دمقراط
Posted by ارتقاءِ حيات on January 10, 2012
460قبل مسیح میں یونان کا ایک چھوٹا سا ساحلی شہر تھا جسے“آب درہ”کے نام سے پکارا جاتا تھا۔یہ تاجروں کی بستی تھی تاجرانہ سوچ والے ہی یہاں آباد تھے،دولت کمانا اور ہر وقت حصول دولت کے بارے میں سوچنا ہی ان لوگوں کا مقصد حیات تھا۔یہاں ایک بچہ دمقراط تھا اس کا باپ بھی بہت بڑا جاگیر دار اور دولت مندشخص تھا۔جب تک دمقراط بچا تھا سونے کی اینٹوں سے وہ بہلتا تھامگرہوش سنبھالنے کے بعد ایسی تبدیلیا ں آئیں کہ اسے یہ دولت کا گندگی کا ڈھیر محسوس ہونے لگا۔اس نے ایک لمبی چادر اپنے شانو ں پر ڈال کر ادھر ادھر گھومنا شروع کر دیا اور تلقین کر نا شروع کیا کہ یہ جاگیریں اور زمینیں روح کو مردہ کر دیتی ہیں۔ان کے چکر سے نکلو اور علم حاصل کرو۔لوگ اس کی بات پر ہنستے تھے۔اسے خبطی دیوانہ کہتے اور مذاق اڑاتے۔اس نے خاموشی اختیار کی اور ہر وقت اپنے خیالوں میں ڈوبا رہنے لگا۔
دمقراط کی جوانی تھی کہ اس کے باپ کا انتقال ہو گیا ۔پھر کیا تھا اسے موقع مل گیا کہ وہ ان نادان تاجروں کی دنیا سے دور چلا جائےاور تحصیل علم کے لئے کوشاں ہوجائے۔اس نے ساری جاگیرو جائیداد اپنے بھائیوں میں بانٹ دی اور خود نقد رقم جیب میں ڈال کر سیاحت پر روانہ ہو گیا۔
ایک طویل مدت کے بعد دمقراط واپس آیا تو وہ یہ کہنے میں حق بجانب تھا کہ “میرے ملک میں مجھ سے بڑا سیاح کوئی نہیں ہے۔میں نے اتنے زیادہ ملک دیکھے ہیں ،اتنے داناؤں سے کسب علم کیا ہے کہ جس کی نظیر نہیں ملتی۔”
اب دمقراط کی جوانی بڑھاپے میں داخل ہو رہی تھی ۔وہ ایک بوڑھا مفکّر تھا،جسے اس کے اقارب دیوانہ و مجنون کہہ رہے تھے۔وہ کہتے تھے کہ سیاحت کے دوران اس کی دماغی حالت بگڑ گئی ہے،اس کا علاج ہونا چاہئے۔یونان کا مشہور طبیب بقراط ابھی زندہ تھا چنانچہ اس کے علاج کے لئے بقراط کو بلایا گیا۔
بقراط نے اس سے تنہائی میں ملاقات کی ۔خدا جانے کیا باتیں ہوئیں کہ بقراط واپس آیا تو دمقراط دیوانے کا عقیدت مند ہو چکا تھا ۔آب درہ کے لوگوں سے یہ کہتا ہوا رخصت ہوا کہ “جو شخص اسے دیوانہ سمجھتا ہے اسے خود اپنے دماغ کا علاج کروانا چاہیئے”۔لوگوں نے اسے بھی جادوگر کہنا شروع کردیا کہ جس نے بقراط پر بھی سحر زدہ کر دیا۔
دمقراط دیوانہ تھا نا جادوگر بلکہ ایک سائنسدان تھا کہ جس نے پہلے پہل دنیا کے سامنے “ایٹم”کا نظریہ پیش کیا ۔
موجودہ زمانے میں وہ تمام تحقیقات جو ایٹم پر ہو رہی ہیں،اس تمام تحقیقات کی داغ بیل اسی عظیم مفکر دمقراط ہے ہاتھوں 2ہزارسال پہلے پڑھ چکی تھی۔ایٹم کا نام بھی اس کا تجویز کردہ ہے یعنی”نہ تقسیم ہونے والا”
ایٹم کو 19ویں صدی عیسوی میں”جان ڈالٹن”نےزیادہ وضاحت کہ ساتھ پیش کیا،اور اسی پر جدید کیمیا کی بنیاد پڑی۔
وبائی امراض کے متعلق اس کا خیال تھا کہ یہ فضاسے آئے ہوئے ایٹموں سے ہوتے ہیں۔جنہیں وہ امراض کے ایٹم کہتا تھا۔نظریئے میں وبائی امراض کے جراثیم کی ایک جھلک نظر آتی تھی۔جس کی دریافت موجودہ دور میں عمل میں آئی۔
نیند اور موت کے متعلق اس نے یہ دلچسپ خیال پیش کیا کہ جب انسانی بدن میں سے روح کے ایٹم نکل جاتے ہیں تو انسان پر نیند کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔اس حالت میں روح کے باقی ایٹم خارج شدہ ایٹموں کو واپس لانے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔جونہی یہ ایٹم واپس آتے ہیں انسان نیند سے بیدار ہو جاتا ہے۔جب روح کے تمام ایٹم بدن سے نکل جاتے ہیں اور کوئی ایٹم باقی نہیں رہتا کہ وہ خارج شدہ ایٹموں کو واپس لا سکے تو انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے۔
ایک ایسے زمانے میں کہ جب مشاہدے اور تجربے کے لئے نہ تو ساز و سامان موجود تھا نہ ہی لیبارٹریز کا رواج ہوا تھا دمقراط نے محض اپنی قوت فکر سے “ایٹم”کے وجود کو ثابت کیا جس کی تصدیق آنے والے زمانوں میں تجربے اور مشاہدے سے ہوئی۔
460قبل مسیح میں جب وہ پیدا ہوا تھا تو ایک دولت مند باپ کا پیٹا تھا لیکن92سال کی عمر میں جب وہ 368قبل مسیح میں فوت ہوا تو تنگ دستی کے سوا اس کے پاس کچھ نہ تھا ،لیکن اس حالت میں بھی وہ ان لوگوں پر حقارت کی ہنسی ہنستا جن کے پاس دولت تھی۔اس کی یہ ہنسی اس کو تاریخ میں زندہ کر گئی۔



