بے مثال عمارت
Posted by ارتقاءِ حيات on January 1, 2012
محمود غزنوی نے اپنی نوجوانی میں ایک سرسبز و شاداب باغ لگوایا اور اس باغ میں ایک شاندار اور خوبصورت عمارت تعمیر کروائی۔جب باغ مکمل ہوگیا تو اس نے ایک عام جشن منعقد کیا اور اپنے باپ ناصر الدین سبکتگین اور سلطنت کے دوسرے ارکان کو باغ میں مدعو کیا۔
سبکتگین نے باغ اور عمارت کو دیکھ کر کہا”محمود ! اگر چہ باغ اور عمارت بے حد شاندار اور خوبصورت ہے ،لیکن ایسی چیزیں تو تمہارے ملازم بھی بنا سکتے ہیں۔۔بادشاہوں کی شان و شوکت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ایسی عمارت کی بنیاد ڈالیں جس کی مثال پیدا نہ کی جا سکے۔”
محمود نے ادب سے پوچھا “آپ کون سی عمارت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں؟”
سبکتگین نے جواب دیا “وہ عمارت اہل علم کے دل ہیں۔ اگر تم ان کے دلوں کی سرزمین میں اپنی محبت اور احسان کے بیج بو دو گے تو وہ بار آور ہوں گے۔ ان کے پھل ایسے ہوں گے جن کے چکھنے سے تمہیں سعادت کی لذت ملے گی اور تمہارا نام حشر تک زندہ رہے گا۔”





افتخار اجمل بھوپال said
ہے کوئی سبکتگين کا شاگرد ؟
ام تحریم said
نہیں اس کے بیتوں کی کمی ہے اب تو
کاش کوئی ایسا ہی بیتا اب پاکستان کو بھی نصیب ہو جائے
?? ???? ????? | Tea Break said
[...] ?? ???? ????? [...]