ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

حیدر آباد

Posted by ارتقاءِ حيات on January 3, 2012


حیدر آباد شہر ایسے تو اتنا قدیم نہیں ہے ۔دو سو،سوا دوسو پہلے 1767؁ میں اس کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا۔
یہ شہر جس کو میا ں غلام شاہ کلہوڑو نے امن کا شہر قرار دیتے ہوئے جب قلعے پر تختی نصب کرائی تھی تو ا س پر ایک فارسی شعر لکھوایا تھا جس کا مطلب تھا  “یا خدا یہ شہر امن کا شہر بنے”
سندھ پر حکمرانی کررنے والے کلہوڑو خاندان  نے اپنا پایۂ تخت یہاں سے دور دادو میں بسایا تھامگر دریا کی بپھری ہوئی موجوں نے انہیں وہاں چین سے بسنے نہ دیا ۔اسی طرح ڈھائی ہزار سال پہلےموئن جو دڑو  اجڑا تھا۔اسی طرح ان کا شہر بھی دریا کے ڈوبتے کناروں کے ساتھ ساتھ پانی میں ڈھلک گیا تو انہیں نئی بستی کے لئے نئے ٹھکانے کی تلاش ہوئی۔
کلہوڑوں کا دارالخلافہ خداآباد تھا،وہاں کوئی 1757؁ میں بڑا سیلاب آیا۔ ان کا دارالخلافہ ڈوب گیا تو انہوں نے اس بات کی ضرورت محسوس کی کہ کوئی نیا دارالخلافہ بنایا جائے چنانچہ انہوں نے یہ جگہ منتخب کی جہاں اب حیدر آباد ہے۔
کلہوڑوں نے سب سے پہلے قلعہ بنایااور اس کے اندر رہنے لگے۔تھوڑے عرصے بعد تالپور خاندان کی حکرانی ہوئی۔وہ بھی اسی قلعے میں رہنے لگے۔ قلعے میں بس کچھ عمارتیں تھیں۔سادہ اور معمولی۔جہاں اب پھیلیلی کا علاقہ اور مرزاؤں کا محلہ ہے۔یہاں پرانا شہر آباد ہوا۔اور جہاں حاکموں کا قلعہ ہے جس کے صدر دروازے سے رات دن سواریاں آیا اور جایا کرتی تھیں۔اسی لئے رونق کے اسباب پیدا ہوتے چلے گئے۔جلد ہی قلعے کے سامنے بازار بن گیا جو آج تک شاہی بازار کہلاتا ہے۔بقول ڈاکٹر مبارک علی”یہ بھی ایک پرانی اسلامی روایت تھی کہ مسلم شہروں کے اندر چھتے دار بازار ہوا کرتے تھے تاکہ گرمی اور بارش میں بچت ہوا کرے چنانچہ سندھ کے کئی شہروں میں شاہی بازار موجود ہیں۔
1843؁میں کلہوڑے بھی گئے ،تالپور بھی رخصت ہوئے اور اس درویش کی پیش گوئی بھی درست ثابت ہوئی کہ جس نے دریائے سندھ میں سفید فام انگریزوں کی کشتیوں کے پہلے بیڑے کو گزرتے دیکھ کر کہا کہ فرنگیوں نے دریا کا راستہ دیکھ لیا ہے اب سندھ کی خیر نہیں۔اس سرزمین پر انگریزوں کا قبضہ ہوا اور حیدر آباد کی شکل و صورت بدلنا شروع ہوئی۔
1850؁میں انگریزوں نے قلعے کے جنوب  میں اپنی چھاؤنی بنائی۔ یہیں اپنے مشن اسکول ،اسپتال اور اپنی دوسری عمارتیں تعمیر کروائیں جو آج بھی صدر کا علاقہ یا چھاؤنی کا علاقہ کہلاتا ہے۔

2 Responses to “حیدر آباد”

  1. اگر مجھ سے دنیا کے بہتریں شہر کے بارے میں پوچھا جائے تو میرا جواب حیدر آباد ہوگا۔ حیدرآباد میں ایک نامعلوم کشش ہے۔ اگر آپ نے اس شہر میں کچھ وقت گزارا ہے تو یہ نا ممکن ہے کہ اسے آپ بھول جائیں۔ اسکی کیا تعریف کی جائے۔ اسکی ٹھنڈی شامیں اور رات کی ہوا۔ میرا دعویٰ ہے کہ ایسے مسحور کن اور مخمور راتیں دنیا کے کسی شہر کے نصیب میں نہیں۔ دن چاہے کتنا ہی گرم کیوں نا ہو راتیں ٹھنڈی اور مہربان ہوتی ہیں۔ اسکی سردیاں نم اور معطر ہیں۔ اسکے درخت پھلدار ہیں۔ اور لوگ اس گئے گذرے دور میں بھی انسانیت کا مظاہرہ کرتے نظر آجاتے ہیں۔
    اخلاق اور مروت اس شہر کے باسیوں میں زیادہ ہے۔ ہزار جھگڑوں کے باوجود لوگ قطع تعلق نہیں کرتے۔ یہان کی ربڑی بے مثال ہے۔ یہاں کی چوڑیاں خطہ میں بہتریں ہیں۔یہاں جیسی چپلیں پوری دنیا میں کہیں بنتیں۔یہاں کے اساتذہ جیسے آپکو پورے ملک میں نہیں ملیں گے۔غرض ایسا شہر آپکو پوری دنیا میں نہیں ملے گا۔
    اس سے زیادہ کیا کہوں کہ مجھے حیدرآباد چھوڑے ۱۰ سال سے زیادہ ہو گئے ہیں لیکن اس شہر نے آج تک مجھے نہیں چھوڑا۔۔۔

  2. [...] حیدر آباد [...]

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers