قرآن کہانی: حضرت لوط عليہ السلام(حصہ دوم)
Posted by ارتقاءِ حيات on January 21, 2012
يہ ہے گناہ گاروں كا انجام
آخركار حضرت لوط عليہ السلام كى دعا مستجاب ہوئي اور خدا كى طرف سے اس قوم تباہ كار كے خلاف سخت سزا كا حكم صادر ہوا ،وہ فرشتے جو عذاب نازل كرنے پر مامور تھے قبل اس كے كہ سرزمين لوط پر اپنا فرض ادا كرنے كے لئے جاتے، حضرت ابراہيم عليہ السلام كے پاس ايك اور پيغام لے كر گئے اور وہ پيغام تھا، حضرت ابراہيم عليہ السلام كو فرزند كى پيدائش كى خوشخبرى تھى۔
” اس كى وضاحت يہ ہے كہ:ابراہيم شام كى طرف جلا وطن ہونے كے بعد لوگوں كو خدا كى طرف دعوت دينے اور ہر قسم كے شرك و بت پرستى كے خلاف مبارزہ كرنے ميں مصروف تھے،حضرت ”لوط”جو ايك عطيم پيغمبر تھے ،ان ہى كے زمانہ ميں ہوئے ہيں اور احتمال يہ ہے كہ اپ ہى كى طرف سے مامور ہوئے تھے،كہ گمراہوں كو تبليغ و ہد آيت كرنے كے لئے شام كے ايك علاقہ (يعنى سدوم كے شہروں كى طرف) سفر كريں ،وہ ايك ايسى گناہگار قوم كے درميان ائے جو شرك اور بہت سے گناہوں ميں الودہ تھى ،اور سب سے قبيح گناہ اغلام اور لواطت تھى ،اخر كار فرشتوں كا ايك گروہ،اس قوم كى ہلاكت پر ما مور ہوا ليكن وہ پہلے ابراہيم عليہ السلام كے پاس ائے۔
ابراہيم عليہ السلام مہمانوں كى وضع و قطع سے سمجھ گئے كہ يہ كسى اہم كام كے لئے جارہے ہيں ،اور صرف بيٹے كى ولادت كى بشارت كے لئے نہيں ائے، كيونكہ اس قسم كى بشارت كے لئے تو ايك ہى شخص كا فى تھا ،يا اس عجلت كى وجہ ہے جو وہ چلنے كے لئے كر رہے تھے ،اس سے محسوس كيا كہ كوئي اہم ڈيوٹى ركھتے ہيں”۔ قران ميںحضرت ابراہيم عليہ السلام سے ملاقات كا ذكر ہے چنانچہ كہا گيا ہے : جس وقت ہمارے ايلچى حضرت ابراہيم عليہ السلام كے پاس بشارت لے كرگئے ۔انھيں اسحاق اور يعقوب كے پيدا ہونے كى خوش خبرى سنائي اور پھر (قوم لوط كى بستى كى طرف اشارہ كرتے ہوئے )كہا كہ ہم اس شہر اور اس ميں رہنے والوں كو ہلاك كرديں گے كيونكہ يہ لوگ ظالم ہيں۔ ”(سورہ عنكبوت آيت 31)
چونكہ فرشتوں نے ”ھذہ القرية”۔ كہا اس سے ثابت ہوتا ہے كہ قوم لوط اسى مقام كے قرب جوار ميں رہتى تھى جہاں حضرت ابراہيم عليہ السلام رہتے تھے۔،اور اس قوم كو لفظ ”ظالم”سے ياد كرنا اس وجہ سے تھا كہ وہ اپنے نفوس پر ظلم كرتے تھے يہاں تك كہ اس طرف سے گزرنے والے مسافروں اور قافلوں پر بھى ستم كرتے تھے۔
جب حضرت ابراہيم عليہ السلام نے يہ بات سنى تو انھيں حضرت لوط پيغمبر خدا كى فكر ہوئي اور كہا :” اس آبادى ميں تو لوط بھى ہے ”۔( سورہ عنكبوت آيت 32)
اس پر كيا گزرے گى ؟
مگر فرشتوں نے فورا ًجواب ديا :” آپ فكر نہ كريں ہم ان سب لوگوں سے خوب واقف ہيں جو اس بستى ميں رہتے ہيں ”۔( سورہ عنكبوت آيت 32)
ہم اندھا دھند عذاب نازل نہيں كريں گے ہمارا پروگرام نہ آيت سنجيدہ اور نپاتلاہے۔
فرشتوںنے يہ بھى كہا كہ” ہم لوط عليہ السلام اور اس كے خاندان كو نجات ديں گے بجز اس كى بيوى كے كہ جو اس قوم كے ساتھ ہى مبتلائے عذاب ہوگى ”۔( سورہ عنكبوت آيت 32)
” اس كى وضاحت يہ ہے كہ:ابراہيم شام كى طرف جلا وطن ہونے كے بعد لوگوں كو خدا كى طرف دعوت دينے اور ہر قسم كے شرك و بت پرستى كے خلاف مبارزہ كرنے ميں مصروف تھے،حضرت ”لوط”جو ايك عطيم پيغمبر تھے ،ان ہى كے زمانہ ميں ہوئے ہيں اور احتمال يہ ہے كہ اپ ہى كى طرف سے مامور ہوئے تھے،كہ گمراہوں كو تبليغ و ہد آيت كرنے كے لئے شام كے ايك علاقہ (يعنى سدوم كے شہروں كى طرف) سفر كريں ،وہ ايك ايسى گناہگار قوم كے درميان ائے جو شرك اور بہت سے گناہوں ميں الودہ تھى ،اور سب سے قبيح گناہ اغلام اور لواطت تھى ،اخر كار فرشتوں كا ايك گروہ،اس قوم كى ہلاكت پر ما مور ہوا ليكن وہ پہلے ابراہيم عليہ السلام كے پاس ائے۔
ابراہيم عليہ السلام مہمانوں كى وضع و قطع سے سمجھ گئے كہ يہ كسى اہم كام كے لئے جارہے ہيں ،اور صرف بيٹے كى ولادت كى بشارت كے لئے نہيں ائے، كيونكہ اس قسم كى بشارت كے لئے تو ايك ہى شخص كا فى تھا ،يا اس عجلت كى وجہ ہے جو وہ چلنے كے لئے كر رہے تھے ،اس سے محسوس كيا كہ كوئي اہم ڈيوٹى ركھتے ہيں”۔ قران ميںحضرت ابراہيم عليہ السلام سے ملاقات كا ذكر ہے چنانچہ كہا گيا ہے : جس وقت ہمارے ايلچى حضرت ابراہيم عليہ السلام كے پاس بشارت لے كرگئے ۔انھيں اسحاق اور يعقوب كے پيدا ہونے كى خوش خبرى سنائي اور پھر (قوم لوط كى بستى كى طرف اشارہ كرتے ہوئے )كہا كہ ہم اس شہر اور اس ميں رہنے والوں كو ہلاك كرديں گے كيونكہ يہ لوگ ظالم ہيں۔ ”(سورہ عنكبوت آيت 31)
چونكہ فرشتوں نے ”ھذہ القرية”۔ كہا اس سے ثابت ہوتا ہے كہ قوم لوط اسى مقام كے قرب جوار ميں رہتى تھى جہاں حضرت ابراہيم عليہ السلام رہتے تھے۔،اور اس قوم كو لفظ ”ظالم”سے ياد كرنا اس وجہ سے تھا كہ وہ اپنے نفوس پر ظلم كرتے تھے يہاں تك كہ اس طرف سے گزرنے والے مسافروں اور قافلوں پر بھى ستم كرتے تھے۔
جب حضرت ابراہيم عليہ السلام نے يہ بات سنى تو انھيں حضرت لوط پيغمبر خدا كى فكر ہوئي اور كہا :” اس آبادى ميں تو لوط بھى ہے ”۔( سورہ عنكبوت آيت 32)
اس پر كيا گزرے گى ؟
مگر فرشتوں نے فورا ًجواب ديا :” آپ فكر نہ كريں ہم ان سب لوگوں سے خوب واقف ہيں جو اس بستى ميں رہتے ہيں ”۔( سورہ عنكبوت آيت 32)
ہم اندھا دھند عذاب نازل نہيں كريں گے ہمارا پروگرام نہ آيت سنجيدہ اور نپاتلاہے۔
فرشتوںنے يہ بھى كہا كہ” ہم لوط عليہ السلام اور اس كے خاندان كو نجات ديں گے بجز اس كى بيوى كے كہ جو اس قوم كے ساتھ ہى مبتلائے عذاب ہوگى ”۔( سورہ عنكبوت آيت 32)
صرف ايك خاندان مومن اور پاك
فرآن سے بخوبى ثابت ہوتاہے كہ اس علاقے كى تمام آباديوں اور بستيوں ميں صرف ايك ہى خاندان مومن اور پاك نفس تھا اور خدانے بھى اسے عذاب سے نجات دى جيسا كہ قرآن ميں مذكورہے :
”ہم نے وہاں ايك خاندان كے سوائے كوئي بھى مسلمان نہ پايا ۔’‘(سورہ ذاريات آيت 36)
يہاں تك كہ حضرت لوط كى زوجہ بھى مومنين كى صف سے خارج تھى اس لئے وہ بھى عذاب ميں گرفتار ہوئي۔
وہ عورت جو خانوادہ نبوت ميں شامل تھى اسے تو ”مو منين اور مسلمين ” سے جدا نہيں ہونا چاہئے تھا مگر وہ اپنے كفرو شرك اور بت پرستى كى وجہ سے اس صنف سے جدا ہوگئي۔
اس طرح كلام سے واضح ہوتاہے كہ وہ عورت منحرف العقيدہ تھى كچھ بعيد نہيں كہ اس ميں يہ بد عقيدگى اس مشرك معاشرے كے اثر سے پيداہوگئي ہو ا،ور ابتدا ميں مومن وموحد ہو اس صورت ميں حضرت لوط پر يہ اعتراض نہيں ہوتا كہ انھوں نے ايسى مشركہ سے نكاح ہى كيوں كيا تھا ؟
يہ خيال بھى ہوتاہے كہ اگر كچھ اور لوگ حضرت لوط عليہ السلام پر ايمان لائے ہوں گے تو وہ حتما ًنزول عذاب سے پہلے اس گناہ آلود زمين سے ہجرت كرگئے ہوں گے ،تنہا حضرت لوط عليہ السلام اور ان كے اہل وعيال اس مقام پر اس توقع سے آخرى وقت تك ٹھہرے ہوں گے كہ ممكن ہے ان كى تبليغ اور ڈرانے كا لوگوں پر اثرہو۔
يہاں تك كہ حضرت ابراہيم عليہ السلام سے فرشتوں كى گفتگو ختم ہوگئي اور وہ حضرت لوط عليہ السلام كے علاقے كى طرف روانہ ہوگئے۔
”ہم نے وہاں ايك خاندان كے سوائے كوئي بھى مسلمان نہ پايا ۔’‘(سورہ ذاريات آيت 36)
يہاں تك كہ حضرت لوط كى زوجہ بھى مومنين كى صف سے خارج تھى اس لئے وہ بھى عذاب ميں گرفتار ہوئي۔
وہ عورت جو خانوادہ نبوت ميں شامل تھى اسے تو ”مو منين اور مسلمين ” سے جدا نہيں ہونا چاہئے تھا مگر وہ اپنے كفرو شرك اور بت پرستى كى وجہ سے اس صنف سے جدا ہوگئي۔
اس طرح كلام سے واضح ہوتاہے كہ وہ عورت منحرف العقيدہ تھى كچھ بعيد نہيں كہ اس ميں يہ بد عقيدگى اس مشرك معاشرے كے اثر سے پيداہوگئي ہو ا،ور ابتدا ميں مومن وموحد ہو اس صورت ميں حضرت لوط پر يہ اعتراض نہيں ہوتا كہ انھوں نے ايسى مشركہ سے نكاح ہى كيوں كيا تھا ؟
يہ خيال بھى ہوتاہے كہ اگر كچھ اور لوگ حضرت لوط عليہ السلام پر ايمان لائے ہوں گے تو وہ حتما ًنزول عذاب سے پہلے اس گناہ آلود زمين سے ہجرت كرگئے ہوں گے ،تنہا حضرت لوط عليہ السلام اور ان كے اہل وعيال اس مقام پر اس توقع سے آخرى وقت تك ٹھہرے ہوں گے كہ ممكن ہے ان كى تبليغ اور ڈرانے كا لوگوں پر اثرہو۔
يہاں تك كہ حضرت ابراہيم عليہ السلام سے فرشتوں كى گفتگو ختم ہوگئي اور وہ حضرت لوط عليہ السلام كے علاقے كى طرف روانہ ہوگئے۔
حضرت لوط عليہ السلام مہمانوں كو ديكھ كر پريشان ہوگئے
قرآن ميں ارشاد ہوتاہے:
”جب ہمارے رسول(فرشتے)،لوط عليہ السلام كے پاس آئے تو وہ ان كے آنے پر بہت ہى ناراحت اور پريشان ہوئے ، ان كى فكر اورروح مضطرب ہوئي اور غم واندوہ نے انہيں گھيرليا ۔”(سورہ ہود آيت 77)
اسلامى روايات اور تفاسير ميں آيا ہے كہ حضرت لوط اس وقت اپنے كھيت ميں كام كررہے تھے، اچانك انہوں نے خوبصورت نوجوانوں كو ديكھا جو ان كى طرف آرہے تھے وہ ان كے يہاں مہمان ہونا چاہتے تھے ،اب حضرت لوط عليہ السلام مہمانوں كى پذيرائي بھى چاہتے تھے ليكن اس حقيقت كى طرف بھى ان كى توجہ تھى كہ ايسے شہر ميں جو انحراف جنسى كى آلود گى ميں غرق ہے۔
ان خوبصورت نوجوانوں كا آنا طرح طرح كے مسائل كا موجب ہے اور ان كى آبروريزى كا بھى احتمال ہے، اس وجہ سے حضرت لوط سخت مشكل سے دوچار ہوگئے يہ مسائل ،روح فرسا افكار كى صورت ميں ان كے دماغ ميں ابھرے اور انہوں نے آہستہ آہستہ اپنے آپ سے كہنا شروع كيا آج بہت سخت اورو حشتناك دن ہے ۔”(سورہ ہود آيت 77)
بہرحال حضرت لوط عليہ السلام كے پاس اس كے علاوہ كوئي چارہ كار نہ تھا كہ وہ اپنے نووارد مہمانوں كو اپنے گھرلے جاتے، ليكن اس بناء پر كہ وہ غفلت ميں نہ رہيں راستے ميں چند مرتبہ ان كے گوش گزار كرديا كہ اس شہر ميں شرير اور منحرف لوگ رہتے ہيں تاكہ اگر مہمان ان كا مقابلہ نہيں كرسكتے تو صورت حال كا اندازہ كرليں۔
خداوند عالم نے فرشتوں كو حكم ديا تھا كہ جب تك يہ پيغمبر تين مرتبہ اس قوم كى برائي اور انحراف كى گواہى نہ دے انہيں عذاب نہ ديا جائے ( يعنى يہاں تك كہ ايك گنہگار قوم سے متعلق بھى حكم خدا عدالت كے ايك عادلانہ فيصلے كى روشنى ميں انجام پائے)اور ان رسولوں نے راستے ميں تين مرتبہ لوط عليہ السلام كى گواہى سن لى۔
حضرت لوط عليہ السلام نے مہمانوں كو اتنى دير تك (كھيت ميں ) ٹھہرائے ركھا كہ رات ہوگئي تاكہ شايد اس طرح اس شرير اور آلودہ قوم كى آنكھ سے بچ كر حفظ آبرو كے ساتھ ان كى پذيرائي كر سكيں ليكن جب انسان كا دشمن خود اس كے گھر كے اندر موجود ہوتو پھر كيا كيا جاسكتا ہے حضرت لوط عليہ السلام كى بيوى كو جوايك بے ايمان عورت تھى اور اس گنہگار قوم كى مدد كرتى تھى جب اسے ان نوجوانوں اور خوبصورت مہمانوں كے آنے كى خبر ہوئي تو چھت پر چڑھ گئي پہلے اس نے تالى بجائي پھر آگ روشن كركے اس كے دھوئيں كے ذريعے اس نے منحرف قوم كے بعض لوگوں كو آگاہ كيا كہ لقمہ تر جال ميں پھنس چكا ہے۔
”جب ہمارے رسول(فرشتے)،لوط عليہ السلام كے پاس آئے تو وہ ان كے آنے پر بہت ہى ناراحت اور پريشان ہوئے ، ان كى فكر اورروح مضطرب ہوئي اور غم واندوہ نے انہيں گھيرليا ۔”(سورہ ہود آيت 77)
اسلامى روايات اور تفاسير ميں آيا ہے كہ حضرت لوط اس وقت اپنے كھيت ميں كام كررہے تھے، اچانك انہوں نے خوبصورت نوجوانوں كو ديكھا جو ان كى طرف آرہے تھے وہ ان كے يہاں مہمان ہونا چاہتے تھے ،اب حضرت لوط عليہ السلام مہمانوں كى پذيرائي بھى چاہتے تھے ليكن اس حقيقت كى طرف بھى ان كى توجہ تھى كہ ايسے شہر ميں جو انحراف جنسى كى آلود گى ميں غرق ہے۔
ان خوبصورت نوجوانوں كا آنا طرح طرح كے مسائل كا موجب ہے اور ان كى آبروريزى كا بھى احتمال ہے، اس وجہ سے حضرت لوط سخت مشكل سے دوچار ہوگئے يہ مسائل ،روح فرسا افكار كى صورت ميں ان كے دماغ ميں ابھرے اور انہوں نے آہستہ آہستہ اپنے آپ سے كہنا شروع كيا آج بہت سخت اورو حشتناك دن ہے ۔”(سورہ ہود آيت 77)
بہرحال حضرت لوط عليہ السلام كے پاس اس كے علاوہ كوئي چارہ كار نہ تھا كہ وہ اپنے نووارد مہمانوں كو اپنے گھرلے جاتے، ليكن اس بناء پر كہ وہ غفلت ميں نہ رہيں راستے ميں چند مرتبہ ان كے گوش گزار كرديا كہ اس شہر ميں شرير اور منحرف لوگ رہتے ہيں تاكہ اگر مہمان ان كا مقابلہ نہيں كرسكتے تو صورت حال كا اندازہ كرليں۔
خداوند عالم نے فرشتوں كو حكم ديا تھا كہ جب تك يہ پيغمبر تين مرتبہ اس قوم كى برائي اور انحراف كى گواہى نہ دے انہيں عذاب نہ ديا جائے ( يعنى يہاں تك كہ ايك گنہگار قوم سے متعلق بھى حكم خدا عدالت كے ايك عادلانہ فيصلے كى روشنى ميں انجام پائے)اور ان رسولوں نے راستے ميں تين مرتبہ لوط عليہ السلام كى گواہى سن لى۔
حضرت لوط عليہ السلام نے مہمانوں كو اتنى دير تك (كھيت ميں ) ٹھہرائے ركھا كہ رات ہوگئي تاكہ شايد اس طرح اس شرير اور آلودہ قوم كى آنكھ سے بچ كر حفظ آبرو كے ساتھ ان كى پذيرائي كر سكيں ليكن جب انسان كا دشمن خود اس كے گھر كے اندر موجود ہوتو پھر كيا كيا جاسكتا ہے حضرت لوط عليہ السلام كى بيوى كو جوايك بے ايمان عورت تھى اور اس گنہگار قوم كى مدد كرتى تھى جب اسے ان نوجوانوں اور خوبصورت مہمانوں كے آنے كى خبر ہوئي تو چھت پر چڑھ گئي پہلے اس نے تالى بجائي پھر آگ روشن كركے اس كے دھوئيں كے ذريعے اس نے منحرف قوم كے بعض لوگوں كو آگاہ كيا كہ لقمہ تر جال ميں پھنس چكا ہے۔



