کھوٹ
Posted by ارتقاءِ حيات on January 10, 2012
سلطان محمد تغلق کی طرح فیروز شاہ نے بھی بڑی احتیاط کی تھی کہ سکّے عمدہ اورخالص تیار ہوں۔اس کے عہد کے سکّے علاوہ طلائی اور نقرئی سکّے کے جو پہلے سے رائج تھے، چہل وہشت گانی ،بست دپنج گانی(یہ سکّے خاص فیروز شاہ کی اختراع تھے)بست و چہار گانی،وہ ازدہ گانی،دہ گانی،ہشت گانی،شش گانی تھے۔ان کی قیمتیں علی الترتیب 48سے لے کر 6جیتل تک تھیں۔
ایک بار بادشاہ کو خیال آیا کہ خرید و فروخت کے وقت 1جیتل سے کم کا حساب ہوتا ہوگاتو بیچنے والا کیونکر فاضل رقم واپس کرتا ہوگا۔جبکہ جیتل سے کم کوئی سکہ نہیں۔چنانچہ اس نے 2سکّے مزید رائج کئےایک نصف جیتل کا سکّہ جسے آدھ کہتے تھے۔اور دوسرا پاؤ جیتل کا سکّہ جسے بیکھ کہا جاتا تھا۔
ایک بار بادشاہ کو خبر ملی کہ شش گانی سکّہ میں کچھ خفیف سی کھوٹ ہے۔ بادشاہ نے وزراء کو حکم دیا کہ تحقیقات کی جائے ۔یہ واقعہ 772ہجری(1370)کا ہے۔خاں جہاں کو خبر ہوئی تو بادشاہ سے عرض کیا کہ سکّے کی حالت ناگتخدا لڑکی کی سی ہے اگر اس کی عصمت پر جھوٹا الزام بھی لگ جائے تو اسے پھر کوئی نہیں پوچھتا،اس لئے اگر اعلانیہ تحقیقات کی گئیں اور کھوٹ ثابت ہو گیا تو شاہی سکّے کا اعتبار اٹھ جائے گا۔اس لئے پہلے خفیہ جانچ مناسب ہے۔اس وقت کجر شاہ ٹکسال کا ممتہم تھا ۔اس سے خاں جہاں نے کہاکہ تم اپنے طور پر تحقیق کر کے اطلاع دو۔چنانچہ اس نے اپنے طور پر تحقیق کر کے بتایا کہ واقعی ٹکسال کے بعض شریر آدمیوں نے سکّے میں کھوٹ ملا دی ہے۔خاں جہاں نے حکم دیا کہ سناروں کو بلا کر بادشاہ کے سامنے اسی طور پر جانچ کروائی جائے کہ وہ سکّے کے کھرے ہونے پر مطمئن ہو جائے۔کجر شاہ نے سناروں سے حالات بیان کئے انہوں نے مشورہ دیا کہ ہم لوگ
بادشاہ کے سامنے بغری سامان کے طلب کئے جائیں۔ مگر تھوڑی سی چاندی کسی کوئلہ کے اندر رکھ کر شگاف کو موم سے بند کر دیا جائے ،جب ہم سکہ گلائیں گے تو کوئلہ والی چاندی سکہ کی چاندی سے مل کر وزن کو پورا کر دے گی۔ چنانچہ اس پر عمل کیا گیا اور مجمع عام میں بادشاہ کے سامنے سکہ کی جانچ کی گئی۔چونکہ اس ترکیب سے سکہ کی کھوٹ کا پتا نہ چلا اور سکے کا وزن صحیح نکلا اس لئے بازاروں میں اعلان کردیا گیا کہ جانچ سے سکہ شش گانی بالکل کھرا ہے اور اس میں کوئی کھوٹ نہیں ہے۔
(تاریخ اسلامی ہند:علامہ نیاز فتح پوری)



