اجزائے قرآن کا تعارف (سورتیں)
Posted by ارتقاءِ حيات on January 25, 2012
سورہ لفظ سور سے نکلا ہے جس کے معنی شہر پناہ کے آتے ہیں۔قرآن پورا کا پورا ایک مسلسل مضمون کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ وہ114حصوں میں بٹا ہوا ہے۔۔ان 114حصوں میں سے ہر حصہ سورہ کہلاتا ہے۔سورہ کو سورہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ جس طرح شہر اپنی فصیلوں کے ذریعہ اپنی شناخت ظاہر کرتا ہے،اور ایک شہر ملک کے دوسرے شہروں سے ممتاز ہوتا ہے اسی طرح قرآن کی ہر سورہ کا مستقل موضوع ہوتا ہے۔اور دیگر تفصیلات ضمنی ہوتی ہیں،اور ہر سورہ اپنے مرکزی خیال کے لحاظ سے دوسری سورتوں سے ممتاز ہوتی ہے۔سورتوں کے نام توفیقی ہیں۔اللہ یا اس کے رسولﷺ نے رکھے ہیں۔ایک سورہ کے کئی کئی نام ہوتے ہیں،اسی طرح سورتوں کی مقدار میں بھی تفاوت ہوتا ہے،کوئی سورہ بہت لمبی اور کوئی بہت مختصر ہوتی ہے،اور کوئی درمیانی ہوتی ہے۔




Ajaz said
Hey Miss. Mote the people are dragged into religion, there will be lesser peace. %age of nnon-Muslims had declined steadily as Islam has pushed it’s way into daily lives of people of Pakistan. Thanks to people like you.
افتخار اجمل بھوپال said
بی بی جی ۔ 14 نہيں 114 ہيں ۔ درست کر ليجئے