دوستی
Posted by ارتقاءِ حيات on February 6, 2012
جنرل ضیا الحق نے مارچ 1981میں لاہور کے تقریباً ہر قابل ذکر شخص کو جیل کی چاردیواری میں بند کر دیا تھا۔ان میں حمید اختر،شعیب ہاشمی، حبیب جالب،محمود علی قصوری،مظہر علی خان،عبداللہ ملک،رضاکاظم،اداکار حبیب،راؤ رشید،ڈاکٹر مبشر حسن،آئی اے رحمٰن،جج سعید ملک، رون ملک، اداکار محمد علی اور درجنوں جمہوریت پسند وکلاء شامل تھے۔یہ محمد علی کے عروج کا دور تھا اور وہ بڑی شاہانہ زندگی بسر کرتے تھے۔مگر جیل کے شب و روز انہوں نے بڑے حوصلے سے گذارے۔یہ سارے سیاسی قیدی تھے اور ان سے عام قیدیوں سا سلوک نہیں کیا جاتا تھا۔لاہور کی کورٹ لکھپت جیل میں ان سیاسی قیدیوں نے وقت گذاری کے لئے والی بال کی ایک ٹیم بنا لی تھی۔جس کے کپتان حمید اختر اور نائب کپتان محمد علی تھے۔دو(2)ٹیمیں بنائی گئیں تھیں جس کے ایک دھڑے میں حمید اختر ،حبیب جالب ،محمد علی اور کچھ دیگر لوگ شامل تھے،جبکہ دوسری جانب ایک وکیل،اداکار حبیب اور کچھ دیگر لوگ شامل تھے۔دونوں ٹیموں کے اکثر مقابلے ہوتے رہتے تھے۔اکثر محمد علی کے غلط کھیل کی وجہ سے حمید اختر کی ٹیم سے نکالنے کا مطالبہ کرتے تھے۔ایک بار ایسے ہی ایک مقابلے میں میاں محمود علی قصوری نے ٹرافی دینے کا اعلان کیا ۔محمد علی کی غلط سروس کی وجہ سے ان کی ٹیم ہار گئی۔اور ٹرافی دوسری ٹیم کو دے دی گئی۔ٹرافی میچ کے دوران ٹرے میں کپڑے سے ڈھانپی سامنے رکھی تھی۔جیتنے والی ٹیم کو ٹرافی دیتے وقت کپڑا اٹھایا گیا تو دیکھا کہ کپڑے کے نیچے ایک بڑا سا تربوز رکھا تھا۔حبیب جالب سخت غصہ میں آگئے اور انہوں نے رات کے کھانے سے بھی انکار کر دیا۔
ایسی کئی لڑائیوں کے باوجود بھی محمد علی اور حبیب جالب میں دوستی اور محبت کا بڑا ہی پختہ رشتہ تھا۔صبح ناشتہ سے فارغ ہوتے ہی دونوں تاش کی بازی لے کر بیٹھ جاتے۔شرط میں سگریٹ کی ڈبیا رکھی جاتی ۔ ایک دن حبیب جالب نے بازی میں سگریٹ کی 2ڈبیہ جیتیں اور اگلی ہی بار دونوں ڈبیوں پر بازی لگا دی۔ اور 2ڈبیامزید جیت گئے ۔اگلی باری میں چاروں ڈبیائیں ایک ساتھ بازی پر لگادیں۔ اور اس سے اگلی بازی بھی وہ جیت گئے،اور8ڈبیہ جیت گئے۔حمید اختر نے انہیں سمجھایا کہ اب وہ چاہتے ہیں تو 8ڈبیہ جیت کر آرام سے8دن گذار سکتے تھے مگر انہوں نے آٹھوں ڈبیائیں اگلی باری میں ایک ساتھ لگا دیں اور وہ بازی وہ ہار گئے۔محمد علی کو جب بعد میں پتا چلا کہ حبیب کے پاس سگریٹ ختم ہو گئے ہیں تو وہ اکثر جان بچھ کر بازی ہار جاتے اور یوں جیل میں جالب کی سگرٹوں کا مسئلہ حل ہوجاتا تھا۔محمد علی کا کھانا ان کے گھر سے آتا تھا جو وہ دوستوں کے ساتھ مل کر کھاتے تھے۔ ان کے اکثر مداح قصور سے مٹھائی اور پھلوں کے ٹوکرے لایا کرتے تھے۔جو وہ قیدیوں میں تقسیم کروادیتے تھے۔




Ajaz said
General Zia was the monster who brought us to a point where we call killers as ghazi and victims as shaheeds. They should uproot his grave from Faisal Mosque. He should be first tried post humously for treason for booting out an elected civil government. Then they should try Musharraf. Hang him and bury him in that empty hole, and wait for the third one.
ام تحریم said
سیاست کے راز آج کے حکمران کچھ اور ہی سمجھ بیٹھے ہیں کس کس کو سمجھائیں؟؟
دوستی | Tea Break said
[...] دوستی [...]
farhan said
nice
ارتقاءِ حيات said
شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔