نوکری
Posted by ارتقاءِ حيات on December 29, 2011
ایک بار ایک وزیر پر لوگوں نےاعتراض کیا تھا کہ دیکھو اس نے وزیر ہوتے ہی اپنے بیٹوں ،بھتیجوں،رشتہ داروں اور عزیزوں کو نوکریاں دینا شروع کر دی ہیں۔لوگوں کی طبیعتوں میں حسد اور کم ظرفی تو ہوتی ہی ہےنا۔لوگوں نے سر عام اعتراض کر نا شروع کر دیا ۔آخر وزیر موصوف کو وضاحت کرنا ہی پڑی کہ”بے روزگاروں کو روزی مہیاّا کرنا ہمارا فرض ہے۔اگر روزی پانے والےمیرے عزیز اور دوست ہیں تو اس سے اصولی پوزیشن میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔وزیر موصوف نے خیرات کے فضائل بھی بیان کئے،اور کہا کہ دیکھئے ہر اچھی چیز ہمیشہ گھر سے ہی شروع ہوتی ہے۔بقر عید پر بھی لوگ اچھی اچھی بوٹیاں اور رانیں اپنے رشتے داروں کو ہی بھیجا کرتے ہیں۔اب میں اپنے عزیزوں اور رشتے داروں کو نوکریاں دوں گا تو میرے دیگر افسران بھی اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو نوکریاں دیں گے۔یوں رفتہ رفتہ سبھی لوگ با روزگار ہو جائیں گے۔اس لئے کہ ہر کوئی کسی نا کسی کا رشتہ دار ہے۔اگر نہیں ہے تو یہ اس کا اپنا مقدر ہے۔کیوں نہیں سوچ سمجھ کر اچھی جگہ پیدا ہوا۔کسی وزیر کے کنبے میں یا کسی بااختیار خاندان میں۔۔۔
(ابن انشاء)




افتخار اجمل بھوپال said
انشاء جی نے کہا کُوچ کرو اور خود کُوچ کر گئے ۔ خ٠وب لکھا کرتے تھے ۔ ان کی آخری نظم يہاں ملاحظہ فرمايئے
http://www.theajmals.com/blog/2005/11/12
ام تحریم said
جی ضرور دیکھتے اور پڑھتے ہیں
عمیر ملک said
ہاہاہاہا۔۔۔۔ ابنِ انشاء نے بہت خوب کہا ہے۔ یعنی کہ ہمیں بھی سوچ سمجھ کر پیدا ہونا چاہیئے تھا۔۔۔
ام تحریم said
سوچتے تو پیدا ہی نہ ہوتے بھائی
What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ » Blog Archive » آ بيل مجھے مار said
[...] يوں کہ ميں عنوان “نوکری” ديکھ کر جا پہنچا اُس تحرير پر جو ام تحريم صاحبہ نے [...]
ام تحریم said
کیا کرین گے اس عمر میں نوکری کی تلاشی لے کر؟؟؟؟