عبد الماجد دریا بادی (حصہ دوم)
Posted by ارتقاءِ حيات on January 28, 2012
اب سوال یہ تھا کہ ان حضرات کی مدلل تحریر کو جواب کیسے دیا جائے؟خود کو کسی قابل سمجھ نہیں رہا تھا۔ اور مدد کسی کی وہ چاہتا نہیں تھا۔انہی دنوں اس کو ہاتھ “عباسی چڑیا کوٹی “کی کتاب “الاسلام”ان کے ہاتھ آگئی۔کتاب کا مطالعہ کرنا ہی تھا کہ جیسے چراغ سا جل گیا۔کچھ کتاب سے کچھ خود سے ملا جلا ایک مضمون تیار کر کے صوبے کے سب سے بڑے اخبار”اودھ اخبار”میں بھیج دیا ۔اسے امید نہ تھی کہ اس مضمون کو اتنے بڑے اخبار میں جگہ مل پائے گی۔مگر مضمون کو جب پرچہ کی زینت بنا دیکھا تو دل خوشی سے باغ باغ ہو گیا۔اس مضمون سے ان کی ادبی زندگی کا آغاز ہو گیا تھا۔
یہ ہندوستان میں مناظرے بازی کا وور تھا۔لیکن عبدالماجد کی عمر ایسی نہ تھی کہ وہ کسی مناظرے میں شرکت کر سکتے ،لیکن ماہ نامہ “تحفہ محمدی” کے چند شماروں سے معلومات کو اخذ کر کے ایک کاپی میں خوشخط نقل اپنے پاس محفوظ کر لی ۔گویا کہ ان کی پہلی تصنیف تھی ،جو بعد میں ادھر ادھر ہو گئی۔پڑھنے کا اس زمانے میں عبدالماجد کو جنون تھا سمجھ آئے نا آئے ہر مضمون پڑھنا ان کا مشغلہ بن چکا تھا ۔ اب صورت حال یہ تھی کہ وہ حساب کے مضمون میں بے انتہا کمزور رہ گئے تھے مگر رحم دل استاد نے ایک ہندو ہم جماعت کو اس بات پر مامور کر دیا تھا کہ اسکول کے بعد کے اوقات میں وہ انہیں کچھ وقت دیا کرے جس کی بنا پر وہ حساب کے مضمون میں بھی درست رہ پائے اور میٹرک کا امتحان دوسرے درجہ میں پاس کر پائے۔
عبدالقادر صاحب ریٹائر ہو چکے تھے پر بچوں کی تعلیم سے غافل نہ تھے۔کالج کے لئے انہیں کیتگ کالج لکھنؤ میں داخل کرایا گیا۔گھومنے کا تو عبدالماجدکو شوق ہی بہت تھا وہ خوش تھے اور باپ بھی خوش تھے کہ ان کے قریبی محلہ مشک گنج میں رہائش رہے گی۔مگر جب وہ لکھنؤ پہنچےتو یہ وہ لکھنؤ نہ تھا جس کا خواب دیکھا گیا تھا ۔یہ تو غریب لکھنؤ گھرانا تھا ۔سیتا پور کی زندگی کا وہ عادی ہو چکے تھے۔ملازمین کی ایک لمبی قطار حاضر رہا کرتی تھی ۔یہاں 1ہی دن میں نڈھال ہو گئے۔قریب ہی بڑے بھائی سندیلہ میں چھوٹے تعلقہ دار چوہدری نصرت علی کے مکان میں بنا کرائے کے رہا کرتے تھے۔مکان تعلقہ دار کا تھا سو شاندار مکان تھا اب عبدالماجد کو لگا کہ وہ لکھنؤ میں ہے۔بھائی سے اجازت لے کر وہیں مقیم ہو گئے۔
کالج مین اس نے اختیاری مضامین کے طور پر منطق ، تاریخ اور عربی لئے۔یہ وہ مضامین تھے جن میں اس کی اہلیت کالج کے معیار سے کہیں زیادہ تھی۔
انگریزی لازمی مضمون تھا اور اس کے 2پرچے ہوا کرتے تھے۔ ایک پرچہ کتب نصاب کا اور دوسرا ترجمہ و مضمون نویسی کا۔ انگریزی سے اسے طبعی مناسبت تھی انگریزی اخبار و جرائد اس کے مطالعے میں رہا کرتے تھے لہذا اس مضمون میں بھی اسے پریشانی نہ ہوئی۔
کالج کے باہر خوب رنگین دنیا بکھری پڑی تھی وہ جب بھی گھومنے باہر نکلتا اور “چوک” کی جانب جاتا تو طبلوں کی تھاپ اس کے قدموں کو روک لینے کی کوشش کرتی۔یہ وہ بازار تھا جہاں جھروکوں میں بنی سنوری طوائفیں موجود ہوتیں ۔سولہ سترہ سال کی اس جوانی میں قدم خود بخود بالا خانے چڑھ جاتے ہیں لیکن اس کی خاندانی شرافت نے اس پر پہرا دیا ہوا تھا ۔مذہب کا خیال دل میں تھا ۔اب تک جتنا بھی اسلامی کتب کا مطالعہ کیا تھا اس کے ساتھ ساتھ چلتا تھا۔تہجد گذار ماں کا خیال آتا رہتا اور وہ سیاہ کاریوں سے دور رہتا۔
ایک روز شام کی سیر کو نکلا ہوا تھا اس کی نگاہ “رفاہ عام لائبریری “پر پڑی اس کے قدم لائبریری کی جانب اٹھ گئی۔اندر تو کتابو ں کا بازار تھا ۔اس نے ایک کتاب نکلوائی اور پڑھنے بیٹھ گیا اس دن کے بعد وہ سیر کو نکلتا اور یہیں کتابوں کی سیر کرتا رہتا۔
مطالعہ کی کثرت نے اس کے اندر کے ادیب کو بیدار کرنا شروع کر دیا ۔کالج کے ابتدائی سال تھے عمر نا پختہ تھی مگر کتابوں کے شغف نے اسے اتنی معلومات فراہم کر دی تھی کہ تصنیف و تالیف کی جانب مائل ہو گیا۔مولانا شبلی نعمانی کی سوانحی کتب شائع ہو رہی تھیں ،اس کی نظر سے بھی گذریں اس نے اپنا ہیرو “محمود غزنوی ” کو بنا لیا اور ایک مفصل مقالہ لکھ ڈالا ۔ اس مقالہ میں تاریخ یمنی سے استفادہ کرتے ہوئے یہ بتایا کہ غزنوی پر بخل کا الزام لغو ہیں یہی کام شبلی بھی انہی دنوں کر رہے تھے کہ فرزندان اسلام پر مغرب کے الزامات کی تردید تاریخی حوالوں سے کر رہے تھے۔اس کی کتاب ایک پبلیشر نے شائع کر کے اس کا نام بھی مصنفوں کی فہرست میں ڈال دیا،اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دیگر اہم ادیبوں سے بھی اس کے تعلقات استوار ہوتے چلے گئے۔
اس کتاب کے بعد اس نے ایک کتاب “غذائے انسانی”لکھی اس کتاب میں اس نے ڈاکٹری کتب کے حوالے سے یہ دکھایا کہ انسان کی قدرتی غذا علاوہ نباتات کے گوشت بھی ہے۔پہلے والے پبلیشر نے اس کی دوسری کتاب بھی شائع کر دی۔
ایک دن وہ لکھنؤ کی “ورما لائبریری “میں بیٹھا تھا کی اس کی نگاہ ایک موٹی جلد کی کتاب پر پڑی ۔کتاب ہاتھ میں لی تو سنہری حروف اس کے منتظر تھے۔
یہ ایک نیا موضوع تھا جو اب تک اس کی نظر سے نہیں گذرا تھا وہ کتاب پڑھنے بیٹھ گیا۔
24.893379
67.028061
Like this:
Be the first to like this post.
This entry was posted on January 28, 2012 at 7:42 PM and is filed under Element of Social Science, ہندوستان, قرآن, لکھنؤ, مقالہ, منطق, مولانا شبلی نعمانی, محمود غزنوی, مسلمان, مطالعہ, معلومات, چوہدری نصرت علی, نباتات, ڈاکٹر ڈریسیڈیل, کیتگ کالج, کالم, کتاب, کتب, کردار, گوشت, پبلیشر, افسانہ, الاسلام, انکشاف, انسان, اودھ اخبار, اخبار و جرائد, ادیب, ادب, اسلامی, بڑے لوگ, برصغیر, تاریخ یمنی, تاریخی, تحفہ محمدی, تحقیقات, تخلیقات, تصنیف و تالیف, تصانیف, داستان, رفاہ عام لائبریری, سندیلہ, سوانح حیات, سیتا پور, شغف, علم, عباسی چڑیا, عبد الماجد دریا بادی, عشق, غذائے انسانی.
Tagged: عبد الماجد دریا بادی. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed.
You can leave a response, or trackback from your own site.