چودھری محمد افضل خان
Posted by ارتقاءِ حيات on January 19, 2012
چودھری محمد افضل خاں امرتسر میں پیدا ہوئے۔ان کے والد کا نام مولا بخش کشتہ تھا،جو پنجاب کے پہلے صاحب دیوان شاعر تھے۔مشرقی پنجاب آج بھی گیانی کورسز (فاضل پنجابی)میں کشتہ کی لکھی ہوئی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔
1947 میں تقسیم ہند کے وقت چودھری محمد افضل خان امر تسر سے لاہور آگئے۔پنجابی زبان کی ترقی و ترویج کی خاطر انہوں نے 1950 میں ٹیمپل روڈ پر اینگلو پنجابی کالج کھولا۔آج اسکولوں ،کالجوں اور یورنیورسٹیوں میں پنجابی زبان کو اس کا مقام دلانے کی جو بھی کوششیں ہو رہی ہیں،یہ سب چودھری محمد افضل خان کی ہی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔
1957 میں انہوں نے ماہنامہ”پنج دریا”کے نام سے ایک پنجابی رسالے کا اجراء کیا۔اس رسالے کے ذریعے انہوں نے پوری دنیا میں ماں بولی کو متعارف کروایا۔
ان کا انتقال 10اپریل 1974 کو لاہور میں ہوا۔آخری آرام گاہ قبرستان “مسافر خانہ ،گڑھی شاہو”میں ہے۔



