کی خارج کی ہوئی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کی بو کو آسانی سے محسوس کرلیتا ہے اور جیسے ہی محسوس ہوتا ہے فوراً کاٹنے کے لیے دوڑ پڑتا ہے چاہے دن ہی کیوں نہ ہو۔
 ١٨۔ کھٹمل خون چوسنے کے لیے اپنی سونڈ
Proboscisکو جلد پر اوپر نیچے کر کے چبھوتا ہے اس کے بعد اپنے منہ سے
لعاب داخل کرتا ہے۔ یہ لعاب خون کو جمنے نہیں دیتا اس کے بعد لعاب سے ملا ہوا خون چوسنے لگتا ہے۔

١٩۔ کھٹمل کو سیر شکم ہونے میں پانچ سے دس منٹ لگتے ہیں۔

٢٠۔ کھٹمل عام طور پر ٢ یا ٣ مرتبہ لگا تار کاٹتا ہے۔

٢١۔ جب کھٹمل حلق تک خون چوس لیتا ہے تو پھر کسی پوشیدہ جگہ چھپ کر اطمینان کے ساتھ تھوڑی دیر کے لیے بیٹھ جاتا ہے اور غذا کو آہستہ آہستہ ہضم کرتا ہے۔

٢٢۔ کھٹمل اگر کسی وجہ سے چارپائی یا بستر پر پہنچ نہیں پاتا تو دیوار پر چڑھ کر چھت سے سونے والے کے جسم پر گر کر خون چوسنے لگتا ہے۔

٢٣۔ کھٹمل کو غذا نہ ملنے پر اس کی نشوو نما میں کمی میں آجاتی ہے لیکن جیسے ہی غذا فراہم ہوجاتی ہے پھر اس کی نشو ونما میں تیزی آجاتی ہے۔

٢٤۔ کھٹمل کے صرف کاٹنے پر نہ احساس ہوتا ہے اور نہ ہی درد ہوتا ہے۔ درد اس وقت ہوتا ہے جب یہ اپنا لعاب جلد میں داخل کر دیتا ہے بلکہ اسی لعاب کےکیمیائی عمل کی وجہ سے سوزش بھی پیدا ہوجاتی ہے۔

٢٥۔ کھٹمل جب اپنا لعاب جلد میں داخل کردیتا ہے تو کھجلی پیدا ہوتی ہے اور متاثرہ حصہ سرخ ہوکر ابھر جاتا ہے۔

٢٦۔ کھٹمل کے چھ پیر ہوتے ہیں اور یہ رینگ کر چلتا ہے۔

٢٧۔ کھٹمل ٹھیک صبح صادق کے قبل زیادہ کاٹتا ہے۔

٢٨۔ کھٹمل کی کثیر تعداد ایک جگہ جمع ہوتو ایک طرح کی ناگوار بو خارج ہوتی ہے۔

٢٩۔ کھٹمل کے دشمن انسان کے سوا شاذ و نادر ہی کوئی دوسرے جانور ہوں حتیٰ کہ چھپکلی بھی اسے منہ نہیں لگاتی ہے۔

٣٠۔ کھٹمل کے انڈے سے بچے نکلتے ہیں تو ان کے بالغ ہونے تک وقفے وقفے سے پانچ مرتبہ ان کی کھال گرتی ہے اور نئی کھال نکلتی ہے۔
اسی کو سائنس کی زبان میں پر جھاڑنا Moultingکہتے ہیں۔

٣١۔ کھٹمل کا شمار بیماری پھیلانے والے کیڑوں میں نہیں ہوتا۔ حقیقت صرف اتنی ہے کہ اس کے کاٹنے سے کھجلی ہوجاتی ہے

کھٹمل سے بچاؤ کی تدابیر:
ا۔ سب سے پہلے بستروں پر اسے چڑھنے سے روکا جائے۔اس کے لیے پلنگ یا چارپائی کے پایوں کے نیچے سے کم از کم دو انچ اونچائی تک معدنی تیل یا Vaseline لگادی جائے

٢۔ ضرورت پڑنے پر کیڑے مار دوائیاں مثلاًجنٹرول یاGentrol
فانٹم Phantom استعمال کی جائیں۔ احتیاط یہ برتی جائے کہ ان دوائیوں سے لحاف، گدے اور چادر وغیرہ محفوظ رہیں۔
٣۔ گاہے گاہے پلنگ، چارپائی اور چوکی پر گرم پانی بہایا جائے۔

نوٹ: بے کار رہی ہیں میرے لئے تو۔۔۔۔۔

کھٹمل کے کاٹنے پر:

١۔ کاٹنے کی جگہ کو عفونت رفع صابن
Antiseptic Soapسے صاف کرنا چاہيے۔

٢۔ پھولے ہوئے مقام پر لگاتار برف کے ٹکڑوں سے رگڑنا چاہيے۔

٣۔ شدید کھجلی ہونے پر Calamine
Lotion یا کوئی دوسری کریم لگانا چاہیے۔ شدید تکلیف ہو
تو دافع درد دوائی کا استعمال کرنا چاہيے لیکن ڈاکٹر کے صلاح مشورے کے بعد۔

٤۔ وہ پودے جن سے کھٹمل بھگائے جاتے ہیں انہیں Bug Waneیا Bug Wortکہتے ہیں۔

نوٹ:مجھے
کبھی ایسی کوئی شکایت نہیں ہوئی ہے
Advertisements
51 comments
  1. اس کھٹمل کی وجہ سے میں بچپن میں بہت پریشان رہتا تھا۔آپ گرمیوں کا بتا رہی ہیں اور ہمارا علاقہ تو کافی سرد ہے اور گرمیوں میں بھی رات کو ہم لوگ لحاف لے کر سوتے ہیں۔
    شاید صفائی کا خاص خیال نہ کرنے سے سردیوں میں ہمیں یہ کھٹمل کاٹتے تھے۔

  2. Taheem said:

    حل کیا نکلا یہ تو بتایا ہی نہیں
    کوئی ہے جو مجھے اس کا درست حل بتا سکے کیسے ان موذی حشرات سے چھٹکارا حاسل ہو

  3. کھٹملوں سے نجات کا طریقہ آپ خود ہی بیان فرما چکی ہیں اور بچپن میں نے ذاتی طور پر اسکی افادیت کا مشاہدہ کیا ہے. بہت سال پہلے جب دادی کی چار پائی میں کھٹمل ہو گئے تھے . تب میری پھوپھی نے چار پائی صحن میں نکالی اور کھولتے ہوے پانی کو اسکی بان اور لکڑی کے کونوں کونوں میں ڈالا. کھٹمل بھاگتے دوڑتے نکلے. پھر کافی در تک تیز دھوپ لگائی کھٹملوں سے نجات ملی. پتا نہیں آپکے یہاں یہ طریقہ کیوں کامیاب نہیں ہو سکا.

    • Taheem said:

      محترم جواد صاحب طریقہ کار کے نیچھے درج کر دیا ہے میں نے یہ میرے گھر میں کارگر نہیں ہیں
      ایک چارپائی کے ہوں تو بات الگ ے یہاں صوفوں گدوں الماریوں شیلف کپڑوں اور گھر کے دیگر کونے کھودروں میں بھی ہو چکے ہیں
      ہمارے نئے کرائے دار حضرات اپنے ساتھ یہ بن بلائے مہمان بھی لے آئے تھے مگر شوہر نے جب ان کے گھر سے کھٹمل آتے دیکھے تو انہیں رخصت کر دیا تھا
      مگر جاتے جاتے وہ یہ سوغات چھوڑ گئے جس کی بناء پر ان کرائے داروں کو مدت تک دل سے دعائیں دینے کو دل چاہتا ہے

      اب جانے کیا کچھ نہیں کر دیا ہے پر حل ندارد۔۔۔۔۔!!!

  4. آپ اپنی پوسٹ میں تحریرسے پہلے مندرجہ ذیل فارمٹ لگا دیا کریں. آپکی تحریر نوری نستعلیق فونٹ میں آجائے گی . لیکن یہ کام آپکو HTML ایڈیٹر پر کرنا ہوگا اور ہر پراگرف پر یہ فارمٹ تحریر سے پہلے لگانا ہوگا. فارمٹ اس طرح سے ہے ؛

    • Taheem said:

      آپ کا کوئی بھی فارمیٹ دیکھائی نہیں دے رہا ہے
      دوبارہ لکھ سکیں گے؟

      • پکا بلاگ فارمیٹ قبول نہیں کر رہا. آپ ایسا کیجئے اس بلاگ پر جا کر ٹٹوریل دیکھئے جس میں اردو ایچ ٹی ایم ایل کو جمیل نوری نستعلیق میں تبدیل کرنے کا طریقہ بتایا تھا . مجھے اس بلاگ کے بارے میں حجاب نے بتایا تھا میں آپکو بتا رہا ہوں .
        http://utemps.blogspot.com/2010/06/wordpresscom-urdu-blog.html

    • تحریم said:

      جھانک کر چلے گئے آپ تو خیر تو ہے جی؟

  5. السلام علیکم ورحمتہ اللہ۔۔۔۔ آج اس بلاگ پر پہلی مرتبہ تشریف آوری ہوئی۔ گویا ہمارے بلاگستان میں ایک بلاگ کا مزید اضافہ ہوچکا ہے۔ لیکن یہاں آتے ہی آپنے اتنے بڑے کھٹمل کی شکل سے ڈرا دیا۔ تحریم تصویر کا سائز کُچھ کم ہی کر لیتی۔ خیر مُجھے کبھی ایسی صورتحال سے سامنا نہیں کرنا پڑا لیکن پھر بھی آپنے جو صورتحال بتائی اس میں تو یہی کہہ سکتا ہوں کہ گرمیاں تو شروع ہو ہی چُکی ہیں۔ آپ ایک مرتبہ اپنے پورے گھر کے فرنیچر کو دھوپ لگوا کر صاف کروا لیجئیے اور ایک ایک کر کے تمام کمرے دھو لیجئیے۔ اُمید ہے کہ ایک مرتبہ کے اس وسیع پیمانے کے کھٹمل مار آپریشن سے آپکے مسئلہ میں کافی کمی ہوگی۔

    خیر تحریم۔۔ آپکے بلاگ پر فانٹ سائز کافی کم ہے۔ تھوڑی سی مزید توجہ دینے سے یہ بھی بہتر ہوجائے گا۔

    • Taheem said:

      گوگل سے جو تصویر کا سائز ملا وہی لگا دیا ابھی ایڈٹ کرنا سائز کم کرنا اور تحریر کو علوی نستعلق میں تبدیل کرنا نہیں آرہا ہے
      میرے بلاگ کے تحریر کے آپشن میں فانٹ کا سائز بھی دکھائی نہیں دیتا

      جانے تھیئم کا مسئلہ ہے یا کچھ اور

  6. جعفر said:

    کھٹملوں سے لے کر فرعون کی سڑی ہوئی لاش تک
    بی بی، کچھ ایسا بھی لکھیں کہ پڑھنے والوں کی بھوک نہ مرے

  7. Taheem said:

    بھوک ہمیں تو لگتی ہی نہین انہیں گھر میں ہر جگہ دیکھ کر
    سوچا کیوں نہ دوسروں کی بھی اڑا دیں

    • جعفر said:

      آپ کا جواب ، سن کے ہمیں کسی کی یاد آگئی
      اب پتہ نہیں یہ اتفاق ہے یا؟؟؟؟۔۔

      • Taheem said:

        بھائی جعفر کس کی یاد آئی کچھ بتائیں گے نہیں؟

  8. یقین جانیں مجھے کھٹمل نام سے ہی جھری آجاتی ہے۔ دیکھ لوں تو خخخخخخخ

    • Taheem said:

      کبھی سوچیئے آپ کے گھر بھی ان کا مسکن بن جائے

      ایسا ہو تو سوچو کیاہو۔۔۔۔۔۔

      • آپ ایسا کیوں سوچتی ہیں؟ بھلا ہمارا گھر ہی کیوں، آپ کا کیوں نہیں؟

        • Taheem said:

          آپ نے دھیان سے نہیں پڑھا
          میں ہی خاص پریشان ہون ان خونخوار حشرات سے

  9. اتنے بڑے کٹمل کو دیکھ کر میں نے ایک جرجری لی۔

    یہ کٹملوںوالا مسئلہ دوبئی میں رہنے والے پاکستانیوں کے ساتھ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

    ایک بار ان کٹملوں سے نجات کیلئے ایک صاحب نے پورے اپارٹمنٹ میں مٹی کے تیل کا چڑکاؤ کیا ۔ تاکہ یہ کٹمل مر جائیں۔ جب اخر میں تھک گئے اور بھوک نے ستانا شروع کیا تو بس کچن میں جاکر انہوں نے کھانا پکانے کیلئے جو چولھا جلایا تو بس سارے کٹمل بھی جل گئے اور۔۔۔۔۔یعنی سب کٹمل جل کر مر گئے۔

    ویسے آپ میں سے کوئی اسکا تجربی کرنا چائے تو بالکل ہماری طرف سے میٹھی میٹھی اجازت ہے۔

    ہم وکیل کی طرح مشورے کی فیس نہیں لیں گے۔

    تجربے کے بعد بھی اگر زندگی نے وفاء کی تو اگاہ کئجئے گا کہ تجربہ کیسا رہا۔

    • Taheem said:

      بہت ظالم انسان ہیں کسی کی بے بسی کا یوں مزاق اڑاتے تکلیف کا زرا احساس نہین ہوتا؟

  10. پوسٹ تو کوئی نی پڑھی کی مجھے میٹرک کے بیالوجی کا طویل سوال کا طویل ترین جواب لگ را لیکن فیر بھی تبصرہ کر را 😀
    ہمارے گھر مین اخیر ہی کھٹمل اور لال بیگ تھے ہم صحن میں چارپائیاں ار پلنگ رکھ کر ہم میں سے ایک اس کے زمین ہپ پٹختا تھا اور دوسرا دے دھڑا دھڑ سلیپروں سے انکو مارتا تھا
    لیکن جان چھوٹی جب ابا جانی ایک عدد کوئی ذرعی دوائی لائے اور وہ ہم نے سارے گھر مین سپرے کری اور عید منانے دادی کے گھر چلے گئے
    بس جی ایٹمی بم کا کام کرا تھا اس دوائی نے
    اسکے بعد کبھی کھٹمل نظر آئے تو دوسرں جے گھروں میں یا فیر بلاگستان میں :ڈ

    • کبھی سن لیا میرے گھر کے کھٹملوں نے تو پہنچ جائیں گے آپ کے گھر بھی

  11. بہت ہی عمدہ آرٹیکل ہے باجی صاحبہ۔
    میں نے اپنی زندگی میں کٹھمل پہلی بار دبئی میں دیکھا اور میں ان سے بہت تنگ تھا۔ بہت سارے ٹوٹکے آزمائے مگر ایک ٹوٹکا جو باجی صاحبہ کا یہ آرٹیکل دیکھ کرزہن میں آیا کچھ میرے کام آ رہا ہے۔ میں نے بازار سے چار عدد پلاسٹک مگ خریدے اور ان میں زیتون کا تیل ڈال کراپنے بستر کی چاروں ٹانگوں کے نیچے رکھ دیا۔ اور اب میں چین کی نیند سو سکتاہوں۔ میرے کمرے میں کٹھملوں کی آبادی بھی کم ہو رہی ہے۔

    • شکریہ اجمل بھائی

      اچھا یہ بتائیں جب کھٹمل آپ کے گدے اور تکیوں مین چھپ جائیں تو آپ کیا کریں؟

  12. Zero G said:

    تقریبا 20 دن پہلے اآپ کا آرٹیکل پڑھا
    کیا آپ یقیں کریں گی اسی دن سے پیلی بار میرے گھر میں سے کھٹمل نکلے ، یہ سب بھت حیرت انگیز تھا ، پورا رمضان سوتے سوتے اٹہہ کر بیٹہ جاتا تھا بلکہ ایک دو رات تو سو بھی نہیں سکا کافی دوائیاں ڈالی دوا ڈالتے سانس اکہڑ جاتی تھی مگر لگا ریا اور ایک ایسی عجیب و غریب ترکیب (بتا نہیں سکتا) آزمائی کہ کھٹمل بھی سر پیٹتے ہوںگے،
    لیکن ایک بات ضرور کہونگا شاید کوئی اتفا ق کرے یا نہ کرے کہ کھٹمل جب بھی ںظر آئے اس کو ماریں نہیں ، فلیش میں بہا دیں یا کچھ ایسا کریں کہ وہ سروائیو نہ کر سکے مگر مارنے سے اس کے مواد سے مزید افزائش نسل ہوتی ہے،
    ویسے اکا دکا ابھی بھی نکل ریے ہیں مگر اوور آل امن ہے ۔ 🙂

    • افسوس ہو اس خون آشام کی آپ کے گھر دوبارہ آمد کا سن کر
      ہم بھی ان کو مارا نہیں کرتے واش بیسن میں بہا دیا کرتے ہیں
      اور ان کا نام بھی نہین لیا کرتے

      کہیں سن نہ لیں

      • Zero G said:

        اور ان کا نام بھی نہین لیا کرتے
        ———————————
        یہ ایک اور عجیب و غریب کہانی ہے بچپن میں سنا کرتے تھے کہ رات میں سانپ کا نام نیہں لینا چاہیئے ورنہ وہ نکل آتا ہے یہ بات سانپ کی حد تک تو غلط ثابت ہوئی پر اس بلا کے لئے کافی حد تک صحیح ہے ۔ ہنسئیےمت میں پڑھا لکھا اور توہمات پر یقین نہیں رکھتا مگر شاید آپ یقین نہ کریں جب جب ہم نے گھر میں زکر کیا کہ یہ اب ختم ہو گئے اسی دن انہوں نے جلوہ دکھایا
        اور تو اور
        کل تک سب صحیح تھا کل میں نے یہاں اپنا تجربہ شیئر کیا اورآج پھر انکےکئی نئے اڈوں کا سراغ ملا ہے، لہزا خاموشی ہی بھلی

  13. Zero G said:

    یار یہ مسئلہ تو کافی بڑھ رہا ہے کوئی حل بتائے پلیز

    • تحریم said:

      چلو ایک اور شکار ہوا ان کا

      مبارکاں جی مبارکاں

  14. I admire your piece of work, thankyou for all the great blog posts.

  15. Qamar said:

    Hamare Ghar Mein Bhi Ye Bala 3 Saal Pehle Ek Maid Ke Zarye Aai Aur Wo Maid Hamare Han Se To Kaam Chor Ke Gai Magar Ye Khatmal Naam Ki Bala Chhor Ke Chali Gai Abhi Pichle Mahine Uska To Inteqal Hogaya Magar Khatmal Abtak Mojoud Hain Bazar Se Iski Dawa Itni Kharidi Ke Dokandar Ne Bhi Pucha Ke Kia Bechne Keliye Le Ke Jate Ho, Kisi Bhi Qisam Ki Bazar Se Kharidi Huwi Pani Mila Ke Dalney Wali Dawa Se Ya Spray Se Mene Kabhi Koi Khatmal Mara Huwa Nahi Dekha, Jab Bhi Nazar Aya Yato Usko Ragar Ke Mara Ya Jalaya Magar Khatmalo Se Abtak Jan Nahi Chuti Purey 3 Saal Ho Chuke Hain.. Ab Kia Karen Kuch Samajh Nahi Aata.. Hai Kisi Ke Pas Koi Sari-Ul-Asar Totka To Share Kar Ke Sawab’e Dareen Hasil Karen…

    • Amir said:

      Brother attack k name se aik spray hai ye apko kisi bhi zarai store se mil jaiga laikan isko proper tank walay apray se karna hoga jismei hawa bhar jaati hai jab aap pump kartay ho maine 10 litre mei 2 bottels daali thee. Uslay baad ghar ka samaan bahir nikaala and har kamray ki dewaro darwazo or kono kinaaro par kiya khyaal rahay ye dawa bht taiz hai to moo ko dhaanpnay k liye helmet ka istimaal karay takay ankhain or chehra dono bachay rahay and helmet k andar koi perfume use karay takay apka dil khraab na ho or vomit na ho jab aap sarah ghar mei spray kar chukay phir tamaam lakri ki cheezo par bhi karay achee tarah andar bahir upar neechay sab or kamray mei rakhtay jai chadarai waghaira ya koi bhi is qisam k kapray jo aap furniture pr use kartay ho un par bhi karay and baad mei dho lai inshallah aap yaad karayngay kisi ne hal btaya thaa. Ziada tar ye waha pai jatay hai jaha bachay bed par pishaab krtay ho ya ghar mei andhaira rahta ho ya phir bht ziada nami ho waisay humne ghar mei paint bhi kiya thaa or usmei bhi aik dawai milai jaati hai jiaka name ab yaad nai uska faida ye hai k machar makhi chipkali dewaar pr nai baithathi.aap aik dafa ye zaror kar k daikhay and uske baad ahtiaat bhi karay k ghar saaf rahay fanail ka istimaal karay farsh par lazmi waqti sonay ka totka ye hai k koi bhi taiz perfume jiski smell ziada dair rahtee ho ya body spray apnay jisam par karnay se poori raat sakoo se so jaogay

  16. Muhammad Akram said:

    محترم بھن جی آپ پریشان نہ ھوں ایک کام کریں کہ لھسن چھیل کر چھوٹے ٹکڑے کر لیں اور تمام بیڈ صوفے وغیرہ کے ان حصوں میں ڈال دیں جو جوڑوں کے ساتھ ھوں جلد ھی تمام کھٹمل بھاگ جایں گے

    • شائد آزما چکی ہوں بھائی اکرام یہ ٹوٹکہ بھی
      اب نتیجہ یاد نہیں کہ بالکل ختم نہیں کئی چیزوں سے کم ضرور ہوتے ہیں یہ

  17. QataTaluq said:

    ہاےْ یہ کھٹمل زندگی ہی حرام کردی کمبختو نے۔۔۔۔

  18. zarzafar said:

    very interesting

  19. السلام علیکم!تبلیغی امور میں پیش پیش مولانا انس بنگلادیشی صاحب نے ایک مرتبہ بتایا جہاں تکبر زیادہ ہوجائے وہاں کھٹمل درآتے ہیں۔
    الحمد اللہ ہمارے گھروں میں تو یہ چیز نہیں لیکن ہم چند دوست واحباب پڑوسی بسلسلہ روزگار ایک چھوٹے سے فلیٹ میں مقیم ہیں وہاں پر اور دیگر ایسے ڈیروں پر بہت زیادہ کٹھمل پائے جاتے ہیں باوجود صفائی ستھرائیوں کے اور مختلف سپرے کے بھی ختم نہیں ہوتے ۔

    وقتی طور پر کم ہوجاتے ہیں لیکن چند دن بعد پھر سے ظاہر ہونے لگتے ہیں،بات یہ ہے کہ ہم میں کچھ لوگ نماز اور قرآن کی تلاوت کرتے ہیں ڈیروں پر لیکن،کچھ ساتھی پابندی نہیں کرتے ،پھر ٹی وی کی لعنت بھی ڈیروں پر موجود ہوتی ہے ایک ساتھی کی مرضی نہیں لیکن دوسرا ساتھی تو دیکھتاہے۔یوں کسی کو منع بھی نہیں کرسکتے،اگر ہم گھر کے تمام افراد نماز کی پابندی رکھیں،تلاوت کریں تویقیناً ان آفات سے بچ سکتے ہیں۔

    اگر کسی دوست کو قرآن کی کوئی خاص آیت معلوم ہوتو بتائیں تاکہ اس کاورد کرکے اس سے چھٹکاراحاصل کریں۔

    ایک بات جو میرے ذہن میں یہ کمنٹ لکھتے ہوئے آرہی ہے کہ اگر "استغفار”کو کثرت سے ہر روز کریں تو شاید اللہ پاک اس سے نجات بخش دیں۔

    • استغفار عموماً ہی وظیفہ رہتا ہے میرا کہ آج کے دور میں
      ایک حدیث کے مفہوم کے مطابق یہی بہترین عمل ہے

      اور ویسے اب کھٹملوں سے مکمل چھٹکارا ہے
      آج کل تو مجھروں نے نیندیں اڑا دی ہیں

  20. jia said:

    Assalam o alikum
    ma ny apny baro sy suna ha k is ka name nhi lety ya name lany sy barh jaty ha r marty nhi ha khi khi to ya totka b suna ha k ksi k darwazy chor do to ya apka darwaza bhol jay ga r inko marna b nhi chahiy q k inhy dua ha hmary nabi ki k ak mary ga to 70 peda hogy.inhy pani ma phnk dna chaiy chyahy garm yaa sada.in k khoon sy hi dosra peda ho jata ha
    ma khud bht preshan hu falte ma rhti hu kaha sy dhoop lao bed ka matrix ha ksy spry kru r pani daal do agr spry b kra jay to smeel nhi jay ge phr uski

    • جیا یہاں آنے کا شکریہ
      سنا تو میں نے بھی یہی ے کہ اس کا نام نہیں لیتے اور ہمارے گھر مین بھی اس کا نام نہیں لیا جاتا
      اس کو کسی کے دروازے پر چھوڑ جائیں تو وہ دوسرے کے گھر چلے جائیں گے
      یعنی اس کا ستیا ناس
      ویسے اب ہر ایک کو چھوڑ کر آئیں کہ وہ راستہ بھول جائے
      باقی سینکڑوں کا کیا کریں گے؟
      اور نبی پاکﷺ کی ایسی دعا کے بارے مں آج پتا چلا کوئی سند بھی ہے کہ بس ایسے ہی کسی نے افواہ اڑا دی؟
      ہاں ایک کے خون سے کئی پیدا ہوتے ہیں ایسا تو مجھے بھی لگتا ہے اس لیئے ہم پانی میں بہا دیتے ہیں۔

      ویسے اب اللہ کا کارم ہے ختم ہو چکے ہیں

      • Ashraf M. Quraishi said:

        جی. السلام علیکم. یہ بلا یعنی کھٹمل ہر جگہ پائے جانے ہیں. نیویارک امریکہ. یں ان کی بہتات ہے ان سے نجات کے لئے مین کئ بار اپنا پسندیدہ فرنیچر قربان کرچکا. بلڈنگ انتظامیہ سے شکایت کریں تو وہ آکر ایک گوند دار پھندا لگا جاتے ہیں تین چار دن بعد آکر چیک کرتے ہیں اگراس پھندے سے چپکے ہوئے ہوں تو آپ کی شکایت بجا ورنہ شکایت بے جا. یہ ایسے ہوشیار کے اس چپکاؤ مواد کے قریب تک نہیں پھٹکتے. میں اس کا علاج یہ کیا کہ چار پانچ گرفتار کرکی ایک چھوٹے پلاسٹک کے لفافے میں زندہ قید کر دئیے. انظامیہ کا بندہ آیا تو اس نے اپنے پھندے نکالے. میں پوچھا ان کا فائدہ کہنے لگا ثبوت چاہیئے. میں اپنا پلاسٹک والا لفافہ آگے کردیا. یہ ثبوت کافی نہیں؟ ثبوت تسلیم کرلیا گیا اب حکم سارا فرنیچر پھینک دیں. عرض کی یہ کار خیر بھی آپ ہی انجام دیں. اس کے دوسرا حکم ہؤا. سارے کپڑے دھوڈالیں اور پھر سکھانے والی مشین کو انتہائ گرم پر لگا کر کپڑوں. کو سزا دیں کہ انھوں کھٹملوں کوآپنے اندر کیوں آباد ہونے دیا. دھلے ہوئے کپڑوں کو ایک بڑے گاربج بیگ میں بند کرکے کمرے نے بیچوں بیچ رکھ دیں. ہدایات پرعمل ہوگیا تو انھوں نے ادھر ادھر کچھ سپرے کیا. دھلے ہوئے کپڑے پورا ہفتہ بیچوں بیچ پڑے رہے اور ہم ننگے فرش پر سوتے رہے.
        کچھ دن امن سے گذرے اور پھروہی صورت حال. بتایا گیا اپارٹمنٹ کو پینٹ کرالیں تو زیادہ عرصے تک خیر منا سکتے ہیں. سو یہ بھی کیا گو افاقے کی طوالت بڑھوگئ, لیکن موذیوں سے ہمیشہ کے لئےنجات نہ مل سکی. فلسفہ سمجھا یا گیا کہ جب ٹیکسی میں دفاتر کی نشستوں میں انتظار گاہوں کی بنچوں میں, ریستورانوں کی کرسیوں میں پائے جاتے تو آپ کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں. ناچار کھٹملوں سے بچ جانے والے خون کے گھونٹ پی کر رہ گئے. اگر کسی کو شوق ہو تواس داستان غم کو مزید طویل کیاجاسکتا ہے. اشرف قریشی.

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: