ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

ایک عالم کا روضہ رسول ﷺاور کی زیارت کے حوالے سے مناظرہ

Posted by ارتقاءِ حيات on January 19, 2012

ایک عالم دین سے ایک مخالف مسلک کے عالم کی گفتگو ہو رہی تھی جو ایک مناظرہ کی شکل اختیار کر گئی اس کی کفتگو کی کچھ تفصیل :
مخالف: ”رسو ل اکرم صلی الله علیه و آله وسلم دنیا سے چلے گئے اور جو مرجاتا ہے وہ کسی کو نقصان یا فائدہ نہیں پہنچا سکتا تو تم لوگ قبر رسول سے کیا چاہتے ہو۔؟“
عالم دین: ”رسول اکرم صلی الله علیه و آله وسلم اگر چہ اس دنیا کو چھوڑ چکے ہیں مگر در حقیقت وہ زندہ ہیں کیونکہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
” وَلَاتَحْسَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللهِ اٴَمْوَاتًا بَلْ اٴَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُونَ“[سورہٴ آل عمران آیت ۱۶۹۔]
”اور اللہ کی راہ میں قتل ہوجانے والوں کو تم ہرگز مردہ نہ سمجھنا وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کی طرف سے رزق پاتے ہیں“۔
نیز بہت سی روایتیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ جس طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا زندگی میں احترام کرنا واجب تھا اسی طرح مرنے کے بعد بھی احترام کرنا چاہئے“۔
مخالف: ”اس آیت میں جو زندگی مراد لی گئی ہے کیا وہ ہماری اس زندگی سے مختلف اور اس کے علاوہ کوئی اور زندگی ہے ؟“
عالم: ”اس میں کیا حرج ہے کہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم رحلت کے بعد ایک دوسری زندگی کے مالک ہوں اور ہماری باتیں سنیں اور اسی عالم میں خدا کے حکم سے ہم پر لطف کریں ہماری مشکلات حل کریں؟ میں تم سے پوچھتا ہوں ”جب تمہارا باپ مر جاتا ہے تو کیا تم اس کی قبر پر نہیں جاتے اور اس کے لئے خداسے مغفرت کی دعا نہیں کرتے ؟“
مخالف: ”کیوں نہیں ہم جاتے ہیں“۔
عالم: میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانہ میں نہیں تھا کہ اس طرح ان کی زیارت سے مشرف ہو جاتا لہٰذا اب ان کی قبر کی زیارت کے لئے آیا ہوں“۔
اس سے واضح الفاظ میں یوں کہا جائے:پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے جسم اطہر کی وجہ سے قبر کے اطراف کا حصہ یقینا مبارک ہو گیا ہے اگر ہم اس قبر مقدس کی خاک کا بوسہ لیتے ہیں یا اسے تبرک سمجھتے ہیں تو یہ بالکل اس کے مانند ہے کہ جیسے ایک شاگرد یا بیٹا اپنے استاد یا باپ کی محبت کی وجہ سے اس کے پیر کی خاک اٹھا کر اپنی آنکھوں سے لگاتا ہے۔

3 Responses to “ایک عالم کا روضہ رسول ﷺاور کی زیارت کے حوالے سے مناظرہ”

  1. Qabar e Muqadas ka bosa denay k liay jab koi jhukay ga to woh taqreban sajday ki halat me ajaey ga. aur yeh cheez yaqeenan doosray dekhne walon ko shirk/qabar e muqadas ko sajda karnay k taraf lay jaey gi.

    Kia aap kisi Sahabi se ye riwayat kar sakti hain k unhoon ne Huzoor e Pak (Salallaho Alayhi Wasallam) ki Qabar e Mubarak ko chooma ho.

  2. ایک مسلمان اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا کہ جب تک نابی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس اسے ہر چیز سے زیادہ محبوب و مقدم نا ہوجائے۔ جن لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ان کے لیے تو اس بات میں کوئی ابہام نہیں تھا۔ لیکن بعد کے لوگوں کے لیے اس عقیدے کا منشاء یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس، انکی شریعت ، انکی سنت اور انکے احکامات ہمیں ہر چیز سے پیارے ہوں۔ اس عقیدہ میں تو کوئی دو رائے نہیں ہو سکتیں۔ اور اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ آپکا روضہ رسول اس زمین پر ہے جسے دنیا میں جنت کا ٹکڑا کہتے ہیں۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس جگہ کی گئی دعا کی قبولیت کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ مگر آپ جو یہ کہتیں ہیں کہ :
    اس میں کیا حرج ہے کہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم رحلت کے بعد ایک دوسری زندگی کے مالک ہوں اور ہماری باتیں سنیں اور اسی عالم میں خدا کے حکم سے ہم پر لطف کریں ہماری مشکلات حل کریں؟
    اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رحلت کے بعد اپنی دنیاوی زندگی سے کہیں بہتر زندگی گذار رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس زندگی کے بارے میں، آپ، میں یا کوئی اور کیسے کوئی بات یقین سے کہہ سکتا ہے؟

    سوال پھر وہی ہے جو عاطف سلمان صاحب نے کیا کہ کیا آپ کسی ایسے صحابی کا نام بتا سکتی ہیں جو یہ عقیدہ رکھتے ہوں؟
    یا پھر آپ یہ کہنا چاہتی ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو سمجھا ہی نہیں اور یہ شرف تو صدیوں بعد آنے والے صوفیوں اور دور حاضر کے قبر پرستوں کو حاصل ہوا ہے۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیث منقول ہے اس میں انہوں نے درود پڑہنے کی تاکید کی تھی اور فرمایا تھا کہ یہ درود مجھ پر پیش کیے جاتے ہیں۔ کہیں بھی یہ ارشاد نہیں ہوا کہ میں ان درود کو سنوں گا۔ یا انہوں نے اپنی امت کو یہ تاکید کی ہو کہ مشکل وقت میں میرے توسل سے دعا کرنا۔ یا پھر اپنی مشکلات کے حل کے لیے میری ذات پر توجہ کرنا۔۔۔۔۔۔معافی چاہتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں میں نے ابھی تک کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی ۔اگر آپ کی نظروں سے گذری ہو تو ارشاد فرمائیے۔
    برائے مہربانی اگر آپ ایسا عقیدہ رکھتی ہیں تو اس عقیدہ کا ماخذ ضرور بتائیے۔ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی برزخی حیات کے بارے میں آپ یقین سے کیا کہ سکتی ہیں؟ اس مسئلہ میں اگر آپ کے یا کسی اور کے ذاتی تجربات ہیں تو وہ ضرور بیان کیجیے۔

  3. سعید said

    اقتباس:
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیث منقول ہے اس میں انہوں نے درود پڑہنے کی تاکید کی تھی اور فرمایا تھا کہ یہ درود مجھ پر پیش کیے جاتے ہیں۔ کہیں بھی یہ ارشاد نہیں ہوا کہ میں ان درود کو سنوں گا۔
    حضرت ابو ہریرہ راوی ہیں کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا:جس نے میری قبر کے پاس مجھ پر درود پڑھا میں خود اس کو سنتا ہوں اور جو دور سے مجھ پر درود پڑھا جاتا ہے وہ مجھے پہنچایا جاتا ہے۔مشکوۃ۔87
    (انتباہ: کوئی صاحب اس حدیث کی سند پر پرانا اور گھسا پٹا کلام نہ کریں ورنہ اس کے جواب کا یہاں چھاپا مارنا پڑے گا۔ بحث و تمحیص کے بعد یہ بات صاف ہوچکی ہے کہ یہ حدیث قابل استدلال ہے
    اقتباس

    نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی برزخی حیات کے بارے میں آپ یقین سے کیا کہ سکتی ہیں؟ اس مسئلہ میں اگر آپ کے یا کسی اور کے ذاتی تجربات ہیں تو وہ ضرور بیان کیجیے۔
    ذاتی تجربات تو نہیں ہیں البتہ اشارے ضرور ہیں عمومی بھی اور خصوصی بھی

    غزوہ بدر میں جب دشمن کے ستر لوگ مارے گئے تو آپؐ نے حکم دیا کہ ان سب کو گڑھے میں ڈال دیا جائے ۔سب کو ڈال دیا گیا تو آپؐ گڑھے پر تشریف لے گئےاور فرمایا:ائے اہل قلیب!کیا تم نے وہ چیز پائی جس کا تم سے ہمارے رب نے وعدہ کیا تھا؟ کیونکہ میں نے تو وہ چیز پالی ہے جس کا مجھ سے میرے رب نے وعدہ کیا تھا۔راوی کہتا ہے کہ حضرت عمر نے عرض کیا:یا رسول اللہ!آپ ایسے جسموں سے گفتگو کر رہے ہیں جن میں روح نہیں(یعنی گڑھے والے تو آپ کی بات سن ہی نہیں رہے)آپؐ نے فرمایا:اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے تم میری بات کو ان سے زیادہ نہیں سنتے(یعنی وہ بھی تمہاری طرح میری بات کو صاف صاف سن رہے ہیں)لیکن وہ جواب نہیں دیتے(بس یہ فرق ہے تم میں اور ان میں) بخاری۔ج:1۔ص؛183۔مسلم۔ج:1،ص:303

    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اپنے اس کمرے میں جس میں حضور ﷺ مدفون ہیں بلا حجاب داخل ہوجاتی تھی اور سمجھتی تھی کہ ایک تو میرے شوہر ہیں اور ایک میرے والد(ان سے کیا پردہ؟)پھر جب حضرت عمر کی تدفین ہو ئی تو اللہ کی قسم میں اس کمرے میں حضرت عمر کی حیاء کی وجہ سے بغیر پردہ کبھی نہیں گئی۔مشکوۃ:154

    ڈاکٹر صاحب مرنے والوں کو حیات برزخی کس طرح کی حاصل ہے اس بارے میں ان روایات میں کچھ اشارے ہیں؟؟
    مجھے تو یہ اشارے نظر آتے ہیں

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers