ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

قرآن کہانی:حضرت نوح عليہ السلام (حصہ چہارم)

Posted by ارتقاءِ حيات on January 11, 2012

آغاز طوفان
گزشتہ صفحات ميں ہم نے ديكھا ہے كہ كس طرح حضرت نوح عليہ السلام اور سچے مومنين نے كشتى نجات بنانا شروع كى اور انہيں كيسى كيسى مشكلات آئيں اور بے ايمان مغرور اكثريت نے كس طرح ان كا تمسخراڑايا اس طرح تمسخر اڑانے والوں نے كس طرح اپنے آپ كو اس طوفان كے لئے تياركيا جو سطح زمين كو بے ايمان مستكبرين كے منحوس وجود سے پاك كرنے والا تھا۔
يہاں پر اس سرگزشت كے تيسرے مرحلے كے بارے ميں قرآن گويا اس ظالم قوم پر نزول عذاب كى بولتى ہوئي تصوير كو لوگوں كے سامنے پيش كررہا ہے۔
پہلے ارشاد ہوتا ہے :”يہ صورت حال يونہى تھى يہاں تك كہ ہماراحكم صا در ہوا اور عذاب كے آثار ظاہر ہونا شروع ہوگئے پانى تنور كے اندر سے جو ش ما رنے لگا”۔( سورت ہو دآيت30)
اس بار ے ميں كہ طوفان كے نزديك ہونے سے تنور سے پانى كا جوش مارنا كيامناسبت ركھتا ہے مفسرين كے درميان بہت اختلاف ہے
۔(بعض نے كہا ہے كہ تنور سے پانى كا جوش مارنا خدا كى طرف سے حضرت نوح كے لئے ايك نشانى تھى تاكہ وہ اصل واقعہ كى طرف متوجہ ہوں اور اس موقع پروہ اور ان كے اصحاب ضرورى اسباب ووسائل لے كر كشتى ميں سوار ہوجائيں۔
بعض نے كہا ہے كہ يہاں ”تنور” مجازى اور كنائي معنى ميں ہے جو اس طرف اشارہ ہے كہ غضب الہى كے تنورميں جوش پيدا ہوا اوروہ شعلہ ورہوا اوريہ تباہ كن خدائي عذاب كے نزيك ہونے كے معنى ميں ہے ايسى تعبير فارسى اور عربى زبان ميں استعمال ہوتى ہيں كہ شدت غضب كو آگ كے جوش مارنے اور شعلہ ور ہونے سے تشبيہ دى جاتى ہے۔)
موجودہ احتمالات ميں سے يہ احتمال زيادہ قوى معلوم ہوتا ہے كہ يہاں ” تنور” اپنے حقيقى اور مشہور معنى ميں آيا ہے اور ہوسكتا ہے اس سے مراد كوئي خاص تنور بھى نہ ہو بلكہ ممكن ہے كہ اس سے يہ نكتہ بيان كرنا مقصود ہوكہ تنور جو عام طوپر آگ كا مركزہے جب اس ميں سے پانى جوش مارنے لگا تو حضرت نوح اور ان كے اصحاب متوجہ ہوئے كہ حالات تيزى سے بدل رہے ہيں اور انقلاب قريب تر ہے يعنى كہاں آگ اور كہاں پانى بالفاظ ديگر جب انہوں نے يہ ديكھا كہ زيرزمين پانى كى سطح اس قدراوپر آگئي ہے كہ وہ تنور كے اندر سے جو عام طور پر خشك ،محفوظ اور اونچى جگہ بنايا جاتا ہے ، جوش ماررہا ہے تو وہ سمجھ گئے كہ كوئي اہم امر درپيش ہے اور قدرت كى طرف سے كسى نئے حادثے كاظہور ہے۔ اور يہى امر حضرت نوح اور ان كے اصحاب كے لئے خطرے كا الارم تھا كہ وہ اٹھ كر كھڑے ہوں اور تيار رہيں۔
شايد غافل اور جاہل قوم نے بھى اپنے گھر وں كے تنور ميں پانى كو جوش مارتے ديكھا ہو بہرحال وہ ہميشہ كى طرح خطرے كے ان پر معنى خدائي نشانات سے آنكھ كان بند كيے گزرگئے يہاں تك كہ انہوں نے اپنے آپ كو ايك لمحہ كے لئے بھى غور وفكر كى زحمت نہ دى كہ شايد شرف تكوين ميں كوئي حادثہ پوشيدہ ہواور شايد حضرت نوح عليہ السلام جن واقعات كى خبر ديتے تھے ان ميں سچائي ہو۔
اس وقت نوح عليہ السلام كو ”ہم نے حكم ديا كہ جانوروں كى ہرنوع ميں سے ايكجفت (نراور مادہ كا جوڑا) كشتى ميں سوار كرلو ”۔تاكہ غرقاب ہو كر ان كى نسل منقطع نہ ہوجائے۔
اور اسى طرح اپنے خاندان ميں سے جن كى ہلاكت كا پہلے سے وعدہ كيا جاچكا ہے ان كے سواباقى افرادكو سوار كرلو نيز مومنين كو كشتى ميں سوار كرلو ”
۔(سورت ہو دآيت40)
نوح عليہ السلام كا بيٹابدكاروں كے ساتھ رہا
يہ قرآن ايك طرف حضرت نوح عليہ السلام كى بے ايمان بيوى اور ان كے بيٹے كنعان كى طرف اشارہ كرتا ہے جن كى داستان آئندہ صفحات ميں آئے گى جنہوں نے راہ ايمان سے انحراف كيا اور گنہگاروں كا ساتھ دينے كى وجہ سے حضرت نوح سے اپنا رشتہ توڑليا وہ اس كشتى نجات ميں سوار ہونے كا حق نہيں ركھتے تھے كيونكہ اس ميں سوار ہونے كى پہلى شرط ايمان تھى۔
دوسرى طرف يہ قرآن اس جانب اشارہ كرتاہے كہ حضرت نوح نے جو اپنے دين وآئين كى تبليغ كے لئے سالہاسال بہت طويل اور مسلسل كوشش كى اس كا نتيجہ بہت تھوڑے سے افراد مومنين كے سوا كچھ نہ تھا بعض روايات كے مطابق ان كى تعداد صرف اسي
(80) افرادتھى يہاں تك كہ بعض نے تو اس سے بھى كم تعداد لكھى ہے اس سے پتہ چلتا ہے كہ اس عظيم پيغمبر نے كس حد تك استقامت اور پامردى كا مظاہرہ كيا ہے كہ ان ميں سے ايك ايك فرد كے لئے اوسطاََ كم از كم د س سال زحمت اٹھائي اتنى زحمت تو عام لوگ اپنى اولاد تك كى ہدايت اورنجات كے لئے نہيں اٹھاتے۔
اللہ كا نام لے كركشتى پرسوارہوجائو
بہرحال حضرت نوح عليہ السلام نے جلدى سے اپنے وابستہ صاحب ا يمان افراد اور اصحاب كوجمع كيا اورچونكہ طوفان اور تباہ كن خدائي عذابوں كا مرحلہ نزديك آرہا تھا ،”انہيں حكم دياكہ خدا كے نام سے كشتى پرسوار ہوجائو
اور كشتى كے چلتے اور ٹھہرتے وقت خدا كا نام زبان پر جارى كرو اور اس كى ياد ميں رہو”
۔( سورت ہو دآيت 41)
بالآخرآخرى مرحلہ آپہنچا اور اس سر كش قوم كے لئے عذاب اورسزا كافرمان صادرہوا تيرہ وتار بادل جو سياہ رات كے ٹكڑوں كى طرح تھے سارے آسمان پرچھا گئے اور اس طرح ايك دوسرے پرتہ بہ تہ ہوئے كہ جس كى نظيراس سے پہلے نہيں ديكھى گئي تھى پے درپے سخت بادل گرجتے خيرہ كن بجلياںپورے آسمان پر كوندتيں آسمانى فضاگويا ايك بہت بڑے وحشتناك حادثے كى خبردے رہى تھى۔
بارش شروع ہوگئي اور پھر تيزسے تيزترہوتى چلى گئي بارش كے قطرے موٹے سے موٹے ہوتے چلے گئے جيسا كہ قرآ ن كہتاہے :
”گويا آسمان كے تمام دروازے كھل گئے اورپانى كا ايك سمندر ان كے اندرسے نيچے گرنے لگا”۔
( سورت قمر آيت11)
دوسرى طرف زير زمين پانى كى سطح اس قدر بلند ہوگئي كہ ہر طرف سے پرجوش چشمے ابل پڑے، يوں زمين وآسمان كا پانى آپس ميں مل گيا اور زمين ،پہاڑ،دشت ،بيابان اور درہ غرض ہر جگہ پانى جارى ہوگيا بہت جلد زمين كى سطح ايك سمندر كى صورت اختيار كرگئي تيز ہوا ئيں چلنے لگيں جن كى وجہ سے پانى كى كوہ پيكر موجيں امنڈنے لگيں اس عالم ميں ”كشتى نوح كوہ پيكر موجوں كا سينہ چيرتے ہوئے آگے بڑھ رہى تھى ”
۔( سورت ہودآيت 42)
جاری ہے

One Response to “قرآن کہانی:حضرت نوح عليہ السلام (حصہ چہارم)”

  1. [...] قرآن کہانی:حضرت نوح عليہ السلام (حصہ چہارم) [...]

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers