بہادر سلطان
Posted by ارتقاءِ حيات on January 27, 2012
ابراہیم لودھی اوربابرکےدرمیان پانی پت میں زبردست جنگ ہو رہی تھی۔ابراہیم کی فوجیں بری طرح کٹ رہی تھیں،اور وہ بڑی حسرت و یاس سے یہ منظر دیکھ رہا تھا۔کسی نے اس سے کہا :
“جہاں پناہ! ہماری فوج کے حوصلے پست ہو چکے ہیں۔اس صورت میں بہتر یہ ہے کہ آپ جنگ کے میدان سے ہٹ جائیں۔اگر آپ بچ گئے تو ہم ایک اور فوج بھرتی کر کے ایک نہ ایک دن مغلوں لو مار بھگائیں گے۔”
ابراہیم نے جواب دیا :
ایک بادشاہ کے لئے میدان سے بھاگ نکلنا سخت بے عزتی کی بات ہے۔ ہمارے خیر خواہ اور دوست کثرت سے کٹ رہے ہیں ،لاشیں ہی لاشیں نظر آرہی ہیں۔ہم ان کے بغیر زندہ رہ کر کیا کریں گے؟ہم کسی صورت میدان سے نہیں ہٹیں گے۔”
ابراہیم لڑتے لڑتے موت کی گود میں جا سویا۔ بابر کو اطلاع دی گئی ۔بابر کو اس کی موت کا بڑا گہرا اثر ہوا ۔اس نے حکم دیا کہ “بہادر سلطان کو پورے اعزاز سے دفن کیا جائے۔




محمد ریاض شاہد said
کیا یہ مسلم تاریخ کی بدقسمتی نہیں کہ دونوں سلطان مسلمان تھے اور محض سلطنت کے حصول کے لئے اپنے مسلمان فوجی کٹوا رہے تھے ۔ اسی طرح کی ایک مثال تیمور کی ہے ۔ تیمور حافظ قرآن قرآن ، تلوار کا دھنی اور بلا کا حافظہ رکھتا تھا لیکن اس کی اور عثمانی سلطان بایزید کی انائیں ٹکرائیں اور اس نے بایزید پر اس وقت حملہ کیا جب عثمانی فوجیں یورپ میں جنگ لڑ رہی تھیں ۔ تیمور نے بایزید کی شکست کے بعد اس کی توہین کے لئے اس کے حرم کی خواتین کو عریاں کر کے پابند سلاسل بایزید کے سامنے اپنے خیمے میں پیش کیا ۔ اس کے بعد بایزید کے لئے ایک پنجرہ تیار کر کے اس میں اسے بند کر کے سفر و حضر میں ساتھ رکھا ۔ سلطان بایزید کی موت اسی پنجرے میں ہوئی ۔ پتہ نہیں اسے بہادری کہیں کہ حیوانی جبلت ۔
ام تحریم said
حب مال و زر ہی تو عین عبادت رہ گیا ہے
نام دیکھئے کیا شان و شوکت سے مسلمان انبیاء و صالحین کا استعمال کیا جاتا رہا ہے
اور حرکات ابلیس کو بھی شرما دیں
ہما جس کے سر پر بیٹھ جائے اسے دین سے غرض سے نہ خوف خدا
کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ
3 “ز” کی وجہ سے دنیا میں فتنہ ہی رہے گا
زن، زر اور زمین
بہادر سلطان | Tea Break said
[...] بہادر سلطان [...]