شیطان کےبچوں کے نام (حصہ دوم)
Posted by ارتقاءِ حيات on January 19, 2012
حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے تقریباً سوا لاکھ سال پہلے اللہ تعالٰی نے جنات کو پیدا کر کے زمین پر آباد کیا تھا۔دنیا میں جنوں کی نسل کی بودوباش کے لئے جگہ نہ رہی تو حق تعالٰی نے کچھ جنات کو ہوا میں رہنے کی جگہ دی اور کچھ جنات پہلے آسمان پر رہنے لگے۔
وہب بن منبہ کی طویل روایت کا ایک حصہ یہ ہے :
جنات کی افزائش کا یہ عالم تھا کہ ایک حمل سے ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوتی تھی۔ جب ان لوگوں کی تعداد 70ہزار ہوگئی اور بیا شادی کا سلسلہ جاری رہا تو پھر ان کی اولاد کا کوئی حد و حساب نہیں رہا۔ابلیس نے بنو الجان کی ایک لڑکی سے شادی کر لی اس کے بعد بھی بہت سی اولاد پیدا ہوئی۔جب جن اور جن کی نسل کے لئے دنیا میں رہنے کی جگہ نہ رہی تو اللہ تعالٰی نے جن کو ہوا میں رہنے کے لئے مقام عطا فرمایا۔ابلیس اور اس کی اولاد کو پہلے آسمان میں رہنے کی جگہ دی گئی۔اور ان دونوں کو اپنی اطاعت کا حکم بھی دیا گیا۔اب چونکہ زمین خالی ہو چکی تھی اور زمین پر اللہ کا ذکر کرنے والا نہ رہا تو آسمان اپنی بلندی پر فخر کرنے لگا۔




افتخار اجمل بھوپال said
ان کی تعداد تو اب تک انسانوں سے درجنوں گنا زيادہ ہو گئی ہو گی ۔ فرض کرتے ہيں کہ ان ميں سے آدھے مسلمان ہيں تو ايک ايک انسان کو کئی کئی درجن شيطانوں نے گھيرا ہوا ہو گا ۔ مجھ جيسا کمزور آدمی تو گيا کام سے ۔
ام تحریم said
آپ دیکھئے کہ جنوںکی اس نسل کی کثرت کے باوجود اللہ نے کیا کچھ انسان کو نصیب کیا ہے
سچے دل سے ایک بار لاحول پڑھ لیں
شیطان بھاگجاتا ہے
پر دل سچا اور توبہ پکی ہو
افتخار اجمل بھوپال said
ميں نے تو سُنا ہے کہ توبہ کی توفيق بھی مقدّر سے ہے ملتی
ممتاز خان said
بالکل صحیح با ت هے افتخار بها ئ