ایک مسلمان کا ایک منکر خدا سے مناظرہ
Posted by ارتقاءِ حيات on December 26, 2011
ایک مسلمان جس سلطنت میں رہا کرتا تھا وہاں کا بادشاہ بھی منکر خدا تھا ایک دن بادشاہ اور اس کا خاص وزیر ہواو ہوس پرست منکر خدا لوگوں کے درمیان بیٹھا تھابادشاہ وقت اس کا بہت احترام کر رہا تھا اور دیگر تما م بڑے بڑے اور عظیم دانشور حضرات اس کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھےاور یہ منکر خدا بڑی گستاخی کے ساتھ اپنے مذہب کی حقانیت کے بارے میں باتیں کر رہا تھا۔
مسلمان یہ دیکھ کر ٹھہر گئے اور اپنے مناظرہ کی شروعات کی۔
مسلمان نے باشاہ سے اس طرح کہا: ”اے بادشاہ وقت! آج میں نے تمہارے گھر کے باہر ایک بہت ہی عجیب چیز دیکھی ہے ؟
بادشاہ: ”کیا دیکھا ؟“
مسلمان : ”دیکھا کہ ایک کشتی بغیر کسی ناخدا اور رسی کے ادھر سے ادھر چل رہی ہے“۔
اس وقت وہ منکر خدا جو وہاں بیٹھا ہوا تھا اس نے بادشاہ سے کہا: ”یہ (مسلمان )دیوانہ ہے کیونکہ عجیب الٹی سیدھی بات کرتا ہے“۔
مسلمان : ”نہیں صحیح بات کر رہاہوں میں دیوانہ کیوں ہونے لگا؟“
منکر خدا: ”لکڑی سے بنی کشتی بغیر ناخدا کے کیسے ادھر سے ادھر جائے گی؟“
مسلمان : ”یہ میری بات تعجب آور ہے یا تمہاری کہ یہ عالم ہستی جو عقل وجان رکھتی ہے یہ مختلف گھاس اور دیگر نباتات جو زمین سے اگتے ہیں، یہ باران رحمت جو زمین پر نازل ہوتی ہے تیرے عقیدہ کے مطابق بغیر کسی خالق و مدبر کے ہے جب کہ تو ایک چھوٹی سی چیز کے لئے کہتا ہے کہ بغیر کسی ناخدا اور راہنما کے ادھر سے ادھر نہیں چل سکتی؟“
یہ منکر خدا مسلمان کا جواب دینے سے بے بس ہو گیا اور سمجھ گیا کہ یہ کشتی والی مثال صرف مجھے شکست دینے کے لئے دی گئی تھی۔
مسلمان یہ دیکھ کر ٹھہر گئے اور اپنے مناظرہ کی شروعات کی۔
مسلمان نے باشاہ سے اس طرح کہا: ”اے بادشاہ وقت! آج میں نے تمہارے گھر کے باہر ایک بہت ہی عجیب چیز دیکھی ہے ؟
بادشاہ: ”کیا دیکھا ؟“
مسلمان : ”دیکھا کہ ایک کشتی بغیر کسی ناخدا اور رسی کے ادھر سے ادھر چل رہی ہے“۔
اس وقت وہ منکر خدا جو وہاں بیٹھا ہوا تھا اس نے بادشاہ سے کہا: ”یہ (مسلمان )دیوانہ ہے کیونکہ عجیب الٹی سیدھی بات کرتا ہے“۔
مسلمان : ”نہیں صحیح بات کر رہاہوں میں دیوانہ کیوں ہونے لگا؟“
منکر خدا: ”لکڑی سے بنی کشتی بغیر ناخدا کے کیسے ادھر سے ادھر جائے گی؟“
مسلمان : ”یہ میری بات تعجب آور ہے یا تمہاری کہ یہ عالم ہستی جو عقل وجان رکھتی ہے یہ مختلف گھاس اور دیگر نباتات جو زمین سے اگتے ہیں، یہ باران رحمت جو زمین پر نازل ہوتی ہے تیرے عقیدہ کے مطابق بغیر کسی خالق و مدبر کے ہے جب کہ تو ایک چھوٹی سی چیز کے لئے کہتا ہے کہ بغیر کسی ناخدا اور راہنما کے ادھر سے ادھر نہیں چل سکتی؟“
یہ منکر خدا مسلمان کا جواب دینے سے بے بس ہو گیا اور سمجھ گیا کہ یہ کشتی والی مثال صرف مجھے شکست دینے کے لئے دی گئی تھی۔




Ajaz said
You guys are so crazed about religion that it’s scary for the rest of the world. You do not need freedom of religion. You need freedom from your capricious religion and start to think with sensibility.
مکی said
سببیت کی بڑی پرانی بودی دلیل ہے (آپ کو نہیں کہہ رہا) یہی قانون جب خدا پر لاگو کرنے کی بات کی جاتی ہے تو مومنین کا ترا نکل جاتا ہے..
Bilal ahmed said
Aoa mujhe ap se kuch baatein puchna hn ap se raabta keise ho sakta hai plz btaye ga zrur mujhe intazar rahe ga.
مکی said
یہ لیں جی کر لیں رابطہ
http://makki.site40.net
ام تحریم said
This is the authentic about God. Realy Fantastic
افتخار اجمل بھوپال said
اسی لئے تو کہتا ہوں
ميری کشتی خدا کے آسرے پر چھوڑ کے ہٹ جا
ميری کشتی اگر اے ناخدا تکليف ديتی ہے
مکی said
کیا سادہ لوحی ہے، ذرا ان لاشوں کو تو گن جنہیں روند کر تیری کشتی چلا کرتی ہے
ام تحریم said
kis jhagry mai par gay hian aap janab??
ye to munkireen e Kuda k Muammal chal raha hai
ap to ……… ki tarhan larrr rahy hain
مکی said
میں کس سے لڑ رہا ہوں؟!
Dr Jawwad Khan said
آپ اللہ سے لڑ رہے ہیں۔۔۔۔
مکی said
ہممم پھر تو رولا ہے..
Bilal ahmed said
Makki i wana talk to u, ll u plz tell me is it psbl n how ?
مکی said
بلال صاحب ذیل کے ربط پر چلے جائیں آپ کو میرا ای میل ایڈریس مل جائے گا، آسانی سے آی میل کرلیں:
http://makki.site40.net/
Dr Jawwad Khan said
بلال احمد صاحب،
حیدرآباد سندھ میں کوٹری سے قریب لطیف آباد ۳ نمبر میں ایک عمارت ہے، مین روڈ پر ۔۔۔اس عمارت کی اونچی اونچی دیواریں ہیں۔ مکی صاحب وہین ملیں گے
آپ کو۔۔۔
ام تحریم said
aap khod mil kr aay hain ya bongi maar rahy hain?
Dr Jawwad Khan said
میں نے وہاں کچھ عرصہ کام کیا ہے۔ٹائم ملے تو ۔کبھی جائیے گا ۔۔ بڑا پر فضا مقام ہے۔ دماغ کو تر و تازہ کر دیتا ہے :0۔۔
مکی said
محترمہ ڈاکٹر صاحب نے ایسی کیا بات کی ہے جو آپ کو “بونگی” لگی ہے؟
مکی said
ڈاکٹر صاحب کیا آپ مذاق کر رہے ہیں
Dr Jawwad Khan said
نہین جناب ۔۔۔۔مذاق نہیں حقیقت ہے ۔ اس عمارت میں عام آدمی کا داخلہ منع ہے۔ بہت پہنچے ہوئے لوگ ہی جا سکتے ہیں۔ تحریم چونکہ وہاں رہ چکی ہین اس لیے انکو میری بات بونگی لگ رہی ہے۔
اس عمارت کا نام ہے سر کائوس جی جہانگیر انسٹیٹیوٹ آف ۔۔۔۔۔۔۔
اب آگے کیا بتائوں۔۔۔۔آپ سے زیادہ کون جانتا ہو گا۔۔۔