ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

سرزمین سندھ

Posted by ارتقاءِ حيات on January 6, 2012

کہتے ہیں کہ1830؁ کے عشرے میں ایک بڑا سا گلیشئر ٹوٹ کر دریائے شیوک میں گر گیا تھا اور اس نے دریا کا راستہ روک دیا تھا چنانچہ اس کےپچھواڑے ایک بڑے جھیل بنتی چلی گئی اور بعد میں کچھ تو گلیشئر اور اس کا دل پگھلا،کچھ پانی کے ذخیرے نے دباؤ ڈالا اور پھر جو پانی کا ریلا آیا تو دریائے سند ھ ابل پڑا۔کہتے ہیں دریائے سند ھ کابل،جو اٹک کے مقام پر دریائے سندھ میں گرتا ہے،الٹا بہنے لگااور وادی پشاور میں دریا سے ایک عورت نکالی گئی جس نےبھیڑ کی کھال پہنی تھی اور کوئی اجنبی زبان بولتی تھی۔ہو سکتا ہے کہ وہ بلتی ہو اس صورت میں وہ دریا سندھ میں300میل بہی ہوگی۔مگر سچی بات یہ ہے کہ اس بات کو سچ نہیں سمجھنا چاہیئے۔
دریائے سندھ میں بدترین تباہی1841؁ میں آئی تھی۔کہتے ہیں کہ دریا کی وادی میں بہت ساری بستیاں آباد تھیں اور کوب کھیتی باڑی ہوتی تھی۔پھر 1840؁ کے جاڑوں میں ننگا پربت  کے دامن کا ایک پورا پہاڑ ٹوٹ کر دریا میں آگرا۔یہ وہ جگہ جہاں استور آکر سندھ میں گرتا ہے۔پہاڑ گر کر دریا میں بڑا سا ڈیم بن گیا اور 6ماہ بعد وادی میں 35میل لمبی ایک جھیل بن گئی جس کا دوسرا سرا گلگت شہر کو چھونے لگا۔
کچھ عرصہ بعد ڈیم ٹوٹا ۔لوگوں کو معلوم تھا کہ ایک نہ ایک دن یہ ہونا ہےچنانچہ وہ اپنے ڈرے اٹھا کر اونچےمقامات پر چلے گئے لہٰذا جانی نقصان تو کم ہوا لیکن زمین تباہ ہو گئی۔ اور گاؤں دیہات بہہ گئے۔سندھ کے زیریں علاقے میں لوگ اس سیلاب کے لئے تیار نہ تھے وہاں اب تک یہ داستان مشہور ہے کہ ایک مرتبہ پہاڑوں کی طرف سے بے حد اونچی لہر آئی تھی۔
1885؁ میں بھی دریائے گلگت یا شائد ہنزہ میں ایسا ہی ڈیم بن گیا تھا۔جب وہ ٹوٹا تو 300میل نیچے تک دریا صرف ایک دن میں 90فٹ اونچا ہوگیا تھا۔

5 Responses to “سرزمین سندھ”

  1. [...] سرزمین سندھ [...]

  2. بی بی يہ کہاں سے پڑھا ہے ؟ تايخ ميں تو ايسی کوئی چيز مجھے پچھلی آدھی صدی مين نہيں ملی

    وقت ملے تو مندرجہ ذيل يو آر ايل پر کلک کر کے پڑھيئے ۔10۔ تاریخی پس منظر ۔ اور 11۔ جموں کشمیر کے مسلمانوں کی تحریک آزادی ۔ اس ميں آپ کو تاريخ کا مختصر حوالہ مل جائے گا
    http://www.theajmals.com/blog/%D8%AA%D8%AD%D8%B1%DB%8C%DA%A9-%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%8C-%D8%AC%D9%85%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D8%B4%D9%85%DB%8C%D8%B1/

    • حوالہ جات چاہیں مل جائیں گے
      فکر نہ کیا کریں

      اس عمر میں زیادہ فکر کرنا اچھا نہیں ہوتا
      آرام کیا کریں اب

      • جو حرکت کرتا ہے وہ زندہ رہتا ہے ۔ جو کام کرتا ہے وہ صحتمند رہتا ہے ۔ دماغ استعمال کيا جائے تو ٹھيک رہتا ہے ۔ اسلئے دعا ديا کيجئے مجھے کہ پڑھتا رہوں لکھتا رہوں کام کرتا رہوں ۔ فکر کے بغير زندگی بے رنگ ہوتی ہے ۔ مجھے نہ کبھی ترقی کی فکر ہوئی نہ دولت کی نہ مکان کی نہ روٹی کی ۔ جو مل گيا شکريہ کے ساتھ کھا ليا نہ ملا تو کبھی ملال نہ ہوا ۔ فکر صرف ايک ہے جو کبھی مجھے چھوڑتی نہيں اور وہ يہ کہ جب ميں اس دنيا سے چلا جاؤں تو کوئی مجھے برے الفاظ ميں ياد نہ کرے جو ياد کرے وہ ميرے لئے اچھی دعا کرے ۔
        آپ کی بات بھی مان ليتا ہوں اور ميں ضرور آرام کروں گا جب اپنے لوگ نہلا کر نيا سفيد لباس پہنا کر اپنے کندھوں پر اُٹھا کر کسی آرام گاہ ميں چھوڑ آئيں گے ۔ اس کيلئے بھی دعاؤں کی ضرورت ہے تاکہ يہ نصيب ہو جائے

        • آپ کا اور آپ جیسے بزرگوں کا سہارا ہی ہمارے لئے غنیمت ہے
          بزرگوں کو ہونا ایک نعمت ہے اللہ آپ کو سلامت رکھے آپ کی تحریروں کی روانی دیکھ کر ڈر لگتا ہے کہیں نظر نہ لگ جائے
          اس لئے آرام کا مشورہ دیتے ہیں

          مذکورہ بالا مضمون بڑی مشکل سے یاد آیا کہ 6 سال پہلے
          شیر دریا نامی کتاب جو کہ رضا علی عابدی صاحب کی تحریر کردہ ہے اور ہمارے ایک جانے والے کے کتب خانے سے زبر دستی چھینی ہوئی تھی
          انٹر نیٹ پر اس کا لنک نہیں مل سکا ہاں
          http://www.emarkaz.com/shop/store/books-1574.php
          اس کی فروخت کا لنک درجہ بالا ہے
          امید ہےپچھلی صدی میں جو نہ ملا ہو وہ یہاں مل سکے

          اللہ بہتر جاننے والا ہے اور شائد کئی باتیں مجھے بھی نہیں معلوم پر اس میں میرا اپنا قصور ہے نہ کہ میں نے سنا نہیں تو ایسا ہوا ہی نہیں

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers