حضرت عمار بن یاسررضی اللہ تعالٰی عنہ کی شیطان سے جنگ
Posted by ارتقاءِ حيات on December 30, 2011
حضرت عمار بن یاسررضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریمﷺکے ساتھ مل کر جنات اور انسانوں سے جنگ کی ہے۔
پوچھا (جن سے)کس طرح جنگ کی؟
فرمایا کہ “ایک جنگ میں ہم نبی کریم ﷺکے ساتھ تھے،جب ہم ایک منزل پر اترے اور میں نے اپنا مشکیزہ اور ڈول پانی کے لئے اٹھایا تو آپﷺ نے فرمایا :
“تمہارے سامنے پانی کے سامنے کوئی(شخص)آئے گاوہ تمہیں پانی لینے سے منع کر دے گا،تم اس سے خبردار رہنا۔”
چنانچہ جب میں کنویں کی منڈیر پر پہنچا تو ایک کالا سیاہ انتہائی بدصورت شخص نظر آیا۔اس نے کہا اللہ کی قسم تم آج کنویں سے پانی کا ایک ڈول بھی نہیں لے سکتے۔ اس طرح ہماری جھڑپ شروع ہو گئی اور میں نے اس کو چت کر دیا۔اور ایک پتھر اٹھایا اور اس کی ناک اور منہ توڑ دیئے۔پھر اپنا مشکیزہ بھرا اور نبی کریمﷺ کی خدمت میں پہنچ گیا۔
آپ ﷺ نے پوچھا :کیا تمہیں روکنے تمہارے پاس کوئی آیا تھا؟
میں نے عرض کیا :جی ہاں ، اور سارا واقعہ گوش گزار کر دیا۔
آپ ﷺ نے فرمایا :جانتے ہو وہ کون تھا؟
میں نے لا علمی کا اظہار کیا۔
آپ نے فرمایا:وہ شیطان تھا۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں :ہم عماررضی اللہ تعالٰی عنہ سے ملے اور ان کو کہا “اے عمار ، تم تو شیطان پر غالب آگئے”
حضور ﷺ نے (اس کے متعلق)ایسے ارشاد فرمایا ہے:
شیطان، عماررضی اللہ تعالٰی عنہ کے اور پانی کے درمیان کالے حبشی کی شکل میں رکاوٹ ڈال رہا تھا۔اور اللہ تعالٰی نے عمار کو غالب کر دیا”
حضرت عمار رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
“اگر مجھے معلوم ہو جاتا کہ وہ شیطان ہے تو میں اس کو قتل کر دیتا، اگر اس سے سخت بدبو نہ آرہی ہوتی تو میں اس کی ناک ضرور کاٹ دیتا”
(علامہ جلال الدین سیوطی کی کتاب “تاریخ جنات و شیاطین)




افتخار اجمل بھوپال said
ميں تو يہ جانتا ہوں کہ جناب عمّار بن ياسر رضی اللہ عنہ وہ شخص ہيں جن کيلئے ايک آيت اُتری ۔ ايک اور خوبی کہ جس ماں کی وجہ سے غلط کلمہ منہ سے نکلا تھا اور ان کی حمائت يا معافی کی آيت اُتری تھی وہ پہلی مسلمان شہيد ہوئيں
ام تحریم said
اب وقت آگیا ہے مزید کچھ بھی جان جائیے
???? ???? ?? ??????? ???? ?????? ??? ?? ????? ?? ??? | Tea Break said
[...] ???? ???? ?? ??????? ???? ?????? ??? ?? ????? ?? ??? [...]