اجزائے قرآن کا تعارف : آیات
Posted by ارتقاءِ حيات on February 2, 2012
قرآنی سورتوں کے وہ خاص مقدار کے ٹکرے جن کی حد بندی برہ راست اللہ کی جانب سے ہوئی ہے، آیات قرآنے کہلاتی ہیں۔مقدار کے لحاظ سے قرآنی آیات میں بھی تفاوت ہے۔بعض آیات مختصر ہیں اور بعض طویل ۔ہر آیت کا پورا جملہ ہونا ضروری نہیں ہے،اکثر آیات ایسی ہی ہیں ،لیکن بعض آیات اتنی مختصر ہیں کہ ان اس طرح کی کچھ آیات ملنے سے ہی جملہ مکمل ہوتا ہے۔قرآن مجید میں آیات کا لفظ درج ذیل معنوں میں استعمال ہوا ہے۔
عبرت و استدلال جیسے فقد کان لکم آیۃ فی فئتین التقتا (آل عمران:13)
نشانی جیسےفیہ آیات بینات مقام ابرہیم (آل عمران:51)
کلام اللہ جیسےاذاتتلی علیھم آیات الرحمٰن (مریم:58)
معجزہ جیسے وقالو الولاانزل علیہ آیۃ من ربہ (عنکبوت:50)
دلائل حقہ جیسے وفی الارض آیات للموقنین (الذریات :20)
(البرہان علوم القرآن :جلد 1،صفحہ127)
آیت کی اصطلاحی تعریف کچھ یوں ہے:
قرآن کی کسی صورت میں شامل وہ ٹکڑا ہے جو مطلع و مقطع رکھتا ہے۔(دراسات فی علوم القرآن صفحہ 127)
زمانہ نزول کے اعتبار سے آیات کی 2قسمیں ہیں 1۔مکی اور 2۔مدنی
قبل از ہجرت نازل ہونے والی آیات کو مکّی اور بعد از ہجرت جو بھی صورت چاہے کو مکّہ میں نازل ہی کیوں نہ ہوئی ہو یا کسی اور مقام پر آیات مدنی کہلاتی ہیں۔
تقسیم آیات کی حکمتیں
یہ اس بات کا اظہار کرتی ہیں کہ قرآن کی چھوٹی 3آیات بھی معجزہ ہیں جیسے سورہ کوثر
آیات کی اس پہچان پر بعض احکام فقہیہ مرتب ہوتے ہیں۔(الاتقان :جلد 1صفحہ69)
نماز کی مسنون قرات کی پہچان معرفت آیات کے بغیر ممکن نہیں۔
(یعنی آیات کی پہچان مقصود ہےاچھی قرات والوں ک کے لئے)





mahmood said
السلام علیکم
محترمہ آپ نے شائد غور نہیں کیا کہ آپ کی پوسٹ کے نیچے ” کتے ” کی ویڈیو چل رہی ہے ۔ برائے مہربانی اسے ڈیلیٹ کر دیں ۔ کیونکہ آپ اسلامی موضوعات پر لکھتی ہیں ۔ اشتہارات میں کچھ بھی آ سکتا ہے ۔
ام تحریم said
میرے پاس کوئی ویڈیو دکھائی نہیں دے رہی
اور اشتہارات بھی نہیں ہیں
mahmood said
میرے درج بالا کمنٹس کے بعد وہ ویڈیو نظر نہیں آ رہی ۔ اس پر ایڈورٹائزمنٹ لکھا تھا ۔ آپ اپنے بلاگ میں دیکھیں کہیں کوئی آپشن تو نہیں کھلا رہ گیا ۔ اور میرے کمنٹس کو یہیں ختم کر دیں ۔شکریہ
ام تحریم said
اشتہارات شائد میرے بس میں نہیں یا مجھے ٹھیک کرنا نہیں آتے کچھ کرتی ہوں اس سلسلے میں بھی
اجزائے قرآن کا تعارف (آیات) حصہ اوّل | Tea Break said
[...] اجزائے قرآن کا تعارف (آیات) حصہ اوّل [...]
افتخار اجمل بھوپال said
اس فقرے کی سمجھ نہيں آئی
۔” نماز کی مسنون قرات کی پہچان معرفت آیات کے بغیر ممکن نہیں”۔
آيت کا مطلب نشانی ہے ۔ اسی تعلق سے اللہ کی کتا ” قرآن ” کے ہر جملہ کو آيت کہا گيا ہے کہ يہ اللہ کی نشانياں ہيں
ام تحریم said
معرفت آیات سے مراد آیا ت سے مراد آیات کی پہچان ہونا ضروری ہے
مجھے ابھی زیر و زبر کی مشق ٹھیک سے نہیں ہو پا سکی ہے
زیر لگانے میں کاہلی و کنجوسی کے باعث شرمندہ ہوں
haerul hadi said
Assalamulaikum…
hai sister…
greetings and love from indonesia
ارتقاءِ حيات said
haerul hadi شکریہ بھائی