ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

قرآن کہانی:حضرت نوح عليہ السلام (حصہ دوم)

Posted by ارتقاءِ حيات on January 6, 2012

  حضرت نوح عليہ السلام كے جوابات

قرآن ميں ان بہانہ جو اورا فسانہ ساز افراد كو حضرت نوح عليہ السلام كى طرف سے ديئے گئے جوابات ذكركيے گئے ہيں پہلے ارشاد ہوتا ہے:
اے قوم :” ميں اپنے پرورد گار كى طرف سے واضح دليل اور معجزہ كا حامل ہوں اور اس نے اس رسالت وپيغام كى انجام دہى كى وجہ سے اپنى رحمت ميرے شامل حال كى ہے اور يہ امر اگر عدم توجہ كى وجہ سے تم سے مخفى ہوتو كيا پھر بھى تم ميرى رسالت كا انكار كرسكتے ہو اور ميرى پيروى سے دست بردار ہوسكتے ہو”۔
سورت ہود آيت 28
يہ جواب قوم نوح عليہ السلام كے مستكبرين كے تين سوالوں ميں سے كس كے ساتھ مربوط ہے؟ مفسرين كے درميان بہت اختلاف ہے ليكن غور وخوض سے واضح ہو جاتا ہے كہ يہ جامع جواب تينوں اعتراضات كا جواب بن سكتا ہے كيونكہ ان كا پہلا اعتراض يہ تھا كہ تم انسان ہو آپ نے فرمايا يہ بجاہے كہ ميں تمہارى طرح كا ہى انسان ہوں ليكن اللہ تعالى كى رحمت ميرے شامل حال ہوئي ہے اور اس نے مجھے كھلى اورواضح نشانياں دى ہيں اس بناء پر ميرى انسانيت اس عظيم رسالت سے مانع نہيں ہوسكتى اور يہ ضرورى نہيں كہ ميں فرشتہ ہوتا۔
ان كا دوسرا اعتراض يہ تھا كہ تہارے پيروكار بے فكر اور ظاہر بين افراد ہيں۔آپ نے فرمايا تم بے فكر اور بے سمجھ ہو جو اس واضح حقيقت كا انكار كرتے ہوحالانكہ ميرے پاس ايسے دلائل موجود ہيں جو ہر حقيقت كے متلاشى انسان كے لئے كافى ہيں اور اسے قائل كرسكتے ہيں مگر تم جيسے افراد جو غرور ،خود خواہى ،تكبر اور جاہ طلبى كا پردہ اوڑھے ہوئے ہيں ان كى حقيقت بين آنكھ بيكار ہوچكى ہے۔
ان كا تيسرا اعتراض يہ تھا كہ وہ كہتے تھے : ہم كوئي برترى اور فضيلت تمہارے لئے اپنى نسبت نہيں پاتے، آپ نے فرمايا: اس سے بالاتركون سى برترى ہوگى كہ خدانے اپنى رحمت ميرے شامل حال كى ہے اور واضح مدارك ودلائل ميرے اختيار ميں ديئے ہيں اس بناء پر ايسى كوئي وجہ نہيں كہ تم مجھے جھوٹا خيال كرو كيونكہ ميرى گفتگو كى نشانياں ظاہر ہيں۔
”كيا ميں تمہيں اس ظاہر بظاہر بينہ كے قبول كرنے پر مجبور كرسكتا ہوں جبكہ تم خود اس پر آمادہ نہيں ہو اور اسے قبول كرنا بلكہ اس كے بارے ميں غوروفكر كرنا بھى پسند نہيں كرتے ہو”۔
سورت ہو دآيت28
ميں كسى صاحب ايمان كو نہيں دھتكارتا
”اے قوم :ميں اس دعوت كے بدلے تم سے مال وثروت اور اجرو جزا كا مطالبہ نہيں كرتا”۔ سورت ہو دآيت29
يہ امراچھى طرح سے نشاندہى كرتاہے كہ اس پروگرام سے ميرا كوئي مادى ہدف نہيں ،ميں سوائے خدا كے معنوى وروحانى اجر كے سواكچھ بھى نہيں سوچتا اور كوئي جھوٹا مدعى ايسا نہيں ہوسكتا جو اس قسم كے سردرد ،ناراحتى اور بے آرامى كو يوں ہى اپنے لئے خريد لے اور يہ سچے رہبروں كى پہچان كے لئے ايك ميزان ہے،ان جھوٹے موقع پرستوں كے مقابلے ميں، كہ وہ جب بھى كوئي قدم اٹھاتے ہيں بالواسطہ يابلا واسطہ طور پر اس سے ان كا كوئي نہ كوئي مادى ہدف اور مقصد ہوتا ہے۔
اس كے بعد ان كے جواب ميں جنہيں اصرار تھا كہ حضرت نوح عليہ السلام، اپنے اوپر ايمان لانے والے غريب حقير اور كم عمر افراد كو خود سے دور كرديں حضرت نوح عليہ السلام
( حتمى طور پر فيصلہ سناتے ہوئے )كہتے ہيں :
”كيونكہ وہ اپنے پروردگار سے ملاقات كريں گے اوردوسرے جہان ميں اس كے سامنے ميرے ساتھ ہوں گے”۔
سورت ہو دآيت29
آخر ميں انہيں بتايا گيا ہے :” ميں سمجھتا ہو ں كہ تم جاہل لوگ ہو”۔ سورت ہو دآيت29
”اے قوم اگر ميں ان باايمان لوگوں كو دھتكاردوں تو خدا كے سامنے (اس عظيم عدالت ميں بلكہ اس جہان ميں ) كون ميرى مدد كرے گا ”۔
سورت ہو دآيت30
”كيا تم كچھ سوچتے سمجھتے نہيں ہو”۔
سورت ہو دآيت30
 جان لو كہ جو كچھ ميں كہتا ہوں عين حقيقت ہے۔
خدائي خزانے ميرے قبضہ ميں نہيں ہيں
اپنى قوم كے مہمل اعتراضات كے جواب ميں حضرت نوح عليہ السلام آخرى بات كہتے ہيں كہ اگر تم خيال كرتے ہو اور توقع ركھتے ہوكہ وحى اور اعجاز كے سواء ميں تم پر كوئي امتياز يا برترى ركھوں ،تو يہ غلط ہے ميں صراحت سے كہنا چاہتا ہوں ”ميں نہ تم سے كہتا ہوں كہ خدا ئي خزانے ميرے قبضے ميں ہيں اور نہ ہر كام جب چاہوں انجام دے سكتاہوں ” نہ ميں غيب سے آگاہى كا دعوى كرتا ہوں ”اور نہ ميں كہتا ہوں كہ ميں فرشتہ ہوں”۔ سورت ہو دآيت31
ايسے بڑے اور جھوٹے دعوے جھوٹے مدعيوں كے ساتھ مخصوص ہيں اور ايك سچا پيغمبر كبھى ايسے دعوے نہيں كرے گا كيونكہ خدائي خزانے اورعلم غيب صرف خدا كى پاك ذات كے اختيار ميں ہيں اور فرشتہ ہونا بھى ان بشرى احساسات سے مناسبت نہيں ركھتا لہذا جو شخص ان تين ميںسے كوئي ايك دعوى كرے يا يہ سب دعوے كرے تو يہ اس كے جھوٹے ہونے كى دليل ہے۔
آخر ميں دوبارہ مستضعفين كا ذكر كرتے ہوئے تاكيد اََكہا گيا ہے ”ميں ہرگز ان افراد كے بارے ميں جو تمہارى نگاہ ميں حقير ہيں ،نہيں كہہ سكتا كہ خدا انہيں كو ئي جزائے خير نہيں دے گا” بلكہ اس كے برعكس اس جہان اور اس جہان كى خير، انھيں كے لئے ہے اگر چہ ان كاہاتھ مال ودولت سے خالى ہے يہ تو تم ہو جنہوں نے خام خيالى كى وجہ سے خير كو مال ومقام يا سن وسال ميں منحصر سمجھ ليا ہے اور تم حقيقت سے بالكل بے خبر ہو۔
اور بالفرض اگر تمہارى بات سچى ہو اور وہ پست اور اوباش ہوں تو خدا ان كے باطن سے آگا ہ ہے۔
ميں تو ان ميں ايمان اور صداقت كے سوا كچھ نہيں پاتا ،لہذاميرى ذمہ دارى ہے كہ ميں انہيں قبول كرلوں، ميں توظاہر پر مامور ہوں اور بندہ شناس خدا ہے۔”اور اگر ميں اس كے علاوہ كچھ كروں تو يقينا ظالموں ميں سے ہو جائوں گا ”
سورت ہو دآيت31 
جاری ہے

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers