تحریک آذادی میں علماء کا کردار
Posted by ارتقاءِ حيات on February 5, 2012

1918 کا زمانہ تھا۔انگریزترکی کی سلطنت کے ٹکڑے ٹکڑے کردینا چاہتے تھے۔شیخ الہندؒ مولانا محمود الحسن ؒ نے محسوس کیا کہ اس وقت درسگاہ سے زیادہ سیاست کا میدان اہم ہے۔چنانچہ دارالعلوم دیو بند سے مستعفی ہو کر انہوں نے ریشمی رومال کی تحریک میں زبردست حصہ لیا۔
وہ مسلم طاقتوں سے مل کر ہندوستان میں انگریزوں کا تختہ الٹ دینا چاہتے تھے۔ اس اسکیم کی آخری کڑی یہ تھی کہ ترکی کے غازی انور بے مکہ مکرمہ آئیں گے اور وہاں شیخ الہند کے ساتھ آخری منصوبہ طے ہو گا۔انگریزوں پر یہ راز کسی طرح کھل گیا۔انہوں نے شریف مکہ کے ذریعے شیخ الہند کو گرفتار کر کہ4سال کے لئے مالٹا بھیج دیا ،
اسیری کے بعد شیخ الہند دوبارہ تشریف لائے مگر زندگی نے زیادہ دیر وفا نہ کی اور آپ خالق حقیقی سے جا ملے ۔ ان کی زمانے کی سیاست کا جھنڈا مسلمانوں کے ہاتھ میں تھا اور کانگریس ان کے پیچھے ہاتھ باندھ کر چلا کرتی تھی،لیکن حالات کی تبدیلی کے ساتھ معاملات بدلتے چلے گئے اور 1935کے آخر میں نوبت یہاں تک آگئی کہ سیاست کا علم ہندو کانگریس کے ہاتھ میں اور مسلمان اس کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔(ماخوذ )



