ماہ صفر (حصہ دوم)
Posted by ارتقاءِ حيات on January 3, 2012
صفرکی وجہ تسمیۃ اور مفہوم
صفر كي وجہ تسمیہ میں مختلف أقوال ذکرکئے گئے ہیں ان میں سے چند مشہور یہ ہیں :
1- صفر ايك بيماري هے جس میں آدمی کھا تا چلا جاتا ہے مگراسکی بھوک ختم نہیں ہوتی –جسے جوع البقرکہا جاتا ہے
2-بعض لوگوں کا عقیدہ تھا کہ صفرپیٹ میں ایک کیڑہ یا سانپ ہوتا ہے ,یا ایک خطرناک بیماری ہوتی ہے اور جس کو یہ بیماری لا حق ہوجاتی ہے وہ ہلاک ہوجاتا ہے ,اوریہ بیماری خارش سے بھی زیادہ متعدی ہوتی ہے.
اس عقیدہ کی آپ £نے تردید کی اور فرمایا “ولاصفر” صفر کی کوئی حقیقت نہیں اوریہ بیماری بھی اللہ کے حکم کے بغیر متعدی نہیں ہوتی.
3-كہا جاتا ہے کہ اس ماہ میں عموما عربوں کے گھرخالی رہتے تھے مسلسل تین حرمت والے مہینوں کے بعد یہ مہینہ آتا تو جنگ وجدال کے یہ عادی عرب , لڑائی اور لوٹ مارکے لئے نکل پڑتے ,اور اس طرح انکے مکان خالی ہوجاتے,اورجب مکان خالی ہوجائے تو کہا جاتا ہے کہ “صفر المکان”مکان خالی ہوگیا .
حافظ ابن کثیررحمہ اللہ فرماتےہیں : (وصفر سمّي بذالك لخلوّ بيوتهم منهم حين يخرجون للقتال والأسفاريقال صفر المكان إذا خلا ويجمع على اصفاركجمل وأجمال(تفسير ابن كثير2/345)
بعض لوگ کہتےہیں کہ صفر کے معنی خالی ہونا(اورچونکہ یہ مہینہ رحمتوں اوربرکتوں سے خالی ہوتا ہے ,اس واسطے اسے صفر کہتے ہیں حالانکہ یہ ان کے غلط اعتقاد پرمبنی توجیہ ہے جو درست نہیں .
4-”ولاصفر”كا ايك معني تو يه ہے کہ عرب کبھی ماہ صفر کو ماہ محرم سے بدل لیتے تھے ,یعنی ماہ محرم کے بجائے ماہ صفر کو حرمت والا مہینہ ما ن لیتے تھے,اوراسکے بدلےمحرم میں لڑائی اورلوٹ مار,قتل وغارتگری وخوں ریزی کو حلال کرلیتے,اورکبھی ایسا نہ کرتے,بلکہ محرم ہی کو حرمت والا مہینہ مانتے-رسول £نے اسں عمل کو باطل قرار دیا اور”ولا صفر”سے اسکی تردید کی .
5-”اورایک قول یہ بھی ہے کہ :“اس ماہ میں قبائل کے خلاف چڑھائی کی جاتی تھی اورجو بھی انھیںملتا اسے مال سے خالی کردیتے ( یعنی اسکا سارا سامان چھین لیتے تو وہ بغیر کسی سامان کےرہ جاتا ) ( لسان العرب 4/462)
6-عرب د ور جاہلیت میں ما ہ صفر کو منحوس سمجھتے تھے ,کیونکہ ذی الحجہ اور محرم حرمت والے مہینے تھے جس میں وہ جگھڑا اور لڑائی حرام سمجھتے تھے ,لیکن صفر کا مہینہ شروع ہوتے ہے لوٹ مار اور قتل وغارت گری کا سلسلہ شروع ہوجاتا تھا –رسول £نے اس کی تردید فرمائی ,اوربتایا کہ ماہ صفر بذات خود منحوس نہیں ہے ,اس میں جو کچہ بھی لوگوں کے لئے مصیبت اور پریشانی ہے وہ ان کے اعمال,قتل وخونریزی اورلوٹ مار کیوجہ سےہے (فتح المجید ص/308)
شیخ محمدبن صالح العثیمین رحمہ اللہ نے اسی قول کوراجح قرار دیا (مجموع فتاوىالشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ:/113)
ب- ماہ صفر کے سلسلے میں اہل جا ہلیت کا اعتقاد
1- تقدیم وتاخیر(نسیئی) 2 – نحوست وبد شگونی
أ- ماہ صفر کو آگے پیچھے کرنا (نسیئ)
ابتدائے آفرینش سے ہی اللہ تعالى نے سال کے بارہ مہینے مقرر فرمائے ہیں جن میں چارحرمت والے ہیں جن کی حرمت وپاس اورشان وعظمت کی وجہ سے جنگ وجدال کی بالخصوص ممانعت ہے جیساکہ اللہ تعالى کا ارشاد ھے
“بے شک مہینوں کی تعداداللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں بارہ ہیں ,اسی دن سے جب سے آسمان وزمین کو اس نے پیدا کیا ہے ان میں سے چار حرمت وادب کے ہیں ,یہی درست دین ہے تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو,اورتم تما م مشرکوں سے جہاد کرو جیسے کہ وہ تم سب سے لڑتے ہیں,اور جان رکھو کہ اللہ تعالى متقیوں کے ساتہ ہے “.
اسی بات کو نبی کریم £نے اس طرح فرمایا ہے کہ “زمانہ گھوم گھما کرپھر اسی حالت پے آگیا ہے جس حالت پر اسوقت تھا جب اللہ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمائی –سال بارہ مہینوں کا ہے ,جن میں چار حرمت والے ہیں ,تین پے درپے –ذوالقعدہ ,ذوالحجہ ,محرم اور چوتھا رجب مضر ,جو جمادی الأخری اورشعبان کے درمیان ہے “(بخاری ک/تفسیرباب سورہ توبہ, ومسلم ک/القسامۃ باب /تغلیظ تحریم الدماء)
اور”زمانہ اسی حالت پر آگیا ہے” اس سے مراد یہ ہے کہ “مشرکین عرب مہینوں میں جو تقدیم وتأخیر کرتے تھے جسے (نسیئ) کہا جاتا ہے اللہ نے اسے باطل قراردے دیاہے اورمہینوں کی وہی صحیح ترتیب ہے جس کو اللہ نے ابتدائے آفرینش سے رکھی ہے جیساکہ اللہ نے فرمایا کہ
“مہینوں کا آگے پیچھے کر دینا کفرمیں زیادتی ہے اس سے وہ لوگ گمراہی میں ڈالے جاتے ہیں جو کا فر ہیں ,ایک سال تو اسے حلال کرلیتے ہیں اورایک سال اسی کو حرمت والا کرلیتے ہیں ,کہ اللہ نے جو حرمت رکھی ہے اس کے شمار میں تو موافقت کرلیں,پھر اسے حلال بنا لیں جسے اللہ نے حرام کیا ہے,انہیں ان کے برے کام بھلے دکھا دئیے گئے ہیں اور قوم کفارکی اللہ رہنمائی نہیں فرماتا “
“نسیئ “کے معنی پیچھے کرنے کے ہیں . عربوں میں بھی حرمت والے مہینوں میں قتال وجدال اورلوٹ مار کو سخت ناپسندیدہ سمجھا جاتا تھا ,لیکن مسلسل تین مہینے ا ن کی حرمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے,قتل وغارتگری سے اجتناب کرنا ,ان کے لئے بہت مشکل تھا- اس لئے اس کا حل انہوں نے یہ نکا ل رکھا تھا کہ جس حرمت والے مہینے میں وہ قتل وغارتگری کرنا چاہتے ,اس میں وہ کرلیتے اوراعلان کردیتے کہ اسکی جگہ فلان مہینہ حرمت والا ہوگا –مثلا محرم کے مہینے کی حرمت توڑکر اس کی جگہ صفر کو حرمت والا مہینہ قرار دے دیتے ,اس طرح حرمت والے مہینوں میں وہ تقدیم وتاخیر اور اُدَل بدَل کرتے رہتے تھے ,اور انکا مقصد یہ ہوتا تھا کہ اللہ تعالى نے جو چار مہینے حرمت والے رکھے ہیں ان کی گنتی پوری رہے ,یعنی گنتی پوری کرنے میں اللہ کی موافقت کرتے تھے لیکن اللہ نے جوقتال و جدال اور غارتگری سے منع کیا تھا , اس کی انہیں کوئی پرواہ نہ تھی ,بلکہ انہیں ظالمانہ کارروائیوں کے لئے ہی وہ تقدیم وتاخیر اور أُدَل بد ل کرتے تھے, یعنی مشرکین ان چاروں مہینوں کی حرمت کو جانتے ہوئے اپنی من مانی خواہشات سے”نسیئ “کا عمل کرتے تھے , اور ان کا یہ اعتقاد تھا کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا سب سے بڑا فجورکا کا م ہے جیساکہ بخاری ومسلم میں ہے:(عن ابن عباس رضی اللہ عنہما قال:كانوا يرون أن العمرة في أشهر الحج من أفجر الفجور في الأرض , ويجعلون المحرّم صفراً,ويقولون : إذا برأ الدَّبر ,وعفا الأثر , وإذا انسلخ صفر :حلّت العمرة لمن اعتمر )(بخاري (1489) ومسلم (1240)
“ابن عباس رضي الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ : وہ یہ سمجھتے تھے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا زمین میں بہت بڑا فجور کا کا م ہے اوروہ محرم کو صفر بنا لیتے اوریہ کہتے : جب اونٹوں کی پشت صحیح ہوجائے اوراسکے اثرات مٹ جائیں ,اور صفر کا مہینہ ختم ہو جائے ,تو عمرہ کرنے والےکیلئے عمرہ حلا ل ہوگیا “
اسی کو”نسیئی”کہا جاتا ہے . اللہ تعالى نے اس کی بابت فرمایا کہ:یہ کفر میں زیادتی ہے کیونکہ اس اُدَل بدل سے مقصود لڑائی اور دنیاوی مفادات کے حصول کے سوا کچہ نہیں -اورنبی کریم £نے بھی اس کے خاتمے کا اعلان یہ کہ کر فرمادیا کہ”زمانہ گھوم گھما کر اپنی اصلی حالت پے آگیا ہے “یعنی اب آئندہ مہینوں کی یہ تر تیب اسی طرح رہے گی جسطرح ابتدائے کائنات سے چلی آرہی ہے.
اہل جاہلیت کے نزدیک ” نسیئ ” کی کیفیت
1 –(تأخیر) ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جنادہ بن عوف بن امیہ کنانی ھر سال موسم (حج) میں آتا اوریہ اعلان کرتا كہ:”خبردار! أبوثمامہ کو نہ تو کوئی عیب لگایا جائیگا اورنہ ہی اسکی بات مانی جائیگی ,خبردار! سال کے شروع میں صفر حلال ہے , توہم اسے ایک سال حرام قراردیتے ہیں,ا ورایک سال حلال ,اور وہ (ان دنوں) ہوازن وعطفان اوربنوسلیم کے ساتہ تھے .
اورایک لفظ میں اس طرح ہےکہ “ ہم نے محرم کو پہلے اور صفر کو بعد میں کردیا ہے ,پھر دوسرے سال آتا اورکہتا کہ ہم نے صفر کو حرام قراردیا ہے اورمحرم کو موخر کردیا ہے تووہ یہی تاخیر اور”نسیئی” ہے
2-زیادتی : قتاده رحمه الله كہتے ہیں کہ :”گمراہ لوگوں میں سے ایک قوم نے صفر کو اشہر الحرام یعنی حرمت والے مہینوں میں شامل کردیا ,ان لوگوں کا سردارموسم (حج) میں کھڑا ہو کریہ کہتا :خبردار!تمهارے معبودوں نے اس سال محرم کو حرام کردیا ہے ,تو وہ اس سال محرم کو حرمت والا قراردیتے , پھر وہی شخص اگلے سال یہ اعلان کرتا کہ :تمہارے معبودوں نے صفر کو حرام کیا ہے تو وہ اس سال صفرکو حرمت والا قرار دیتے ,اور یہ کہتے “صفران” یعنی دوصفر “.
اورابن وہب اور ابن القاسم نے امام مالک رحمہ اللہ سے ایسا ہی روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ “اہل جاہلیت دو صفر بنا لیتے تھے اسی لئے نبی £نے فرمایا “لا صفر ” اوراسی طرح اشہب نے بھی امام مالک سے ایسا ہی بیان کیا ہے
3-حج کی تبدیلی : ايك دوسري سند كے ساتہ مجاہد رحمہ اللہ , اللہ کے اس قول }إنما النسيئ زيادة في الكفر{“کہ نسیئ تو کفرمیں زیادتی ہے ” کی تفسیرمیں فرماتے ہیں : “یعنی دوبرس وہ ذوالحجہ میں حج کرتے , پھر دوسال محرم میں حج کرتے ,پھر دو سال صفر میں حج کرتے ,تواسطرح وہ ہرسال ہر ما ہ میں دوسال حج کرتے تھے ,حتى کہ ابو بکررضی اللہ عنہ کا حج ذوالقعدہ کے مہینہ کے موافق آیا, اور پھر نبی کریم £نے ذوالحجہ میں حج کیا ,تویہی نبی£ کا فرمان ہے جسکو اپنے خطبہ میں بیان کیا تھا “بے شک زمانہ گھوم گھما کراسی حالت پے آگیا جس پر وہ زمین وآسمان کی خلقت کے وقت تھا ” جیسا کہ ابن عباس وغیرہ نے صحیح سند سے روایت کیاہے .کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
:” لوگو !میری بات غورسے سنو ,ہوسکتا ہے آئندہ آپ لوگوں سے ملاقات نہ کرسکوں, لوگو! بلاشبہ تمہارے خون اورمال تم پر قیامت تک حرام کردئے گئے ہیں جیسے اس دن ,اس مہینے اوراس شہر کی حرمت ہے ,بے شک تم سب عنقریب اپنے رب سے ملاقات کروگے تو وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں سؤال کرے گا ,بے شک میں نے رب کے پیغام کو پھنچا دیا ,لہذا جس کسی کے پاس بھی کسی کی کوئی امانت ہووہ اسے لوٹا دے , اور بلا شبہ ہر قسم کے سود کو ختم کردیا گیا اورتمہارے اصل مال کو باقی رکھا گیا ہے ,نہ تو تم کسی پر ظلم کرو نہ ہی تم پر کوئی ظلم کیا جائیگا , اللہ تعالى کا فیصلہ ہے کہ سود (جائز)نہیں اور ابن عباس بن عبد المطلب کا سارا سود ساقط اورختم کردیا گیا ہے اورجاہلیت کا ہرخون ختم کردیا گیا ہے,
اور تمہارا سب سے پہلا خون جسے میں معاف کرتا ہوں وہ ابن ابی ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب کا ہے جو بنو لیث میں دودہ پیتا تھا تواسے بنو ہذیل قبیلہ نے قتل کردیا تھا , اوریہ جاہلیت کے خون میں سے پہلا خون ہے جسے میں ختم کرتا ہوں .
أما بعد: اے لوگو!بلاشبہ شیطان اس بات سےنا امید ہوچکا ہے کہ تمہاری سرزمیں میں اسکی اب پوجا کی جائیگی ,لیکن اسکے علاوہ جن کاموں کو تم حقیر سمجھتے ہو اگر اس میں اس کی اطاعت کی جائے تو وہ اس پر راضی ہوگا ,لہذا تم اپنے دین کے سلسلے میں شیطان سے بچ کر رھو ,اوریہ “نسیئ”کفرمیں زیادتی ہے اس سے وہ لوگ گمراہی میں ڈالے جاتے ہیں جو کا فر ہیں ,ایک سال تو اسے حلال کرلیتے ہیں اور ایک سال اسی کو حرمت والا قراردیتے ہیں , کہ اللہ نے جو حرمت رکھی ہے اس کے شمار میں تو موافقت کرلیں ,پھر اسے حلال بنا لیں جسے اللہ نے حرام کیا ہے “اورزمانہ اسی حالت پر لوٹ گیا جس پر وہ زمین وآسمان کی تخلیق کے وقت تھا اوربے شک مہینے اللہ کے نزدیک بارہ ہیں جن میں سے چار حرمت والے ہیں,تین پے درپے اوررجب مضر جو جمادی اورشعبان کے درمیان ہے اسکے بعد ساری حدیث ذکرکی . . (أحکام القرآن لابن العربی :2/503-504)
جاری ہے




ام تحریم said
اس تحریر کو جمع وترتيب دینے والے ہیں”شفيق الرحمن ضياء الله”اور مراجعہ کیا ہے “جناب شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی صاحب “نے