عبدالقادر دریا بادی (حصہ اّول)
Posted by ارتقاءِ حيات on January 23, 2012
عبدالقادر لکھیم پور کھیری میں ڈپٹی کلیکٹر تھے۔مگر اہل خانہ دریا آباد میں رہائش پزیر تھے۔ان کے گھر ایک بچے نے1892 جنم لیا ۔یہ ان کا پہلا بچہ تو نہ تھا پر نجانے کیوں اس کی پیدائش پر دل کچھ زیادہ ہی خوش ہو رہا تھا،اس کی چاہت دوسرے بچوں کی نسبت زیادہ تھی اس کی وجہ بھی وہ نہیں جان پا رہے تھے۔انہوں نےبچے کا نام عبدالماجد رکھ دیا۔ اسکی والدہ کا نام نصیر النساء تھا ۔ ماجد کا تعلق قدوائی خاندان سے تھا۔جن کے آباء قاضی اور مفتیوں کا خاندان کہلایا جاتا تھا۔
شیخ محمد آبگش چشتی نظامی ایک نامور بزرگ گذرے ہیں۔یہ عبدالماجد کے مورث اعلٰی تھے۔آبگش اس لئے کہلائے کہ یہ لوگوں کو کنوؤں سے پانی بھر بھر کر لوگوں کو پلاتے اوروضو کرواتے تھے۔ان کی شہرت سن کر محمود آباد کےشاہی عامل دریا خان انہیں ایک ویران خطہ میں لے آئے جگہ کا نام دریا آباد رکھا اور یہاں آبادی کی بنیاد ڈالی۔حضرت آبگش کا انتقال ہوا تو دریا آباد ہی میں مدفن ہوئے۔
نسل چلتی رہی اور یہاں تک کہ عبدالماجد کے حقیقی دادا مفتی مظہر کریم زمانہ شاہی میں مفتی تھے۔انگریزوں کا نیا نیا دور تھا۔شاہ جہاں پور کو ضلع قرار دیا جا چکا تھا۔1857میں جنگ آزادی چھڑی تو ان پر الزام لگا کہ جہاد پر جو فتوی لگا تھا اس پر ان کے دستخط بھی تھے لہذٰا 14سال کی عبوردریا شور کی سزا ملی۔
نور محمد کریم جو عبدالماجد کے حقیقی نانا تھےعلم و فضیلت میں اپنی مثال آپ تھے۔علوم عربیہ و فارسیہ کی تحصیل علمائے فرنگی محل سے حاصل کی تھی۔طب کی تعلیم تو حاصل کی مگر مطب کھولنے کے بجائے ساری زندگی شاگردوں کو طب کی تعلیم ہی دیتے رہے۔اس زمانے میں قاعدہ یہ تھا کہ طب کا علم کسی کو سکھایا نہیں جاتا تھا۔مگر نور محمد صاحب نے اسے کار ہائے خیر سمجھ کر عام کیا۔
عبدالماجد نے بھی دینی تعلیم اپنے والد صاحب کی طرح فرنگی محل سے دینی تعلیم حاصل کی ۔باقاعدہ عالم تو نہ سہی پر اتنی کتابیں پڑھ لی تھیں کہ عالم کہا جا سکتا تھا۔سرکاری ملازمت کی طرف رغبت تھی اس لئے اسکول کی تدریسی سے ترقی کرتے کرتے ڈپٹی کلیکٹر کے عہدے پر جا پہنچا۔
والدہ بھی ایسی ہی تھیں کسی نے کبھی تہجد میں بھی ناغہ نہ دیکھا تھا۔عفت و حیا ایسی کہ اجنبی عورتوں سے بھی پردہ کرتی تھیں۔گو کہ زیادہ پڑھی لکھی نہ تھیں ردو بھی اٹک اٹک کر پڑھتی تھیں مگر علم کی قدر خوب جانتی تھیں۔اور چاہتی تھیں کہ عبدالماجد بھی بڑے بھائی عبدالمجید کی طرح خوب پڑھے لکھے۔
جب ماں باپ ایسے ہوں تو بلاشبہ بچے پر تو علم و ادب اور دین و مذہب کا رعب تو حاوی ہونا ہی ہے۔ایسا ذہن پایا کہ جو پڑھتا حفظ ہو جاتا۔ جو دیکھتے نقش ہو جاتا ۔دیکھتے ہی دیکھتے منزلیں طے کر لیں۔کھانے کا ہوش رہتا تھا نہ پینے کا بس کتابیں ہی اوڑھنا بچھونا بنا رکھا تھا ۔عربی فارسی جو کچھ بھی میسر آتا چھوٹی سی عمر میں ہی پڑھ ڈالنے کا شوق شروع ہی سے تھا۔بچپن سے ہی والدین کی طرف سے تمام ملازمین کو حکم تھا کہ عبدالماجد کی کسی بات کو رد نہ کیا جائے لہذا کچھ تحکمانہ میلان عبدالماجد کا ہو چکا تھا پر اچھی تربیت کی وجہ سے دیگر ضدی بچوں کی طرح بگڑانہیں تھا۔
بڑے بھائی کو روز اسکول جاتا دیکھ کر دل میں خواہش ابھری کے وہ بھی اسکول جائے۔زبان سے اظہار کی دیر تھی اور اسکول میں داخلہ کروادیا گیا۔اب حال یہ تھا کہ کلاس میں وہ ہم جماعتوں میں علم و فاضل مشہور ہوگیاتھا۔گھر پر بھی مولوی صاحب پڑھانے آتے تھے ۔
زندگی خوب چل رہی تھی کہ ایک دن عبدالقادر صاحب گھر آکر نئی خبر سنانے لگے کے تبادلہ سیتا پور ہو گیا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ پورا گھرانہ ان کے ساتھ سیتا پور منتقل ہو۔ عبدالماجدکو بہت خوشی ہوئی اسے نئی نئی جگہ دیکھنے کا بہت شوق تھا۔جبکہ والدہ کو دریا باد چھوڑنے کا دکھ تھا پر میاں کی خوشی میں وہ بھی خوش تھیں۔
سیتا پور میں بھی سوائے ماحول کے کچھ نہیں بدلا تھا ،خوشحالی گھوڑے گاڑیاں ،خدمت گار سب کچھ ساتھ چلا آیا تھا۔بچپن ختم ہوا تو لڑکپن کے ساتھ ہی مردان خانے میں جانے کی اجازت مل گئی۔وہاں ریاض خیر آبادی،طیش دہلوی،افتخار حسین ڈپٹی کللیکٹر ،ان کے چچا زاد بھائی عبد الحلیم اثر اور جانے کس کس کو مردان خانے میں آتے جاتے دیکھا۔علم و ادب، شعر و شاعری ،سیاست و معاشرت ،عربی، فارسی، انگریزی اور جانے کس کس زبان میں گفتگو جاری رہا کرتی تھی ۔ عبدالماجد کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتیں ۔کتابوں کے انبار تھے کہ پہاڑ وہ وہاں سے کتابیں رسالے اخبارات لے کر پڑھتا رہتا۔
نویں جماعت میں تھا کہ اخباروں کے مطالعے سے یہ راز کھلا کہ علی گڑھ کے بعض تعلیمیافتہ اہل قلم ملحدانہ انداز کے مضامین تواتر سے شائع کر رہے ہیں۔اور بعض نے تو انتہا کر دی کہ قرآن کے احکام معاملات کو حصہ عقائد سے بالکل علحیدہ کر دیا جائے۔اس وقت عبدالماجد کی عمر صرف 12یا 13 سال تھی،مگر مذہبی جذبے نہ ایسا جوش مارا کہ ان مضامین کا جواب تیار کرنے بیٹھ گیا۔




عبدالقادر دریا بادی (حصہ اّول) | Tea Break said
[...] عبدالقادر دریا بادی (حصہ اّول) [...]
kamran qadri said
اللہ سب کہ ایسا جذبہ عطا فرمائے۔ امین
ارتقاءِ حيات said
آمین ثما مین