ماہ صفر (حصہ اول)
Posted by ارتقاءِ حيات on December 29, 2011
اسلام کی آمد سےقبل زمانہ جاہلیت میں لوگ مختلف قسم کے شرک وبدعات ,باطل خیالات,غلط رسم و رواج , نحوست وبدشگونی اور توہم پرستی وغیرہ میں مبتلا تھے , چنانچہ پرندوں کواڑاکرسفرکے جاری اورمنقطع کرنے کا فیصلہ کرتے تھے ,اگرپرندہ دائیں سمت کی طرف جاتا تو اس کام یاسفرکو اچھا فال تصورکركے جاری رکھتے , اوراگربائیں سمت کو جاتا تو اس کا م یا سفرسےنحوست اور بدشگونی سمجھ کر رک جاتے .اسی طرح بعض ایا م اور مہینوں کو بھی نحوست وبد شگونی کی نظرسے دیکھتے تھے.
رب العالمین نے اپنی رحمت سے محمد عربی £کو مبعوث کرکے جاہلیت کے تما م شرکیہ اعتقادات ,فاسد خیالات اورتوھمّات وخرافات وغیرہ کو ختم کرکے صحیح عقیدۃ اوردرست منہجع عطا کیا ,اورآپ £کے ذریعہ دین کی تکمیل کردی گئی اور یہ اعلان کردیا گیا کہ اب دین اسلام سارے غلط عقائد وأفکار اورتوہمات وخرافت اورباطل پکڈنڈیوں سے پاک ا ورصاف ہوگیا ہے ,کسی مہینے اور دن کے سلسلے میں کوئی بدشگونی اورنحوست لینا درست نہیں, اوراس دین میں قیامت تک کسی تبدیلی وزیادتی کی گنجائش باقی نہ رہی, اورآپ £نے صحابہ کرام سے فرمادیا کہ:” لوگوں میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑےجا رہا ہوں جب تک تم انھیں مضبوطی سے پکڑے رہو گے گمراہ نہ ہوگے ,ایک کتاب اللہ, دوسری میری سنت “ اور دوسری جگہ فرمایا کہ ” میں تمہیں ایسی روشن شاہراہ پرچھوڑے جارہا ہوں جسکی راتیں بھی دن کے مانند ہیں,اس سے وہی شخص انحراف وروگردانی کریگا جسکی مقدر میں ہلاکت وتباہی لکھ دی گئی ہو”
آپ £کے انتقا ل کے بعد لوگ کچہ صدیوں تک دین اسلام پر صحیح طریقے سےقائم رہے یہان تک کہ خیرالقرون کا زمانہ گزرگیا, پھر مختلف قسم کے باطل فرقے جنم لینا شروع ہوگئے, اعداء اسلام خاص کریہود ونصاری نے اپنی ریشہ دوانیوں کا سلسلہ تیز کردیا ,عہدرسالت سے دوری ہوتی گئی, دین سے بے توجہی اورجہالت عام ہوتی گئی, اور لوگوں میں شرک وبدعات ,باطل اعتقادات, غیردینی رسم ورواج, اور مختلف قسم کے اوہام وخرافات پیدا ہونے لگے , اور وہ دین اسلام جسکو محمدعربی £نے ہرطرح کی گند گیوں ا ور خرافات سے پاک وصاف کردیا تھا وہ مکدر اورگدلا ہوتا نظرآنے لگا , چنانچہ انہیں باطل اعتقادات ,اوہام وخرافات اوربدعات میں سے ماہ صفر کی نحوست وبدعات ہیں , جو موجودہ دورمیں بعض نام نہاد مسلمانوں میں دین سے جہالت اور اندہی تقلید کی وجہ سے درآئیں , جبکہ اسلام نے دورجاہلیت کے اس عقیدہ کوباطل قراردیا تھا اوریہ فرمایا تھا کہ اسلام میں کوئی مہینہ نحوست وبدشگونی کا نہیں,اورزمانے اورمہینے یہ اپنے اندرکوئی تاثیرنہیں رکھتے,نہ ہی تقدیرالہی میں انکا کچہ دخل ہے جیسا کہ آپ £ کا ارشاد ہے
لا عدوي ولا طيرة ولا ھامۃ ولاصفر)اخرجاہ وزاد مسلم (ولانوء ولاغول )(بخاری ک/الطب 10/265مسلم باب لاعدوة007/471)
“حضرت ابوهريرة رضي الله عنه فرماتے ہیں کہ رسول £نے فرمایا کہ
ایک کی بیماری د وسرےکو نہیں لگتی,نہ بدفالی ونحوست کوئی چیز ہے,نہ ألّو کا بولنا کوئی أثر رکھتا ہے,نہ صفر کوئی چیز ہے , یہ بخاری ومسلم کی روایت ہے اورصحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ” نچھتر نہ بھوت کوئ چیز “
اس حدیث کے ذریعے نبی کریم £نے اہل جا ہلیت کے اس فاسد عقیدےکی تر
دید کی ہے جو وہ ان مذکورہ بالا چیزوں میں بذات خود تاثیر کا اعتقاد رکھتے تھے اور یہ ثابت کیا کہ مؤثر حقیقی تو صرف اللہ کی ذات ہے اوراسلام میں کسی دن اورمہینہ کو منحوس نہیں قراردیا گیا ہے اورنہ ہی کسی دن اورمہینے کا تقدیر الہی میں کوئی تاثیر ہے .




عمیر ملک said
بہت شکریہ یہ اہم معلومات ہم تک پہنچانے کا۔ ابھی کل ہی میں اور میرے کچھ دوست اسی موضوع پہ بات کر رہے تھے۔ آپ نے حدیث مبارکہ کو نقل کر کے معاملہ کو کلیئر کر دیا۔
ام تحریم said
کافی کچھ لکھنا باقی ہے
جو کچھ یاد رہ سکا لکھ ڈالا
پڑھتے جائئے اور دوسروں کو بھی بتایئے
ام تحریم said
اس تحریر کو جمع وترتيب دینے والے ہیں”شفيق الرحمن ضياء الله”اور مراجعہ کیا ہے “جناب شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی صاحب “نے
??? ??? (??? ???) | Tea Break said
[...] ??? ??? (??? ???) [...]
ڈاکٹر جواد احمد خان said
بہت عمدہ۔۔۔۔ آپنے نہایت خوبی اور عمدگی سے ماہ صفر سے متعلق اوہام کا ازالہ کیا ہے ۔ مگر مضمون کے شروع میں آپنے لکھا کہ :
“اسلام کی آمد سےقبل زمانہ جاہلیت میں لوگ مختلف قسم کے شرک وبدعات ,باطل خیالات,غلط رسم و رواج , نحوست وبدشگونی اور توہم پرستی وغیرہ میں مبتلا تھے ”
اس میں صرف ایک تصیح فرمالیجیے کہ اسلام سے پہلے کوئی بدعات نہیں تھیں۔ بدعت دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کرنے کا نام ہے۔ یعنی وہ ہر چیز جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسواہ حسنہ اور آثار صحابہ سے کوئی ثبوت نا ملتا ہو لیکن بعد کے لوگ نا صرف اسکو ایجاد کرلیں بلکہ اس کے نا کرنے پر کفر اور گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فتوے جڑنا شروع کردیں ۔ جن پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد بار لعنت فرمائی ہے بلکہ یہان تک فرمایا ہے کہ بدعت کو پیدا کرنے والا جب روز محشر شدید پیاس کی حالت میں حوض کوثر پر آئے گا تو خود لاٹھی سے اور بعض مقامات پر یہ فرمایا ہے کہ فرشتے آگ کے کوڑے مار کر دور ہٹا ئیں گے۔
ڈاکٹر جواد احمد خان said
بدعت کو سمجھنے کے لیے عطاری اینڈ کمپنی سب سے بہترین ذریعہ ہے۔ آپ یہ ویڈیو ملاحظہ کیجیے اس میں بدعت کی نادر اور نایاب مثالیں موجود ہیں۔
اس ویڈیو میں عطاری اینڈ کمپنی چیخ چیخ کرنان اسٹاپ کورس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محفل میں مبینہ آمد پر مرحبا یا مصطفیٰ کے نعرے لگا رہے ہیں۔
لیکن اسی پر بس نہیں ہے ۔ ایم ٹی وی المعروف مدنی ٹی وی پر پرفارمنس دیتے ہوئے عطار ان چیف مسٹر الیاس قادری دھمال ڈالتے ہوئے نطر آجائیں گے۔
اگر بات نعروں اور دھمال کی ہوتی تب بھی غنیمت تھا مگر مسٹر الیاس قادری صاحب نا صرف وجد میں آجاتے ہین اور میت کی چٹائی پر گر جاتے ہیں بلکہ اس وجد کی حالت میں بھی کچھ ورد کرنا نہیں بھولتے۔۔۔
اس پر اپنی قیمتی رائے سے ضرور نوازیے گا ۔۔۔۔