ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

سید قاسم محمود

Posted by ارتقاءِ حيات on May 19, 2012

کہاجاتاہے۔”Unsung Heroes“غیر معمولی اور باصلاحیت انسانو کی ایک قسم وہ بھی ہوتی ہےجسے انگریزی زبان میں
یہ لوگ ان ہیروز سے مختلف ہوتےہیں جنہیں قدرے دیر سے یا بعد از مرگ شہرت ملتی ہے ۔ایسی ہی ایک مثال لئے آج میں آپ کے سامنے ہوں ۔
پاکستان میں بھی ایسی چند شخصیات ہیں جنہوں نے تحقیقی کاموں کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔ یہ لوگ بظاہر گم نام ہیں لیکن علمی تاریخ میں ان کاکام زندہ جاوید ہے۔
نومبر 17 سنہ 1928 عیسوی  کو ضلع روہتک کے ایک چھوٹے سےگاؤں کھر کھوہ میں جو دہلی سے28 میل کی دوری پر موجود تھا۔وہاں ایک زمیندار گھرانے میں ایک شخص “سید ہاشم علی”کےگھر ایک  بچے کی دلادت ہوئ۔ حسب روایت بچے کو قرآن کی تعلیم  کے لئے داخل مدرسہ کر دیا گیا۔ناظرہ کے بعد حفاظ کی فہرست میں ایک نا م اس بچہ کا بھی اس بچے کے باپ نے لکھواڈالااور یوں حفظ کی غرض سے مدرسہ کی تعلیم جاری رہی۔ 8 سپاروں کے حفظ کرنے کے بعد بھی تلاوت کرتے وقت تلفظ کی ادائیگی قاریوں کی سی نہ ہو پا رہی تھی کہ ایک دن استاد نے اس بچے کو اتنا مارا اتنا مارا کہ معصوم لہو لہان ہو گیا۔ گھر پر والد کو وجہ کا علم ہو ا تو مزید مار پڑھی کہ استاد کو شکایت کا موقع کیوں دیا گیا۔جبکہ والدہ نے ہمیشہ کی طرح نہ صرف ہمت بندھا ئی ان کی ہمت بندھائ بلکہ  مدرسہ سے اٹھا کر اسکول میں داخل کروادیا۔
بچہ چونکہ 8 پارے حفظ کر چکا تھا لحاظہ اس کا حافظہ قوی اور دماغ وسیع اور سمجھنے کی صلاحیت شدید ہو چکی تھی کلاس میں نمایاں حیثیت حاصل ہوئی جلد ہی کلاس میں مقبول ہو کر مانیٹر کے عہدے پر فائز ہو گیا۔ چوتھی جماعت میں سکالر شپ کا امتحان ہوا۔ جس میں اُنھوں نے پنجاب بھر میں اوّل پوزیشن حاصل کی۔ وہ پنجاب کی تاریخ میں پہلے مسلمان بچے تھے جسے وظیفہ ملا۔ اُس وقت کے وزیر اعلیٰ سرسکندر حیات نے خود کھر کھودہ سکول آکر انعام دیا۔ اُن دنوں قرار داد پاکستان کے بعد ہندو مسلم کشیدگی پیدا ہوچکی تھی۔ قاسم جس سکول میں زیر تعلیم تھے ،اُس میں دو چار طلبہ مسلمان جبکہ باقی نوے فیصد سے زیادہ کٹر ہندو جاٹ تھے۔ ساتویں جماعت میں ایک بار قاسم علی کے ایک ہندو ٹیچر نے مسلم تاریخ پڑھاتے ہوئے حضور اکرمﷺ کی شان میں گستاخی کی۔ مانیٹر ہونے کے ناتے قاسم سب سے آگے بیٹھتا تھا، اُس نے اُٹھ کر ٹیچر کے منھ پر تختی دے ماری،جس پر تمام کلاس قاسم پر ٹوٹ پڑی اور اتنا مارا کہ ہسپتال لے جانا پڑا۔ مارچ 1947 عیسوی میں ہنجاب یونیورسٹی میں میٹریکولیشن  صوبے بھر میں اول رہ کر پاس ہوئے۔ہجرت سے پہلے مکتبہ جامعہ اور ہمدرد دواخانہ دہلی میں ملازمت کی۔
تاہم تقسیم کے بعد قاسم اپنے خاندان کے ہمراہ لاہور آ گئے۔ ہجرت کے دوران اُن پر کیا گزری یہ الگ تفصیل ہے جو اُن کی کتابوں میں مطالعہ ہو سکتی ہے۔پہلے پرانا قلعہ مہاجر کیمپ دہلی اور پھر لاہور کے والٹن اور باؤلی مہاجر کیمپوں میں دسمبر 1947 عیسوی تک بطور رضاکار مہاجرین کی خدمت میں شامل رہے۔
1948 عیسوی میں لکڑہارا، بجلی کے لائن مینوں کا سیڑھی بردار ،اخبار فروشی ، اخبار “زمیندار” میں  میں آنریری چپڑاسی، مولانا ظفر علی خان، مولانا مرتضی احمد خان میکش، مولانا اظہر امرتسری اور حاجی لق لق کا بے تنخواہ مددگار خصوصی بنے رہے۔
1949 عیسوی میں ماہنامہ “عالمگیر”ہفت روزہ “خیام” اور پبلیشر یونائیٹدکے شعبہ ریلوے بک اسٹال میں یکے بعد دیگرے باتنخواہ ملازمت شروع کی۔
1950 عیسوی تا 1951 عیسوی میں پنجاب یونیورسٹی میں کلرکی، پہلے ڈاکٹر ایم افضل کے نائب اور پھر” اردو دائرہ معارف اسلامیہ “کے اولین مدیر اعلیٰ پروفیسر علامہ محمد شفیع کے ماتحت مقرر ہوئے۔
حکومت پنجاب کی”مجلس زبان دفتری” میں بطور مترجم حلقہ ارباب ذوق سے وابستگی رہی۔ افسانہ نگاری تصنیف وتالیف و ترجمہ کا آغاز ہوا۔ مشق سخن کے ساتھ ساتھ چکی کی مشقت بھی جاری رہی۔ صبح و شام کی جزوقتی نوکریاں “مکتبہ جدید”گوشہ ادب” ریلوے بک سٹال،ماہانامہ ہمایوں، ہہفت روزہ” قندیل” ہفت روزہ” اجالا” روزنامہ”خاتون، روزنامہ”امروز” روزنامہ”نوائے وقت” روزنامہ “امروز” میں شام و شب کی جزوقتی نوکریوں کے ساتھ ساتھ تکمیل تعلیم کیلئے بھی کوشاں رہے۔ ‘ ادیب عالم‘ ادیب فاضل یکے بعد دیگرے پاس کرکے بی اے کی ڈگری حاصل کی
(1949عیسوی تا 1956عیسوی)۔ سرکاری ملازمت ہمیشہ کیلئے ترک کر کے آزاد قلمی اختیار کی۔ نائب مدیر پندرہ روزہ ”صادق“ سید عابد علی عابد کے ہمراہ (1956عیسوی)۔ نائب مدیر ہفت روزہ ”لیل و نہار“ فیض احمد فیض اور سید سبط حسن کے ہمراہ (1965-1964عیسوی)۔ مدیر ”اردو انسائیکلوپیڈیا‘ فیروز سنز اور مدیر ماہنامہ ادب لطیف (1966-65عیسوی)۔ افسر انچارچ ”نیشنل بک کونسل“ بانی مدیر ماہنامہ ”کتاب“ اور مسس بزم کتاب (1966تا 1971عیسوی)۔ یونیسکو کے زیراہتمام ٹوکیو میں فن ادارت کے کورس کی تکمیل (1968عیسوی)۔ ”مینار پاکستان“ پر یادگار تختیوں کی تصنیف و تدوین اور نقش گری کا کام مختار مسعود کی ہمراہی میں (1970-1969عیسوی)۔ پاکستان کی سبز کتاب ”قائداعظم کا پیغام“ مرتب و شائع کی جو اب تک ایک لاکھ سے زیادہ کی تعداد میں شائع ہوچکی ہے۔ (1967ئ)۔ ”انسائیکلوپیڈیا معلومات“ کا قسط وار اجرا (1971ئ)”سیارہ ڈائجسٹ“ کی دوبارہ ادارت (1971عیسوی تا 1975عیسوی)۔ ذاتی اشاعتی ادارے ”مکتبہ شاہکار“ کا قیام۔ شاہکار جریدی کتب‘ اسلامی انسائیکلوپیڈیا اور بے بی انسائیکلو پیڈیا کا قسط وار اجرا(1975عیسوی )۔ حکومت پنجاب کی ”مجلس زبان دفتری“ کے رکن کی حیثیت سے دفتری اصطلاحات کی ڈکشنری مرتب کی (1977-76عیسوی) پندرہ روزہ ”قافلہ“ کے اجراءسے سیاسی صحافت میں عملی شرکت۔ جنرل ضیاءالحق کے مارشل لاءکی سخت مزاحمت کی۔ مارشل لاءسے شکست ہوئی اور مکتبہ شاہکار تباہ و برباد ہوگیا۔ کراچی کی جانب ہجرت ثانی کی۔ ماہنامہ ”عالمی ڈائجسٹ“ کے ادارے میں شمولیت (1980عیسوی)۔ ایک سال بعد ”شاہکار بک فانڈیشن“ کا ازسر نو قیام ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ ”نوائے وقت“ کراچی کی ڈپٹی ایڈیٹری (1982-1981ئ)۔ ”اسلامی انسائیکلو پیڈیا“ یک جلدی کی اشاعت۔ ماہنامہ ”سائنس میگزین“ کا اجرا (1985ئ) انسائیکلو پیڈیا فلکیات گجراتی میں ”علم القرآن“ کی پارہ وار اشاعت برائے استفادہ مسلمانان بھارت (1996-95ئ)۔ ”انسائیکلو پیڈیا پاکستانیکا“ کی اشاعت۔ کراچی سے لاہور‘ ہجرت( 1997ئ) مشیر مطبوعات‘ اکادمی ادبیات پاکستان ( 1999-98ئ)۔ ادارہ ”الفیصل“ کے زیراہتمام ”اسلامی انسائیکلو پیڈیا “ اور انسائیکلو پیڈیا پاکستانیکا کے نئے ایڈیشنوں کی بار باراشاعت۔ سیرت انسائیکلو پیڈیا کی تدوین و تصنیف (2004-2000ئ)۔ ”قرآن انسائیکلو پیڈیا“ کے ساتھ ساتھ ”انسائیکلو پیڈیا احیائے اسلام“ کی تصنیف و تدوین کا کام بھی آخری وقت تک جاری رہا۔ 
·         سید قاسم محمود کے افسانے
·         انسائیکلوپیڈیا آف قرآن
·         انسائیکلوپیڈیا مسلم انڈیا
·         سیرت انسائیکلوپیڈیا
·         انسائیکلوپیڈیا تاریخ انسانیت
  • پاکستانی بچوں کا انسائیکلوپیڈیا()
  • انسائیکلوپیڈیا پاکستانیکا()
  • انسائیکلوپیڈیا سائنس()
  • انسائیکلوپیڈیا ایجادات()
  • انسائیکلوپیڈیا فلکیتات()
  • بے بی انسائیکلوپیڈیا()
  • معلومات()
  • اُردو جامع انسائیکلوپیڈیا()
  • اُردو جامع انسائیکلوپیڈیا()
  • اُردو انسائیکلوپیڈیا()
  • قاسم کی مہندی()افسانے
  • چلے دن بہار کے()افسانے
  • دیواد پتھر کی()ناول
  • نواب محمد اسمٰعیل خان()
  • بیسویں صدی اور آمریت()
  • جنسی رسومات()
  • بینادی معاشیات()
  • سائنس کیا ہے()
  • معاشیات کے جدید نظریے()
اُنھوں نے اپنے بارے ایک واقعہ تحریر کیا ہے جس نے اُن کی زندگی بدل دی،وہ لکھتے ہیں کہ:”یہ اُن دنوں کا واقعہ ہے، جن دنوں میَں نے موپاساں کے افسانوں کا ترجمہ کیا تھا، مکتبہ جدید کے مالک مجھے ساتھ لے کرسعادت حسن منٹو کے گھر دیباچہ لکھوانے گئے۔
منٹو صاحب نشے میں دھت تھے، اُنھوں نے مسودے پر ایک اُچٹتی نظر ڈالی، پھر اُسے اُٹھا کر میرے منھ پر دے مارا، کہنے لگے کہ تم کبھی بھی ترجمہ یا افسانہ نہیں لکھ سکتے”
قاسم محمود مزید لکھتے ہیں کہ:اُس رات میں واپس گھر نہیں آیابلکہ ساری رات راوی کنارے گزاری، صبح مجلس زُبان دفتری جاکر استعفا پیش کردیا، ادارے کے سیکرٹری حکیم احمد شجاع نے بہت روکا، لیکن میَں نے  ایک نہ مانی اور کہا کہ نہیں میں منٹو کی طرح آزاد انسان بنوں گا۔ کسی کی نوکری نہیں کروں گا اور اب بڑا ادیب بن کر دکھاؤں گا۔”
سید قاسم محمود لکھتے ہیں کہ:”ایک مرتبہ مجلس زُبان دفتری والوں نے ملازمت کے لیے اشتہار جاری کیا،جس کی اہلیت ایم اے تھی۔وہ اُن دنوں میٹرک پاس تھے،مگر تحریری امتحان میں اوّل آنے پر اُس وقت کے گورنر سردار عبدالرب نشترنے اُن کی قابلیت و لیاقت کو دیکھتے ہوئے،ملازمت کے احکامات فرما دیئے،لیکن ساتھ ہی نوجوان قاسم کو ایک نصیحت کی اور فرمایا
تم جیسے نوجوانوں کے ہاتھوں میں پاکستان کی تقدیر ہے،مگر یاد رکھو ہمارے اُردو اَدب میں شاعری اور جذبات نگاری تو بہت ہے،لیکن ٹھوس علمی مواد کا فقدان ہے،کوئی ڈھنگ کی لغت نہیں،کوئی انسائیکلو پیڈیا نہیں،ضرورت ہے کہ اِن کاموں کی جانب توجہ دی جائے سید قاسم محمود کا لکھنا ہے کہ سردار نشتر کی نصیحت اُنھیں کبھی نہیں بھولی اور اُن سے کیا گیا عہد ہی اُن کو لغات اور انسائیکلو پیڈیا جات کی تدوین و تالیف کی طرف لے گیااور اُنھوں نے ایک نہیں،بلکہ بے شمار انسائیکلوپیڈیازمرتب کیے، جن میں انسائیکلوپیڈ یا ایجادات، انسائیکلو پیڈیا فلکیات، انسائیکلو پیڈیا پاکستانیکا، انسائیکلو پیڈیا سیرت، انسائیکلو پیڈیا احیائے اسلام، انسائیکلوپیڈیاقران کی تصنیف و تدوین بھی خاص بور پر قابل ذکر ہیں۔
یہ موت پورے عالم کی موت ہے۔ سولہ کروڑ عوام کو اس کا علم تک نہیں کہ ان کے درمیان سے ایک ایسا شخص اٹھ گیا کہ جس کا خلا صدیاں پر نہ کر سکیں گی، کیونکہ اس نے اپنے کام سے، اس قوم میں موجود صدیوں کا خلا پر کیا تھا۔ کیا عجیب شخص تھا۔ نہ ستائش کی پروا، نہ صلے کی تمنا۔ صاحبانِ اقتدار کی چوکھٹ سے کوسوں دور، اسی لیے اس کے مرنے پر کسی کا تعزیتی پیغام آیا، نہ چینلوں پر پٹی چلی، نہ اس کی زندگی اور کارناموں پر کوئی مختصر سی فلم بنا کر خبروں میں نشر کی گئی۔ ایک صحرا کے بگولے کی طرح وہ ایک دشت سے کسی دوسری نامعلوم منزل کی جانب روانہ ہو گیا۔ ایسے لوگوں کی قسمت میں یہ لکھ دیا جاتا ہے کہ جاہل اشرافیہ، گنوار سرمایہ پرست حکمران، بزعم خود مقبول دانشور، سب ان کی محفل سے دور رہیں۔ یہ خود ان جیسے لوگوں کی ذہنی صحت کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ اس شخص نے اپنی زندگی میں جتنا کام کیا ہے، دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں ایسا کام کرنے کے لیے ہزاروں افراد پر مشتمل ادارے ہوتے ہیں جن کے دفاتر میں ہر سہولت میسر ہوتی ہے۔ لیکن اس شخص کے پاس تو عالم یہ تھا کہ کبھی گھر کا کل سامان بیچ کر قرض اتارو اور پھر رزق کی تلاش میں نوکری کرو۔ جو وقت بچ نکلے اس میں اپنے علمی کام میں جت جاؤ۔ کبھی بجلی ہے تو کبھی لالٹین یا موم بتی، لیکن قلم اور کاغذ کا رشتہ بدستور قائم۔ صبح تہجد کی نماز کے وقت اٹھنا اور پھر کام میں لگ جانا اور اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ دن کب ڈھلا اور کب رات گہری ہو گئی۔
سید قاسم محمود کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ”جو کام بڑی بڑی جماعتوں کے کرنے کا تھا وہ کام فرد واحد نے انجام دی” اس نےبے سر و سامان نے وہ کمال کیا جو قوموں کی تاریخ میں دھارا بدلنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ دنیا میں پانچ ہزار سالہ تاریخ میں دو قومیں ایسی ہیں جنھوں نے علم کی بنیاد پر ترقی کی۔ ایک مسلمان اور دوسرے انگریز۔ مسلمانوں نے پوری دنیا کا تمام فلسفہ، سائنس، فلکیات، طب اور ادب سب کچھ اپنی زبان میںترجمہ کیا اور پھر اس علم سے اپنی پیاس بجھائی اور نئے تحقیقی سفر پر روانہ ہوئے اور چار صدیاں علم کے میدان پر حکومت کی۔ انگریزوں نے بھی عربی، فارسی، ہندی، فرانسیسی، جرمن اور روسی سب زبانوں کا علم انگریزی میں منتقل کیا، پیاس بجھائی اور تخلیقی سفر شروع کیا۔ کیونکہ تخلیق کے لیے اپنی زبان میں علم حاصل کرنا اور سوچنا ضروری ہے۔ یہ شخص جس کا نام سید قاسم محمود تھا۔ اس نے پاکستان بننے کے چند سال بعد ہی دنیا کے ادب کا اردو میں ترجمہ شروع کیا۔ صرف دس سالوں کے اندر دنیا کا شاید ہی کوئی بڑا ادیب ایسا ہو جس کا ترجمہ اس نے نہ کیا ہو۔ ٹالسٹائی،  موپساں، شیکسپئر، فرائیڈ ،ایملی برونٹی،  دوستوفسکی، چارلس ڈکنز ، ڈارون، ہٹلر،جان ماسٹرز، جان گالز وردی، ، ڈاکٹر روتھ بینی ڈکٹ، ٹی ایس ایلیٹ اور ڈاکٹر کینتھ واکر کتنے ایسے نام ہیںجن کی کتابوں کے ترجمے، اس سید نے عالمِ بے سرو سامانی میں کیے۔۔اُن کی علمی و ادبی خدمات کے حوالے سے مولانا ابوالحسن ندوی، ڈاکٹر اسراراحمد، ڈاکٹر طاہر القادری، ڈاکٹر غلام علی الانہ، مرزا ادیب، ڈاکٹر وحید قریشی، رئیس امروہوی، انتظار حسین، مولانا کوثر نیازی، جمیل الدین عالی، مولانا صلاح الدین مرحوم نے جس انداز میں خراج تحسین پیش کیا ہے ،اُس کے لیے اُن کتابوں اور شاہکار اسلامی انسائیکلو پیڈیا کی ورق گردانی ضروری ہے۔
سید قاسم محمودنے روزنامہ ایکسپریس میں 2006 میں دیئے گئے ایک انٹرویو میں اظہار کیا کہ “ایک سچے ادیب کو کسی بھی حکومت سے کوئی ایوارڈ نہیں لینا چاہئےادیب کو عوام کے ساتھ جینا چاہئے۔
اگر یہ سوال آج کےکسی بھی نوجوان سے پوچھ لیں تو وہ تعجب کا اظہار کرے گااور اگر علم و تحقیق کے کسی شیدائی سے پوچھیں گے تو وہ ایک لمبی سرد آہ بھرے گا اس کے دل کا دکھی آئینہ کرچی کرچی ہو جائے گا اور ان کرچیوں کو اپنی پلکوں سے اٹھا کر واپس اپنےدل میں بسا لے گا۔
بے شک محمود قاسم ان لوگوں میں سے تھے جن پر یہ فقرہ خوب جچتا ہے کہ”اس عظیم ہستی کا خلاء کبھی پر نا ہو سکے گا”
وہ ہمیشہ کے لئے ہم سے بچھر چکے ہیں مگر تحقیق اور تصنیف کی صورت میں ایسا انمول اثاثہ چھوڑ گئے ہیں کہ جو صدیوں تک ہماری رہنمائی کرتا رہے گا۔اور جسے پڑھ کر ان کی یادوں کے نقوش ہماری سوچ کی لہروں پر نقش ہوتے رہیں گے۔
وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ:
سائنس میگزین میری محبت نہیں میرا فرض ہے۔ میں ادب کی آغوش میں پلا بڑھا ہوں، ادب سے میرا لگاؤ فطری ہے۔ یہ میگزین میں نے ایک قومی فریضہ جان کر نکالا ہے کیونکہ یہ میرا ایمان ہے کہ پاکستان ہو یا عالم اسلام، ملت صدیوں سے جس گہرے اندھے کنوین میں گری پڑی ہے اس سے اسے یہ سائنس کی رسی ہی باہر نکال سکتی ہے غرض اب سائنس ہی عالم اسلام کی واحد ذریعہ نجات ہے۔

Posted in کالم | Leave a Comment »

احکامِ حجاب اور غامدی (حصہ دوم)

Posted by ارتقاءِ حيات on May 18, 2012

گزشتہ سے پیوستہ
سورہ احزاب کے احکام حجاب کا انکار:
 سورہ احزاب میں سب سے پہلے پردے کے احکام نازل ہوئے جس پر صحابہ کرام سے لے کر اب تک تمام علماء کا اجماع ہے یہاں تک کہ امین احسن اصلاحی صاحب جن کو غامدی صاحب اپنا استاد مانتے ہیں وہ بھی سورہ احزاب کی آیات سے پردے کے قائل ہیں مگر غامدی صاحب نے اپنے استاد کی رائے سے بھی اتفاق نہیں کیا اور ایک دوسری ہی بات کی ہے وہ اپنے ایک ٹی وی پروگرام میں پردے کے حوالے سے کہتے ہیں کہ سورہ احزاب میں جو پردے کے احکام اترے ہیں وہ ہنگامی حالات کے تحت اترے تھے وہ حالات یہ تھے کہ منافقین رات میں اہل ایمان عورتوں پر آوازیں کسا کرتے تھے جس کی وجہ سے سورہ احزاب کی یہ آیات اتریں ترجمہ آیت:”اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج اوربیٹیوں اور مسلمان عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنے چادر کے پلو اپنے اوپر سے لٹکا لیا کریں یہ بہتر ہے ان کے لئے پھر وہ پہچان لی جائیں گی اور ستائی نہ جائیں گی اور اللہ  بخشنے والا مہربان ہے۔(سورہ احزاب آیت59) جب وہ حالات ختم ہو گئے تو احکام بھی ختم ہو گئے اور سورہ نور میں جو پردے کے احکام ہیں وہ ابدی احکام ہیں۔
غامدی صاحب جو کہہ رہے ہیں اگر بالفرض وہ بات مان لی جائے کہ سورہ احزاب میں جو احکام اترے تھے وہ اس وقت کے لئے تھے تو جو حالات غامدی صاحب نے بتائے ہیں تو اس لحاظ سے تو آج کے حالات میں بھی ان پر عمل ضروری ہے آج بھی اوباش لوگ عورتوں پر آوازیں کستے ہیں اور ان سے بدتمیزی کرتے ہیں مگر غامدی صاحب جو کہہ رہے ہیں اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے جو حالات وہ بتا رہے ہیں اس کو طبقات ابن سعد نے نقل کیا ہے اور پانچ روایات اس کے تحت لائے ہیں مگر ان تمام روایات میں ایک راوی (محمدبن عمرواقدالواقدی )ہے جو تمام محدثین کے نزدیک متفقہ طور پر کذاب(جھوٹا) ہے(تھذیب التھذیب) (طبقات ابن سعد باب قبل نزول حجاب جلد 8 ) یہ ہے وہ بنیاد جس کی ایماں پر غامدی صاحب یہ بات کر رہے ہیںاب ہم سورہ احزاب میں پردے سے مطلق آیات کا جائزہ لیتے ہیں
آیت ترجمہ:۔”اور جب تمہیں ان (ام المومنات )سے کوئی چیز مانکنی ہو تو پردے کی اوٹ سے مانگا کرو” (سورہ احزاب آیت53 )
آیت ترجمہ:۔(عورتوں) پر گناہ نہیں کہ وہ اپنے باپوں اور اپنے بیٹوں اور اپنے بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور عورتوں اور ملکیت کے ماتحتوں کے سامنے ہوں ،۔عورتوں اللہ سے ڈرتی رہو اللہ یقینا ہر چیز پر شاہد ہے۔(سورہ احزاب آیت55 )
 آیت ترجمہ:۔ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج اوربیٹیوں اور مسلمان عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنے چادر کے پلو اپنے اوپر سے لٹکا لیا کریں یہ بہتر ہے ان کے لئے پھر وہ پہچان لی جائیں گی اور ستائی نہ جائیں گی اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔(سورہ احزاب آیت59  )
پہلی آیت میں پردے کے احکام نازل ہوئے ہیں جس میں بظاہر حکم ام المومنات سے ہے مگر یہ حکم تمام عورتوں کے لئے ہے اسی بات کو ام التفاسیر نے بھی بیان کیا ہے دیکھے (تفسیرطبری ،ابن کثیر ، قرطبی )اور یہ بات آگے کی دونوں آیات سے واضح ہوجائی گی اور اس کے شانِ نزول کے حوالے سے یہ بات واضح کر دیں کہ یہ کسی ہنگامی حالت میں نہیں اترے بلکہ یہ عمر فاروق   کی خواہش پر نازل ہوئے تھے
مفہوم حدیث:۔ عمر فاروق   نے فرمایا تین باتیں میں نے کہیں جن کے مطابق رب العلمین نے احکام نازل کیے ، میں نے کہا  یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں ہر کوئی آتا جاتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات  کو پردے کا حکم دیں اس پر پردے کے احکام نازل ہوئے۔(بخاری کتاب التفسیرالبقرہ جلد 2،مسلم کتاب الفضائل باب فضیلت عمرفاروقجلد6 (اور آیت 2 میںجب پردے کے احکام نازل ہوئے تو یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ محرمات کے بارے میں کیا احکام ہیں تو اس پر یہ آیت 2 نازل ہوئی کہ عورتیں اپنے محرم کے سامنے جا سکتی ہیں اور یہ آیات تمام عورتوں کے لئے نازل ہوئی ہیں جس کو تفسیر طبری نے اور ابن کثیر نے اس طرح نقل کیا ہے”اوپر کی آیتوں میں اجنبیوں سے پردے کا حکم ہوا ہے اس لئے جن قریبی رشتہ داروں سے پردہ نہ تھا ان کا بیان اس میں کر دیا ”(تفسیر ابن کثیر)اور آیت 3اور اس کے شانِ نزول میں جو حدیث آتی ہے اس سے بات پوری طرح واضح ہوجائی گی کہ ان آیات میں پردے کے احکام تمام عورتوں کے لئے نازل ہوئے ہیں مفہوم حدیث:۔ امَ عائشہ  سے روایت ہے کہ سودہ احکام حجاب کے بعد ضرورت کے تحت باہر نکلی تو عمر نے انھیں مہچان لیا اور کہا کہ اے سودہ میں نے آپکو پہچان لیا تو وہ اسی وقت واپس آگئی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ عمر نے مجھ سے یہ کہا تو اسی وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول شروع ہوا اور تھوڑی دیر میں یہ کیفیت ختم ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کو ضرورت سے باہر نکلنے کی اجازت دے دی گئی ہے(بخاری کتاب التفسیرجلد2 ،مسلم کتاب السلام جلد,5مسند احمدجلد6ص56)پس اب اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پہلی آیت میں پردے کا حکم نازل ہوا اوردوسری آیت میں محرمات کی فہرست اور اس کے بعد گھر سے باہر نکلنے اجازت دی گئی ہے پہلی دونوں آیات میں بظاہر خطاب ام المومنات سے ہے مگر تیسری آیت میں مسلمان عورتوں کو بھی گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دی جارہی ہے جیسا ابن عباس نے اس آیت کے حوالے سے جو تشریح کی ہے جس کو ہم نے اوپر بیان کیا ہے غور طلب بات یہ ہے کہ پردے کا حکم عورتوں کو کب دیا گیا ہے جو اب ان کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دی جارہی ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلی آیات میں جو حکم ام المومنات کہ لئے دیا گیا ہے وہ صرف ان کے لئے نہیں تھا بلکہ ام المومنات کے واسطہ سے تمام عورتوں کو پردے کی تاکید کی گئی ہے جس کے بعد دوسری اور تیسری آیات میں ان کے محرمات کی فہرست اور اس کے بعد ان کو گھر سے نکلنے کے آداب بتائے جارہے ہیں اور اس آیت میںاللہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمارہا ہے کہ مسلمان عورتوں کو بھی گھر سے باہر نکلنے کے آداب بتادیں۔اس تفصیل کے بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ سورہ احزاب میں پردے کے احکام نہ کسی ہنگامی حالات میں اترے تھے نہ ہی یہ ام المومنات کے لئے خاص تھے۔اب اس کے بعد ہم سورہ نور سے مطلق پردے کے احکام کا جائزہ لیتے ہیں جس سے اکثر حضرات چہرہ کھلا رکھنے کی دلیل لیتے ہیں۔

مندرجہ بالا مضمون  امت کی اصلاح وتصیح کی خاطر  دفاع حدیث نامی ویب سائٹ سے لیا گیا ہے۔تاکہ مندرجہ بالا فتنہ کے بارے میں عوام آگاہ ہو سکیں۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

Posted in کالم | 2 Comments »

چین میں اسلام کی آمد

Posted by ارتقاءِ حيات on May 16, 2012

چین آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سےبڑا ملک ہے اس کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔مختلف ادوار میں اس کے مختلف نام رہے۔249قبل مسیح میں یہاں”چی ن”خاندان کی حکومت تھی۔اس کے نام پر یہ ملک چین کہلانے لگا۔1949؁کے انقلاب کے بعد “عوامی جمہوریہ چین “بن گیا۔
اسلام کی روشنی اوّل اوّل جن ملکوں میں پہنچی ان میں سے ایک چین بھی ہے۔رسول کریمﷺ کی ولادت با سعادت سے قبل ہی عرب اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات استوار ہو چکے تھے۔اسلام ساتویں صدی عیسوی میں تھا نگ دور میں چین پہنچا۔ایک چینی اسکالر جنرل تیرساں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ”آنحضرت ﷺ نے حضرت مالک ابن وہیب رضی اللہ تعالٰی عنہ کو سفیر بنا کر پہلی بار شہنشاہ چین کے پاس بھیجا تھا ۔ 6ہجری 628؁ کو آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کینٹن پہنچے۔آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مزار بھی کینٹن میں ہے۔

(اقتباس “چین میں اسلام)

Posted in کالم | Leave a Comment »

ماں کا دن۔۔۔۔۔؟؟؟

Posted by ارتقاءِ حيات on May 13, 2012

دنیا بھر میں یہ روایت قائم ہو چلی ہے کہ کوئی سا ایک دن کسی بھی ہستی کیلئے مخصوص کر دیا گیا ہے ان میں وہ ہستیاں بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی اپنوں کیلئے وقف کر دی جیسے ماں، دنیا کے ہر مذہب اور ہر ملک میں بہت سے فرق پائے جاتے ہیں لیکن ماں کی محبت اور ماں کااحترام تقریباً ہر جگہ یکساں ہے، ماں ایک رشتے کا ہی نہیں بلکہ ایک جذبے کا بھی نام ہے۔ دنیا بھر میں مختلف دنوں میں ماؤں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے ماؤں کا عالمی دن منایا جاتا ہے، پاکستان میں مئی کے دوسرے اتوار کو یہ دن منایا جاتا ہے۔دنیا کے ہر معاشرے اور مذہب میں ماں کی حیثیت مسلمہ ہے ،ماں کے مقام، حیثیت اور خدمات کے اعتراف میں آج پاکستان سمیت دنیا کے 77ممالک میں ماؤں کا عالمی دن منایا جارہا ہے ،جس کا مقصد محبت کے خالص ترین رنگ لئے ماں کے مقدس ترین رشتہ کی عظمت و اہمیت کو اجاگر کرنا اور ماں کیلئے عقیدت، شکر گزاری اور محبت کے جذبات کو فروغ دیناہوتا ہے۔ جبکہ دوسری جانب پاکستان اور اور دنیا کے مختلف ممالک میں محنت مزدوری کے لئے مقیم اپنے بیٹوں کی راہ دیکھہ رہی ہیں۔ ماں ہی وہ ہستی ہے جو بچے کو اپنے قدموں پہ کھڑا ہونااور زمانے کی بھیڑ کا سامنا کرنا سکھاتی ہے اس امید پر کہ یہ ننھے پودے جب تناور درخت بنیں گے تو ان کی ٹھنڈی چھاں میں اپنی زندگی کے تمام غم بھلا دے گی لیکن ماں کے آنچل میں پناہ لینے والی اولاد بڑھاپے میں ماں کو ایک چھت کا سائبان بھی نہیں دے پاتی اور ایسی بد قسمت خواتین کا مقدر ٹھہرتا ہے اولڈ ہومز یا فلاحی اداروں کے دارالامان ۔ مشرق نے اولڈ ہومز کی روایت بھی مغربی معاشرے سے مستعار لی ہے ۔ابھی کچھ سالوں پہلے تک ہمارے خاندانی نظام میں بوڑھے بزرگ گھر کے سربراہ کی حیثیت رکھتے تھے اور ہر اہم فیصلہ انکے مشورے سے کیا جاتا تھاپر آج جہاں آسائشات نے رشتوں کی جگہ لے لی ہے وہیں گھر کے بزرگ افرادکو فالتو سامان کی طرح اولڈ ہومز میں جمع کروا دیا جاتا ہےجہاں وہ محض یادوں کے سہارے زندگی کے بقیہ دن گزاردیتے ہیں۔

معاشرہ زبوں حالی کا شکار ہے اور لوگوں کے گھروں میں ہی نہیں دلوں میں بھی جگہ کم پڑگئی ہے ، رشتوں میں تنا ، بدترین معاشی حالات اور حساسیت کا فقدان ان بدنصیب ماں کو اولڈہومز تک لے آتا ہے ،پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں اولڈ ہومز اور ایسے مراکز موجود ہیں جہاںاولاد کے ہاتھوں ستائی ہوئی بزرگ خواتین اپنی زندگی کے آخری ایام گزار رہی ہیں۔

دوسری جانب ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو سمجھتے ہیں کہ بزرگ سایہ دار درخت کی مانندہوتے ہیں جو پورے خاندان کو اپنی مہربان وسعتوں میں سمیٹے رکھتے ہیں،ہمارے ہی معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہیں جو مکافات عمل سے ڈرتے ہیںاور ماں کی دعاں کو کامیابی کی علامت قرار دیتے ہیں۔

جس ہستی نے تمام عمر اپنی اولاد کیلئے وقف کر دی ، جسکے قدموں تلے جنت کی بشارت سنا دی گئی ،کیا عجب بات ہے کہ اُسی ہستی کیلئے ہم سال بھر میں محض ایک دن مخصوص کرتے ہیں اور وہ دن بھی اولڈ ہومز میں موجود بے شمار بدنصیب مائیںاس آس اور امید میں گزار دیتی ہیں کہ شاید آج کے دن انکی اولاد ان سے ملنے آئے ،شاید انکے لئے بھی کوئی پھول بھجوائے اور شاید کوئی اُنکے پاس آئے اور انکے جھریوں زدہ ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر کہے۔۔۔

ماں تجھے سلام

 

۔تاریخی اعتبار سے اس دن کا آغاز سن 1870ء میں ہوا جب جولیا وارڈ نامی عورت نے اپنی ماں کی یاد میں اس دن کو شروع کیا جولیا وارڈ اپنے عہد کی ایک ممتاز مصلح، شاعرہ، انسانی حقوق کی کارکن اور سوشل ورکر تھیں۔ بعد ازاں 1877ء کو امریکہ میں پہلا مدر ڈے منایا گیا۔ 1907ء میں امریکی ریاست فلاڈیفیا میں اینا ایم جاروس نامی سکول ٹیچر نے باقاعدہ طور پر اس دن کو منانے کی رسم کا آغاز کیا۔ اس نے اپنی ماں این ماریا ریویس کی یاد میں یہ دن منانے کی تحریک کو قومی سطح پر اجاگر کیا یوں ان کی ماں کی یاد میں باقاعدہ طور پر امریکہ میں اس دن کا آغاز ہوا۔ یہ تقریب امریکہ کے ایک چرچ میں ہوئی۔ اس موقع پر اس نے اپنی ماں کے پسنددیدہ پھول تقریب میں پیش کیے۔ اس تحریک پر اس وقت کے امریکی صدر وڈ رولسن نے ماؤں کے احترام میں مئی کے دوسرے اتوار کو قومی دن کے طور پر منانے کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد یہ دن ہر سال مئی کے دوسرے اتوار کو منایا جاتا ہے۔ اس مناسبت سے برطانیہ میں اس دن کو Mothering Sunday بھی کہا جاتا ہے۔ مغربی دنیا میں لوگ اپنی ماؤں کو تحائف پیش کرتے اور ان سے ملاقات کرتے ہیں۔ یوں سال بھر بوڑھے والدین میں سے ماؤں کو اس دن کا انتظار رہتا ہے۔ امریکہ سمیت یورپ بھر میں بوڑھے والدین کو گھروں کی بجائے اولڈ ہومز میں رکھا جاتا ہے۔ اس لیے لوگ اس دن اولڈ ہومز میں اپنی ماؤں سے ملاقات کرتے اور ان کو سرخ پھولوں کے تحائف پیش کرتے ہیں۔ جن لوگوں کی مائیں اس دنیا میں نہیں ہیں وہ سفید پھولوں کے ساتھ اپنی ماؤں کی قبروں پر جاتے اور وہاں یہ گلدستے سجاتے ہیں۔ ہر ملک میں مدر ڈے کو منانے کے لیے مختلف دن مختص ہیں تاہم امریکہ، ڈنمارک، فن لیند، ترکی، اسٹریلیا اور بیلجیم میں یہ دن مئی کے دوسرے اتوار کو ہی منایا جاتا ہے۔

کچھ  نظمیں اور کچھ اقوال ماں کے نام نذر کرتی ہوں

ماں

ماں اِک ایسی نعمت ہے
جس کے دل میں شفقت ہے
رہتی ہے وہ بے آرام
کرتی ہے وہ دن بھر کام
بچوں کو رکھتی ہے عزیز
ان کو کھلاتی ہے ہر چیز
پھرتی ہے یوں تھکن اُٹھائے
ماتھے پر وہ شکن نہ لائے
کوئی نہیں ہے اُس کا ثانی
کہلاتی ہے دادی نانی
پیرُوں تلے ہے اُس کے جنت
بچوں سے کرتی ہے محبت

ماں

موت کی آغوش میں جب تھک کے سو جاتی ہے ماں
تب کہیں جا کر تھوڑا سکوں پاتی ہے ماں
روح کے رشتوں کی یہ گہرائیاں تو دیکھئے
چوٹ لگتی ہے ہمارے اور چلاتی ہے ماں
پیار کہتے ہیں کسے اور مامتا کیا چیز ہے؟
کوئی ان بچوں سے پوچھے جن کی مر جاتی ہے ماں
زندگانی کے سفر میں گردشوں کی دھوپ میں
جب کوئی سایہ نہیں ملتا تو یاد آتی ہے ماں
کب ضرورت ہو مری بچے کو، اتنا سوچ کر
جاگتی رہتی ہیں آنکھیں اور سو جاتی ہے ماں
بھوک سے مجبور ہو کر مہماں کے سامنے
مانگتے ہیں بچے جب روٹی تو شرماتی ہے ماں
جب کھلونے کو مچلتا ہے کوئی غربت کا پھول
آنسوؤں کے ساز پر بچے کو بہلاتی ہے ماں
لوٹ کر واپس سفر سے جب بھی گھر آتے ہیں ہم
ڈال کر بانہیں گلے میں سر کو سہلاتی ہے ماں
ایسا لگتا ہے جیسے آگئے فردوس میں
کھینچ کر بانہوں میں جب سینے سے لپٹاتی ہے ماں
دیر ہو جاتی ہے گھر آنے میں اکثر جب کبھی
ریت پر مچھلی ہو جیسے ایسے گھبراتی ہے ماں
شکر ہو ہی نہیں سکتا کبھی اس کا ادا مرتے مرتے بھی دعا جینے کی دئے جاتی ہے ماں

مری ماں

جنت نظیر ہے مری ماں
رحمت کی تصویر ہے مری ماں
میں ایک خواب ہوں زندگی کا
جس کی تعبیر ہے مری ماں
زندگی کے خطرناک راستوں میں
مشعلِ راہ ہے مری ماں
میرے ہر غم ، ہر درد میں
ایک نیا جوش ، ولولہ ہے مری ماں
میری ہر ناکامی وابستہ مجھ سے ہے
میری جیت میری کامیابی کا راز ہے مری ماں
چھپا لیتی ہے زخم کو وہ مرہم کی طرح
میرے ہر درد ہر غم کی دوا ہے مری ماں
دنیا میں نہیں کوئی نعم البدل اس کا
ممتا میں ہے مکمل فقط مری ماں

ماں

نیند اپنی بُھلا کے سُلایا ہم کو
آنسو اپنے گِرا کے ہنسایا ہم کو
درد کبھی نہ دینا اُن ہستیوں کو
اللہ نے ماں باپ بنایا جن کو
ماں
: ماں ساتھ ہے تو سایہ ٔ قربت بھی ساتھ ہے
ماں کے بغیر دن بھی لگے جیسے رات ہے
میں دور جائوں اُس کا میرے سر پہ ہاتھ ہے
میرے لیے تو ماں ہی میری کائنات ہے
ربِّ جہان نے ماں کو یہ عظمت کمال دی
اُس کی دعا پہ آئی مصیب بھی ٹال دی
قرآن میں ماں کے پیار کی اُس نے مثال دی
جنت اُٹھا کے مائوں کے قدموں میں ڈال دی

 

ماں

موت کی آغوش میں جب تھک کے سو جاتی ہے ماں
تب کہیں جا کر سکوں تھوڑا سا پا جاتی ہے ماں
فکر میں بچوں کی کچھ اسطرح گھل جاتی ہے ماں
نوجواں ہوتے ہوئے بوڑھی نظر آتی ہے ماں
اوڑھتی ہے خود تو غربتوں کا بوسیدہ کفن
چاہتوں کا پیرہن بچوں کو پہناتی ہے ماں
روح کے رشتوں کی یہ گہرائیاں تو دیکھیے
چوٹ لگتی ہے ہمارے اور چلاتی ہے ماں
اپنے پہلو میں لٹا کر اور طوطے کی طرح
اللہ اللہ ہم کو رٹواتی ہے ماں
گھر سے جب بھی دور جاتا ہے کوئی نور نظر
ہاتھ میں قرآن لے کر در پہ آجاتی ہے ماں
دے کے بچوں کو ضمانت میں رضائے پاک کی
پیچھے پیچھے سر جھکائے دور تک جاتی ہے ماں
لوٹ کے جب بھی سفر سے گھر آتے ہیں ہم
ڈال کے بانہیں گلے میں سر کو سہلاتی ہے ماں
وقت آخر ہے اگر پردیس میں نور نظر
اپنی دونوں پتلیاں چوکھٹ پر رکھ جاتی ہے ماں
پیار کہتے ہیں کسے اور مامتا کیا چیز ہے
کوئی ان بچوں سے پوچھے جن کی مر جاتی ہے ماں
سال بھر میں یا کبھی ہفتے میں جمعرات کو
ذندگی بھر کا صلہ اک فاتحہ پاتی ہے ماں

ماں
ہے دُنیا اگر اچھی تو اُس سے بھی اچھی ہے ماں میری۔
اپنا لے جو ہر درد میرا ایسی دوست ہے ماں میری۔
چوٹ لگے مجھے تو بہتے ہیں آنسو آنکھ سے اُس کی،
چُن لے جو ہر کانٹا میرے دامن سے ایسی ماں ہے میری۔
رکھ کر خود کو بھوکا بھرا ہے جس نے پیٹ میرا،
کیسے کروں بیاں کہ کیا ہے میرے لیے ماں میری۔
مہک اُٹھے جس کی خوشبو سے آنگن میرا،
پھولوں کی اِک ایسی وادی ہے ماں میری۔
نہیں دے سکتا مول اے ماں میں تیری محبت کا،
چاہیے بس ساتھ تیرا چاہے لے لے ساری دولت دُنیا میری۔
شُکر کروں میں کیسے ادا اُس پاک ذات کا بدر،
دے دی جنت جس نے مجھے دُنیا میں میری۔
کر دے معاف میری ہر خطا اےماں میری۔
اب پچھتائوے کیا حوت جب نہیں رہی اب ماں تیری۔
بھٹکتا رہے گا یونہی اب تو در بدر،
نکلے گی دُعا تیرے لب سے کہ اے اللہ لوٹا دے مجھ کو ماں میری۔

ماں جیسے ہستی دنیا میں ہے کہاں
نہیں ملے گا بدل،چاہے ڈھونڈ لو ساراجہاں

Posted in کالم | 2 Comments »

احکامِ حجاب اور غامدی (حصہ اوّل)

Posted by ارتقاءِ حيات on May 11, 2012


سر ڈھکنا عورت کی شرم،حیا،عفت وپاکیزگی کی علامت ہے مگر ادارہ المورد اور آج ٹی وی کے اسکالر جاوید احمد غامد ی کی ویب سائیٹ پر ایک سوال کے جواب میں کہا گیا ہے کہ عورت کا سر پر دوپٹہ لینے کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے ہم اس عبارت کو یہاں آپ کے لئے نقل کر رہے ہیں:۔”مسلمان خواتین کے سر ڈھانپ کر رکھنے کا تعلق اسلامی شریعت کے قانون معاشرت سے ہے ہمیں شریعت کے تمام تر احکام اللہ کی کتاب اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں ملتے ہیں اور اس پر عمل کرنا تمام مسلمانوں کے لئے ضروری ہے گھر اور گھر کے باہر اللہ نے مرد و عورت کے لئے آداب مقرر کئے ہیں جو سورہ نور کی آیت 30-31 میں بیان ہوئے ہیں آداب درج ذیل ہیں (١)دوسروں کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اپنا تعارف کرایا جائے اگر گھر والے واپس جانے کو کہیں تو دل میں تنگی محسوس کئے بغیر لوٹ جائیں (٢) مرد وعورت جہاں موجود ہوں تو وہ اپنی نگاہ نیچی رکھیں (٣) دونوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے لباس سے اپنی شرمگاہوں اور صنفی کشش والے اعضاء کو ڈھانپ کر رکھیں عورتیں اپنی آرائش و زیبائش کو نمایاں کرنے کی کوشش نہ کریں اور صرف اپنے رشتہ داروں کے سامنے ظاہر کریں جن کا ذکر سورہ نور کی آیت 31 میں کیا گیا ہے یاد رہے عادة ظاہر رہنے والے اعضاء مثلا ہاتھ پاؤں اور چہرے آرائش و زیبائش کے اس حکم سے مثتنی ہیں عورتیں اپنے سینے اور گریبان ڈھانپ کر رکھیں ۔درج بالا تفصیل سے یہ بات بلکل واضح ہے کہ شریعت اسلامی میں عورتوں سے اس بات کا مطالبہ نہیںہے کہ وہ ہر وقت سر پر دوپٹا یا اسکاف وغیرہ لیں اس کا تعلق تو ہماری (بالخصوص مشرقی)تہذیبی روایات سے ہے اور اس پر عمل بھی اسی حیثیت سے کرنا چاہئے۔”حوالہ(www.urdu.understanding-islam.orgاس عبارت کو پڑھ کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کس طرح سے شریعت کا نام دے کر عورت کو سر کھلا رکھنے کی اجازت دی جارہی ہے سورہ نور کی آیت30-31 کاجو حوالہ دیا گیا ہے اس کا ہم جائزہ آگے تفصیل سے لیں گے پہلے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ قرآن و حدیث میں سر کو ڈھانپ کر رکھنے کے بارے میں کیا بیان ہواہے ترجمہ آیت:”اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج اوربیٹیوں اور مسلمان عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنے چادر کے پلو اپنے اوپر سے لٹکا لیا کریں یہ بہتر ہے ان کے لئے پھر وہ پہچان لی جائیں گی اور ستائی نہ جائیں گی اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔(سورہ احزاب آیت59) اس آیت کی تشریح میں ابن عباس سے منقول ہے کہ اللہ مسلمان عورتوں کو حکم دیتا ہے کہ جب بھی وہ کسی کام کاج کے لئے باہر نکلیں تو جو چادر وہ اوڑھتی ہیں اسے اپنے سر پر سے جھکا کر منہ ڈھک لیا کریں صرف آنکھ کھلی رکھیں۔(تفسیر ابن کثیر ،تفسیر طبری)اس کے بعد احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں۔مفہوم حدیث:۔ام سلمہ سے روایت ہے جب یہ آیت اتری (یعنی نیچے لٹکالیں اپنے اوپر تھوڑی چادریں اپنی) تو انصار کی عورتیں اس طرح نکلتی تھیں جیسے ان کے سروں پر کوے بیٹھے ہیں یعنی سیاہ کپڑے سروں پر ڈالتیں۔(سنن ابوداؤد کتاب لباس جلد 3،ابن کثیر)مفہومِ حدیث:۔انس سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ  کے پاس ایک غلام لے کر آئے جو ان کو ہبہ کیا تھا اس وقت فاطمہ  جو چادر اوڑھی ہوئی تھیں اس سے سر کو ڈھانکتیں تھی تو پاؤں تک نہ پہنچتی اور پاؤں ڈھانکتیں تو سر تک نہ پہنچتی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ دیکھا تو فرمایا اگرتمہارا سر یا پاؤں کھلا رہے تو کچھ حرج نہیں کیونکہ یہاں تمہارے والد ہیں یا تمہارا غلام ہے۔(ابوداؤد کتاب لباس جلد3)مفہومِ حدیث :۔ام عطیہ سے روایت ہے کہ ہم کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کیا مستورات کے نکلنے کا عید کے روز(یعنی نماز کے لئے ) ایک عورت نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر کسی کے پاس چادر نہ ہو تو کیا کرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی سہیلی کچھ چادر اس پر ڈال دے ۔(صحیح بخاری کتاب الصلوةجلد 1،سنن ابوداؤد کتاب الصلوةجلد1)قرآن مجید کی آیت اور ان احادیث سے یہ بات واضح ہے کہ عورت جب گھر سے باہر نکلے گی تو وہ اپنا سر نامحرم کے سامنے ڈھانپ کر رکھے گی جیسا ابن عباس کے قول سے واضح ہے کہ عورت جب بھی باہر نکلے اپنے سر کو ڈھانپ کر رکھے اور احادیث سے بھی یہ بات اور روز روشن کی طرح عیاں ہے جیسا کہ پہلی حدیث سے واضح ہے کہ جب سورہ احزاب کی یہ آیت نازل ہوئی تو عورتوں نے اپنے سروں پر چادر یں ڈال لیں اور دوسری حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ  سے فرمایا کہ والد (یعنی محرم)کے سامنے تمہارا سر اگر کھلا ہو تو کچھ حرج نہیں یعنی نامحرم سے سر کو ڈھانپ کر رکھنا چاہئے، اور تیسری حدیث جب ایک عورت نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر کسی کے پاس چادر نہ ہو تو وہ کیا کرے اس سے صاف معلوم ہو ا کہ عورتیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بغیر چادر کے گھر سے باہر جانے کا سوچتی بھی نہیں تھیں اور یہاں چادر سے مراد وہی چادر ہے جس کی ابن عباس نے سورہ احزاب کے حوالے سے تشریح کی ہے کہ سر کے اوپر سے جھکا کر چہرہ ڈھک لیں۔اب یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ شریعت عورتوں سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ وہ جب بھی گھر سے باہر نکلیں تو اپنے سر کو ڈھانپ کر رکھیں اور اس بارے میں ادارہ المورد کو غلط فہمی ہوئی ہے ۔اب ہم سورہ احزاب میں جو پردے کے احکام نازل ہوئے ہیں اس کے بارے میں جائزہ لیتے ہیں جس کی ادارہ المورد اور غامدی صاحب غلط تعبیر کرتے ہیں۔

مندرجہ بالا مضمون  امت کی اصلاح وتصیح کی خاطر  دفاع حدیث نامی ویب سائٹ سے لیا گیا ہے۔تاکہ مندرجہ بالا فتنہ کے بارے میں عوام آگاہ ہو سکیں۔

جاری ہے۔۔۔۔

Posted in کالم | 2 Comments »

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers