سکھر
Posted by ارتقاءِ حيات on December 29, 2011
سکھر صوبہ سندھ کا تیسرا بڑا شہر ہے اور شائد اس کا تیسرا ہونا ہی غضب ہے۔دریائے سند کے کنارے یہ سکھر بڑا تاریخی شہر ہے۔اس کی داستان راجہ داہر اور محمد بن قاسم سے بھی بہت آگے جاتی ہے۔بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ آج کا سکھر 4ہزار سال سے زیادہ پرانے موئن جودڑوسے ملتے جلتےشہر کے اوپر آباد ہے۔اس کی بنیادوں میں ہزاروں سال پرانا ایسا علاقہ مدفون ہے جہاں آکرموئن جو دڑو والے پتھر لے جایا کرتے تھے۔وہی پتھر جن سے وہ اپنے مکان اور اپنے آلات اور اوزار بنایا کرتے تھے۔
یہیں وہ بھکر کا علاقہ ہے جہاں سے گزر کر ہماری تاریخ کے قافلے اندرون سندھ ،افغانستان ،ایران اور وسطی ایشیا جایاکرتے تھے۔
پاکستان کا نقشہ پھیلا کر دیکھئے تو آپ محسوس کریں گے کہ سکھر عجیب و غریب جگہ ہے۔صوبہ پنجاب،بلوچستان اور سرحد اس کے قریب ہیں۔یہاں سے سیدھی سڑک افغانستان کو جاتی ہے۔سندھ کا تیسرا بڑا شہر ہونے کے علاوہ اس کی خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ تینوں صوبوں کا جنکشن ہے۔سن کر شائد تعجب ہو سکھر سے آٹا کوئٹہ جاتا ہے پھر وہاں سے افغانستان جاتا ہے۔افغانستان کے تاجر ہمیشہ سکھر آتے رہے ہیں۔سکھر میں افغانستانی تاجروں کو جتنا کپڑا ادھار پر ملتا ہے شائد ہی کہیں ملتا ہو۔افغان بیوپاری لاکھوں روپے کا کپڑا لے جاتے ہیں لیکن بہت دیانت دار ہیں پھر وہ پیسے واپس بھی کر دیتے ہیں اور کپڑوں کی نئی کھیپ پھر لے جاتے ہیں۔یہ وہ اعتبار ہے جو آپ تاجر برادری میں صرف سکھر ہی میں دیکھیں گے کہیں اور نظر نہیں آئے گا۔




شبانه said
ها ها ها ها
ديانت سكهر پاكستان ها ها ها