قرآن کریم کی حفاظت
Posted by ارتقاءِ حيات on January 17, 2012
قرآن پاک میں سورۃ الحجر کی آیت 9میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے:
ترجمہ : بیشک یہ ذکرِ عظیم (قرآن) ہم نے ہی اتارا ہے اور یقیناً ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔
اس آیت سے ثابت ہوا کہ قرآن کریم کی حفاظت اللہ تعالٰی کے ذمہ اور وہی اس کا محافظ۔اس کی حفاظت تو اللہ تعالٰی ایک نظام خاص سے کر رہے ہیں۔دوسری طرف قرآن کی حفاظت کے لئے کروڑوں کی تعداد میں حفاظ دنیا کے کونے کونے میں موجود ہیں۔جب تک ایک بھی حافظ زندہ ہے قرآن پاک محفوظ و زندہ و پائندہ ہے۔
دنیا میں غیر مسلم مفکرین اس بات پر متفق ہیں کہ قرآن پاک کے علاوہ دنیا کی تمام الہامی کتابیں اصل سے بدل چکی ہیں۔وہ سب اس پر یکسر متفق ہیں کہ قرآن کریم واحد ایسی کتاب ہے جو تحریف اور تبدیلی سے پاک ہے جس حال میں ابتداء میں تھی اب تک لفظ بہ لفظ حرف بہ حرف بلا تبدیلی محفوظ ہے۔
یورپ کے علماء اور اہل تحقیق نے بھی قرآن کے لفظی تواتر اور تحریف سے محفوظ رہنے کو تسلیم کیا ہے۔چنانچہ سر ولیم میمور اپنی کتاب کی پہلی جلد مطبوعہ 1861 میں لکھتا ہےکہ:
قرآن پاک کا کوئی جزو ،کوئی فقرہ ،کوئی لفظ ایسا نہیں سنا گیا کہ جو قرآن پاک کے جمع کرنے والوں نے چھوڑ دیا ہواور نہ کوئی لفظ،فقرہ یا جزو ایسا پایا گیا کہ جو نیا داخل کیا گیا ہو۔
انساکلو پیڈیا برٹانیکاکے مقالہ نگاروں نے بھی اس حقیقت کو انہی الفاظوں میں بیان کیا ہے۔
یہودی تاریخ میں ایک وقت ایسا بھی آیاکہ جب توریت کے تمام نسخے دنیا سے یکسر نا پید ہو گئے۔ اس پر یہودی علماء بہت فکر مند ہوئے۔مگر حضرت عزیر علیہ السلام کو توریت زبانی یاد تھی۔انہوں نے اپنا یاد کیا ہوا نسخہ ازسر نو لکھوایا۔اسی دوران توریت کا ایک اصلی نسخہ دستیاب ہو گیا ۔جب دونوں نسخوں کا موازنہ کیا گیا تو دونوں ایک ہی جیسے تھے۔اس پر یہودیوں نے حضرت عزیر علیہ السلام کو “ابن اللہ “(اللہ کا بیٹا)کہنا شروع کر دیا۔جبکہ مسلمانوں کے پاس لاکھوں حفاظ موجود ہیں۔
قرآن پاک نے مختلف مقامات پر غیر مسلموں کو چیلنجز دیئے ہیں اختصار کی وجہ سے صرف ایک کا ذکر کرنا چاہوں گی حوالہ سورۃ بقرہ آیت23
ترجمہ :اور اگر تم اس (کلام) کے بارے میں شک میں مبتلا ہو جو ہم نے اپنے (برگزیدہ) بندے پر نازل کیا ہے تو اس جیسی کوئی ایک سورت ہی بنا لاؤ، اور (اس کام کے لئے بیشک) اللہ کے سوا اپنے (سب) حمائتیوں کو بلا لو اگر تم (اپنے شک اور انکار میں) سچے ہو۔
لیکن 1400سال گزر جانے کے بعد بھی یہ چیلنج کسی نے قبول نہیں کیا یہ آج بھی ہر غیر مسلم کے لئے چیلنج ہے۔
(آج ہم مسلمان دنا داری میں کسی سے پیچھے نہیں رہنا چاہتے اس ترقی یافتہ دور میں اور دیگر افعال میں ہم نے اپنے آپ کو دنیا کی بھیڑ میں اس قدر گم کر دیا ہے کہ سوائے دنیا داری کے ہمیں کچھ سجھائی ہی نہیں دیتا اپنے بچوں کو ہم اچھی سے اچھی اور اعلی انگریزی تعلیم دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے مگر قرآن کے لئے بس ناظرہ ہی کافی سمجھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہماری نئی نسل بے راہ روی کا کثرت سے شکار ہو رہی ہے ۔
اللہ سے دعا ہے ہمیں اور ہمارے بچوں کو دنیا کی تعلیم کے ساتھ ساتھ قرآن و حدیث کی تعلیم حاصل کرنے کی لگن اور شوق عطا فرمائے۔ آمین)




ڈاکٹر جواد احمد خان said
اچھا تو پھر وہ کونسا قرآن تھا جسکے ۱۰ سپارے امام کی بکری کھا گئی تھی۔
محمد یاسر علی said
جزاک اللہ تحریم بہن
کل رات ایک ورکشاب میں جو دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے منقد کی گئی تھی میں پروفیسر خورشید احمد کا لیکچر سننے کا موقعہ ملا جس میں اسی بات ہ زور دیا گیا کہ دینی تعلیم کو صرف ناظرہ کے طور پہ نا پڑھایا جائے بلکہ اس پہ عمل کسیے کیا جائے یہ سیکھایا جائے ٹیکنالوجی کو بھی ساتھ لے کے چلا جائے
ام تحریم said
درست فرماتے ہیں اور ساتھ ہی ہمیں بھی یہی چاہیئےکہ ہم اس کو حفظ کریں اور کروائیں اپنے بچوں کو تا کہ عربی پر ان کا رجحان بڑھے اور علم قرآن کو اور مفہوم قرآن کو وہ خود سے اچھی طرح سمجھ سکیں
NOOR said
اچھی تحریر کے لئے شکر گذار ہوں
ام تحریم said
آپ کو پسندآئی اس کے لئے آپ مبارکباد کے مستحق ہیں
قرآن کریم کی حفاظت | Tea Break said
[...] قرآن کریم کی حفاظت [...]
Ghazanfar Ahmad said
آپکی بات درست اور حق ہے مگر ایک وہ یہ کہ اب تک جتنے بھی مجدد اے جو قرآن سمجھتے تھے ور اب تک تمام علما یہ کہتے ہیں کہ قرآن کے بہت سی آیت منسوخ ہو گئی ہیں اس کے بارے کے کتنے مختلف باتیں ہیں کوے سو کہتا ہے کوئی پچاس کوئی پچیس لکن کم سے کم پانچ آخری حد ہے – مگر یس ل بارے آپ کیا کہتے ہو