ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

اجزائے قرآن کا تعارف : رکوعات

Posted by ارتقاءِ حيات on February 2, 2012


پورے قرآن کو مساوی 30حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ تقسیم توفیقی نہیں ہے،حتٰی کہ خلافت راشدہ میں بھی اس کا وجود نہ تھا۔پاروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی تقسیم حجاج بن یوسف کے زمانے میں ہوئی۔رکوع کی تقسیم اور بعد میں ہوئی۔ پاروں کی تقسیم خالص مقداروں کے لحاظ سے کی گئی۔اس میں
معنوی ربط ملحوظ نہیں رکھا گیا۔ بعض مقامات پر پارہ تو ختم ہو جاتا ہے مگر مضمون کا تسلسل جاری رہتا ہے۔
رکوع کے تعین کا مقصد یہ ہے کہ آیتوں کے درمیان ایسے مقامات کی نشاندہی کر دی جائے جہاں سلسلہ قرات ختم کردینے میں کوئی بے ڈھنگا پن اور نقص لازم نہ آتا ہو۔اور اس نشاندہی کی ضرورت اس لئے بھی محسوس کی گئی کہ مطالب قرآن سے ناواقف لوگ از خود یہ تعین نہیں کر سکتے، کیونکہ جس کسی کو آتیوں کے معنی ہی نہ معلوم ہو وہ یہ کیسے جان سکتا ہے کہ قرات کا سلسلہ کس جگہ ختم کرنا مناسب ہو گا،اور کس جگہ نا مناسب ہوگا،وہ ایسے مقام پر بھی اپنی زبان کو روک سکتا ہے جہاں بات بالکل ادھوری رہ جاتی ہو۔ظاہر ہے بالکل بھونڈی اور نا پسندیدہ حرکت ہوگی۔
اب مجبوری اور نا درستگی کے اس بھونڈے پن سے لوگوں کو بچانے کے لئے ایک ہی شکل تھی اور وہ یہ کہ قرآن مجید میں ایسے مقامات کی نشاندہی کر دی جائے جہاں اگر قرآن کی قرات ختم کر دی جائے تو اس طرح کی کوئی خرابی واقع نہ ہو۔
(قرآن مجید کا تعارف:صفحہ109)
رکوع کے متعلق مشہور محقق عبد الصمد الزہری لکھتے ہیں کہ :
حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ نےاول تراویح میں 10آیتیں پڑھنے کا حکم دیا بعد میں جس جگہ مطلب ختم ہوتا رکعت ختم کرتے اس طرح 540رکوع ہوئے۔ بعض نے 551کہا (مفید القاری)ختم القرآن 27رمضان کو ہونے لگا کیوں کہ تیسویں تاریخ کا ہمیشہ ہونا ممکن نہ تھا ۔اس صورت میں قرآ ن کے باقی رہ جانے کا خدشہ تھا۔بعض نے اس عمل کو حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منسوب کیا اور بعض نے حضرت حذیفہ بن یمان کی جانب جبکہ بعض حضرت عبد الرحمٰن سلمی کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور بعض نے حضرت حسن بصری کی طرف اشارہ دیا، لیکن یہ صحیح یہ ہے کہ یہ عمل حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ہےمگر یہ تعلیم میں تھا تحریر میں نہ تھا ۔یعنی رکوع کا نشان (ع) علماء کی ایجاد ہے (مبسوط سرخسی : جلد ثانی، صفحہ 146)یہ نشان ابو عبد اللہ محمد بن طیفور السجاوندی  کی ایجاد ہے۔(تاریخ قرآن:148)

One Response to “اجزائے قرآن کا تعارف : رکوعات”

  1. [...] اجزائے قرآن کا تعارف : رکوعات [...]

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers