ایک مسلمان اور ایک بہائی کا مناظرہ
Posted by ارتقاءِ حيات on January 9, 2012
ضروریات دین میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو آخری پیغمبر ماننا ہے جس کے بعد اللہ تعالٰی کی طرف سے نہ کوئی پیغمبر آیا اور نہ کوئی شریعت ،اس بات کے اثبات میں قرآن میں بہت سی آیتیں پائی جاتی ہیں جیسے سورہٴ احزاب آیت ۴۰،سورہٴ فرقان آیت۱، سورہٴ فصلت آیت ۴۱۔۴۲۔سورہٴ انعام آیت ۱۹ ،سورہٴ سبا ، آیت ۲۸ وغیرہ۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور صحابہ کرام کی بہت سی روایتیں آپ کے خاتم الانبیاء ہونے پر صریحی ور سے دلالت کرتی ہیں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد آنے والے زمانوں میں فریبی اور چالباز لوگوں نے نیا نیا پیغمبر بنا کر آپ کی خاتمیت کو مخدوش بنانا چاہا۔تاکہ اس طرح سے خود ساختہ ادیان جیسے قادیانیت، بابی گری اور بہائیت معاشرہ میں اپنا اثر ورسوخ پید ا کرسکیں۔
اب درج ذیل مناظرہ جو ایک مسلمان اور بہائی کے درمیان ہوا ملاحظہ فرمائیں:
مسلمان: ”تم اپنی کتابوں اور تقریروں میں اسلام اور قرآن کو اس فرق کے ساتھ قبول کرتے ہو کہ اسلام نسخ ہو گیا ہے اور اس کی جگہ دوسری شریعت آگئی ہے اب میں تم سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ قرآن نے تو اپنی متعدد آیتوں میں اسلام کو ایک عالمی اور قیامت تک باقی رہنے والا مذہب کہا ہے اور ساتھ ساتھ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خاتمیت کا اعلان کرتے ہوئے آنے والے نئے دین کا باطل قرار دیا ہے۔
بہائی: ”مثلاًکون سی آیت یہ کہہ رہی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آخری پیغمبر ہیں ؟“
مسلمان: ”سورہٴ احزاب کی ۴۰ویں آیت میں۔
”مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اٴَبَا اٴَحَدٍ مِنْ رِجَالِکُمْ وَلَکِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّینَ وَکَانَ اللهُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمًا “
”محمد ، تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ رسول خدا اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ ہر شئے کا علم رکھنے والا ہے“۔
آیت میں جملہ ”خاتم النبیین “ واضح طور پر بتا رہا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آخری پیغمبر ہیں،کیونکہ لفظ خاتم کو جس طرح بھی پڑھا جائے اس سے یہی سمجھ میں آتا ہے ،لہٰذا اس آیت سے صریحی طور پر سمجھ میں آتا ہے کہ آپ آخری پیغمبر ہیں اور آپ کے بعد کوئی بھی پیغمبر اور شریعت نہیں آئے گی“۔
بہائی: ”خاتم انگوٹھی کے معنی میں بھی آیا ہے جو زینت کے لئے استعمال ہوتی ہے اس طرح اس آیت سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم انبیاء کی زینت ہیں“۔
مسلمان: ”لفظ خاتم کا رائج اور حقیقی معنی ختم کرنے والے کے ہیں اور کہیں پر یہ نہیں آیا کہ لفظ خاتم کسی انسان کے لئے آیا ہو جس سے زینت مراد لی گئی ہو اور اگر ہم لغات کی طرف رجوع کریں تو پتہ چلے گا کہ خاتم کے معنی ختم کرنے والے کے ہی ہیں اب اگر کوئی لفظ اپنے معنی کے علاوہ کسی اور معنی میں استعمال ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ساتھ کچھ سیاق وسباق رکھتا ہو،ہم اس لفظ کے ساتھ کوئی قرینہ یا کسی طرح کی کوئی دلیل نہیں پاتے ہیں جس کی وجہ سے اصلی معنی کو چھوڑ کر مجازی معنی مراد لئے جائیں۔
یہاں پر لفظ خاتم کے بارے میں چند لغات آپ ملاحظہ فرمائیں فیروز آبادی ”قاموس اللغة“ میں کہتے ہیں ”ختم“مہر کرنے کے معنی میں آتا ہے اور ”ختم الشئی“یعنی کسی چیز کا آخر۔
جوہری ”صحاح“میں کہتے ہیں کہ ختم یعنی پہنچنا اور ”خاتمة الشئی“ یعنی اس چیز کاآخر۔
ابو منظور ”لسان العرب“میں کہتے ہیں کہ” ختام القوم“ یعنی قوم کی آخری فرد اور ”خاتم النبیین“ یعنی انبیاء کی آخری فرد۔
راغب ”مفردات“میں کہتے ہیں کہ خاتم النبیین یعنی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خود آکر سلسلہ نبوت کو منقطع کر دیا اور نبوت کو تمام کر دیا۔
نتیجہ یہ ہو اکہ لفظ خاتم سے زینت معنی مراد لینا ظاہر کے خلاف ہے جس کے لئے دلیل کی ضرورت ہے اور یہاں پر کوئی دلیل نہیں پائی جاتی ہے“۔
بہائی: ”لفظ خاتم کے معنی خط پر آخری مہرہے جس کے معنی تصدیق شدہ کے ہیں لہٰذا اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے سے پہلے کے انبیاء کی تصدیق کرنے والے تھے۔
مسلمان: ”غرض پہلے سوال کے جواب سے یہ واضح ہو گیا کہ خاتم کے اصلی اور رائج معنی تمام اور اختتام کے ہیں اور یہ کہیں پر نہیں سنا گیا ہے لفظ خاتم سے استعمال کے وقت تصدیق مراد لی گئی ہو،اتفاق سے اس سے یہ بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ خاتم یعنی آخر میں مہر لگانا یعنی خاتمہ کا اعلان کرنا“۔
بہائی: ”آیت کہتی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خاتم النبیین،یعنی پیغمبروں کے سلسلہ کوختم کرنے والے ہیں ،آیت یہ نہیں کہتی کہ مرسلین کے ختم کرنے والے ہیں لہٰذا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد رسول کے آنے کی نفی ہوتی ہے“۔
مسلمان: ”اگر چہ قرآن میں رسول اور نبی میں فرق پایا جاتا ہے مثلاًاللہ تعالٰی نے قرآن میں جناب اسماعیل علیہ السلا م کو رسول اور نبی دونوں کہا ہے (سورہٴ مریم آیت ۵۴)اور اسی طرح جناب موسیٰ کو بھی رسول اور نبی بھی کہا ہے (سورہٴ مریم آیت ۵۱)لیکن یہ چیز کسی بھی طرح لفظ خاتم میں شبہ نہیں پیدا کرتی ہے کیونکہ نبی یعنی ایسا پیغمبر جس پر اللہ تعالٰی کی طرف سے وحی ہوتی ہے خواہ وہ لوگوں کی تبلیغ کرنے والا ہو یا نہ ہو، لیکن رسول وہ ہے جو صاحب شریعت اور صاحب کتاب ہو لہٰذاہر رسول نبی ہے لیکن ہر نبی رسول نہیں ہے۔
نتیجہ یہ کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو خاتم انبیاء کہاجائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کے بعد کوئی پیغمبر نہیں آئے گا اس فرض کے ساتھ کہ ہر رسول پیغمبر ہے بس رسول بھی نہیں آئے گا مثال کے طور پر نبی اور رسول کی مثال انسان اور عالم دین (منطق کی زبان میں عموم خصوص مطلق )کی نسبت پائی جاتی ہے جب بھی ہم کہیں کہ آج ہمارے گھر کوئی انسان نہیں آیا یعنی عالم دین انسان بھی نہیں آیا، اور ہماری بحث میں اگر کہا جائے گیا کہ کوئی پیغمبر ،رسو ل خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد نہیں آئے گا یعنی کوئی رسول بھی نہیں آئے گا“۔
بہائی: ”نبی اور رسول کے درمیان تباین (جدائی )پایا جاتا ہے جو نبی ہوگا وہ رسول نہیں ہوگا اور جو رسول ہوگا وہ نبی نہیں ہوگا لہٰذا ہمارا اعتراض بجا ہے“۔
مسلمان: ”لفظ رسول ونبی میں اس طرح کا فرق ،علماء اور مفکرین اور آیات وروایات کے خلاف ہے اور یہ ایک مغالطہ ہے کیونکہ تمہارا یہ مسئلہ خود آیت میں ذکر ہوا ہے“۔
”وَلَکِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّینَ“
”اور لیکن وہ رسول خدا اور خاتم النبیین ہیں“۔
اسی طرح موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ملتا ہے:”وکان رسولا ”نبیا“موسیٰ علیہ السلام رسول بھی تھے اور نبی بھی (سورہٴ نساء آیت ۱۷۱)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی (سورہٴ نساء آیت ۱۷۱میں)رسول کہہ کر پکارے گئے اور سورہٴ مریم آیت ۳۰،میں نبی کہہ کر پکارے گئے ہیں اگر لفظ نبی اور رسول آپس میں ایک دوسرے کے متضاد لفظ ہوتے تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام جیسے انبیاء ان دو متضاد صفتوں کے حامل نہ ہوتے، اس کے علاوہ اور بہت سی روایتیں اس سلسلے میں ہم تک پہنچی ہیں جس میں پیغمبر اکرم کو خاتم المرسلین کہا گیا ہے جن میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور آپ ہی ختم الرسل ہیں“۔
بہائی: ”جملہ خاتم النبیین سے ممکن ہے خاص پیغمبر مراد لئے گئے ہوں اس طرح تمام کے تمام پیغمبر اس آیت میں شامل نہیں ہوں گے“۔
مسلمان: ”اس طرح کا اعتراض دوسرے اعتراضوں سے زیادہ مضحکہ خیز ہے کیونکہ جو شخص بھی عربی قواعدسے تھوڑی بہت واقفیت رکھتا ہوگا وہ اس طرح کے جملے میں ہر جگہ ”ال“سے مراد عموم لے گا اور یہاں اس الف اور لام سے مراد ”عہد“ہونے پر کوئی دلیل نہیں ہے لہٰذا اس سے عموم ہی مراد لیا جائے گا“۔




Ghazanfar Ahmad said
Aa,
Sab say pehlay to ye k “little knowledge is a dangerous thing” pher ye k alhamdo lillah main ahmadi musalman hoon. Main khuda ko wahid o yakta manta hoon or rasoolay khuda Muhammad rasul Allah s.w ko khatumunabeyeen manta hoon or khatamul rasool manta hoon or rasool or nabe may koe farak nahe manta agar manoon to aap per eman namukamal rehta hay k aap khatamul raspoleen nahee rehtay k kaheen quran aap lo khtamul rasool nahe kehta. Pher ye ke Baha ullah nay Khudae ka b dawa kea tha or es say koe bahae inkat nahee kar sakta. Or go pehle daleel de Wo galat de aakhre shareat ke Lea Sab say aala or afza aayatay qurani ayat ” al rooms akmalto lakum deemokum
Ghazanfar Ahmad said
Alyooma akmalto lakum deeno kum wa atman to alaikum naymate hay. K aaj main nay Tum per tumhara deen mukamal kar dea…. Ye Wo alfaz hain k koe mazhab deen ke takmeel ke khush khabree apne elhame kebab say nahee delia sakta or es ayat k nazool k baaad yahod es ayat per rashak kartay thay or aik bar aik yahoode hazrat Umer r.a k pass aaya or kehnay laga k agar ye aayat hamare kitab may hote to ham os din ko khushe manaya kartay his din ye alfaz nazil hoay … Too aap r.a nay far aya ke ham os din eid manatay hay or tum saal may aik din mananay ke Baat kartay ho ham har Haftay manatay hain or ye din juma Kay din nazil Joe thee… Hamaray baray agar maloom nahee to hamay har aik say na Milaoo ham he bhaeeon say makable kartay hain kise bahae say hamaray baray pochoo Wo dim Suva k bhagay ga. Kise esae say Hamara pochoo Wo bhe khoof say kanpay ga … Aag ham hee hain Jo Muhammadur rasollulah ka parchamau
Ghazanfar Ahmad said
Parcham dare dunya may lehra rahay hain or pechlay aik sal may sate dunya nain 400 masajid banaeen Jin may europe ke or amrika ke or afrika ke masjidain b shamil hain or Germany may 10 sal may 100 masajid banay k mansona manaya hay or os may say bohat see ban b gae Berlin may 1924 may Easaeon nay masjid na bananay de ab waha b bana d Quran ka 60 zubanoo may Tarjama kar chokay or ye Sab muhammadul rasoolullah per kamal eman lanay or aap ke barkat say kea k aaj Hamara dawaay ishqay Muhammad he hay jo Khudae darbar may maqbool hay Jis ke taeed khuda kar raha hay or hamko asal
Ghazanfar Ahmad said
Khidmatay Islam o deenay mustafa s.w ke toffeek khuda day raha hay. Hamaray akaeed kamil deenay Islam hain or Quran k aik aik harf per eeman Lana or muhammadul rasoolluah s.w per kamil eman Lana he hamara mazhab hay.
Alislam.org per ja k hamaray tamam aqaid or mazhab ko par loo or khud apnay say pochool k koon se bat Islam k manage hay… Agar aik bat b mil jay to choor do hamay magar aik kaam to kar saktay hoo k rooo roo kar tahhajad main hamaray baray khuda say pochoo agar 40 din may koe wazeh jawab khuda ke Taraf say na aay to hamay jolts Jan loo magar ham sachay hain to tum per khuda ke garift tang hote rahay ge tumam khuda ke Taraf say aanay waloon munkareen k sath howa
Darvesh Khurasani said
قادیانی مرزائی چال…Qadianis tricks
مسلمانوں کو اپنے جال میں پھنسانے کا ایک ہتھیار
(استخارہ)
قادیانی لوگ جب ایک مسلمان کو ہر طرح سے قائل کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں ،تو اپنے اخری وار کے طور پر کہتے ہیں کہ
آپ استخارہ کرکے دیکھ لیں کہ ہم سچے ہیں یا جھوٹے؟
یعنی مرزا غلام قادیانی نبی تھا کہ نہیں ؟
آپ استخارہ کرکے اللہ تعالیٰ سے یہ فیصلہ لے لیں۔
نوٹ : یہ بات یاد رکھیں کہ استخارہ شک کی بناء پر کیا جاتا ہے۔
اپنے ایمان اور حضرت محمد صل اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے پر ذرہ برابر شک کرنے سے بھی آدمی اسلام سے خارج اور مرتد ہوجاتا ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ اب نبوت کا دعویٰ کرنے والے سے نبوت کی دلیل طلب کرنا بھی ایمان کیلئے خطرئے سے خالی نہیں.
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
http://www.khatm-e-nubuwwat.com
ڈاکٹر جواد احمد خان said
غضنفر،
ڈیڑھ ہوشیاری نہیں چلے گی۔۔۔۔۔۔اگر آپ اتنے ہی بڑے مسلمان ہیں تو کذاب لعین مرزا غلام قادیانی جہنم مکانی لعنۃ اللہ علیہ پر لعنت بھیجیے۔ اب یہ نا کہیے گا کہ مرزا کذاب نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا ۔۔۔
Darvesh Khurasaی said
ڈاکٹر جواد صاحب زبردست
Darvesh Khurasani said
تحریم ساحبہ یہ نیچے ایک پیراگراف لکھ رہا ہوں ۔مہربانی کرکے ذرا اسکو نستعلیق فونٹ میں شئیر کردئیں ۔شکریہ
( پھر یہ گذارش حذف کردئیں)
مسلمانوں کو اپنے جال میں پھنسانے کا ایک ہتھیار
(استخارہ)
قادیانی لوگ جب ایک مسلمان کو ہر طرح سے قائل کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں ،تو اپنے اخری وار کے طور پر کہتے ہیں کہ
آپ استخارہ کرکے دیکھ لیں کہ ہم سچے ہیں یا جھوٹے؟
یعنی مرزا غلام قادیانی نبی تھا کہ نہیں ؟
آپ استخارہ کرکے اللہ تعالیٰ سے یہ فیصلہ لے لیں۔
نوٹ : یہ بات یاد رکھیں کہ استخارہ شک کی بناء پر کیا جاتا ہے۔
اپنے ایمان اور حضرت محمد صل اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے پر ذرہ برابر شک کرنے سے بھی آدمی اسلام سے خارج اور مرتد ہوجاتا ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ اب نبوت کا دعویٰ کرنے والے سے نبوت کی دلیل طلب کرنا بھی ایمان کیلئے خطرئے سے خالی نہیں.
http://www.khatm-e-nubuwwat.com
ام تحریم said
درویش خراسانی صاحب
مجھے بس ایک بات بتا دیجئے کیا کسی بھی کام کے لئے استخارہ کرنا غلط ہے ؟
یا آپ صرف قادیانیوں کے لئے اس ہی بات پر کہہ رہے ہیں؟
اگر صرف قادیانیوں کے لئے کہہ رہے ہیں تو ان کی بات سننا ہی غلط کہوں گی
حد کہ آپ استخارہ کی بات کر رہے ہیں
استخارہ تو اللہ سے مدد کا نام ہے اس کو میں کیسے کسی مرتد کا ہتھیار کہہ سکتی ہوں؟
Darvesh Khurasani said
میرئے خیال میں ڈاکڈر صاحب کی وضاحت سے بات اچھی طرح واضح ہو گئی ہوگئ۔؟؟؟؟؟؟؟؟
ام تحریم said
جی ہاں ہو چکی ہے جی
ڈاکٹر جواد احمد خان said
حالانکہ برادر درویش خراسانی نے بہت اچھی وضاحت کردی ہے اور اس وضاحت کے بعد کسی اور وضاحت مزید کی گنجائش نہیں ہے ۔ مگر پھر بھی یہ کہنا چاہوں گا کہ مرتد کا ہتھیار استخارہ نہیں بلکہ وہ شک ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کے حوالے سے دلوں میں ڈال کر ایمان کی بنیادیں ہلا دیتا ہے۔
کبریائی اللہ سبحانہ تعالیٰ کی چادر ہے تو ختم نبوت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دستار فضیلت ہے وہ فضیلت جو کسی بھی نبی مرسل کو حاصل نہیں۔ اسی لیے مسلمان کہیں کا ہو اور کیسا ہی کیوں نا ہو وہ اس بات کو برداشت نہیں کرسکتا کہ کسی اس دستار پر کسی کذاب لعین کے ہاتھ لگیں۔ یہ چونکہ ایمان کا معاملہ ہے اس لیے مسلمانوں کا اس قسم کے حربوں کو سمجھنا از حد ضروری ہے۔