ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

ماہ صفر (حصہ سوم)

Posted by ارتقاءِ حيات on January 5, 2012

ب- ماہ صفرسے نحوست وبدشگونی
-عرب د ور جاہلیت میں ما ہ صفر کو منحوس سمجھتے تھے ,کیونکہ ذی الحجہ اور محرم حرمت والے مہینے تھے جس میں وہ جگھڑا اور لڑائی حرام سمجھتے تھے ,لیکن صفر کا مہینہ شروع ہوتےہی لوٹ مار  اور قتل وغارت گری کا سلسلہ شروع ہوجاتا تھا –رسول £نے اپنے اس قول(ولاصفر) کے ذریعےاس کی تردید فرمائی,اور بتایا کہ ماہ صفر بذات خود منحوس نہیں ہے – اس میں جو کچہ بھی لوگوں کے لئے مصیبت اور پریشانی ہے وہ ان کے اعمال قتل وخونریزی اورلوٹ مار کی وجہ سے ہے (فتح ص/308)
اوردنوں اور مہینوں کو گالی یا برا بھلا کہنے کو اللہ کو سب وشتم کرنے کے مترادف قراردیا  جیسا کہ حدیث  قدسی ہے :(يقول الله عزوجل يؤذيني ابن آدم يسب الدهر وأنا الدهر بيدي الأمر أقلب الليل والنهار ) (بخاري ك/التفسير,8/738)
” يعني الله تعالى فرماتا هے کہ  ابن آدم  مجھے تکلیف دیتا ہے وہ زمانہ کو گالی دیتا ہے حالانکہ زمانہ میں ہی ہوں میرے ہی ہاتہ میں سارے امورہیں میں ہی رات اوردن کوپھیرتا ہوں ”
شیخ محمدبن صالح عثیمین رحمہ اللہ رسول £کے قول   ” ولاصفر” کی توجیہ  میں فرماتے ہیں  
“اوروقت اورزمانے کواللہ تعالى کی تقدیر پر کوئی تاثیر نہیں ,لہذا یہ بھی باقی اوقات اورزمانوں کی طرح ہے جن میں خیر وشر مقدرکیا جاتا ہے اوراس میں “صفر” کے وجودکی نفی نہیں ہے بلکہ اسکی تاثیرکی نفی مراد ہے اسلئے کہ موثرحقیقی توصرف اللہ تعالى ہے, لہذا جوسبب معلوم ہو وہ سبب صحیح ہے اور جو سبب صرف وہم پر ہو وہ سبب باطل ہے  اور بنفسہ اس کی سببیت اورتاثیر کی نفی ہو گئی . (مجموع فتاوىالشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ:/113-115)
             ماہ صفر کی نحوست و بدعات اورموجوده مسلمان :
كتا ب وسنت كي روشني ميں کچہ مہینے ایام اور راتیں ایسی ہیں جنکو دوسرے مہینوں, ایام اور راتوں کے مقابلے میں زیادہ فضیلت حاصل هيں,جیسے یوم عرفہ, شب قدراور یوم عاشوراء وغیرہ ,مگرکسی ماہ یا دن یارات کے بارےمیں صحیح أحادیث سے یہ ثابت نہیں ہے کہ وہ منحوس ہے اور اس سے بدشگونی لینی جائزہے .
لیکن أفسوس کہ موجودہ دورکے  بہت سے مسلمان ما ہ صفر کے بارے میں بڑی بد عقیدگی کا شکار ہیں اوراہل جاہلیت کی روش پر ابھی بھی قائم ہیں , وہ اس مہینہ کو منحوس سمجھتے ہیں اور ان کا یہ عقیدہ ہے کہ:
1- اس ماہ میں مصائب وآلام کی ہوائیں پوری تیزی کے ساتھ  چلنے لگتی ہیںاور غم وتکلیف کے دریا تندی وروانی کے ساتھ  بہنے لگتے ہیں –یعنی سال میں دس لاکھ اسّی ہزار بلائیں اور مصیبتیں نازل ہوتی ہیں ان میں صرف ایک مہینہ (صفر) میں نولاکھ بیس ہزاربلائیں نازل ہوتی ہیں .
2-بعض بد عقیدہ مسلم خواتین اس مہینے کو(طیرۃ طیری )یا(تیرۃ تیری) کے نام سے موسوم کرتی ہیں چنانچہ وہ اس مہینہ کو منحوس خیال کرتی ہوئیں چنے ابال کر اس مہینہ میں صدقہ کرتی ہیں تاکہ اس نحوست سے محفوظ رہیں .
 
3-بعض لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ مہینہ رحمتوں اوربرکتوں سے خالی رہتا ہے  اسی لئے اس سے نحوست پکڑتے ہیں .
4-بعض لوگ جب صفرکی پچیس تاریخ کو اپنے کسی کام سے فارغ ہوتے ہیں تو اسکی تاریخ لکھتے ہوئے کہتے ہیں :”خير كے مہینہ پچیس تاریخ کو یہ کا م ختم ہوا ,(یہ بدعت کا علاج بدعت کےذریعے ہے ,یہ مہینہ نہ تو خیرکا ہے اور نہ ہی شر کا) .
5-بعض لوگوں کے یہاں نئے شادی جوڑوں کو اس ماہ کے ابتدائی تیرہ دنوں میں ایک دوسرے سے الگ رکھا جاتا ہے, انھیں ایک دوسرے کی صورت تک نہیں دیکھنے دی جاتی ہے,حتی کہ عام شوہر اور بیوی کو بھی تین دن تک ایک دوسرے سے الگ رکھا جاتا ہے , تاکہ وہ نحوست کا شکار نہ ہوجائیں .
6-بعض مسلمان ماہ محرم میں اورصفر میں اس بنا پر شادی اورکوئی خوشی کا کا م نہیں کرتے کہ محرم میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ شہید کئے گئے اورصفر میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا- ان دونوں واقعات کی بنا پر دونوں مہینوں کو شادی اورخوشی کیلئے غیر مناسب اورمنحوس سمجھتے ہیں , حالانکہ کسی کی وفات اور شہادت کا دنوں اور مہینوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا , ورنہ ما ہ ربیع الأول اس بنا پر منحوس سمجھا جاتا کہ اس میں رسول £کی وفات ہوئی – جمادی الأول کو اس لئے منحوس سمجھا جاتا کہ اس میں خلیفہ اول, یار غاررسول ابو بکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا – اور ذی الحجہ اسلئے منحوس سمجھا جاتا کہ اس میں خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق  اور خلیفہ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کی شہادت ہوئی ,اورماہ رمضان اس واسطے منحوس سمجھا جاتا کہ اس میں خلیفہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی – اس طرح تما م انبیاء علیہم السلام, صحابہ کرام اورائمہ اسلام کی وفات اور شہادت کے ایام ومہینوں کو منحوس قراردیں , تو کوئی مہینہ, بلکہ کوئی دن نحوست سے خالی نہ رہے , اس واسطے حضرت حسین کی شہادت کی وجہ سے محرم کو اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے انتقال کی وجہ سے صفر کو منحوس سمجھنا اور ان میں شادی بیاہ نہ کرنا سراسر باطل اورغلط ہے .
 کوئی مہینہ اور دن منحوس نہیں ہوتا منحوس آدمی کا اپنا نا جائز عمل اور غلط عقیدہ ہوتا ہے .
7- ماہ صفر کی بدعات میں سے ایک بدعت یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگ اس ماہ کے آخر میں مغرب وعشاء کے درمیان مسجدوں میں جمع ہوتے ہیں , اور ایک ایسے کاتب کے پاس حلقہ بناکر بیٹھتے ہیں جو انھیں کاغذ پرانبیاء علیہم السلام کے اوپر سلام والی آیتوں کو لکھ کر دیتا ہے وہ آیا ت یہ ہیں :
1- سلام ٌقولاًمن رب رحيم
2- سلامٌ على نوحٍ في العالمين
3-سلامٌ على إبراهيم
4-سلامٌ على موسى وهارون
5-سلامٌ على المرسلین
6-سلامٌ عليكم طبتم فادخلوها خالدين
7-سلامٌ هي حتى مطلع الفجر
 اسکے بعد یہ اسے پانی کے برتن میں ڈالتے ہیں اورپھراسے اس اعتقاد کے ساتھ  پیتے ہیں کہ اس سے انکی تمام مصیبتیں دورہوجاتی ہیں ,اسی طرح وہ اس پانی کو ایک دوسرے کو ہدیہ کے طور پر بھی بھیجتے ہیں.

جاری ہے

4 Responses to “ماہ صفر (حصہ سوم)”

  1. Ali Hasaan said

    بہت عمدہ

  2. [...] ماہ صفر (حصہ سوم) [...]

  3. اس تحریر کو جمع وترتيب دینے والے ہیں”شفيق الرحمن ضياء الله”اور مراجعہ کیا ہے “جناب شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی صاحب “نے

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers