خوف ناک عفریت
Posted by ارتقاءِ حيات on January 30, 2012
یہ واقعہ 1971کا ہے۔2لڑکیاں کار میں امریکہ کی ریاست مسوری کے قصبہ ہینی بل سے سینٹ لوئس کی طرف جا رہی تھیں۔لوئیسیانا کے مشرق میں انہوں نے کار روکی۔مقصد تھوڑی دیر آرام اور دوپہر کا کھانا تناول کرنا تھا۔
کھانا شروع کرنے کے کچھ دیر بعد انہیں ایک مکروہ سی بدبو اپنے قرب و جوار میں پھیلتی محسوس ہوئی۔ایک لڑکی نے مڑ کر دیکھا تو دیکھتی رہ گئی۔جھاڑیوں کے جھنڈ میں ایک لمبا چوڑا گوریلا نما عفریت کھڑا انہیں گھور رہا تھا۔
لڑکیوں کے اوسان خطا ہو گئے وہ فوراً اپنی گاڑی کی طرف بھاگیں،اور اندر گھس کر دروازے بند کر لئے۔وہ تو اسی وقت وہاں سے فرار ہو جاتیں مگر گاڑی میں گھسنے کے بعد انہیں خیال آیا کہ گاڑی کی چابیاں ان کے کھانے کے سامان کے ساتھی ہی باہر رہ گئی ہیں۔وہ عفریت اتنی دیر میں جھاڑیوں سے نکل کر ان کے اور چابیوں کے درمیان آکھڑا ہوا تھا۔
لڑکیوں نے جو بعد میں بیان دیا ،اس سے انسان اور بند ر کا ایک ملا جلا تاثر ابھرتا ہے۔ایک لڑکی کے بیان کے مطابق
یہ دونوں پیروں پر بالکل سیدھا کھڑا تھااور چلتے ہوئے اس کی کمر میں خم پیدا نہیں ہوتا تھا جیسا کہ دیگر انسان نما جانوروں کے ساتھ منسوب کیا جاتا رہا ہے۔اس کے بازو لمبے لمبے تھے اور کمر سے نیچے تک جھول رہے تھے۔اس کے بازوؤں پر گھنے بال تھے لیکن ہتھیلیاں بالکل صاف تھیں۔ہمیں اسے بڑی اچھی طرح دیکھنے کا موقع ملا کیوں کہ اس نے گاڑی کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی تھی۔ معلوم ہوتا تھا کہ اس کا گاڑی سے پہلی بار واسطہ نہیں پڑا ہے کیونکہ وہ گاڑی سے خوفزدہ نہیں تھا۔لیکن وہ دروازہ کھولنے کے طریقےسے ناواقف تھا ۔جب اس نے جھک کر دیکھنے کی کوشش کی تو ہم نے گاڑی کا ہارن بجانا شروع کر دیا جس سے وہ چونک اٹھا اور تیز قدموں سے واپس جھاڑیوں کی جانب چل پڑا۔تھوڑی ہی دیر میں وہ ہماری نگاہ سے اوجھل ہو گیا ۔کچھ دیر بعد میں گاڑی سے نکلی اور چابیا اٹھا کر واپس بھاگ آئی۔
اس واقعے پر تحقیق کرنے والے نے مبینہ جانور کو “مومو”کانام دیا جو مسوریزمونسٹر“یعنی “مسوری کا عفریت”کا مخفف ہے۔1972 کے وسط تک اس علاقے میں مومو کو تلاش کرنے کی کوششیں اپنے عروج پر پہنچ چکی تھیں ۔مقامی اخبارات میں عجیب قسم کی خبریں شائع ہو رہی تھیں۔





Ali Hasaan said
ایسا لگتا ہے جیسے ختم نہیں ہوا۔اس کا اگلا حصہ آئے گا یا بس؟؟
ام تحریم said
بھائی صرف ایک واقعہ تھا جس کا معمہ حل نہ ہو سکا
کسی جگہ پڑھاتھا انٹرنیٹ پر بھی حقیقت دریافت کی اور لکھ دیا
خوف ناک عفریت | Tea Break said
[...] خوف ناک عفریت [...]
افتخار اجمل بھوپال said
يہ واقعہ کس سن کا ہے ؟ تصوير تو بہت تازہ لگتی ہے يعنی ڈيجيٹل دور کی
ام تحریم said
پوسٹ تحریرکرتے وقت واقعہ کا سن 1971 تحریر تھا کہ بعد مین جب ٹیگ شامل کرنے بیٹھی تب اسی میں سے دیکھ کر لکھا تھا
پھر غائب کیسے ہوا مجھے نہیں علم
بہر حال سن 1971 کا واقعہ ہے
اور دی گئی تصویر اس پر بنی ایک فلم میں سے لی گئی ہے
اور اس پر ناول بھی لکھے گئے ہیں جس میں سے چند ایک خیالی تصاویر مزید ملاحضہ کیجئے
http://www.stateofhorror.com/momo2.jpg
http://americanmonsters.com/site/wp-content/uploads/2010/12/momo_bw.jpg
http://3.bp.blogspot.com/-_rGi1uWDRcI/TnT6n214NDI/AAAAAAAAZjU/OzsrFeaZLAA/s1600/momo11.JPG